دین اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ کسی کے ساتھ برا عمل مت کرو۔ کسی کا حق نہ کھاؤ، کسی کی چیز نہ چراؤ، کسی کو دھوکہ نہ دو، کسی پر ظلم نہ کرو۔ راستے میں رکاوٹ نہ بنو، کمزور کو نہ ستاؤ، یتیم کا مال نہ کھاؤ وغیرہ۔

آج ہم جس کے ساتھ برا کریں گے کل وہی ہمارے ساتھ ہو سکتا ہے، دنیا مکافات عمل ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اللہ ہم سے راضی ہو اور لوگ ہم سے محبت کریں تو ہمیں چاہیے کہ کسی کے ساتھ برا نہ کریں۔ بلکہ ہر ایک سے نرمی، اخلاق اور محبت سے پیش آئیں۔ کیونکہ ایک اچھا لفظ بھی صدقہ ہے اور ایک برا لفظ بھی دل توڑ دیتا ہے۔ اس لیے سوچ سمجھ کر بولیں اور عمل کریں، کیونکہ قیامت کے دن ہمارے ہر لفظ اور ہر عمل کا حساب ہوگا۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: سچا مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (بخاری، 1/15، حدیث: 10)

اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُؕ-اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ(۳۴) (پ 24، حم السجدۃ: 34) ترجمہ: نیکی اور برائی برابر نہیں ہیں۔ تم برائی کو اس طریقے سے دور کرو جو سب سے بہتر ہو (یعنی اچھائی سے)، پھر دیکھو گے کہ جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی تھی، وہ گویا تمہارا دلی دوست بن گیا ہے۔

اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں چاہیے کہ ہم کسی کے ساتھ برا نہ کریں اگر کوئی ہمارے ساتھ برا کرے پھر بھی ہمیں چاہیے ہم اللہ کی رضا کے لیے معاف کر دیں اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اللہ اس پر رحم نہیں فرماتا۔ (بخاری، 4/100، حدیث: 5997)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ہم کسی کے ساتھ برا کریں گے تو اللہ بھی ہم سے ناراض ہو جائے گا لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم کسی کے ساتھ برا نہ کریں تاکہ ہمارے ساتھ بھی برا نہ ہو اور ہمارا رب بھی ہم سے راضی رہے۔

ایک مرتبہ رسول اکرم، نور مجسّم ﷺ نے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں اچھے بروں کی خبر نہ دوں؟ سب خاموش رہے، تین بار یہی استفسار فرمایا تو ایک شخص نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ! ہمیں ہمارے برے بھلوں کی خبر دیجئے! فرمایا: تمہارا بھلا وہ شخص ہے جس سے خیر کی امید کی جائے اور اس کے شر سے امن ہو، اور تمہارا برا وہ شخص ہے جس سے خیر کی امید نہ کی جائے اور اس کے شر سے امن نہ ہو۔ (ترمذی، 4/116، حدیث: 2263)

اگر ہم غور کریں تو یہ بات ظاہر ہے کہ جب ہم کسی کے ساتھ برا کرتے ہیں تو وہ ہمارے بارے میں مطمئن نہیں رہتا اور اس کا ہم پر سے یقین اور بھروسہ اٹھ جاتا ہے کیونکہ اس کا گمان ہوتا ہے کہ یہ پہلے بھی میرے ساتھ برا کر چکا ہے اور اب بھی میرے ساتھ برا کر سکتا ہے یوں اس کا دل ہماری طرف سے مطمئن نہیں رہتا اور ہم میں سے کوئی بھی نہیں چاہتا کہ کوئی ہماری طرف سے بد گمان ہو یا ہمیں برا جانیں بلکہ ہم تو فطرت طور پر محبّت کو پسند کرتے ہیں لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم کسی کے ساتھ برا نہ کریں۔

ہم کیوں کر کسی کو ستائیں، برا بھلا کہیں، زیادتی کریں کیونکہ ہم پر عیاں ہیں کہ ہم جیسا کریں گے ویسا ہی پائیں گے اور جب ہم کسی کے ساتھ برا کرتے ہیں تو ظاہر ہے اس کو بہت اذیت پہنچتی ہیں اور اللہ پاک بھی ناراض ہوتا ہے تو ہم کیوں وقتی لطف کی خاطر اپنے رب کو ناراض کریں۔

اعلیٰ حضرت، مجدد دین وملت شاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرّحمٰن فتاوٰی رضویہ شریف جلد 24 صفحہ 342 میں طبرانی شریف کے حوالے سے نقل کرتے ہیں: اللہ کے پیارے حبیب، حبیب لبیب، طبیبوں کے طبیب ﷺ کا فرمان عبرت نشان ہے: جس نے (بلاوجہ شرعی) کسی مسلمان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ پاک کو ایذا دی۔

خدایا! کسی کانہ دل میں دکھاؤں اماں تیرے ابدی عذابوں سے پاؤں