کسی
کے ساتھ برا مت کیجیے از ہمشیرہ ذوہیب،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
ایک انسان
ہونے کے ناطے ہم کسی کے ساتھ برا کر نے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔کیوں کہ یہ مومن کی
شان کے خلاف ہے۔ مومن تو ہمیشہ دوسرے کے بھلے کے لیے ہی سوچے گا کبھی کسی دوسرے کے
ساتھ برائی نہیں کرے گا۔ مومن تو وہ ہوتا ہے جس میں اپنے مسلمان بھائی کے لیے
احساس ہو۔ احساس کرنا ایک بہت اچھا عمل ہے، قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں ظلم،
زیادتی، اور کسی کو نقصان پہنچانے سے سخت منع کیا گیا ہے، اور اچھے اخلاقی رویے کا
حکم دیا گیا ہے۔
آپ ﷺ نے
فرمایا: ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ (مسلم،
ص 1069، حدیث: 6576)
آپ ﷺ نے
فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (بخاری،
1/15، حدیث: 10)
ایک مسلمان اپنی
حالت پر غور کرے کہ اگر میرے ساتھ کوئی برا کرے تو میرے دل کا کیا حال ہوگا۔ اس
طرح پھر دوسرے سے برا کرنے کا خیال بھی نہیں آئے گا۔ زندگی ایک آئینہ ہے۔ آپ جو
دوسروں کو دیں گے، وہی پلٹ کر آپ کے پاس آئے گا۔ ہمارے بزرگ ہمیشہ ایک بات دہراتے
تھے: کسی کے ساتھ برا مت کیجئے۔ یہ صرف ایک نصیحت نہیں، بلکہ جینے کا وہ اصول ہے
جو فرد، گھر اور پورے معاشرے کو جوڑ کر رکھتا ہے۔
مگر سب سے
خطرناک بات یہ ہے کہ برائی چھوٹے بہانے سے شروع ہوتی ہے۔ چلو ایک بار کر لیتے ہیں،
کوئی نہیں دیکھ رہا۔ لیکن ضمیر سب دیکھ رہا اگر ہم برائی کر رہے ہیں تو برائی کا
بدلہ برائی سے ہی ملتا ہے۔ آپ نے کسی کے ساتھ زیادتی کی، کل کوئی اور آپ کے ساتھ
بھی یہی کرے گا۔
اچھائی کرنے
سے آپ خود مضبوط ہوتے ہیں۔ جب آپ کسی بھوکے کو کھانا کھلاتے ہیں، کسی گرے ہوئے کو
سہارا دیتے ہیں، کسی کے کام میں روڑے نہیں اٹکاتے، تو آپ کے اندر ایک سکون پیدا
ہوتا ہے۔ وہ سکون پیسے سے نہیں خریدا جا سکتا۔ رات کو سوتے وقت یہ احساس کہ آج میں
نے کسی کا برا نہیں کیا دل کو بہت ہلکا کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس، جس نے برا کیا ہو
وہ رات بھر سوچتا رہتا ہے کہیں پکڑا نہ جاؤں، کہیں بات نہ کھل جائے۔ اس طرح برا
کرنے والا سب سے پہلے خود اپنے لیے جیل بنا لیتا ہے۔
Dawateislami