اسلام ایک
ایسا دین ہے جو ہمیں ہر انسان کے ساتھ اچھے اخلاق، نرمی، محبت اور حسن سلوک کا درس
دیتا ہے۔ کسی کو تکلیف دینا، اس کی دل آزاری کرنا، اسے برا بھلا کہنا یا اس کی عزت
مجروح کرنا ایک مسلمان کے شایان شان نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے قول و فعل سے کسی
مسلمان کو تکلیف نہ پہنچائیں اور ہمیشہ دوسروں کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کریں۔
کسی کے ساتھ
برا سلوک کرنا صرف مارنے یا گالی دینے ہی کا نام نہیں بلکہ کسی کا مذاق اڑانا، اسے
حقیر سمجھنا، برا لقب دینا، اس کی عزت کو نقصان پہنچانا اور بلاوجہ دل دکھانا بھی
بدسلوکی میں شامل ہوسکتا ہے۔ قرآن کریم نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کو برے ناموں سے
پکارنے سے بھی منع فرمایا ہے۔
غیبت کی تباہ
کاریاں میں حدیث پاک نقل کی گئی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: بےشک کسی مسلمان کی
ناحق بے عزتی کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ (ابوداود، 4/353، حدیث: 4877)
ایک اور حدیث
پاک میں مسلمانوں کے باہمی تعلق کی خوبصورت مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ
مسلمانوں کی آپس میں محبت، رحمت اور شفقت ایک جسم کی مانند ہے؛ جب جسم کا کوئی عضو
تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو سارا جسم اس تکلیف میں شریک ہوجاتا ہے۔
لہٰذا ہمیں
چاہیے کہ ہم کسی کو تکلیف نہ دیں۔ اگر کسی سے غلطی ہوجائے تو اسے معاف کریں، غصے
کے وقت خاموشی اختیار کریں اور بدلے میں برائی کرنے کے بجائے نیکی کریں۔ اگر ہم
دوسروں کے ساتھ محبت، نرمی اور حسن اخلاق سے پیش آئیں گے تو ہمارے معاشرے میں بھی
محبت اور بھائی چارہ پیدا ہوگا۔
Dawateislami