کسی
کے ساتھ برا مت کیجیے از بنت محمد نعیم،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
کسی مسلمان
بہن بھائی کے ساتھ برا مت کیجیے اسلام ہمیں احترام مسلم کا درس دیتا ہے اور حسن
اخلاق سے پیش آنے کا درس دیتا ہے اور دوسروں کے ساتھ وہی سلوک اور اتفاق رکھیے
جیسا اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ رکھتے ہیں۔ لوگوں کے ساتھ اچھا رویہ اختیار کرنے سے
معاشرہ بہتر ہوتا ہے اور رشتے مضبوط ہوتے ہیں اور روحانی سکون ملتا ہے۔
اپنی
خرابیوں کو پس پشت ڈال کر ہر شخص
کہہ رہا ہے کہ زمانہ خراب ہے
اگر ہم کسی کے
ساتھ برا کرتے ہے یا برا سوچتے ہیں تو ہم بہت غلط کرتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ وہی
سلوک کرو جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو۔ دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیے معاف کرنا
سیکھئے، بھلائی کی راہ پر چلیے۔ جبکہ نفرت اور برائیاں ہمیشہ مزید برائیوں کو جنم
دیتی ہیں اسلام ہمارا کتنا پیارا دین ہے جو ہماری ہر قدم پر رہنمائی کرتا ہے اور
ہمیں برے کاموں سے بچنے اور اچھے کام اختیار کرنے کا درس دیتا ہے جو کسی کا برا
نہیں چاہتے ان کے ساتھ برا نہیں ہو سکتا جو انسان دوسروں کا برا سوچتا ہے وہ کبھی
خوش نہیں رہ سکتا اس لیے ہمیں چاہیے کہ دوسروں کے بارے میں اچھا سوچیں اور اچھا
کریں الله پاک عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
الله پاک کا
فرمان ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ
لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ-اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ
یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُؕ- (پ 26، الجرات:
12) ترجمہ: اے ایمان والو بہت گمانوں سے
بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہو جاتا ہے اور عیب نہ ڈھونڈو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ
کرو کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمھیں
گوارا نہ ہوگا۔
نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: نہ خود نقصان پہنچاؤ اور نہ ہی دوسروں کے لیے نقصان کا باعث بنو۔ (ابن
ماجہ، 3/106، حدیث:2340)
حضرت عبد الله
بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی
زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو ان تمام چیزوں کو
چھوڑ دے جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے۔ (بخاری، 1/15، حدیث: 10)
Dawateislami