کسی
کے ساتھ برا مت کیجیے از بنت خالد حسین،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
حضرت سیدنا
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے سرکار مدینہ منورہ ﷺ نے فرمایا: بے شک
اللہ ظالم کو مہلت دیتا ہے یہاں تک کہ جب اس کو اپنی پکر میں لیتا ہے تو پھر اس کو
نہیں چھوڑتا، یہ فرما کر سرکار نامدار ﷺ نے پارہ 12 سورہ ہود آیت نمبر 102 کی
تلاوت فرمائی: وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ
رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌؕ-اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ(۱۰۲)ترجمہ
کنزالایمان: اور ایسی ہی پکڑ ہے تیرے رب کی جب بستیوں کو پکڑتا ہے ان کے ظلم پر
بےشک اس کی پکڑ درد ناک ہے۔
دہشت گردوں
لٹیروں قتل و غارت گری کا بازار گرم کرنے والوں کو بیان کردہ حکایت سے عبرت حاصل
کرنی چاہیے انہیں اپنے انجام سے بے خبر نہیں رہنا چاہیے کہ جو دنیا میں بھی قہر کی
بجلی گرتی ہے تو اس طرح کے ظالم لوگ ذلت کی موت مارے جاتے ہیں اور ان پر دو آنسو
بہانے والا بھی کوئی نہیں ہوتا اور آہ! آخرت کی سزا کون برداشت کر سکتا ہے یقینا
لوگوں پر ظلم کرنا گناہ دنیا و آخرت کی بربادی کا سبب اور عذاب جہنم کا باعث ہے اس
میں اللہ اور رسول ﷺ کی نافرمانی بھی ہے اور بندوں کی حق تلفی بھی۔ (ظلم کا انجام،
ص 4، 5)
اوندھے
منہ جہنم میں: حضرت
محمد بن عیسی ترمذی علیہ رحمۃ اللہ القوی اپنے مشہور مجموعۂ احادیث ترمذی میں
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں اگر تمام آسمان و زمین والے ایک
مسلمان کا خون کرنے میں شریک ہو جائیں تو اللہ ان سبوں کو منہ کے بل اوندھا کر کے
جہنم میں ڈال دے گا۔ (ترمذی، 3/100، حدیث:
1403)
مفلس کون؟ حضرت
مسلم بن حجاج قشیری رحمۃ اللہ علیہ اپنے مشہور مجموعہ حدیث صحیح مسلم میں نقل کرتے
ہیں رسول اللہ ﷺ نے استفسار فرمایا کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ صحابہ نے عرض کی
یا رسول اللہ ﷺ ہم میں سے جس کے پاس دراہم و سامان نہ ہو وہ مفلس ہے فرمایا: میری
امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز روزے اور زکوۃ لے کر آیا کہ اس نے گالی دی
اس پر تہمت لگائی اس کا مال کھایا اس کا خون بہایا اسے مارا تو اس کی نیکیوں میں
سے کچھ اس مظلوم کو دے دی جائیں گی اور کچھ اس مظلوم کو پھر اگر اس کے ذمے جو حقوق
تھے ان کی ادائیگی سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں تو ان مظلوموں کی خطائیں لے
کر اس ظالم پر ڈال دی جائیں گی پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ (مسلم، ص 1069 ،
حدیث:6579)
لرز اٹھو! اے
نمازیو! اے روزہ دارو! اے حاجیو! اے پوری زکوۃ ادا کرنے والو! اے خیرات و حسنات
میں حصہ لینے والو! اے نیک صورت نظر آنے والے مالداروں! ڈر جاؤ لرز اٹھو حقیقت میں
مفلس وہ ہے جو نماز روزہ حج زکوۃ صدقات، فلاحی کاموں اور بڑی بڑی نیکیوں کے باوجود
قیامت میں خالی کا خالی رہ جائے جن کو کبھی گالی دے کر کبھی بلا اجازت شرعی ڈانٹ
کر بے عزتی کر کے ذلیل کر کے مار پیٹ کر کے عاریتا چیزیں لے کر قصدا واپس نہ لوٹا
کر قرض دبا کر دل دکھا کر ناراض کر دیا ہوگا وہ اس کی ساری نیکیاں لے جائیں گے اور
نیکیاں ختم ہو جانے کی صورت میں ان کے گناہوں کا بوجھ اٹھا کر واصل جہنم کر دیا
جائے گا۔ (ظلم کا انجام، ص 9)
صحیح مسلم
شریف میں ہے اللہ کے محبوب ﷺ کا فرمان عبرت نشان ہے کہ تم لوگ حقوق حق والوں کے
سپرد کر دو گے حتی کہ بے سینگ والی کا سینگ والی بکری سے بدلہ لیا جائے گا۔ (مسلم،
ص 1070، حدیث: 6580)
مطلب یہ کہ
اگر تم نے دنیا میں لوگوں کے حقوق ادا نہ کیے تو ہر صورت میں قیامت میں ادا کرو گے
یہاں دنیا میں مال سے اور آخرت میں اعمال سے لہذا بہتری اسی میں ہے کہ دنیا ہی میں
ادا کر دو ورنہ پچھتانا پڑے گا مراۃ شرح مشکوٰۃ میں ہے: جانور اگرچہ شرعی احکام کے
مکلف نہیں ہے مگر حقوق العباد جانوروں کو بھی ادا کرنے ہوں گے اللہ کا خوف رکھنے
والے حضرات حقوق العباد کے بظاہر معمولی نظر آنے والے معاملات میں بھی ایسی اختیاط
کرتے ہیں کہ حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ (ظلم کا انجام، ص 10)
امیر
اہل سنت اور حقوق العباد: آپ نے حقوق العباد کی اہمیت ملاحظہ
فرمائی، شیخ طریقت امیر اہل سنت مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دامت
برکاتہم العالیہ جہاں حقوق اللہ کے معاملات میں ہر درجہ محتاط ہیں وہاں حقوق
العباد کے معاملے میں بھی بے حد احتیاط برتتے ہیں آپ فرماتے ہیں حقوق اللہ اگر
اللہ تعالیٰ چاہے تو اپنی رحمت سے معاف فرما دے گا مگر حقوق العباد کا معاملہ سخت
تر ہے کہ جب تک وہ بندہ جس کا حق تلف کیا گیا ہے معاف نہیں کرے گا اللہ بھی معاف
نہیں فرمائے گا اگرچہ یہ بات اللہ پر واجب نہیں مگر اس کی مرضی یہی ہے کہ جس کا حق
تلف کیا گیا ہے اس مظلوم سے معافی مانگ کر راضی کیا جائے۔ (حقوق العباد سے متعلق
احتیاطیں، ص 5)
اللہ پاک سے
دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں سب کے ساتھ بھلائی کرنے اور کسی کے حقوق تلف کرنے سے
محفوظ فرمائے دوسروں کے ساتھ ہمیشہ اچھی طرح پیش آنے کی اور اللہ ہم سب کو حقوق
اللہ اور حقوق العباد پورے کرنے کی توفیق بخشے۔
Dawateislami