انسان ایک معاشرتی مخلوق ہے، وہ اکیلا زندگی نہیں گزار سکتا۔ اسے ہر قدم پر دوسروں کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اردگرد رہنے والے لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں اور کسی کو جان بوجھ کر تکلیف نہ دیں۔ کسی کا دل دکھانا، اسے برا بھلا کہنا، اس کا حق مارنا یا اس کے ساتھ زیادتی کرنا اچھی بات نہیں۔

قرآن مجید میں اللہ پاک فرماتا ہے: وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا (پ 1، البقرۃ: 83) ترجمہ: اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔

اچھی بات سے مراد نیکی کی دعوت اور برائیوں سے روکنا ہے۔ نیکی کی دعوت میں اس کے تمام طریقے داخل ہیں، جیسے بیان کرنا، درس دینا، وعظ و نصیحت کرناوغیرہ۔ نیز اچھی بات کہنے میں اللہ پاک کی عظمت، حضور پرنور ﷺ کی شان، اولیاء کے مقام ومرتبہ کا بیان اور نیکیوں اور برائیوں کے متعلق سمجھانا سب شامل ہیں۔

ایک روایت میں ہے کہ سرکاردو عالم ﷺ نے صحابۂ کرام سے سوال کیا: کیا تم جانتے ہو کہ مسلمان کون ہے؟ انہوں نے عرض کی: اللہ پاک اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ ارشاد فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے(دوسرے) مسلمان محفوظ رہیں۔ ارشاد فرمایا: تم جانتے ہو کہ مومن کون ہے؟ صحابۂ کرام نے عرض کی: اللہ پاک اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ ارشاد فرمایا: مومن وہ ہے جس سے ایمان والے اپنی جانیں اور اموال محفوظ سمجھیں۔ (مسند امام احمد،2/654، حدیث:6942)

زبان کی حفاظت: اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی زبان سے کسی کو گالی نہ دے، غیبت نہ کرے، بہتان نہ لگائے، چغلی نہ کرے اور کسی کا دل نہ دکھائے۔

ہاتھ کی حفاظت: اس کا مطلب ہے کہ اپنے ہاتھ سے کسی کو جسمانی تکلیف نہ پہنچائے، کسی کا مال ناحق نہ چھینے اور ظلم نہ کرے۔

حضرت ابوسعید سعد بن مالک بن سنان خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: نہ خود نقصان اٹھاؤ اور نہ ہی (دوسروں کو) نقصان پہنچاؤ۔ (ابن ماجہ، 3/106، حدیث:2340)

حضرت علامہ ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی رحمۃ اللہ علیہ حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں: تم اسے نقصان نہ پہنچاؤ جو تمہیں نقصان دے اور تم اسے گالی نہ دو جو تمہیں گالی دے، اگر کوئی تمہیں مارے تو تم اسے نہ مارو بلکہ تم بغیر گالی دیے اپنا حق حاکم کے پاس جا کر طلب کرو۔ (شرح اربعین للنووی، ص 110)

انسان ایک آزاد مخلوق ہے۔ وہ مٹی سے بنا ہے لیکن اس کے اندر نیکی اور بدی دونوں راستے اختیار کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ وہ اپنے اچھے یا برے فیصلوں اور عمل سے خود اپنی تقدیر اور انجام (جنت یا جہنم) کا فیصلہ کرتا ہے۔

انسان کی دنیا اور آخرت کا دارومدار صرف اور صرف اس کے اپنے عمل پر ہے۔ اچھے اعمال انسان کو جنت کی طرف لے جاتے ہیں اور برے اعمال جہنم کا راستہ دکھاتے ہیں۔

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

دوسروں کو تکلیف دینا بلاوجہ دوسروں کو تھوڑا یا زیادہ کسی بھی قسم کا نقصان پہنچانا ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے

زندگی میں فرض عبادت کے بعد سب سے بڑی عبادت کسی کے دل میں اچھائی داخل کرنا ہے۔ جب ہم کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لاتے ہیں یا کسی کے لیے آسانی پیدا کرتے ہیں تو دراصل ہم اپنی ہی دنیا کو خوبصورت بنا رہے ہوتے ہیں۔ اچھائی وہ چراغ ہے جو دوسروں کو روشنی دینے کے ساتھ ہمارے اپنے دل کو بھی روشن کرتی ہےاور سکون بھر دیتی ہے۔ معاشرہ انہی لوگوں سے جنت بنتا ہے جو بدلے کی امید کے بغیر ایک دوسرے کے لیے اچھا کرتے ہیں۔ اور یاد رکھیں، اللہ کے نزدیک سب سے عمدہ انسان وہی ہے جو مخلوق کے ساتھ سب سے بہتر سلوک کرے۔ اچھائی نہ کبھی ضائع ہوتی ہے نہ بے مول جاتی ہے۔ آج جو بیج ہم دوسروں کے لیے بوئیں گے، کل وہی ہمارے لیے سکون اور دعاؤں کی فصل بن کر لوٹے گا۔ اس لیے آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی زبان، اپنے عمل اور اپنے اخلاق سے ہمیشہ دوسروں کے لیے آسانی بنیں گے۔ کیونکہ اصل کامیابی یہی ہے کہ لوگ ہمارے جانے کے بعد بھی ہمیں دعاؤں میں یاد رکھیں۔

ڈاکٹر اقبال لکھتے ہیں:

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے