انسان ایک معاشرتی حیوان ہے جو اس دنیا میں آتا تو تنہا ہے مگر ایام زندگی کو تنہا بسر کرنے کی قدرت نہیں رکھتا اسے پیدائش سے تدفین تک انسانوں کی ضرورت ہوتی ہے لہذا جب ہماری زندگی کا تانا بانا انسانوں سے ہی جڑا ہوا ہے تو ہماری زندگیوں اور معاشرے میں امن و سکون کی فضا اسی وقت قائم ہو سکتی ہے جب ہم دوسروں کیلیے آسانیاں پیدا کریں اور انہیں اپنے شر سے محفوظ رکھیں آج دوسروں کا بھلا چاہا تو کل اپنا بھی بھلا ہوگا جبکہ دوسروں کا برا چاہنے والا دنیا و آخرت میں اس برائی کا بدلہ پائے گا یاد رہے چکی جہاں سے چلتی ہے لوٹ کر وہیں آتی ہے یہی حال انسان کے عمل کا بھی ہے کہ جو عمل آگے بھیجے گا وہی لوٹ کر اسکے پاس آئے گا اگر اچھائی کو آگے بھیجا تو یہی اچھائی لوٹ کر واپس آئے گی اور برائی کو آگے بھیجا تو برائی ہی پلٹا کھا کر اسکے پاس آئے گی لہذا کسی کے ساتھ بھی برا مت کیجیے کیونکہ یہ نہ صرف اخلاقی برائی ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔

قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے: وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠(۵۸) (پ 22، الاحزاب: 58) ترجمہ: اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بغیر کچھ کئے ستاتے ہیں توانہوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھالیا ہے۔

حسن معاشرت کے بغیر بے سکونی،اضطراب،مسلسل تنزلی اور اپنے رب کریم کی رضا سے دوری بڑھتی جاتی ہے اور معاشرے میں بگاڑ پیدا ہونے لگتا ہے۔

غیبت کرنا، معاملات کی ٹوہ میں رہنا، طعنے دینا، مذاق اڑانا،برے القاب سے پکارنا وغیرہ یہ تمام وہ امور ہیں جن سے ایک مسلمان کو تکلیف ہوتی ہے لہذا ایسے مذموم افعال سے بچنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔

یاد رہے ایذائے مسلم حرام قطعی ہے لہذا کسی مسلمان کو اپنے کسی قول،فعل یا کسی بھی انداز سے تکلیف نہ دیجیے اور نہ ہی دل میں کسی کا برا چاہیں۔

احادیث کریمہ میں بھی اسکی ممانعت وارد ہے چنانچہ ارشاد فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے نہ اسے (مدد کے وقت بے یار و مددگار چھوڑ کر) رسوا کرے اور نہ حقیر جانے۔ (مسلم، ص 1064، حدیث: 6541)

حدیث پاک ہے: کامل مسلمان وہ ہے کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (بخاری،1/15، حدیث:10)

مسلمانوں کو اپنے شر سے محفوظ نہ رکھنا دو جہاں کی رسوائی کا سبب ہے اور مسلمانوں کی خیر خواہی میں مشغول رہنا دنیا و آخرت میں سعادت کا باعث ہے نیز رحمت الٰہی کے حصول کا ذریعہ بھی ہے۔

حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: ہر جاندار کے ساتھ بھلائی کرنے میں ثواب ہے

(بخاری 2 /133 حدیث 2466)

لہذا ہر ذی روح کے ساتھ بھلائی کریں اور یاد رہے بھلائی کے سب سے زیادہ حقدار والدین اور گھر والے ہیں نیز آس پڑوس والوں اور دیگر رشتہ داروں کے ساتھ ساتھ انجان لوگوں کے ساتھ بھی بھلائی کریں اور اپنی ذات کو بے ضرر بنائیں۔جو لوگ ہمارے ساتھ اچھا برتاؤ کریں جواباً انکے ساتھ بھی محبت و شفقت سے پیش آئیے اور بالفرض کوئی برا کر دے تو بھی اسے اپنی نفسانی ضد کا مسئلہ نہ بنائیے بلکہ معاف کر دیجیے اور ادفع بالتی ھی احسن کا سچا مصداق بن کر دکھائیے۔


دین اسلام بہت پیارا دین ہے جو ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کے سلیقے سکھاتا ہے ہمیں آپس میں بھائی چارہ قائم کرنے اور ایک دوسرے کی ایذا رسانی سے بچنے کی تلقین کرتا ہے۔ کسی کے ساتھ برا ہرگز مت کیجئے صرف اس لیے نہیں کہ آج اگر ہم کسی کے ساتھ برا کریں گے تو کل ہمارے ساتھ بھی برا ہوگا بلکہ اس نیت کے ساتھ بھی کسی کے ساتھ برا مت کیجیے کہ ہمارا رب ہمارے رسول ﷺ ہمارا دین ہمیں دوسرے مسلمان کو ایذا دینے سے منع فرماتا ہے۔

اللّہ پاک قرآن پاک میں مسلمانوں کو ایک دوسرے کی ایذا رسانے کرنے کے انجام کے بارے میں فرماتا ہے: وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠(۵۸) (پ 22، الاحزاب: 58) ترجمہ: اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بغیر کچھ کئے ستاتے ہیں توانہوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھالیا ہے۔

اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ کسی پر بہتان لگا کر اسے تکلیف پہنچانا اس کے ساتھ برا کرنا عظیم گناہ ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّۚ-وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِؕ-بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِۚ-وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(۱۱)(پ 26، الحجرات: 11) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو!مرد دوسرے مردوں پر نہ ہنسیں، ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں پر ہنسیں، ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں اور آپس میں کسی کو طعنہ نہ دو اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو، مسلمان ہونے کے بعد فاسق کہلانا کیا ہی برا نام ہے اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں۔

اگر ہم غور کریں تو پتا چلے گا کہ کسی کا مذاق اڑانا ایک دوسرے کو طعنہ دینا ایک دوسرے کو برے القابات سے پکارنا کیا ہے یہ کسی کے ساتھ برا کرنا ہی ہے کسی کو ایذا دینا ہی ہے اور ہمارا رب ہمیں ان تمام چیزوں سے منع فرمارہا ہے لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے رب کی اطاعت کرتے ہوئے کسی کو تکلیف دینے اس کا مذاق اڑانے اس کا نام بگاڑنے سے ہر دم بچتے رہیں۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو ان چیزوں کو ترک کردے جن سے اللہ پاک نے منع فرمایا ہے۔

ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا کون سا مسلمان زیادہ بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (بخاری، 1/16، حدیث: 11)

مومن بھائی کا برا نہیں چاہتا اس کی بھلائی کے لیے کوشش کرتا رہتا ہے اس کے ہاتھ زبان پاؤں حتیٰ کہ ہر عضو سے اس کا مومن بھائی محفوظ ہوتا ہے وہ اپنے مومن بھائی کے ساتھ کبھی برا نہیں کرتا۔

اب ہم ذرا خود کا محاسبہ کریں کہ ہمارے اندر ایمان کی کیا حالت ہے؟ خدا نخواستہ کہیں ہماری وجہ سے ہمارے مومن بھائی/ بہن تکلیف میں تو نہیں؟

کیا ہم اپنوں کے ساتھ برا تو نہیں کرتے۔

آج کل شیطان نے ہمارے بھولے بھالے مسلمانوں کو ایک نئی چال میں پھنسایا ہوا کہ جو جیسا ہے اس کے ساتھ ویسا کرو ہم یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ اگر فلاں میرا ساتھ اچھا رہے گا تو میں بھی اس کے ساتھ اچھا رہوں گی اور اگر فلاں میرے ساتھ برا کرے گا تو میں بھی پھر برا کروں گا۔یہ بھی تکبر کی صورت میں جاتا ہے۔

ہمارا دین تو ہمیں کسی کے ساتھ برا کرنا نہیں سکھاتا چاہے اگلا بندہ ہمارے ساتھ برا کرے بھی تب بھی ہمارا دین بھلائی کرنے کا حکم دیتا ہے۔

نبی کریم ﷺ کے ساتھ کتنا برا کیا گیا کتنا ستایا گیا خود آقا جان ﷺ فرماتے ہیں: مجھے سب سے زیادہ ستایا گیا کفار نے کتنی تکلیفیں دیں مگر اس سب کے باوجود آنحضرت ﷺ نے کبھی کسی کے ساتھ برا کیا تو دور برا کرنے کا سوچا تک نہیں۔امام حسین رضی اللہ عنہ پر کتنی آزمائشیں آئیں یزید پلید نے کتنا برا سلوک کیا مگر پھر بھی قربان جائیے اپنے نانا کے انداز پر قائم رہے اور کسی کا برا نہیں کیا۔

یاد رکھیں اگر آنحضرت ﷺ چاہتے تو اپنے لیے بدلہ بھی لے سکتے تھے مگر آپ ﷺ نے بدلہ نہ لیا بلکہ برائی کا جواب صبر اور اچھائی سے دیا کہ امت کو بتا سکیں کسی کے ساتھ برا نہیں کرتے آنحضرت ﷺ نے عملی تعلیم دی ہے کہ ہمیں کسی کے ساتھ برا نہیں کرنا چاہیے۔

انسان کی زندگی میں سب سے قیمتی چیزوں میں سے ایک دوسرے کے دل کی قدر کرنا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارے ایک لفظ، ایک طنز، ایک سخت لہجے یا ایک غلط رویّے سے سامنے والے کے دل پر کیا اثر پڑے گا۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم دوسروں کے ساتھ نرمی، محبت اور اچھے اخلاق سے پیش آئیں۔

اللہ پاک قرآن کریم میں فرماتا ہے: وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا (پ 1، البقرۃ: 83) ترجمہ: اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔

یاد رکھیے! کسی کو تکلیف دینا آسان ہے، لیکن کسی ٹوٹے ہوئے دل کو دوبارہ جوڑنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ کبھی ہم غصے میں ایسی بات کہہ دیتے ہیں جسے بعد میں بھول جاتے ہیں، مگر وہ بات دوسرے شخص کے دل میں مدتوں رہ سکتی ہے۔

یاد رہے کہ مسلمان مرد و عورت کو دین اسلام میں یہ حق دیا گیا ہے کہ انہیں کوئی شخص اپنے قول اور فعل کے ذریعے نا حق ایذا نہ دے،یہاں اس سے متعلق تین احادیث اور بزرگان دین کے دو اقوال ملاحظہ ہوں،چنانچہ

(1)حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگوں کو (اپنے) شر سے محفوظ رکھو،یہ ایک صدقہ ہے جو تم اپنے نفس پر کرو گے۔ (بخاری، 2/150، حدیث: 2518)

(2)حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ مسلمان کون ہے؟صحابہ ٔکرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اللہ پاک اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ ارشاد فرمایامسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے (دوسرے) مسلمان محفوظ رہیں۔(بخاری، 1/15، حدیث: 10)

ارشاد فرمایاتم جانتے ہو کہ مومن کون ہے؟صحابہ ٔکرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اللہ پاک اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ارشاد فرمایامومن وہ ہے جس سے ایمان والے اپنی جانوں اور مالوں کو محفوظ سمجھیں اور مہاجر وہ ہے جو گناہ کو چھوڑ دے اور اس سے بچے۔ (مسند امام احمد، 2/654، حدیث: 6942)

(3)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک دوسرے سے حسدنہ کرو،گاہک کو دھوکہ دینے اور قیمت بڑھانے کیلئے دکاندار کے ساتھ مل کر جھوٹی بولی نہ لگاؤ،ایک دوسرے سے بغض نہ کرو،ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو،کسی کی بیع پر بیع نہ کرو اور اے اللہ پاک کے بندو!بھائی بھائی بن جاؤ، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے،اس پر نہ ظلم کرے، نہ ا س کو رسوا کرے،نہ حقیر جانے، حضور پر نور ﷺ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کر کے تین بار فرمایا:تقویٰ یہاں ہے اور کسی شخص کی برائی کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو برا جانے،ایک مسلمان دوسرے مسلمان پرحرام ہے،اس کا خون،اس کا مال اور ا س کی عزت۔ (مسلم، ص 1064، حدیث: 6541)

(4) حضرت مجاہد رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں: جہنمیوں پرخارش مسلّط کردی جائے گی تووہ اپنے جسم کوکھجلائیں گے حتّٰی کہ ان میں سے ایک کے چمڑے سے ہڈی ظاہر ہو جائے گی تو اسے پکارا جائے گا:اے فلاں!کیا تمہیں اس سے تکلیف ہوتی ہے؟وہ کہے گا:ہاں۔پکارنے والا کہے گا:تو مسلمانوں کو تکلیف پہنچایا کرتا تھا یہ اس کی سزا ہے۔ (احیاء علوم الدین، 2/242)

(5)علامہ اسماعیل حقی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں:یہاں ایمان والوں کو اذیّت دینے کا ذکر نبی کریم ﷺ کو اذیت دینے کے ساتھ ہوا جیسا کہ حضور اکرم ﷺ کو اذیت دینے کا ذکر اللہ پاک کو اذیت دینے کے ساتھ ہوا،اس سے معلوم ہوا کہ ایمان والوں کو اذیت دینا گویا کہ رسول اللہ ﷺ کو اذیت دینا ہے اور رسول کریم ﷺ کو اذیت دینا گویا کہ اللہ پاک کو اذیت دینا ہے تو جس طرح اللہ پاک اور اس کے حبیب ﷺ کو اذیت دینے والا دنیا اور آخرت میں لعنت کا مستحق ہے اسی طرح ایمان والوں کو اذیت دینے والا بھی دونوں جہاں میں لعنت و رسوائی کا حقدار ہے۔ (روح البیان، 7/239)

اللہ پاک ہمیں شریروں کے شر اور ظالموں کے ظلم سے محفوظ فرمائے۔ آمین

اس لیے اگر کسی سے اختلاف ہو تو نرمی سے بات کریں، اگر کوئی غلطی کرے تو معاف کر دیں، اور اگر کوئی آپ سے برا سلوک کرے تو حتی الامکان برائی کا جواب برائی سے نہ دیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہماری زبان سے کسی کے لیے بددعا نہیں بلکہ دعا نکلے، ہمارے ہاتھ سے کسی کو تکلیف نہیں بلکہ مدد ملے، اور ہمارے اخلاق سے لوگوں کو دین اسلام کی خوبصورتی نظر آئے۔

اللہ پاک ہمیں اچھے اخلاق اپنانے، دوسروں کے دل نہ دکھانے اور ہر ایک کے ساتھ محبت و نرمی سے پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

سوچ انسان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ کیونکہ جو ہم سوچتے ہیں، وہی ہماری گفتگو ہوتی ہے اور وہی ہمارا کردار بن جاتا ہے۔ اسی لیے بزرگان دین فرمائے ہیں کہ دل صاف رکھو کیونکہ دل کا نور چہرےپر چمکتا ہے دل صاف رکھنے کا پہلا اصول یہ ہے کہ کسی کا برا مت سوچیں۔

1۔ سوچ کا اثر سب سے پہلے خود پر ہوتا ہے، جب ہم کسی کے بارے میں برا سوچتے ہیں تو سب سے زیادہ نقصان اپنا ہوتا ہے۔ ہمارا دماغ بے چینی کا شکار ہو جاتا ہے، اور نیند خراب ہو جاتی ہے۔ دوسرا شخص تو بے خبر اپنی زندگی گزار رہا ہوتا ہے، اور ہم اندر ہی اندر زہر پی رہے ہوتے ہیں۔یعنی برا سوچنے سے ذہنی سکون ختم ہو جاتا ہے

2۔ برا سوچنا، برا کرنے کی پہلی سیڑھی ہے، پہلے انسان سوچتا ہے، پھر بات کرتا ہے، اور آخر میں عمل کرتا ہے۔ اگر سوچ ہی صاف نہ ہو تو رشتے کیسے صاف رہیں گے؟ حسد، بغض اور بدگمانی سب کا آغاز ایک بری سوچ سے ہوتا ہے۔

3۔ ہر انسان کے حالات مختلف ہیں، ہم کسی کی زندگی کا صرف ایک صفحہ دیکھتے ہیں، پوری کتاب نہیں پڑھتے۔ ہو سکتا ہے جو شخص ہمیں برا لگ رہا ہو وہ کسی بڑی آزمائش سے گزر رہا ہو۔ اس لیے فیصلہ کرنے اور برا سوچنے سے پہلے 100 بار سوچیں۔

4۔ اچھا سوچیں گے تو اچھا ملے گا، جو لوگ دوسروں کے لیے دعا کرتے ہیں، ان کے لیے فرشتے بھی دعا کرتے ہیں۔ کسی کی کامیابی پر خوش ہوں، کسی کی غلطی کو معاف کریں، کسی کی مجبوری کو سمجھیں۔تو آپ دیکھیں گے کہ آپ کی زندگی میں بھی سکون اور برکت آ جائے گی۔

زندگی بہت مختصر ہے اسے نفرتوں میں ضائع مت کریں۔ کسی کا برا سوچنے سے پہلے اپنا وقت، اور اپنی دعا کسی اچھے کام میں لگا دیں گے تو ہم اپنےوقت کو کرنے والے کاموں میں استعمال کر سکیں گے۔ یاد رکھیں، دنیا آئینہ ہے۔ آپ جیسا سوچیں گے، ویسا ہی آپ کو لوٹ کر ملے گا۔ اس لیے دل کوکینہ مسلم سے اور بری سوچوں سے پاک رکھیں۔ اور کسی کا برا مت سوچیں۔

کسی کے ساتھ برا نہ کرنا صرف ایک اخلاقی بات نہیں بلکہ ایک خوبصورت اسلامی تعلیم بھی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زبان، ہاتھ اور رویّے سے دوسروں کو تکلیف نہ پہنچائے۔ کبھی ہمارے معمولی سے الفاظ بھی کسی کے دل کو بہت دکھ پہنچا دیتے ہیں، اس لیے بولنے سے پہلے سوچ لینا چاہیے۔

اگر کوئی ہمارے ساتھ برا کرے تو ہمیں بھی بدلہ لینے کے بجائے صبر، درگزر اور اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ نیکی کا بدلہ نیکی سے دینا آسان ہے، لیکن برائی کے جواب میں بھلائی کرنا اعلیٰ کردار کی علامت ہے۔

یاد رکھیں! ہم دوسروں کے دل میں جو درد یا خوشی ڈالتے ہیں، وہ کسی نہ کسی صورت ہماری اپنی زندگی میں واپس آتی ہے۔ اس لیے کسی کا دل نہ دکھائیں، کسی کی عزت مجروح نہ کریں اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہ کریں، کسی کو صرف ہاتھ سے تکلیف دینا ہی برائی نہیں، بلکہ زبان اور دل سے کسی کو نقصان پہنچانا بھی برائی ہے۔ غیبت کرنا، چغلی لگانا، کسی کی عزت خراب کرنا، حسد کرنا، کسی کی خوشی سے جلنا، جھوٹ بولنا، طعنہ دینا اور دل دکھانا بھی ایسے اعمال ہیں جن سے انسان کو بچنا چاہیے۔

کبھی ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے کسی کو ہاتھ سے نقصان نہیں پہنچایا، لیکن ہماری زبان سے نکلا ہوا ایک جملہ کسی کے دل کو بہت تکلیف دے سکتا ہے۔ اس لیے بولنے سے پہلے سوچیں کہ کیا میری بات سے کسی کی عزت، دل یا تعلق کو نقصان تو نہیں پہنچے گا؟

حسد کے بجائے دوسروں کی خوشی میں خوش ہوں، غیبت کے بجائے خاموشی اختیار کریں اور چغلی کے بجائے لوگوں کے درمیان محبت پیدا کریں۔

ہمیں چاہیے کہ غیبت سے اپنی زبان کی حفاظت کریں، چغلی سے لوگوں کے تعلقات خراب نہ کریں اور ایسی بات آگے نہ پہنچائیں جس سے کسی کا دل دکھے یا مسلمانوں کے درمیان نفرت پیدا ہو۔

انسان فطرتاً عزت کا بھوکا ہے، کوئی بھی شخص یہ نہیں چاہتا کہ اسکے ساتھ برا کیا جائے، اسے دھوکا دیا جائے، اسکا مذاق اڑایا جائے، اسے نظر انداز کیا جائے، بے عزت کیا جائے یا نا انصافی کی جائے، کسی کو گوارا ہوگا کہ کوئی اسے گالی دے اور یہ خاموش رہے؟ خود کو دوسروں کی جگہ پر رکھ کر سوچیں تو یہ سوچ بھی اذیت دیتی ہے تو جیسا اپنے لیے اچھا چاہتے ہیں ایسے ہی دوسروں کے ساتھ اچھا برتاؤ رکھیں تاکہ آپکے ساتھ بھی اچھا ہو اور مسلمان کی حرمت کعبے کی حرمت سے بڑھ کر ہے، کسی کو حقیر نہ جانیں۔

الله تبارک وتعالیٰ قرآن پاک کی سورۃ الحجرات آیت 11 میں ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّۚ-وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِؕ-بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِۚ-وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(۱۱)(پ 26، الحجرات: 11) ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو!مرد دوسرے مردوں پر نہ ہنسیں، ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں پر ہنسیں، ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں اور آپس میں کسی کو طعنہ نہ دو اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو، مسلمان ہونے کے بعد فاسق کہلانا کیا ہی برا نام ہے اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں۔

بعض علما نے فرمایا کہ اس سے وہ القاب مراد ہیں جن سے مسلمان کی برائی نکلتی ہو اور اس کو ناگوار ہو (لیکن تعریف کے القاب جو سچے ہوں ممنوع نہیں، جیسے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا لقب عتیق اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فاروق اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا ذوالنّورین اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ابوتراب اور حضرت خالد رضی اللہ عنہ کا سیف اللہ تھا) اور جو القاب گویا کہ نام بن گئے اور القاب والے کو ناگوار نہیں وہ القاب بھی ممنوع نہیں،جیسے اعمش اور اعرج وغیرہ۔ (خازن، 4/170)

حضرت علامہ عبد المصطفٰی اعظمی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں: کسی کو ذلیل کرنے کے لیے اور اس کی تحقیر کرنے کے لیے اس کی خامیوں کو ظاہر کرنا،اس کا مذاق اڑانا،اس کی نقل اتارنایا اس کو طعنہ مارنا یا عار دلانا یا اس پر ہنسنا یا اس کو برے برے القاب سے یاد کرنا اور اس کی ہنسی اڑانا مثلاً آج کل کے بزعم خود اپنے آپ کو عرفی شرفاء کہلانے والے کچھ قوموں کو حقیر و ذلیل سمجھتے ہیں اور محض قومیّت کی بنا پر ان کا تمسخر اور استہزاء کرتے اور مذاق اڑاتے رہتے ہیں اور قسم قسم کے دل آزار القاب سے یاد کرتے رہتے ہیں،کبھی طعنہ زنی کرتے ہیں، کبھی عار دلاتے ہیں، یہ سب حرکتیں حرام و گناہ اور جہنم میں لے جانے والے کام ہیں۔لہٰذا ان حرکتوں سے توبہ لازم ہے، ورنہ یہ لوگ فاسق ٹھہریں گے۔ اسی طرح سیٹھوں اور مالداروں کی عادت ہے کہ وہ غریبوں کے ساتھ تمسخر اور اہانت آمیز القاب سے ان کو عار دلاتے اور طعنہ زنی کرتے رہتے ہیں اور طرح طرح سے ان کا مذاق اڑایا کرتے ہیں جس سے غریبوں کی دل آزاری ہوتی رہتی ہے، مگر وہ اپنی غربت اور مفلسی کی وجہ سے مالداروں کے سامنے دم نہیں مار سکتے۔ ان مالدارو ں کو ہوش میں آ جانا چاہیے کہ اگر وہ اپنے ان کرتوتوں سے توبہ کرکے باز نہ آئے تو یقینا وہ قہر قہّار و غضب جبّار میں گرفتار ہو کر جہنم کے سزاوار بنیں گے اور دنیا میں ان غریبوں کے آنسو قہر خداوندی کا سیلاب بن کر ان مالداروں کے محلات کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائیں گے۔(جہنم کے خطرات، ص 175، 176)

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،صحابہ نے عرض کی: یارسول اللہ! کون سا اسلام افضل ہے؟ تو ارشاد فرمایا کہ اس شخص کا اسلام جس کی زبان اور ہاتھ سے تمام مسلمان سلامت رہیں۔ (بخاری، 1/16، حدیث: 11)

ایذا اور تکلیف تو زبان اور ہاتھ کے علاوہ دوسرے اعضا سے بھی پہنچائی جاسکتی ہے اور کسی بھی عضو سے کسی مسلمان کو کوئی تکلیف پہنچانا حرام ہے مگر اس حدیث میں خصوصیت کے ساتھ زبان اور ہاتھ کا ذکر اس لئے ہے کہ انسان کے زیادہ تر اعمال و افعال زبان اور ہاتھ ہی سے انجام پاتے ہیں اور حدیث میں ان دونوں اعضا میں سے زبان کا ذکر پہلے اور ہاتھ کا ذکر بعد میں اس لئے کیا گیا کہ ایذا پہنچانے کے معاملہ میں زبان کا نمبر ہاتھ سے بھی آگے ہے کیونکہ اوّلًا تو زبان سے تکلیف پہنچانا بہت ہی کثیر الو قوع اور آسان ہے۔کون نہیں جانتا کہ انسان اپنی گالیوں، افترا پردازیوں، بدگوئیوں،غیبتوں،چغلیوں سے اور زبان سے ظلم اورناانصافی کے احکام دے کر ایک منٹ میں سینکڑوں ایذائیں اور تکلیفیں پہنچادیتا ہے۔پھر ایک و جہ یہ بھی ہے کہ زبان کی ایذائیں اور تکلیفیں ہاتھ اور دوسرے اعضا کی تکلیفوں سے بدرجہا بڑھ کر دکھ دینے والی ہوا کرتی ہیں۔

حضرت معرور سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے ربذہ میں ملاقات کی، وہ اور ان کا غلام ایک ہی جیسا جوڑا پہنے ہوئے تھے تو میں نے اس کے بارے میں ان سے سوال کیا تو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے ایک شخص سے گالی گلوچ کی اور اس کو ماں کی گالی دی تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ اے ابوذر! تم نے اس کو ماں کی گالی دی تم ایسے آدمی ہو کہ تمہارے اندر جاہلیت کی خصلت ہے تمہارے لونڈی غلام تمہارے (دینی) بھائی ہیں۔ اللہ پاک نے ان لوگوں کو تمہارا ماتحت بنادیا ہے تو جس کا بھائی اس کے ماتحت ہو اس کو چاہئے کہ جو خود کھائے اس کو کھلائے اور جو خود پہنے اس کو پہنائے اور تم ان خادموں کو ایسے کاموں کی تکلیف مت دو جو انہیں لاچار کردے اور اگر تم ایسی تکلیف دو تو خود بھی کام میں ان کی مددکرو۔

حدیث مذکور کا خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ جناب معرور جب حضرت ابوذر کی ملاقات کے لیے ربذہ حاضر ہوئے تو یہ منظر دیکھا کہ آپ کے اور آپ کے غلام کے بدن پر بالکل ایک ہی قسم کا جوڑا ہے۔آقا اور غلام دونوں کا لباس یکساں دیکھ کر قدرتی طور پر جناب معرور کے دل میں اس سوال نے سر اٹھایا کہ آخر ایسا کیوں ہے کہ آقا اور غلام دونوں ایک ہی قسم کے لباس میں ملبوس ہیں تو آپ نے حضرت ابو ذر سے اس کے متعلق سوال کیا تو حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے اس کا یہ جواب دیا کہ میں نے ایک شخص کو ایک مرتبہ ماں کی گالی دے دی اس شخص نے حضور ﷺ سے میری شکایت کردی تو حضور ﷺ نے سرزنش کے طور پر مجھ سے فرمایا کہ کیا تو نے اس کو ماں کی گالی دی ہے۔ اے ابو ذر! رضی اللہ عنہ مسلمان ہونے کے بعد بھی تیرے اندر زمانۂ جاہلیت کی خصلت باقی ہے۔

اس کے بعد حضور ﷺ نے مجھے یہ نصیحت فرمائی کہ تم اپنے لونڈی غلاموں اور نوکروں چاکروں کو ہرگز ہرگز حقیر و ذلیل مت سمجھو بلکہ یہ سمجھو کہ یہ تمہارے دینی بھائی ہیں جن کو خدا نے تمہارے ماتحت بناکر تمہارے قبضہ میں دے دیا ہے۔لہٰذا اگر تمہارا کوئی دینی بھائی تمہارا ماتحت اور تمہارا غلام ہوتو اس کے ساتھ برادرانہ سلوک کرو یہاں تک کہ جو تم خود کھاتے ہو وہی اس کو کھلاؤ اور جو تم خود پہنتے ہو وہی اس کو بھی پہناؤاور ان لوگوں سے ان کی طاقت سے زیادہ مشقت کا کام نہ کراؤاور اگر کوئی مشقت کا کام ان لوگوں کے سپرد کرو تو تم خود بھی ان لوگوں کی مدد کرو۔اس لیے میں نے حضور ﷺ کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے اپنا یہ دستور بنالیا ہے کہ میں جو کھاتا ہوں وہی اپنے غلام کو بھی کھلاتا ہوں اور جس قسم کا جوڑا خود پہنتا ہوں اسی قسم کا جوڑا اپنے غلام کو بھی پہناتا ہوں۔یہی و جہ ہے کہ تم میرا اور میرے غلام کا لباس ایک ہی جیسا دیکھ رہے ہو۔

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کا ایک شاہکار: حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے جس شخص کو ماں کی گالی دی تھی وہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ ہیں۔کیا گالی دی تھی بس اتنا کہدیا تھا کہ (اے کالی ماں کے بیٹے)حضرت بلال نے جب دربار رسالت میں اس کی شکایت کی تو سرکار مدینہ ﷺ نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کو ڈانٹا اور نصیحت فرمائی۔اس کے بعد حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ پر اس کا کیا رد عمل ہوا، یہ بہت ہی لرزہ برا ندام کردینے والی داستان ہے۔اس کو بار بار پڑھتے رہیے اور خدا کے خوف سے ڈرتے رہیے۔

دربار رسالت کی ملامت سن کر فوراًہی حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ندامت کے ساتھ حاضر ہوئے اور ایک دم اپنا حسین رخسار زمین پر رکھ کر انتہائی لجاجت کے ساتھ روتے اور گڑگڑاتے ہوئے یہ کہا کہ اے بلال! جب تک تم اپنے قدم کے تلوے سے میرے اس رخسار کو نہ روندوگے میں اس وقت تک اپنا یہ چہرہ ہرگز ہرگز زمین سے نہیں اٹھاؤں گا۔حضرت ابو ذر کے شدید اصرار سے مجبور ہوکر حضرت بلال رضی اللہ پاک عنہن ے بادل نخواستہ اپنا قدم ابو ذر رضی اللہ عنہ کے چہرے پر رکھ کر فوراً ہی ہٹالیا اور حضرت ابو ذر کو معاف کردیا۔ (ارشاد الساری،1/246)

تو ہمیں جتنا ہوسکے اچھائی کے ساتھ چلنا ہے، با اخلاق بن جائیں الله کرے، بس جو کام کرنا ہے الله تبارک وتعالی اور آقا کریم ﷺ کی اور مرشد کریم کی رضا دیکھنی ہے اگر ایسا کریں گے تو ان شاءاللہ الکریم بیڑا پار ہوجائے گا۔ نہ دوسروں کو حقیر جانیں گے اور نہ ہی خود کو حقیر جانیں گے۔ پہلے تو اپنی پھر دوسروں کی اصلاح کرنی ہے۔ ان شاءاللہ الکریم


انسان کو اللہ پاک نے اشرف المخلوقات بنایا ہے اور اسے عقل و شعور عطا فرمایا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے۔ وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُؕ-اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ(۳۴) (پ 24، حم السجدۃ: 34) ترجمہ: نیکی اور برائی برابر نہیں ہیں۔ تم برائی کو اس طریقے سے دور کرو جو سب سے بہتر ہو (یعنی اچھائی سے)، پھر دیکھو گے کہ جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی تھی، وہ گویا تمہارا دلی دوست بن گیا ہے۔1

اس آیت مبارکہ میں ہمیں بہت خوبصورت تعلیم دی گئی ہے کہ اگر کوئی ہمارے ساتھ برائی کرے تو ہم اس برائی کا جواب برائی سے نہ دیں، بلکہ نیکی اور بھلائی سے دیں۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ اسلام نے مسلمانوں کو اخلاق حسنہ کی انتہائی اعلیٰ تعلیم دی ہے۔ اگر کسی کی طرف سے تکلیف پہنچے تو صبر کرو، کوئی جہالت یا بے وقوفی کا برتاؤ کرے تو حلم و بردباری کا مظاہرہ کرو، اور اگر کوئی بدسلوکی کرے تو عفو و درگزر سے کام لو۔

ایک روایت میں ہے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے ملاقات کی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے افضل اعمال کے بارے میں بتائیے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو تمہیں محروم کرے، تم اسے عطا کرو؛ جو تم سے رشتہ توڑے، تم اس سے رشتہ جوڑو؛ اور جو تم پر ظلم کرے، تم اسے معاف کر دو۔2

آج ہم لوگوں کو ان کے مال و دولت اور ظاہری حیثیت کے اعتبار سے پہچانتے ہیں۔ اگر کوئی امیر شخص ہم سے ملاقات کرے اور وہ ہمارے ساتھ برا سلوک کرے، تب بھی ہم اس کی دولت اور مقام کی وجہ سے اسے جواب نہیں دیتے بلکہ خاموش رہتے ہیں اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں۔

لیکن اگر یہی بات کوئی غریب شخص کہہ دے تو ہم فوراً اسے جواب دے دیتے ہیں۔ ہم اس کا بالکل لحاظ نہیں کرتے۔

اگر کوئی غریب یا مسکین شخص پرانے کپڑے پہنے ہمارے قریب آ کر بیٹھ جائے تو ہمیں برا محسوس ہوتا ہے۔ دل میں خیال آتا ہے کہ یہ میرے برابر آ کر کیوں بیٹھ گیا؟ کبھی تو اسے وہاں سے اٹھا بھی دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے: آپ کی یہاں جگہ نہیں، کہیں اور جا کر بیٹھیں۔

ہمیں کیا معلوم کہ اللہ پاک کی بارگاہ میں کس کا کیا مقام و مرتبہ ہے؟ ہو سکتا ہے جس شخص کو ہم حقیر سمجھ رہے ہیں، وہ اللہ پاک کا بہت محبوب بندہ ہو۔ اللہ پاک نے اپنے بہت سے اولیاء کو اپنے بندوں میں پوشیدہ رکھا ہے۔

روایات میں بنی اسرائیل کے ایک عابد اور ایک گناہگار شخص کا واقعہ بیان کیا جاتا ہے۔ ایک شخص بہت عبادت گزار تھا، یہاں تک کہ اس کے سر پر بادل کا ایک ٹکڑا سایہ کیے رہتا تھا اور وہ جہاں جاتا، بادل بھی اس کے ساتھ چلتا۔ اسی زمانے میں ایک گناہگار شخص بھی رہتا تھا۔ جب اس نے اس عابد کو دیکھا تو اس کے دل میں خیال آیا: میں بہت گناہ کر چکا ہوں۔ اگر میں اس نیک شخص کے پاس بیٹھ جاؤں اور اللہ پاک سے توبہ و معافی مانگوں تو شاید اللہ پاک اس نیک بندے کی برکت سے مجھ پر بھی رحم فرما دے۔ چنانچہ وہ اس عابد کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔ لیکن عابد کے دل میں تکبر پیدا ہوگیا۔ اس نے سوچا: میں اتنا بڑا عبادت گزار ہوں اور یہ گناہگار شخص میرے ساتھ کیسے بیٹھ سکتا ہے؟

اس نے اس گناہگار سے کہا: یہاں سے اٹھ جاؤ! گناہگار عاجزی کے ساتھ وہاں سے اٹھ گیا، لیکن اللہ پاک نے اپنے نبی کو وحی فرمائی کہ ان دونوں سے کہہ دو کہ اپنے اعمال نئے سرے سے شروع کریں؛ کیونکہ میں نے اس گناہگار کو بخش دیا اور اس عابد کے اعمال ضائع کر دیے۔ جب وہ گناہگار شخص وہاں سے اٹھا تو بادل کا وہ ٹکڑا جو عابد کے سر پر سایہ کیے ہوئے تھا، اس کے سر پر سایہ کرنے لگا۔3

بدترین رویے کے جواب میں بھی اخلاق حسنہ کا دامن نہ چھوڑنا مومن کی شان ہے یہ دنیا دار العمل ہے، ہمیں اسلام اتنا خوبصورت دین ملا ہے جو ہماری زندگی کے ہر اجتماعی اور انفرادی پہلو کی تعلیمات کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔

حوالہ جات:

1۔ پ 24، حم السجدۃ: 34

2۔ معجم کبیر، 17/270، حدیث: 740

3۔ بیانات سیرت مصطفی، ص 333

قران کریم کی آیت مبارکہ ہے۔ وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُؕ-اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ(۳۴) (پ 24، حم السجدۃ: 34) ترجمہ: نیکی اور برائی برابر نہیں ہیں۔ تم برائی کو اس طریقے سے دور کرو جو سب سے بہتر ہو (یعنی اچھائی سے)، پھر دیکھو گے کہ جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی تھی، وہ گویا تمہارا دلی دوست بن گیا ہے۔

احادیث مبارکہ:

حضور ﷺ کا فرمان ہے: ہر مسلمان کا خون مال اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔ (کسی کو تکلیف نہ دیجئے، ص 5)

بلا اجازت شرعی مسلمان کو تکلیف دینا کتنی بڑی جرأت ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اعلی حضرت امام احمد رضا خان فتاوی رضویہ جلد 24 صفحہ 342 میں طبرانی کے حوالے سے نقل کرتے ہیں اللہ پاک کے حبیب ﷺ کا فرمان عبرت نشان ہے: جس نے بلا وجہ شرعی کسی مسلمان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ پاک کو ایذا دی۔ (تکلیف نہ دیجیے، ص 6)

نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: مسلمان وہ ہے جس کے زبان اور ہاتھ سے لوگ محفوظ رہے لہذا کامل مسلمان وہی ہے جو زبان سے کسی کو گالی نہ دے بلا اجازت شرعی کسی کو برا نہ کہے کسی کی غیبت نہ کرے کسی کو بیوقوف نہ کہے کسی کے عیب نہ کھولے کسی کو ہاتھ سے تکلیف نہ دے کسی کی دل آزاری نہ کرے کسی کو بے جا تنقید کا نشانہ نہ بنائے اور جو ایسا نہ ہو بلکہ اس نے ہر طرح سے لوگوں کو تکلیف دی اور ہر شخص اس سے تنگ اور بیزار رہا وہ کامل مسلمان نہیں اس کے دل میں ایمان مضبوط نہیں۔ (غیبت کی تباہ کاریاں، ص 59)

کسی کے ساتھ برا کرنے کی چند مثالیں:

کسی کا مذاق اڑانا: کسی کے ساتھ برا کرنے کی ایک صورت کسی کا مذاق اڑانا بھی ہے یاد رکھیے کسی مسلمان کو مذاق میں بھی تکلیف پہنچانے سے منع کیا گیا ہے چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے حضور ﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی سے نہ تو جھگڑا کرو نہ اس کا مذاق اڑاؤ اور نہ ہی اس سے کوئی ایسا وعدہ کرو جس کی خلاف ورزی کرو۔ (تکلیف نہ دیجیے، ص 51)

مریض کو تکلیف دینا: بیمارکی عیادت کرنا کار ثواب ہے لیکن بعض اوقات عیادت کرنے والے مریض کے لیے راحت کے بجائے زحمت کا سبب بن جاتے ہیں بلا ضرورت مرض کی تفصیل پوچھنا اور بلا ضرورت فضول سوال کرنا لہذا اس سے بچا جائے۔

پڑوسی کو تکلیف دینا: کوئی تکلیف دے تو اس کے شر سے بچنے کے لیے اس کے قریب سے اٹھا جا سکتا ہے آئندہ اس سے ملنے سے بچا جا سکتا ہے تعلقات ختم کیے جا سکتے ہیں لیکن اگر پڑوسی ہی تکلیف دینے پر تل جائے تو انسان کہاں پناہ ڈھونڈے کیونکہ اس کی تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا یا مکان بدلنا پڑے گا جو کہ بہت دشوار ہے اس لیے ہمیں ہمیشہ مسلمانوں اور خاص طور پر پڑوسی کو تکلیف دینے سے بچنا چاہیے۔

حضور ﷺ کا فرمان ہے: جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو ہرگز تکلیف نہ دے۔ (تکلیف نہ دیجئے، ص 43)

پڑوسی کو تکلیف دینے کی مختلف صورتیں: اس کے دروازے کے سامنے کچرا ڈال دینا، ان کے دروازے کے پاس شور کرنا، ان کے گھر میں جھانکنا، ان کے بچوں کو جھاڑنا وغیرہ اللہ پاک ہمیں ان تمام باتوں سے بچائے۔ آمین

اللہ کریم ہمیں دوسروں کے ساتھ برا کرنے سے بچائے اور حسن سلوک سے پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

انسان کی سب سے بڑی پہچان اس کا کردار ہے۔ دولت، طاقت، شہرت سب ایک دن ختم ہو جاتی ہے، لیکن کسی کے دل میں چھوڑا ہوا زخم یا محبت ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ اسی لیے اسلام کا سب سے بنیادی سبق یہی ہےکسی کو تکلیف نہ دو۔اور یہی انسانیت کا درس بھی ہے

اللہ پاک نے ہمیں صرف عبادت کا حکم نہیں دیا، معاشرے کے ساتھ حسن سلوک کا حکم بھی دیا۔

اللہ پاک قرآن پاک میں فرما تا ہے: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰى وَ یَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْیِۚ- (پ 14، النحل: 80) ترجمہ کنز الایمان: بیشک اللہ حکم فرماتا ہے انصاف اور نیکی اور رشتہ داروں کے دینے کا اور منع فرماتا ہے بے حیائی اور بری بات اور سرکشی سے تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ تم دھیان کرو۔

یعنی اللہ خود چاہتا ہے کہ ہم دوسروں کے ساتھ رشتہ داروں کیساتھ احسان بھلائی کا رویہ اختیار کریں زیادتی، برائی اور ظلم کا راستہ چھوڑ دیں۔

سورۂ نحل کی اس آیت مبارکہ سے متعلق حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت تمام خیر و شر کے بیان کو جامع ہے۔ (شعب الایمان، 2/ 473، حدیث: 2440)

ایک اور جگہ اللہ فرماتا ہے: وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا (پ 1، البقرۃ: 83) ترجمہ: اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔

یہاں لوگوں کہا گیا ہے۔ مسلمان، غیر مسلم، دوست، دشمن، سب شامل ہیں۔ زبان سے برا بولنا بھی برا کرنا ہے۔ بلکہ ابتداء ہی زبان سے ہوتی ہے۔

ایک اور مقام پہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠(۵۸) (پ 22، الاحزاب: 58) ترجمہ: اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بغیر کچھ کئے ستاتے ہیں توانہوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھالیا ہے۔

اس آیت کا شان نزول اگرچہ خاص ہے لیکن اس کا حکم تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کو عام ہے اور آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جولوگ ایمان والے مردوں اور عورتوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جس سے انہیں اذیّت پہنچے حالانکہ انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا ہوتا جس کی وجہ سے انہیں اذیت دی جائے توان لوگوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھالیا اور خود کوبہتان کی سزا اور کھلے گناہ کے عذاب کا حق دار ٹھہرا لیا ہے۔ (مدارک، ص 950)

یاد رہے کہ مسلمان مردو عورت کو دین اسلام میں یہ حق دیا گیا ہے کہ انہیں کوئی شخص اپنے قول اور فعل کے ذریعے نا حق ایذا نہ دے،یہاں اس سے متعلق تین احادیث اور بزرگان دین کے تین اقوال ملاحظہ ہوں،چنانچہ

(1)حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگوں کو (اپنے) شر سے محفوظ رکھو،یہ ایک صدقہ ہے جو تم اپنے نفس پر کرو گے۔ (بخاری، 2/150، حدیث: 2518)

(2)حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ مسلمان کون ہے؟صحابہ ٔکرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اللہ پاک اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ ارشاد فرمایامسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے (دوسرے) مسلمان محفوظ رہیں۔ ارشاد فرمایاتم جانتے ہو کہ مومن کون ہے؟صحابہ ٔکرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اللہ پاک اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ارشاد فرمایامومن وہ ہے جس سے ایمان والے اپنی جانوں اور مالوں کو محفوظ سمجھیں اور مہاجر وہ ہے جو گناہ کو چھوڑ دے اور اس سے بچے۔ (مسند امام احمد، 2/654، حدیث: 6942)

(3)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک دوسرے سے حسدنہ کرو،گاہک کو دھوکہ دینے اور قیمت بڑھانے کیلئے دکاندار کے ساتھ مل کر جھوٹی بولی نہ لگاؤ،ایک دوسرے سے بغض نہ کرو،ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو،کسی کی بیع پر بیع نہ کرو اور اے اللہ پاک کے بندو!بھائی بھائی بن جاؤ، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے،اس پر نہ ظلم کرے، نہ ا س کو رسوا کرے،نہ حقیر جانے، حضور پر نور ﷺ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کر کے تین بار فرمایا:تقویٰ یہاں ہے اور کسی شخص کی برائی کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو برا جانے،ایک مسلمان دوسرے مسلمان پرحرام ہے،اس کا خون،اس کا مال اور ا س کی عزت۔ (مسلم، ص 1064، حدیث: 6541)

(4) حضرت فضیل رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں: کتے اور سور کو بھی ناحق ایذا دینا حلال نہیں تو مؤمنین و مؤمنات کو ایذا دینا کس قدر بدترین جرم ہے۔ (مدارک، ص 950)

(5) حضرت مجاہد رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں: جہنمیوں پرخارش مسلّط کردی جائے گی تووہ اپنے جسم کو کھجلائیں گے حتّٰی کہ ان میں سے ایک کے چمڑے سے ہڈی ظاہر ہو جائے گی تو اسے پکارا جائے گا:اے فلاں!کیا تمہیں اس سے تکلیف ہوتی ہے؟وہ کہے گا:ہاں۔پکارنے والا کہے گا:تو مسلمانوں کو تکلیف پہنچایا کرتا تھا یہ اس کی سزا ہے۔ (احیاء علوم الدین، 2/242)

(6)علامہ اسماعیل حقی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں:یہاں ایمان والوں کو اذیّت دینے کا ذکر نبی کریم ﷺ کو اذیت دینے کے ساتھ ہوا جیسا کہ حضور اکرم ﷺ کو اذیت دینے کا ذکر اللہ پاک کو اذیت دینے کے ساتھ ہوا،اس سے معلوم ہوا کہ ایمان والوں کو اذیت دینا گویا کہ رسول اللہ ﷺ کو اذیت دینا ہے اور رسول کریم ﷺ کو اذیت دینا گویا کہ اللہ پاک کو اذیت دینا ہے تو جس طرح اللہ پاک اور اس کے حبیب ﷺ کو اذیت دینے والا دنیا اور آخرت میں لعنت کا مستحق ہے اسی طرح ایمان والوں کو اذیت دینے والا بھی دونوں جہاں میں لعنت و رسوائی کا حقدار ہے۔ (روح البیان، 7/239)

قرآن وحدیث اور صحابہ کے طرز عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کو برا کہنا،برا کرنا اذیت وتکلیف دینا کس قدر برا عمل ہے اللہ اور اسکے نبی ﷺ کی ناراضگی کا سبب ہے۔

ہمیں چاہیے کہ کوئی برا کرے تو بدلہ نہ لیں کیونکہ۔ والعافين عن النّاس اللہ ایسے لوگوں سے محبت کرتا ہے۔

مسکرا کر ملنا، راستے سے پتھر ہٹانا، کسی کا بوجھ اٹھا دینا۔ یہ سب برا نہ کرنے کی چھوٹی مگر بہترین شکل ہیں۔

دنیا میں ہم سب مسافر ہیں۔ جس کے ساتھ بھی 2 منٹ کا واسطہ پڑے، اسے اپنی وجہ سے سکون دیں، تکلیف نہیں۔

کیونکہ مرنے کے بعد لوگ ہمارا بینک بیلنس نہیں پوچھیں گے۔ وہ پوچھیں گے: یہ انسان کیسا تھا؟ اس نے کسی کے ساتھ برا تو نہیں کیا تھا؟

اللہ ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جن کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ رہیں۔ اور ہمیں بھی دوسروں کے ظلم اور شر سے بچائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ

کسی کو نقصان نہ پہنچانا (لا ضرر ولا ضرار) اسلامی شریعت کا ایک بنیادی اصول ہے، جس کا مطلب ہے کہ نہ تو ابتداءً کسی کو تکلیف دی جائے اور نہ ہی بدلے میں کسی کا نقصان کیا جائے ۔

کسی مسلمان کا دل دکھانا یا دل آزاری کرنا شریعت میں سخت گناہ اور حرام ہے، جس سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے سختی سے منع فرمایا ہے۔

برا کرنے کے نقصانات:

اللہ کی ناراضی: مومن کا دل دکھانے سے اللہ تعالی ناراض ہوتا ہے ۔

گناہ کبیرہ: یہ ایسا باطنی گناہ ہے جس کی معافی بندے کی معافی کے بغیر مشکل ہے۔

معاشرتی بگاڑ: اس سے آپس میں نفرتیں بڑھتی ہیں اور پیار ختم ہوتا ہے۔

احادیث اور تعلیمات:

زبان و ہاتھ کی حفاظت: آپ ﷺ نے فرمایا کہ سچا مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔(بخاری، 1/15، حدیث: 10)

عزت نفس کا احترام: کسی مسلمان کی توہین کرنا، اسے طعنے دینا یا بلاوجہ رنج دینا ناجائز اور گناہ ہے۔

کفر کے بعد سب سے بڑا گناہ دل آزاری ہے خواہ مومن کی ہو یا کافر کی، گھور کر دیکھنا، بےموقع مسکرانا،طنز کرنا، مذاق اڑانا، دل آزاری کا باعث ہیں۔

اللہ پاک قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّ مَغْفِرَةٌ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ یَّتْبَعُهَاۤ اَذًىؕ-وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ(۲۶۳) (پ 3، البقرۃ: 263) ترجمہ: سائل کے ساتھ نرمی کے ساتھ گفتگو کرنا اور درگزر کرنا اس صدقہ سے کہیں بہتر ہے جس کے بعد اس کی دل آزاری ہو اور اللہ بےنیاز بڑے حلم والا ہے۔

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: وَ قُلْ لِّعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُؕ-اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَهُمْؕ-اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا(۵۳) (پ 15، بنی اسرائیل:53) ترجمہ: اور میرے بندوں سے کہہ دیں کہ وہ ایسی باتیں کہا کریں جو بہت اچھی ہو کیونکہ شیطان (بری باتوں سے) ان میں فساد ڈلوا دیتا ہے کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

احادیث مبارکہ:

1۔ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور اس کی زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (بخاری، 1/15، حدیث: 10)

2۔ بے شک کسی مسلمان کی نا حق بے عزتی کرنا سب سے بڑا گناہ ہے۔ (ابو داود،4/353، حدیث: 4877)

3۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ اس پر ظلم نہیں کرتا۔ (مسلم، ص 1069، حدیث: 6573)

ہمارے مدینے والے آقا ﷺ کسی کا دل توڑنا پسند نہیں کرتے تھے دلوں کو جوڑو، جہاں تک تمہارا بس چلے انہیں توڑو مت! دل جوئی کرنا ایسی نیکی ہے جو انس و محبت کا باعث ہے اور دل آزاری کرنا ایسا گناہ ہے جو وحشت و نفرت کا سبب ہے۔

1۔ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی دوسرے مسلمان کی طرف (یا اس کے بارے میں) اس قسم کے اشارے کنائے سے کام لے جو اس کی دل آزاری کا باعث بنے اور یہ بھی حلال نہیں کہ کوئی ایسی حرکت کی جائے جو کسی مسلمان کو ہراساں یا خوفزدہ کرے۔ (اتحاف السادۃ المتقین، 7 /177) اس حدیث پاک سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی مسلمان کی دل آزاری جائز نہیں۔

2۔ جس نے (بلا وجہ شرعی) کسی مسلمان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ پاک کو ایذا دی۔ (معجم اوسط، 2/386، حدیث: 360) اس حدیث پاک سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کسی مسلمان کی دل آزاری کرنا کتنا بڑا گناہ ہے۔

3۔ جب تم تین آدمی موجود ہو تو دو آدمی اپنے (تیسرے) ساتھی کو چھوڑ کر آپس میں سرگوشی نہ کریں یہاں تک کہ تم اور لوگوں سے مل جاؤ، اس لیے کہ ایسا کرنا اسے غمگین کر دے گا۔ (بخاری، 4/185، حدیث: 6290)

ان احادیث سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم کسی بھی مسلمان کی دل آزاری نہ کرے۔ لہذا ہر کسی کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ اس کی وجہ سے کبھی بھی کسی مسلمان کی دل آزاری نہ ہو کیونکہ یہ معاملہ حقوق العباد کا ہے اور حقوق العباد اس وقت تک اللہ معاف نہیں کرے گا جب تک بندہ نہ کر دے۔ اللہ پاک ہمیں اس گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔


کسی کے ساتھ برا کرنا اسلام میں صرف مارنے یا نقصان پہنچانے تک محدود نہیں؛ کسی کی دل آزاری بے عزتی، مذاق اڑانا گالی دینا، غیبت کرنا، جھوٹا الزام لگانا، حق مارنا یا جان بوجھ کر تکلیف دینا بھی اس میں شامل ہو سکتا ہے۔

کسی انسان کے جان مال عزت دل یا حقوق کو ناحق نقصان پہنچانا بدسلوکی اور ظلم میں شامل ہے۔ مثلاً: کسی کو گالی دینا یا برا نام دینا، کسی کا مذاق اڑانا یا اسے ذلیل کرنا، کسی کی غیبت کرنا، جھوٹا الزام لگانا،کسی حق یا مال نا حق کھانا۔

اسلام میں کسی کے ساتھ برا سلوک کرنے، دل دکھانے یا ظلم کرنے کی سخت ممانعت ہے۔ اللہ پاک اور اس کے رسول ﷺ نے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے اور برائی سے سختی سے روکا ہے۔

اللہ پاک قرآن مجید میں فرماتا ہے: وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠(۵۸) (پ 22، الاحزاب: 58) ترجمہ: اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بغیر کچھ کئے ستاتے ہیں توانہوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھالیا ہے۔

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آپس میں حسد نہ کرو، دھوکے کی غرض سے بولی نہ بڑھاؤ، بغض نہ رکھو، پیٹھ نہ پھیرو اور کوئی کسی کے اوپر سودا نہ کرے۔ اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرے، نہ اسے بے یارو مددگار چھوڑے، نہ اس سے جھوٹ بولے اور نہ اسے حقیر سمجھے۔ ہر مسلمان کا خون مال اور اس کی عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔ (مسلم، ص 1064، حدیث: 6541)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی مسلمان کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے اللہ کو تکلیف دی۔ (معجم اوسط، 2/387، حدیث: 3607)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (بخاری، 1/15، حدیث: 10)

اگر ہم کسی انسان کا حق مارتے یا اسے ناحق تکلیف دیتے ہیں تو صرف اللہ سے معافی مانگنا کافی نہیں؛ حقوق العباد میں جس کا حق متاثر ہوا ہو، اس سے معافی اور حق کی تلافی بھی ضروری ہوتی ہے۔

دلوں میں نفرت پیدا ہوتی ہے، بدسلوکی سے محبت ختم اور دشمنی پیدا ہوتی ہے۔ خاندان دوستوں اور معاشرے میں اختلافات بڑھ سکتے ہیں۔ انسان کی اپنی عزت کم ہوتی ہے، جو شخص دوسروں کو مسلسل ذلیل کرتا ہے، لوگ بھی اس سے دور ہونے لگتے ہیں اور اس پر اعتماد کم ہو جاتا ہے۔ نیکیوں کا نقصان ہو سکتا ہے۔

قیامت میں لوگوں کے حقوق کا معاملہ بہت اہم ہے۔ اس لیے مسلمان کو زبان ہاتھ اور معاملات میں بہت احتیاط کرنی چاہیے۔

اس سے بچنے کے چند طریقے: بولنے سے پہلے سوچیں، اپنے آپ سے پوچھیں اگر یہی بات مجھے کہی جائے تو کیا مجھے اچھا لگے گا؟ غصے پر قابو رکھیں، غصے میں فوراً جواب دینے کے بجائے خاموش ہوجائیں اور جگہ بدل لیں۔ غیبت سے فوراً رک جائیں، اگر کسی کی برائی بیان ہو رہی ہو تو گفتگو بدل دیں یا اس میں شریک نہ ہوں۔ دوسروں کی عزت کریں، کسی کے لباس،شکل،غربت،خاندان تعلیم یا کسی کمزوری کا مذاق نہ اڑائیں۔ بدگمانی سے بچیں، کسی کے بارے میں بغیر دلیل برا خیال قائم نہ کریں۔ قرآن نے بہت سی بدگمانیوں سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ غلطی ہوجائے تو معافی مانگیں، اگر کسی کو تکلیف پہنچ جائے تو ضد کرنے کے بجائے سچی معذرت کریں اور آئندہ احتیاط کریں۔ دوسروں کے لیے خیر چاہیں، نبی کریم ﷺ کی تعلیم کے مطابق اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں۔

کسی کے ساتھ برا نہ کرنا اسلامی اخلاق کا بنیادی اصول ہے۔ مسلمان کی پہچان یہ ہے کہ دوسرے لوگ اس کی زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں۔ ہمیں مذاق، گالی، غیبت بدگمانی ظلم حق تلفی اور دل آزاری سے بچنا چاہیے اور ہر شخص کے ساتھ عزت،نرمی انصاف اور خیرخواہی سے پیش آنا چاہیے۔

اور اگر ہم سے کسی کے ساتھ زیادتی ہو جائے تو رسول اللہ ﷺ نے حقوق کی ادائیگی کی سخت تاکید فرمائی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے کسی کی عزت یا کسی اور چیز پر زیادتی کی ہو تو اسے چاہئے کہ اس دن سے پہلے آج ہی معافی حاصل کر لے جس دن دینار اور درہم پاس نہیں ہوں گے، اگر ظالم کے پاس نیک اعمال ہوئے تو ظلم کے برابر ان میں سے لے لئے جائیں گے اور اگر نیکیاں نہ ہوئیں تو ظلم کے برابر مظلوم کے گناہ ظالم پر ڈال دئیے جائیں گے۔ (بخاری، 2/128، حدیث: 2449)

آخر اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں آپس میں پیار سلوک اخلاق اور محبت و شفقت سے پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے اور پیارے آقا کریم ﷺ کی سیرت مبارکہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اسلام ایک خوبصورت دین ہے جوحقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کی بھی تعلیم دیتا ہے۔معاشرے میں رہتے ہوئے انسان کو دوسرے لوگوں سے واسطہ پڑتا رہتا ہے اور باہمی حقوق و فرائض کی ادائیگی سے ہی خوبصورت معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ اسلامی معاشرے کی خوبیوں میں سے یہ بھی ہے کہ کسی کے ساتھ بھی برا سلوک نہ کیا جائے۔

برے سلوک میں کسی مسلمان کے ساتھ بد اخلاقی سے پیش آنا، ناحق ظلم کرنا، اس کی دل آزاری کرنا یا کسی بھی طریقے سے تکلیف پہنچانا ہے جیسا کہ کسی کی غیبت و چغلی کرنا یا کسی سے حسد اور بغض و کینہ رکھنا وغیرہ۔یار رکھیے کہ حقوق العباد اس وقت تک معاف نہ ہوں گے جب تک بندہ انہیں معاف نہیں کرے گا۔

جو لوگ ناحق برا رویہ اختیار کرتے ہیں اللہ پاک بھی انہیں پسند نہیں فرماتا جیسا کہ ارشاد باری ہے: وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ(۵۷) (پ 3، آل عمران: 57) ترجمہ: اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔

اس کے برعکس اسلام ہر ایک کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اسی طرح کثیر احادیث مبارکہ میں بھی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور ان کے ساتھ برا کرنے سے منع فرمایا گیا ہے۔ چند احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیے:

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، نہ تو وہ اس پر ظلم کرے اور نہ ہی اسے کسی ظالم کے حوالے کرے۔ جو مسلمان اپنے کسی بھائی کی حاجت پوری کرتاہے اللہ اس کی حاجت روائی فرماتا ہے۔ جوکسی مسلمان بھائی کی ایک دنیوی تکلیف کو دور کرے گا، اللہ قیامت کی تکالیف میں سے اس کی ایک تکلیف کو دور فرمائے گا۔ جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی اللہ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ (مسلم، ص 1069، حدیث: 6578)

سب سے بھاری عمل:حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن مومن کی میزان (ترازو) میں سب سے زیادہ وزنی چیز اچھا اخلاق ہوگی۔ (ترمذی، 3/404، حدیث: 2010)

سچے مسلمان کی پہچان: آپ ﷺ نے فرمایا: حقیقی مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (بخاری، 1/15، حدیث: 10)

مفلس کون:آپ ﷺ نے صحابہ سے پوچھا کہ جانتے ہو مفلس کون ہے؟ عرض کیا کہ ہم تو اسی کو مفلس سمجھتے ہیں جس کے پاس درہم اور سامان نہ ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، مگر اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا اور کسی کا خون بہایا ہوگا۔ پس اس نیک آدمی کو اس کے ظالم کی نیکیاں دے دی جائیں گی، اور اگر نیکیاں ختم ہو گئیں تو مظلوم کے گناہ اس پر ڈال کر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ (مسلم، ص 1069، حدیث:6579)

برا سلوک کرنے کے نقصانات: دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے پر نا صرف انسان قلبی طور پر مطمئن ہوتا ہے بلکہ آخرت میں بھی اس کا اجر حاصل ہوگا جب کہ بد سلوکی کے نتیجے میں دنیاوی اخروی کئی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

1)گناہوں میں اضافہ ہوتا ہے۔

2)ضمیر کی ملامت سے اندرونی سکون چھن جاتا ہے۔

3)باہمی محبت اور بھائی چارہ ختم ہو جاتا ہے۔اور لوگوں کا اعتماد اٹھ جاتا ہے جس سے شک و نفرت بڑھتی ہے۔

4) انسان اندرونی طور پر حسد اور منفی سوچ کا شکار رہتا ہے اور دوسروں کے عیب ڈھونڈنے پر خود بھی رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

5)سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ آخرت میں جس کے ساتھ برا سلوک کیا ہوگا اس کے معاف نہ کرنے کی صورت میں اپنی نیکیاں اس مظلوم کو دینی ہوں گی اور نیکیاں ختم ہونے کی صورت میں آس ادمی کے گناہ اپنے سر لینے پڑیں گے۔کیونکہ بروز قیامت ہر ہر عمل کا حساب و کتاب ہوگا جیسا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: تم لوگ قیامت میں حقوق حق والوں کے سپرد کرو گے حتی کہ منڈی بکری کا سینگ والی بکری سے بدلہ لیا جاوے گا۔ (مسلم، ص 1070، حدیث: 6580)

لہذا عافیت اسی میں ہے کہ اگر کسی مسلمان کے ساتھ کسی بھی قسم کا برا سلوک کیا ہے تو دنیا میں ہی اس سے معافی تلافی کر لی جائے۔

اللہ پاک ہمیں حسن سلوک کی دولت اور پیار و محبت سے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔