ہمارے معاشرے
میں جو برائیاں ناسور کی طرح پھیل رہی ہیں ان میں سے ایک کسی کے ساتھ برا سلوک
کرنا بھی ہے ہمارے معاشرے میں بالکل عام ہوتا جا رہا ہے چاہے وہ چھوٹا ہے چاہے بڑا
فقیر ہے حکیم ہے وہ بزرگ ہے چاہے بچے ہیں یا چاہیں ملازمین ہیں ہر کسی کے ساتھ برا
سلوک کیا جاتا ہے بعض اوقات سیٹھ ملازمین پر ظلم کر رہا ہوتا ہے ملازمین کے بھی
اپنے حقوق ہیں ہر چیز کے اپنے حقوق ہیں۔
ہمیں اسلام
ایک دوسرے کے ساتھ محبت پیار و عزت کا درس دیتا ہے ہمیں ہر کسی کے ساتھ اچھے سلوک
سے پیش آنا چاہیے ہر انسان کی عزت کا خیال رکھنا چاہیے ہم اکثر چھوٹے بچوں کو جھاڑ
رہے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کامذاق اڑا رہے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی عزت بھی
اچھال رہے ہوتے ہیں۔
قرآن پاک میں
ہے: وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ
وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۠(۸) (پ
28، المنافقون: 8)ترجمہ: اور عزت اللہ اور اس کے رسول اور مسلمان کے لیے ہیں مگر
منافقوں کو خبر نہیں۔
اس آیت میں
اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے اور مسلمانوں کے لیے عزت ثابت فرمائی گئی ہے اور جس
کو وہ عزت دے اسے کوئی ذلیل نہیں کر سکتا جس کو وہ ذلیل کرے اس کو کوئی عزت نہیں
دے سکتا۔
اس لیے کبھی
بھی کسی کے ساتھ برا سلوک نہیں کرنا چاہیے اگر کوئی آپ کے ساتھ کرے تو آپ اس کے
ساتھ اچھے طریقے پیش آئیں۔ ہمیشہ برائی کا بدلہ اچھائی سے دینا چاہیے اگر کوئی آپ
کے ساتھ برائی کے ساتھ پیش آتا ہے تو اس کے ساتھ اچھائی کے ساتھ پیش آئے کیونکہ
ہمارے پیارے نبی ﷺ کبھی کسی کے ساتھ برا نہیں کرتے تھے اگر کوئی برا کرتا بھی تھا
تو آپ ﷺ اس سے اچھائی کے ساتھ پیش آتے تھے اس کے ساتھ اچھا سلوک کرتے اگر کوئی
غریب ہوتا یا کوئی غلام ہوتا یہاں تک کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی آپ بہت
اچھے طریقے سے پیش آتے تھے ان سے محبت فرماتے تھے حالانکہ وہ آپ کے غلام تھا لیکن آپ
اپنے غلاموں کے ساتھ بھی اچھے طریقے سے پیش آتے تھے کیسی کو بھی حقیر نہیں جانتے
تھے ہمیں بھی چاہیے کہ ہمیں ملازمین کو جھڑکنا نہیں چاہیے بلکہ مخلصانہ انداز
رکھنا چاہیے اچھے طریقے کے ساتھ پیش آنا چاہیے کیونکہ ان کا بھی دل ہے ہمیں کسی کی
دل آزاری نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی ہمیں کسی کا مذاق اڑانا چاہیے کیونکہ ان چیزوں
کے بارے میں قیامت والے دن پوچھا جائے گا۔
حدیث مبارکہ:
فرمان آخری نبی ﷺ قیامت کے دن لوگوں کا مذاق اڑانے والے کے سامنے جنت کا ایک
دروازہ کھولا جائے گا اور کہا جائے گا کہ آؤ آؤ وہ بہت بے چینی اور غم میں ڈوبا
ہوا اس دروازے کے سامنے آئے گا مگر جیسے ہی دروازے کے پاس پہنچے گا تو دروازہ بند
ہو جائے گا اسی طرح اس کے ساتھ معاملہ ہوتا رہے گا یہاں تک کہ دروازہ کھلے گا اور پکار
پڑے گی تو وہ نا امیدی کی وجہ سے نہیں جائے گا۔ (احیاء علوم الدین، 3/162)
دل میں احترام
مسلم کا جذبہ پیدا کیجیے اور مسلمان کی دل آزاری سے ہمیشہ بچتے رہیے۔
سلام اور
مصافہ کرنے کی عادت اپنائیے اس سے بھی دل میں نرمی پیدا ہوگی دل سے نفرت اور عداوت
نکلے گی۔
فرمان نبی ﷺ ہے:
میری امت میں مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ، زکوۃ تو لے کر آئے گا مگر
ساتھ ہی کسی کو گالی بھی دی ہوگی، کسی کو تہمت لگائی ہوگی، اس کا مال ناحق کھایا
ہوگا اس کا خون بہایا ہوگا تو اس کی نیکیوں میں سے کچھ اس مظلوم کو دے دی جائیں گی
اور کچھ اس مظلوم کو پھر اگر اس کے ذمے جو حقوق تھے ان کی ادائیگی سے پہلے اس کی
نیکیاں ختم ہو جائیں تو ان کے گناہ لے کر اس پر ڈالے جائیں گے پھر اس شخص کو جہنم
میں ڈال دیا جائے گا۔ (مسلم، ص 1069 ، حدیث:6579)
اخلاص کے ساتھ
ہر کسی کے ساتھ برتاؤ کیجیے اور آپ ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کیجئے۔ موت اور قبر آخرت
کو کثرت سے یاد کیجئے اس سے بھی دل نرم ہوگا اور دوسروں کی ساتھ برا سلوک کرنے حق
تلفی کرنے اور ظلم کرنے سے بچنے کا ذہن بنے گا۔
Dawateislami