کسی
کے ساتھ برا مت کیجیے از بنت تنویر حسین،فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
پیارے آقا
مدینے والے مصطفی ﷺ کا فرمان عالی شان ہے: تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم
پر رحم کرے گا۔ (ترمذی، 3/371، حدیث:1931)
زندگی میں کسی
انسان کو اتنا تنگ مت کرو کہ وہ خدا کے سامنے تمہارا نام لے کر روئے اور گڑگڑائے
اور اس کے آنسو تمہاری گواہی دیں انسان تو کر کے بھول جاتا ہے مگر خدا نہیں بھولتا
جبکہ وہ بارہا قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ظالموں کے لیے ہلاکت ہے کسی کو تنگ
کرنے سے یا کسی کے خلاف برائی کا ارادہ کرنے سے اس کا کچھ نہیں بگڑے گا کیونکہ وہ
صبر کر کے خدا کے نزدیک بلند مقام حاصل کر لے گا مگر برا کرنے والے کا سکون برباد
ہو جائے گا کیونکہ جو کسی کے سینے میں آگ لگاتا ہے اس آگ کا دھواں ایک دن اس کے
اپنے آنگن تک بھی پہنچ جاتا ہے کسی کو رلانے والے خود زیادہ دیر خوشی کا منہ نہیں
دیکھ سکتے۔
دیکھا جائے تو
آج کے معاشرے میں بہت سے لوگ دوسروں کے ساتھ برا کر کے خوشی محسوس کرتے ہیں مگر یہ
نہیں سوچتے کہ بعد میں انجام انہیں بھی بھگتنا پڑے گا لیکن اگر کسی کے ساتھ اچھا
سلوک کریں گے محبت کریں گے تو اس کی دعائیں بھی ساتھ ہوں گی خدا بھی راضی ہو گا اس
کے برعکس جو برائیوں میں خوش رہے گا اس سے خدا بھی ناراض ہوگا اور وہ خدا کی نفرت
مول لے گا۔
بقولِ شاعر
جو
رکھتے ہیں اوروں کے لیے پیار کا جذبہ تو
ایسے لوگ ٹوٹ کر بکھرا نہیں کرتے
جو دوسروں کو
تکلیف دیتے ہیں وہ خدا کی ناراضگی مول لے لیتے ہیں کیونکہ جس کو تکلیف دی جاتی ہے
وہ جس حال میں ہوتا ہے اس کا اندازہ وہی لگا سکتا ہے یہاں صرف خدا اس کی تکلیف سے
واقف ہوتا ہے آج کے زمانے میں زبان کے استعمال سے ہی دل توڑنا بہت آسان ہو گیا ہے
بعض الفاظ انسان کو اندر تک توڑ دیتے ہیں اور ان کے الفاظ کی تکلیف انسان ساری
زندگی برداشت کرتا رہتا ہے اور بعض الفاظ انسان کے دل کو بری طرح زخمی کر دیتے ہیں
خاص طور پر برے الزام انسان کے دل کو توڑ دیتے ہیں پھر اگر معافی مانگ لی جائے تب
بھی دل پر لگے ہوئے زخم بھرتے ہوئے ساری عمر بیت جاتی ہے جیسے اگر انسان کو غصہ آئے
اور وہ غصے میں دیوار میں کیل ٹھوک دے اور جب غصہ ٹھنڈا ہو تو کیل نکال دے مگر
دیوار پہلے جیسی نہیں ہوگی اس کو بھرتے کئی مہینے لگ جائیں گے انسان کا دل بھی
ایسا ہے۔
اس بات کو اس
عام مثال سے سمجھیے کہ جیسے باہر کے ملکوں میں کسی کو کھیتی کے لیے جگہ چاہیے ہوتی
ہے تو وہ درخت کو کاٹتے نہیں بلکہ اس کے اس پاس اکٹھے ہو کر اس کو خوب گالیاں دیتے
ہیں کوستے ہیں برا کہتے ہیں دیکھتے ہی دیکھتے درخت خود ہی مرجھا کر گر جاتا ہے
انسان بھی ایسا ہے زبان کے تیر بہت برے ہوتے ہیں ضروری نہیں ہر انسان کو قتل کر کے
ہی مارا جائے آج کا ہتھیار بری زبان ہے۔
Dawateislami