کسی مسلمان بہن بھائی کے ساتھ برا مت کیجیے اسلام ہمیں احترام مسلم کا درس دیتا ہے اور حسن اخلاق سے پیش آنے کا درس دیتا ہے اور دوسروں کے ساتھ وہی سلوک اور اتفاق رکھیے جیسا اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ رکھتے ہیں۔ لوگوں کے ساتھ اچھا رویہ اختیار کرنے سے معاشرہ بہتر ہوتا ہے اور رشتے مضبوط ہوتے ہیں اور روحانی سکون ملتا ہے۔

اپنی خرابیوں کو پس پشت ڈال کر ہر شخص کہہ رہا ہے کہ زمانہ خراب ہے

اگر ہم کسی کے ساتھ برا کرتے ہے یا برا سوچتے ہیں تو ہم بہت غلط کرتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کرو جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو۔ دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیے معاف کرنا سیکھئے، بھلائی کی راہ پر چلیے۔ جبکہ نفرت اور برائیاں ہمیشہ مزید برائیوں کو جنم دیتی ہیں اسلام ہمارا کتنا پیارا دین ہے جو ہماری ہر قدم پر رہنمائی کرتا ہے اور ہمیں برے کاموں سے بچنے اور اچھے کام اختیار کرنے کا درس دیتا ہے جو کسی کا برا نہیں چاہتے ان کے ساتھ برا نہیں ہو سکتا جو انسان دوسروں کا برا سوچتا ہے وہ کبھی خوش نہیں رہ سکتا اس لیے ہمیں چاہیے کہ دوسروں کے بارے میں اچھا سوچیں اور اچھا کریں الله پاک عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

الله پاک کا فرمان ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ-اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُؕ- (پ 26، الجرات: 12) ترجمہ: اے ایمان والو بہت گمانوں سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہو جاتا ہے اور عیب نہ ڈھونڈو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمھیں گوارا نہ ہوگا۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: نہ خود نقصان پہنچاؤ اور نہ ہی دوسروں کے لیے نقصان کا باعث بنو۔ (ابن ماجہ، 3/106، حدیث:2340)

حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو ان تمام چیزوں کو چھوڑ دے جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے۔ (بخاری، 1/15، حدیث: 10)

خلاصہ یہ ہے کہ ہمیں دوسروں سے حسن سلوک سے پیش آنا چاہیے برا خیال دوسروں کے بارے میں نہیں لانا چاہیے ہمیں ہمیشہ حق بات کہنی چاہیے بری باتوں سے بچنا چاہیے اسلام ہمیں دوسروں کے ساتھ اچھا رویہ اختیار کرنے اور اچھی بات کہنے اور بری باتوں سے بچنے کا درس دیتا ہے انسان کو محتاط انداز اختیار کرنا چاہیے اور کسی مسلمان کے لیے بری بات کہنے سے پر ہیز کرنا چاہیے اور اس کی دل آزادی سے پرہیز کرنا چاہیے یعنی اس کی دل آزاری سے بچنا چاہیے کسی مسلمان کو تکلیف دینا بہت بڑا گناہ ہے۔ الله پاک ہمیں دوسروں سے حسن سلوک کرنے اور دوسرے کے بارے میں اچھا سوچنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین