انسان ایک معاشرتی حیوان ہے جو اس دنیا میں آتا تو تنہا ہے مگر ایام زندگی کو تنہا بسر کرنے کی قدرت نہیں رکھتا اسے پیدائش سے تدفین تک انسانوں کی ضرورت ہوتی ہے لہذا جب ہماری زندگی کا تانا بانا انسانوں سے ہی جڑا ہوا ہے تو ہماری زندگیوں اور معاشرے میں امن و سکون کی فضا اسی وقت قائم ہو سکتی ہے جب ہم دوسروں کیلیے آسانیاں پیدا کریں اور انہیں اپنے شر سے محفوظ رکھیں آج دوسروں کا بھلا چاہا تو کل اپنا بھی بھلا ہوگا جبکہ دوسروں کا برا چاہنے والا دنیا و آخرت میں اس برائی کا بدلہ پائے گا یاد رہے چکی جہاں سے چلتی ہے لوٹ کر وہیں آتی ہے یہی حال انسان کے عمل کا بھی ہے کہ جو عمل آگے بھیجے گا وہی لوٹ کر اسکے پاس آئے گا اگر اچھائی کو آگے بھیجا تو یہی اچھائی لوٹ کر واپس آئے گی اور برائی کو آگے بھیجا تو برائی ہی پلٹا کھا کر اسکے پاس آئے گی لہذا کسی کے ساتھ بھی برا مت کیجیے کیونکہ یہ نہ صرف اخلاقی برائی ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔

قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے: وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠(۵۸) (پ 22، الاحزاب: 58) ترجمہ: اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بغیر کچھ کئے ستاتے ہیں توانہوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھالیا ہے۔

حسن معاشرت کے بغیر بے سکونی،اضطراب،مسلسل تنزلی اور اپنے رب کریم کی رضا سے دوری بڑھتی جاتی ہے اور معاشرے میں بگاڑ پیدا ہونے لگتا ہے۔

غیبت کرنا، معاملات کی ٹوہ میں رہنا، طعنے دینا، مذاق اڑانا،برے القاب سے پکارنا وغیرہ یہ تمام وہ امور ہیں جن سے ایک مسلمان کو تکلیف ہوتی ہے لہذا ایسے مذموم افعال سے بچنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔

یاد رہے ایذائے مسلم حرام قطعی ہے لہذا کسی مسلمان کو اپنے کسی قول،فعل یا کسی بھی انداز سے تکلیف نہ دیجیے اور نہ ہی دل میں کسی کا برا چاہیں۔

احادیث کریمہ میں بھی اسکی ممانعت وارد ہے چنانچہ ارشاد فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے نہ اسے (مدد کے وقت بے یار و مددگار چھوڑ کر) رسوا کرے اور نہ حقیر جانے۔ (مسلم، ص 1064، حدیث: 6541)

حدیث پاک ہے: کامل مسلمان وہ ہے کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (بخاری،1/15، حدیث:10)

مسلمانوں کو اپنے شر سے محفوظ نہ رکھنا دو جہاں کی رسوائی کا سبب ہے اور مسلمانوں کی خیر خواہی میں مشغول رہنا دنیا و آخرت میں سعادت کا باعث ہے نیز رحمت الٰہی کے حصول کا ذریعہ بھی ہے۔

حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: ہر جاندار کے ساتھ بھلائی کرنے میں ثواب ہے

(بخاری 2 /133 حدیث 2466)

لہذا ہر ذی روح کے ساتھ بھلائی کریں اور یاد رہے بھلائی کے سب سے زیادہ حقدار والدین اور گھر والے ہیں نیز آس پڑوس والوں اور دیگر رشتہ داروں کے ساتھ ساتھ انجان لوگوں کے ساتھ بھی بھلائی کریں اور اپنی ذات کو بے ضرر بنائیں۔جو لوگ ہمارے ساتھ اچھا برتاؤ کریں جواباً انکے ساتھ بھی محبت و شفقت سے پیش آئیے اور بالفرض کوئی برا کر دے تو بھی اسے اپنی نفسانی ضد کا مسئلہ نہ بنائیے بلکہ معاف کر دیجیے اور ادفع بالتی ھی احسن کا سچا مصداق بن کر دکھائیے۔