اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا (پ 1، البقرۃ: 83) ترجمہ: اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔ اچھی بات سے مراد نیکی کی دعوت اور برائی سے منع کرنا ہے نیکی کی دعوت میں اس کے تمام طریقے داخل ہیں جیسے بیان کرنا درس دینا وعظ و نصیحت کرنا وغیرہ نیز اچھی بات کہنے میں اللہ پاک کی عظمت حضور ﷺ کی شان اولیاء رحمۃ اللہ علیہم کے مقام بیان کرنا اور نیکیوں اور برائیوں کے متعلق سمجھنا سب شامل ہیں۔

ہمارے پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: مسلمان کا مسلمان پر خون،مال اور عزت حرام ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی مسلمان کی بےعزتی کرنا کسی کا مال ناحق کھانا کسی کا دل دکھانا سب حرام ہیں۔ یاد رہے کہ مسلمان مردو عورت کو دین اسلام میں یہ حق دیا گیا ہے کہ انہیں کوئی شخص اپنے قول اور فعل کے ذریعے ناحق ایذا نہ دے، اگر کسی کی اصلاح کرنی ہے تو تنہائی میں کریں سب کے سامنے غلطی بتانے سے ہو سکتا ہے اس کی عزت مجروح ہو جائے کسی کی عزت مجروح ہونا ہی بہت بڑی دل آزاری ہے، اپنی زبان کے ساتھ اپنے لہجے اور ہاتھوں کی بھی حفاظت کریں کیونکہ دل لفظوں سے نہیں رویوں سے زخمی ہوتا ہے۔

آج کل قرض کے نام پر لوگ ہزاروں بلکہ لاکھوں روپے ہڑپ کر جاتے ہیں یہ سب ظاہری طور پر آسان لگ رہا ہوتا ہے لیکن قیامت کے دن بہت مہنگا پڑے گا یہ ایک سنہری اصول ہے کہ بزرگ کہتے ہیں کہ جیسا کرو گے ویسا بھرو گےمطلب یہ ہے کہ جو برائی تم دوسروں کے ساتھ کرو گے وہ گھوم پھر کر تمہارے پاس ضرور آئے گی۔

اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠(۵۸) (پ 22، الاحزاب: 58) ترجمہ: اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بغیر کچھ کئے ستاتے ہیں توانہوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھالیا ہے۔

یاد رہے کہ مسلمان مرد و عورت کو دین اسلام میں یہ حق دیا گیا ہے کہ انہیں کوئی شخص اپنے قول اور فعل کے ذریعے نا حق ایذا نہ دے،یہاں اس سے متعلق تین احادیث مبارکہ پیشِ خدمت ہیں:

1) حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگوں کو (اپنے) شر سے محفوظ رکھو،یہ ایک صدقہ ہے جو تم اپنے نفس پر کرو گے۔ (بخاری، 2/150، حدیث: 2518)

2) سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ مسلمان کون ہے؟صحابہ ٔکرام نے عرض کی: اللہ پاک اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ ارشاد فرمایا:مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے (دوسرے) مسلمان محفوظ رہیں۔ ارشاد فرمایاتم جانتے ہو کہ مومن کون ہے؟صحابہ ٔکرام نے عرض کی: اللہ پاک اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ارشاد فرمایا: مومن وہ ہے جس سے ایمان والے اپنی جانوں اور مالوں کو محفوظ سمجھیں اور مہاجر وہ ہے جو گناہ کو چھوڑ دے اور اس سے بچے۔ (مسند امام احمد، 2/654، حدیث: 6942)

3) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک دوسرے سے حسدنہ کرو،گاہک کو دھوکہ دینے اور قیمت بڑھانے کیلئے دکاندار کے ساتھ مل کر جھوٹی بولی نہ لگاؤ،ایک دوسرے سے بغض نہ کرو،ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو،کسی کی بیع پر بیع نہ کرو اور اے اللہ پاک کے بندو!بھائی بھائی بن جاؤ، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے،اس پر نہ ظلم کرے، نہ ا س کو رسوا کرے،نہ حقیر جانے، حضور پر نور ﷺ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کر کے تین بار فرمایا:تقویٰ یہاں ہے اور کسی شخص کی برائی کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو برا جانے،ایک مسلمان دوسرے مسلمان پرحرام ہے،اس کا خون،اس کا مال اور ا س کی عزت۔ (مسلم، ص 1064، حدیث: 6541)

4) حضرت فضیل رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں: کتے اور سور کو بھی ناحق ایذا دینا حلال نہیں تو مؤمنین و مؤمنات کو ایذا دینا کس قدر بدترین جرم ہے۔ (مدارک، ص 950)

موجودہ زمانے میں مسلمانوں کو ایذا دینے کی 20 مثالیں: زیرِ تفسیر آیت اور درج بالا احادیث و اقوال سے معلوم ہوا کہ دین اسلام میں مسلمانوں کو اذیّت سے بچانا خاص اہمیت کا حامل ہے اور نا حق ایذا پہنچانا اسلام کی نظر میں انتہائی قبیح جرم ہے جس کی سخت سز امقرر کی گئی ہے۔فی زمانہ ہمارے معاشرے میں لوگ اس حوالے سے انتہائی غفلت کا شکار ہیں اور مختلف طریقوں سے اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو ناحق ایذا پہنچاتے اور ان کی ایذا رسانی کا سامان مہیا کرتے ہیں،اللہ پاک انہیں ہدایت اور عقل سلیم عطا فرمائے، یہاں ہم 20ایسی مثالیں ذکر کرتے ہیں جن کے ذریعے عمومی طور پر مسلمانوں کو ناحق ایذا پہنچائی جاتی ہے تاکہ مسلمان ان کی طرف متوجہ ہوں اور اپنے ان افعال سے باز آ کر مسلمانوں کو اذیت سے بچائیں:

(1)شادیوں میں شور شرابا،غل غپاڑہ کرنا اور رات کے وقت آتش بازی کا مظاہرہ کرنا۔

(2)غلط جگہ پارکنگ کر کے،گلیوں میں ملبہ وغیرہ ڈال کر اور مختلف تقاریب کے لئے گلیاں بند کرنا۔

(3)گلیوں میں کرکٹ اور فٹ بال وغیرہ کھیلنا اور خاص طور پررمضان کی راتوں میں رات رات بھر ایسا کرنا اور ا س دوران شور مچانا۔

(4)سائلنسر نکال کر گلیوں اور بازاروں میں موٹر سائیکل اور کاریں چلانا۔

(5)گلیوں میں کچرا اور غلاظت ڈالنا۔

(6)اسٹریٹ کرائم اور ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں کے ذریعے مسلمانوں کو اذیت پہنچانا۔

(7) دل شکنی والے الفاظ سے پکارنا۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں:کسی مسلمان بلکہ کافر ذمی کو بھی بلا حاجت شرعیہ ایسے الفاظ سے پکارنا یا تعبیر کرنا جس سے اس کی دل شکنی ہو،اسے ایذا پہنچے، شرعاً ناجائز و حرام ہے اگرچہ بات فی نفسہٖ سچی ہو۔ (فتاویٰ رضویہ، 23/204)

(8)گھر میں شور شرابا کرنا اور بلند آواز سے ٹی وی اور گانے وغیرہ چلا کر پڑوسیوں کو تنگ کرنا۔

(9)پڑوسیوں کے گھر میں تانک جھانک کرنا اور ان کے عیبوں کی تلاش میں رہنا۔

(10)کسی عورت کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کرنا۔

(11) عورت کا اپنے گھر سے بھاگ کر اور مرد کا اسے بھگا کر شادی کرنا۔ایسے لوگوں کے بارے میں اعلیٰ حضرت رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں:بلا شبہہ ایسے لوگ مفسد و فتنہ پرداز اور آبرو ریز،فتنہ انگیز،مستحق عذاب شدید ووبال مدید ہیں، معاذاللہ اگر ایسی جرأتیں روا رکھی جائیں تو ننگ و ناموس کو بہت صدمہ پہنچے گا،کم سے کم اس میں شناعت یہ ہے کہ بلا وجہ شرعی ایذائ مسلم ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، 11/ 292)

(12)رشتہ نہ ملنے پر لڑکی والوں سے متعلق اذیت بھرے کلمات کہنا اورداماد وغیرہ کا اپنے سسرال والوں کو طرح طرح سے تنگ کرنا۔

(13)ساتھ کام کرنے والوں کی چغلیاں کھانا۔

(14)ساتھ کام کرنے والوں کی کارکردگی ناقص بنانے کی کوشش کرنااور اسے بلا وجہ ناقص ثابت کرنے کی کوشش کرنا۔

(15)ساتھی کو تکلیف یا مصیبت پہنچنے پر خوشی کا اظہار کرنا۔

(16)ساتھیوں اورماتحتوں کو حقیر سمجھنا اور ان کے ساتھ حقارت آمیز سلوک کرنا۔

(17) گالیاں دینا، لعنت کرنا،تہمت اور بہتان لگانا۔

(18)مذاق اڑانا اور پھبتیاں کسنا۔

(19)بد گمانیاں پھیلاتے پھرنا اور بلاوجہ کسی کے پوشیدہ عیبوں کو دوسروں کے سامنے ظاہر کرنا۔

(20)لوگوں کا مال دبا لینا اور قرض کی ادائیگی میں بلا وجہ تنگ کرنا۔

سر دست یہاں بیس مثالیں ذکر کی ہیں اور غور کیا جائے تو مسلمانوں کو بلا وجہ اذیت دینے کی سینکڑوں مثالیں آپ کے سامنے آ سکتی ہیں۔ اللہ پاک مسلمانوں کو یہ توفیق عطا فرمائے کہ وہ ایک دوسرے کو ایذا اور تکلیف دینے سے بچیں۔ اٰمین


انسان ایک معاشرتی مخلوق ہے، وہ اکیلا زندگی نہیں گزار سکتا۔ اسے ہر قدم پر دوسروں کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اردگرد رہنے والے لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں اور کسی کو جان بوجھ کر تکلیف نہ دیں۔ کسی کا دل دکھانا، اسے برا بھلا کہنا، اس کا حق مارنا یا اس کے ساتھ زیادتی کرنا اچھی بات نہیں۔

قرآن مجید میں اللہ پاک فرماتا ہے: وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا (پ 1، البقرۃ: 83) ترجمہ: اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔

اچھی بات سے مراد نیکی کی دعوت اور برائیوں سے روکنا ہے۔ نیکی کی دعوت میں اس کے تمام طریقے داخل ہیں، جیسے بیان کرنا، درس دینا، وعظ و نصیحت کرناوغیرہ۔ نیز اچھی بات کہنے میں اللہ پاک کی عظمت، حضور پرنور ﷺ کی شان، اولیاء کے مقام ومرتبہ کا بیان اور نیکیوں اور برائیوں کے متعلق سمجھانا سب شامل ہیں۔

ایک روایت میں ہے کہ سرکاردو عالم ﷺ نے صحابۂ کرام سے سوال کیا: کیا تم جانتے ہو کہ مسلمان کون ہے؟ انہوں نے عرض کی: اللہ پاک اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ ارشاد فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے(دوسرے) مسلمان محفوظ رہیں۔ ارشاد فرمایا: تم جانتے ہو کہ مومن کون ہے؟ صحابۂ کرام نے عرض کی: اللہ پاک اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ ارشاد فرمایا: مومن وہ ہے جس سے ایمان والے اپنی جانیں اور اموال محفوظ سمجھیں۔ (مسند امام احمد،2/654، حدیث:6942)

زبان کی حفاظت: اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی زبان سے کسی کو گالی نہ دے، غیبت نہ کرے، بہتان نہ لگائے، چغلی نہ کرے اور کسی کا دل نہ دکھائے۔

ہاتھ کی حفاظت: اس کا مطلب ہے کہ اپنے ہاتھ سے کسی کو جسمانی تکلیف نہ پہنچائے، کسی کا مال ناحق نہ چھینے اور ظلم نہ کرے۔

حضرت ابوسعید سعد بن مالک بن سنان خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: نہ خود نقصان اٹھاؤ اور نہ ہی (دوسروں کو) نقصان پہنچاؤ۔ (ابن ماجہ، 3/106، حدیث:2340)

حضرت علامہ ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی رحمۃ اللہ علیہ حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں: تم اسے نقصان نہ پہنچاؤ جو تمہیں نقصان دے اور تم اسے گالی نہ دو جو تمہیں گالی دے، اگر کوئی تمہیں مارے تو تم اسے نہ مارو بلکہ تم بغیر گالی دیے اپنا حق حاکم کے پاس جا کر طلب کرو۔ (شرح اربعین للنووی، ص 110)

انسان ایک آزاد مخلوق ہے۔ وہ مٹی سے بنا ہے لیکن اس کے اندر نیکی اور بدی دونوں راستے اختیار کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ وہ اپنے اچھے یا برے فیصلوں اور عمل سے خود اپنی تقدیر اور انجام (جنت یا جہنم) کا فیصلہ کرتا ہے۔

انسان کی دنیا اور آخرت کا دارومدار صرف اور صرف اس کے اپنے عمل پر ہے۔ اچھے اعمال انسان کو جنت کی طرف لے جاتے ہیں اور برے اعمال جہنم کا راستہ دکھاتے ہیں۔

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

دوسروں کو تکلیف دینا بلاوجہ دوسروں کو تھوڑا یا زیادہ کسی بھی قسم کا نقصان پہنچانا ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے

زندگی میں فرض عبادت کے بعد سب سے بڑی عبادت کسی کے دل میں اچھائی داخل کرنا ہے۔ جب ہم کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لاتے ہیں یا کسی کے لیے آسانی پیدا کرتے ہیں تو دراصل ہم اپنی ہی دنیا کو خوبصورت بنا رہے ہوتے ہیں۔ اچھائی وہ چراغ ہے جو دوسروں کو روشنی دینے کے ساتھ ہمارے اپنے دل کو بھی روشن کرتی ہےاور سکون بھر دیتی ہے۔ معاشرہ انہی لوگوں سے جنت بنتا ہے جو بدلے کی امید کے بغیر ایک دوسرے کے لیے اچھا کرتے ہیں۔ اور یاد رکھیں، اللہ کے نزدیک سب سے عمدہ انسان وہی ہے جو مخلوق کے ساتھ سب سے بہتر سلوک کرے۔ اچھائی نہ کبھی ضائع ہوتی ہے نہ بے مول جاتی ہے۔ آج جو بیج ہم دوسروں کے لیے بوئیں گے، کل وہی ہمارے لیے سکون اور دعاؤں کی فصل بن کر لوٹے گا۔ اس لیے آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی زبان، اپنے عمل اور اپنے اخلاق سے ہمیشہ دوسروں کے لیے آسانی بنیں گے۔ کیونکہ اصل کامیابی یہی ہے کہ لوگ ہمارے جانے کے بعد بھی ہمیں دعاؤں میں یاد رکھیں۔

ڈاکٹر اقبال لکھتے ہیں:

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے