کسی
کے ساتھ برا مت کیجیے از بنت عبدالمجید،فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
اسلام میں
حقوق العباد (بندوں کے حقوق) کی ادائیگی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اگر کسی کے ساتھ
برا کیا جائے، اس کا دل دکھایا جائے یا حق مارا جائے، تو اللہ پاک اس وقت تک معاف
نہیں فرماتا جب تک کہ وہ بندہ خود معاف نہ کر دے۔ اس لیے کسی کے ساتھ برا کرنے سے پہلے
سو بارسوچیں لیکن آج کل کے بزعم خود اپنے آپ کو عرفی شرفاء کہلانے والے کچھ قوموں کو
حقیر و ذلیل سمجھتے ہیں اور محض قومیّت کی بنا پر ان کا تمسخر اور استہزاء کرتے
اور مذاق اڑاتے رہتے ہیں اور قسم قسم کے دل آزار القاب سے یاد کرتے رہتے ہیں،کبھی
طعنہ زنی کرتے ہیں، کبھی عار دلاتے ہیں، اسی طرح رشوت کا لین دین کرنا، ڈنڈی مار
کر سودا بیچنا، ملاوٹ والا مال فروخت کرنا، قرض دبا لینا، ڈاکہ زنی، بھتہ خوری اور
پرچیاں بھیج کر ہراساں کر کے مال وصول کرنا بھی اس میں شامل ہے، یہ سب حرکتیں حرام
و گناہ اور جہنم میں لے جانے والے کام ہیں شریعت اور عقل کا تقاضا یہ ہے کہ نہ ظلم
کیا جائے اور نہ ظلم برداشت کیا جائے یعنی ظلم کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
ظلم کو برداشت کرنا ظالم کو مزید جری کرتا ہے۔ ہاں جہاں عفو و درگزر کی صورت بنتی
ہو وہاں اسے اختیار کیا جائے۔ شریعت کا قاعدہ ہے لا ضرر ولا ضرار نہ نقصان پہنچاؤ
اور نہ نقصان برداشت کرو۔ (ابن ماجہ، 3/106، حدیث: 2340)
حضرت نعمان بن
بشیر رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے، رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا مسلمان (باہم) ایک شخص کی طرح ہیں، اگر اس کی
آنکھ میں تکلیف ہو تو اس کے سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہے اور اگر اس کے سر میں
تکلیف ہو تو اس کے سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہے۔ (مسلم، ص 1071، حدیث: 6586)
جب مسلمان ایک
جسم کی طرح ہیں تو ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کو قتل کرنا ایسا ہے جیسے اس نے خود
کو قتل کیا۔
قرآن مجید میں
اللہ پاک نے کسی بھی شخص کے ساتھ برائی، ناانصافی اور زیادتی کرنے سے سختی سے منع
فرمایا ہے۔ درج ذیل قرآنی آیات میں ظلم و زیادتی کی ممانعت کے واضح دلائل موجود
ہیں۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ
لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّۚ-وَ لَا تَلْمِزُوْۤا
اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِؕ-بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ
الْاِیْمَانِۚ-وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(۱۱)(پ
26، الحجرات: 11) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو!مرد دوسرے مردوں پر نہ ہنسیں،
ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں پر ہنسیں،
ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں اور آپس میں کسی کو طعنہ نہ دو اور
ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو، مسلمان ہونے کے بعد فاسق کہلانا کیا ہی برا نام ہے
اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں۔
حضر ت ضحاک
رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ آیت بنی تمیم کے ان افراد کے بارے میں نازل ہوئی جو
حضرت عمار،حضرت خباب،حضرت بلا ل،حضرت صہیب،حضرت سلمان اور حضرت سالم وغیرہ غریب
صحابہ ٔکرام رضی اللہ عنہم کی غربت دیکھ کر ان کا مذاق اڑایاکرتے تھے۔ ان کے بارے
میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ مرد مردوں سے نہ ہنسیں،یعنی مال دار
غریبوں کا، بلند نسب والے دوسرے نسب والوں کا،تندرست اپاہج کا اور آنکھ والے اس
کا مذاق نہ اڑائیں جس کی آنکھ میں عیب ہو،ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والوں سے صدق
اور اخلاص میں بہتر ہوں۔ (خازن، 4/169) اگر
کسی شخص میں فقر، محتاجی اور غریبی کے آثار نظر آئیں تو ان کی بنا پرا س کا مذاق
نہ اڑایا جائے،ہو سکتا ہے کہ جس کا مذاق اڑایا جا رہا ہے وہ مذاق اڑانے والے کے
مقابلے میں دینداری کے لحاظ سے کہیں بہتر ہو۔ اس لیے ہمیں ایسے کاموں سے گریز کرنا
چاہیے۔
حضرت ابوہریرہ
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے کسی کی عزت یا کسی
اور چیز پر زیادتی کی ہو تو اسے چاہئے کہ اس دن سے پہلے آج ہی معافی حاصل کر لے
جس دن دینار اور درہم پاس نہیں ہوں گے، اگر ظالم کے پاس نیک اعمال ہوئے تو ظلم کے
برابر ان میں سے لے لئے جائیں گے اور اگر نیکیاں نہ ہوئیں تو ظلم کے برابر مظلوم
کے گناہ ظالم پر ڈال دئیے جائیں گے۔ (بخاری، 2/128، حدیث: 2449)
Dawateislami