زین العابدین (درجہ سادسہ جامعۃُ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
آقائے دو جہاں حضرت محمد ﷺ کی زندگانی اسوہ حسنہ ہے ، ارشاد باری ہے : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ
فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ترجمہ کنزالایمان: ےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔ (الاحزاب: 21)
پس آپ ﷺ نے جو تعلیمات ارشاد فرمائیں ان میں سے جو تعلیمات
مثالوں کے ذریعے سمجھائیں ہیں ان میں سے چند پڑھنے
کی سعادت حاصل کیجیے:
(1)صدقہ
کی مثال : حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: سری (یعنی
آہستہ ) قراءت کی بلند آواز سے قراءت پر اتنی فضلیت ہے جتنی پوشیدہ صدقہ کی علانیہ
صدقہ پر۔ ( قوت القلوب، الفصل التاسع عشر، كتاب الجهر بالقرآن .. الخ، ج1 ص110 )
(2)خوف
خدا کے سبب ہونے والی حالت کی مثال : حضرت
سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ مکی مدنی سلطان ، رحمتِ عالمیان ﷺ نے ارشاد فرمایا : یعنی
شَبِ معراج میں نے حضرت جبریل علیہ السلام کو ملائے اعلیٰ میں دیکھا، اللہ عزوجل
کے خوف کے سبب وہ ایسے تھے جیسے اونٹ کی پشت پر ڈالی جانے والی پرانی چادر ہو۔ ( المعجم الاوسط ، ج3،ص309 حدیث4679)
(3)
گناہوں کی مثال سمندر کی جھاگ سے : رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس نے ہر نماز کے بعد 33 مرتبہ سبحٰن الله، 33 مرتبہ الحمد الله، اور
33 مرتبہ اللہ اکبر کہا ۔ یہ ننانوے ہیں پھر 100
کا عدد پورا کرنے کے لئے لاإله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو
على كل شَيءٍ قدير کہا تو اس کے
گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اگر چہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔(صحیح مسلم، كتاب
المساجد ومواضع الصلاة، الحديث 597 ص301)
(4)قبر
کی مثال: قبر دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے یا جنت کے
باغوں میں سے ایک باغ۔ ( احیاء العلوم جلد 1 ص903 مترجم مکتبہ المدینہ)
محمد سفیان عطاری ( جامعۃُ
المدینہ فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ، پاکستان)
رسول اللہ ﷺ
کا اندازِ تربیت نہایت حکیمانہ، مؤثر اور دل نشین ہے
۔ آپ ﷺ نے لوگوں کی اصلاح اور تعلیم کے لیے مختلف طریقے استعمال فرمائے، جن میں ایک
اہم طریقہ مثالوں (تمثیلات) کے ذریعے تربیت دینا ہے
۔ آپ ﷺ کی بیان کردہ مثالیں نہ صرف آسان فہم ہوتیں بلکہ سننے والوں کے دل و دماغ
پر گہرا اثر چھوڑتیں۔ اس طریقہ تربیت سے نہ صرف مفہوم واضح ہوتا بلکہ سننے والا اس
میں اپنے لیے نصیحت بھی پاتا۔
(1) نیکی اور برائی کی مثال: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری اور اس بات کی مثال جس کے
ساتھ اللہ نے مجھے بھیجا ہے، اس بارش کی مانند ہے جو زمین پر برسی۔ (صحیح بخاری:
79، صحیح مسلم: 2282)
اس حدیث میں
آپ ﷺ نے وحی اور دعوتِ اسلام کو بارش سے تشبیہ دی، اور انسانوں کی فطرت کو زمین
سے۔ بعض زمین پانی کو جذب کر کے پودے اگاتی ہے، بعض پانی روک لیتی ہے، اور بعض نہ
جذب کرتی ہے نہ اگاتی ہے۔ یہ تمثیل اس بات کو واضح کرتی ہے کہ لوگ دین کی طرف کس
طرح مختلف رویہ رکھتے ہیں۔
(2) برے ساتھی کی مثال: آپ ﷺ نے فرمایا: اچھے اور برے ساتھی کی
مثال کستوری بیچنے والے اور بھٹی جھونکنے والے کی سی ہے۔ کستوری بیچنے والا یا تو
تمہیں خوشبو دے گا یا تم اس سے خوشبو خرید لوگے یا کم از کم خوشبو
محسوس کرو گے۔ لیکن بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلا دے گا یا تم اس سے بدبو
ہی پاؤ گے۔ (صحیح بخاری: 5534، صحیح مسلم: 2628)
یہ مثال نہایت
مؤثر طریقے سے اچھے اور برے دوست کے اثرات کو واضح کرتی ہے۔
(3) نماز کی اہمیت: آپ ﷺ نے فرمایا: بتاؤ اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر ایک
نہر ہو اور وہ روزانہ پانچ مرتبہ اس میں غسل کرے، تو کیا اس کے جسم پر کچھ میل باقی
رہے گا؟" صحابہ نے عرض کیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہی پانچ وقت کی نمازوں کی
مثال ہے۔ اللہ ان کے ذریعے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ (صحیح بخاری: 528، صحیح مسلم:
667)
یہ تمثیل نماز
کی تطہیر روحانی کو اس قدر سادہ انداز میں بیان کرتی ہے کہ ہر کوئی اس کی اہمیت کو
سمجھ سکے۔
(4) ہدایت کی مثال: آپ ﷺ نے فرمایا: میری اور میری امت کی مثال اس شخص جیسی
ہے جس نے آگ جلائی، اور جب آگ روشن ہو گئی تو پروانے اور کیڑے اس میں گرنے لگے،
اور وہ انہیں بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ میں تمہیں آگ سے بچانے کی کوشش کر رہا ہوں
اور تم ہو کہ اس میں کود رہے ہو۔ (صحیح بخاری: 6483)
یہ تمثیل رسول
اللہ ﷺ کی امت کے لیے شفقت اور محبت کو ظاہر کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ آپ ﷺ کس طرح
گناہ سے بچانے کی مسلسل کوشش کرتے۔
رسول اللہ ﷺ
نے تمثیلات کے ذریعے تربیت کا جو انداز اختیار فرمایا، وہ نہایت مؤثر اور دل نشین ہے
یہ طریقہ قرآن کریم میں بھی استعمال ہوا ہے،
چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ
كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَۚ(۲۷)ترجمہ
کنزالایمان: اور بےشک ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی کہاوت بیان فرمائی
کہ کسی طرح انہیں دھیان ہو ۔ (پ23، الزمر: 27)
آپ ﷺ کے یہ طریقے
آج کے معلمین، خطباء اور والدین کے لیے رہنما اصول ہیں کہ وہ تعلیم و تربیت کو محض
زبانی نصیحت تک محدود نہ رکھیں بلکہ مؤثر مثالوں سے مزین کریں تاکہ دلوں میں اثر
ہو اور عمل کی رغبت پیدا ہو۔
اللہ پاک ہمیں
احادیث پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
محمد اکرام طفیل عطاری (درجہ خامسہ
جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی لاہور ، پاکستان)
آپ صلی اللہ
علیہ والہ وسلم کی مثالیں سادگی ، حکمت اور گہرائی کا حسین امتزاج ہوتیں ہیں، جو
سننے والوں کے ذہن میں نقش ہو جاتیں ہیں، آئیے آپ بھی چند احادیث مبارکہ ملاحظہ
فرمائیں:
حدیث نمبر 1: اچھے اور برے دوست کی مثال: ترجمہ: حضرت ابو
موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور ،
سلطانِ بحرو بَر ﷺ نے ارشادفرمایا :اچھے اور برے دوست کی مثال مشک
اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے ، مشك اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا
تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا
تمہارے کپڑے جلائے گا یا تہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔(بخاری کتاب الذبائح والصید
و تسمیتہ علی الصید باب المسک ص 567 ج 3 حدیث 5534)
حدیث
نمبر 2 :مؤمن کی مثال: روایت ہے
حضرت کعب ابن مالک رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ
مؤمن کی مثال کچی کھیتی کی سی ہے جسے ہوائیں جھلاتی ہیں کبھی گرادیتی ہیں کبھی سیدھاکرتی
ہیں یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے اورمنافق کی مثال مضبوط صنوبر کی سی ہے جسےکوئی
آفت نہیں پہنچتی حتی کہ یکبارگی اس کا اکھڑنا ہوتاہے۔ ( مشکوٰۃ المصابیح : کتاب
الجنائز: باب عیادالمریض وثواب المرض۔ فصل اول جلدنمبر1 : حدیث نمبر:1453 : صفحہ نمبر 137 )
حدیث
نمبر 3: جہاد کرنے والے کی مثال: روایت
حضرت سلیمان بن یسار سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے: اﷲ کی
راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس کی سی ہے جو دن کا روزہ دار ، رات کو آیات الٰہی
کی تلاوت کرنے والا ہو ، نہ روزے سے تھکے نہ نماز سےحتی کہ اﷲ کی راہ
کا مجاہد لوٹ آوے۔ ( مشکوٰۃ المصابیح: کتاب الجہاد: باب الجہاد : فصل اول : جلد
نمبر 2: حدیث نمبر 3611: صفحہ
نمبر 340)
حدیث
نمبر 4:میرے صحابہ کی مثال: روایت
ہے حضرت انس سے ،فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میرے صحابہ
کی مثال میری امت میں کھانے میں نمک کی سی ہے کہ کھانا بغیر نمک کے درست نہیں ہوتا۔
( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 حدیث نمبر:6015 )
حدیث
نمبر 5: میری امت کی مثال: روایت ہے حضرت جعفر سے وہ اپنے والد سے راوی وہ اپنے
دادا سے فرماتے ہیں، فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے : خوش
ہوجاؤ خوشی سناؤ کہ میری امت کی مثال بارش کی ہے ، نہیں کہا جاتا کہ اس کی پچھلی
اچھی ہے یا کہ اگلی یا اس باغ کی سی ہے جس میں سے ایک سال ایک فوج نے
کھایا پھر ایک سال دوسری فوج نے کھایاشاید کہ آخری فوج چوڑائی میں زیادہ چوڑی ہو
اور گہرائی میں زیادہ گہری اور حسن میں زیادہ اچھی ہو ، وہ امت کیسے ہلاک ہوسکتی
ہے جس کا اول میں ہوں اور اس کے درمیان مہدی ہوں اور آخر مسیح ہوں لیکن اس کے درمیان
ٹیڑھی فوج ہے نہ وہ مجھ سے ہیں نہ میں ان سے۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 حدیث نمبر:6287)
اللہ پاک سے
دعا ہے کہ ہم سب کو ان احادیث مبارکہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
آج نگران پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری مدنی
چینل پر ہفتہ وار اجتماع میں بیان فرمائیں گے
دعوتِ
اسلامی کا ہفتہ وار سنتوں بھرا اجتماع روحانی تربیت، اصلاحِ اعمال اور محبتِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے معمور ایک
ایسا پُرنور سلسلہ ہے جس میں شریک ہونے والا ہر شخص دل و دماغ میں سکون اور قلبی
تبدیلی محسوس کرتا ہے۔
اس
اجتماع میں ذکر و نعت کے بعد اراکین شوریٰ و مبلغین دعوت اسلامی کردار سازی اور معاشرے
کی اصلاح پر سنتوں بھرے بیانات کرتے ہیں۔ بیان کے بعد اوراد و وظائف ، دعا اور
صلوۃ و سلام کا سلسلہ ہوتا ہے۔
آج
مؤرخہ 27 نومبر 2025ء کو بھی بعد نماز مغرب دنیا بھر میں ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماعات کا انعقاد کیا جائے گا۔
تفصیلات
کے مطابق عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کراچی سے مدنی چینل پر براہِ راست نشر ہونے
والے ہفتہ وار اجتماع میں نگران پاکستان مشاورت و کن شوریٰ حاجی محمد شاہد
عطاری سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔
اس کے
علاوہ بہزاد لکھنوی مسجد سخی حسن چورنگی کراچی میں رکن شوریٰ حاجی محمد اظہر
عطاری اور رضائے مصطفٰے مسجد کورنگی نمبر 4 کراچی میں رکن شوریٰ حاجی یعفور
رضا عطاری سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔
قرب و
جوار کے تمام عاشقانِ رسول سے ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کی درخواست ہے۔
محمد رضوان عطاری ( درجہ سادسہ
مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضانِ مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ، پاکستان)
اللہ تعالیٰ
نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معلمِ انسانیت بنا کر بھیجا۔
آپ ﷺ کی دعوت، تبلیغ اور تربیت کے طریقے بےمثال اور قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے
لیے راہ ہدایت ہیں۔ آپ ﷺ نے نہ صرف وحی الٰہی کو پہنچایا بلکہ دین کو سمجھانے کے لیے
ایسے مؤثر انداز اپنائے جن سے سننے والے کے دل پر نہ صرف وہ بات اثر انداز ہوتی ہے بلکہ وہ اس کو ذہن نشین ہو جاتی ہے،
انہی مؤثر اندازوں میں سے ایک انداز مثالوں کے ذریعے تربیت فرمانا بھی ہے ، جو حضور علیہ السلام کی دانائی اور حکمتِ عملی کا اعلیٰ مظہر ہے۔ قرآن مجید میں
بھی اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر امثال کو بیان فرمایا ہے، جیسا کہ رشادہوتا ہے:
اِنَّ اللہ َ لَا یَسْتَحْیٖۤ اَنْ
یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَاؕ ترجمہ کنزالایمان: بےشک اللہ
اس سے حیا نہیں فرماتا کہ مثال سمجھانے کو کیسی ہی چیز کا ذکر فرمائے مچھر ہو یا
اس سے بڑھ کر۔ (پ1، البقرۃ: 26)
اور طریقہ ہمیں حضور سید عالم نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم
کے مبارک کلام میں بھی نظر آ تا ہے چنانچہ
(1) حضرت
ابوموسیٰ اشعری سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
کہ میری اورجو کچھ مجھےاللہ نے دے کر بھیجا اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے کسی
قوم کے پاس آکر کہا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے ایک لشکر دیکھا ہے ۔ میں کھلا ڈرانے
والاہوں ۔ بچو بچو کہ اس کی قوم سے ایک ٹولہ نے اس کی بات مان لی اور اندھیرے منہ
اٹھے اور بروقت نکل گئے تو بچ گئے ۔ اور ان کے ایک ٹولہ نے
جھٹلا دیا وہ اسی جگہ رہے پھر سویرے ہی لشکر ان پرٹوٹ پڑا انہیں ہلاک کرکے تہس نہس
کر دیا ۔ یہ ہی اس کی مثال ہے جس نے میری اطاعت کی تو میرے لائے ہوئے کی اتباع کی
اور اس کی جس نے میری نافرمانی کی اورمیرے لائے ہوئے حق کو جھٹلادیا۔ (مرآۃ المناجیح
شرح مشکوٰۃ المصابیح/جلد1/ حدیث نمبر 150)
اس
تشبیہ کا خلاصہ یہ ہے کہ حضورگویا رحمت کا
بادل ہیں حضور کا ظاہری اور باطنی فیض اور نورانی کلام بارش۔ انسانوں کے دل مختلف
قسم کی زمین۔چنانچہ مؤمن کا دل قابلِ کاشت زمین ہے،جہاں عمل اورتقویٰ کے پودے
اُگتے ہیں،علماء اور مشائخ کے سینے گویا تالاب ہیں اور اس خزینہ کے گنجینے ہیں جس
سے تاقیامت مسلمانوں کے ایمان کی کھیتیاں سیراب ہوتی رہیں گی۔منافقین اور کفار کے
سینے کھاری زمین ہیں نہ فائدہ اٹھائیں نہ پہنچائے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ
المصابیح/جلد1/ حدیث نمبر 150)
(2) روایت ہے کہ عبداللہ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے ایک خط کھینچا
پھر فرمایا کہ یہ اللہ کا راستہ ہے پھر اس کے دائیں بائیں
اور لکیریں کھینچیں اور فرمایا یہ مختلف راستے ہیں جن میں سے ہر راستہ پر شیطان ہے
جو ادھر بلا رہا ہے:
اس حدیث پاک
کےتحت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے
ہیں کہ دین حق کو قرآن شریف میں صراط مستقیم فرمایا گیا یعنی سیدھا راستہ جو نہایت
آسانی سے رب تک پہنچادے،حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے خط کھینچ کر اس کی مثال دکھادی۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح / جلد/1 /حدیث
نمبر/166)
(3) حضرت سَیِّدُنا
ابو ہریرہ رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول ُاﷲ صَلَّی اﷲ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فرماتے ہوئے سنا:تمہاری کیا رائے ہے کہ
اگر تم میں سے کسی کے گھر کے دروازے پر نہر ہو اور وہ روزانہ اُس نہر سے پانچ بار
نہائے تو کیا اُس پر کچھ میل رہ جائے گا؟ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے
عرض کی: اُس پر کچھ میل باقی نہ بچے گا۔حضور صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم نے فرمایا:”پانچ نمازیں اسی طرح ہیں،اﷲتعالیٰ اِن کے ذریعے خطاؤں کو مٹا
دیتا ہے:
اس حدیث پاک
کے تحت مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ
الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں:یہاں خطاؤں
سے مراد صغیرہ گناہ ہیں،کبیرہ گناہ اور حقوق العباد اس سے علیحدہ ہیں کہ وہ نماز
سے معاف نہیں ہوتے۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:7 , حدیث نمبر:1043 )
(4) حضرت
ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے،
آپ ﷺ نے مؤذن کو اذان دینے کا حکم دیا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ ﷺ نے دو
درختوں کو دیکھا، ایک درخت کے پاس گئے، اس کی ایک شاخ پکڑی اور اسے جھٹکا دیا تو
اس سے پتے جھڑ گئے۔ پھر دوسرے درخت پر بھی یہی عمل فرمایا۔ اس کے بعد فرمایا: بے
شک جب مسلمان بندہ اچھی طرح وضو کرتا ہے اور پانچوں وقت کی نماز پڑھتا ہے تو اس کے
گناہ اس کے جسم سے ایسے جھڑ جاتے ہیں جیسے ان درختوں سے پتے جھڑ گئے۔(مسند احمد بن
حنبل/ حدیث نمبر /21316)
رسول اللہ ﷺ
نے دعوت و تبلیغ اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے جس اعلیٰ حکمت اور مثالوں والے انداز کو
اپنایا، وہ رہتی دنیا تک اساتذہ، علما اور والدین کے لیے راہ ہدایت ہے۔ ہر دعوت دینے والا اگر حضور
ﷺ کا
یہ مبارک اور
حکمت بھرا انداز اپنائے تو دین کی دعوت کو زیادہ مؤثر انداز میں دوسروں
تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ اس طریقہ کار سے بات بات کو اچھے طریقے سے سمجھائی
جا سکتی ہے ۔
وقار حسین عطاری (درجہ خامسہ جامعۃُ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
اسلام میں
کلام اللہ کے بعد کلام رسول اللہ کا درجہ ہے یعنی احادیث مبارکہ کا اور کیوں نہ ہو
کہ اللہ کے بعد رسول کا مرتبہ ہے ۔حدیث مبارکہ میں ہمارے لیے زندگی کے مختلف
معاملات میں رہنمائی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت پیارے انداز میں مسلمانوں
کی تربیت فرمائی ہے۔ کبھی وعظ کے ذریعے کبھی اشاروں سے کبھی مثالوں سے تربیت فرمائی
ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مثالوں کے ذریعے تربیت فرمانے کے متعلق چند احادیث درج ذیل ہیں:
(1) حضرت سیدنا
نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی رحمت صلی اللہ تعالی علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ عزوجل کی حدود کو قائم رکھنے والوں اور ان میں مبتلا
ہونے (یعنی توڑنے والوں)کی مثال ان لوگوں جیسی ہے جنہوں نے جہاز میں قرعہ اندازی کی
بعض کے حصے میں نیچے والا حصہ آیا اور بعض کے حصے میں اوپر والا ، نیچے والوں کو
پانی کی ضرورت کے لیے اوپر والوں کے پاس جانا پڑتا وہ ان کی وجہ سے زحمت میں پڑ
جاتے پس نچلے حصے والوں میں سے ایک شخص نے کلہاڑی لی اور اپنے حصے میں سوراخ کرنے
لگا (تاکہ پانی تک رسائی ہو) ایسی صورت میں اگر اوپر والے اس (سوراخ کرنے والے)
کو(سوراخ کرنے سے) نہ روکیں (اور یہ خیال کریں کہ وہ جانے اور ان کا کام ہمیں ان
سے کیا واسطہ) تو اس صورت میں سوراخ کرنے والا خود بھی غرق یعنی ہلاک ہو جائے گا
اور دونوں فریق بھی اور اگر وہ ان کا ہاتھ روک دیں گے تو دونوں فریق ڈوبنے سے بچ
جائیں گے اور وہ خود بھی۔(صحیح بخاری ، حدیث:2493،ج2، ص1343)
مفتی احمد یار
خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں اس حدیث پاک میں ایک مثال کے ذریعے برائی سے
روکنے اور نیکی کا حکم دینے کی اہمیت کو واضح کیا گیا ہے یعنی اگر دیکھا جائے تو
اس حدیث پاک میں مثال کے ذریعے مسلمانوں کو نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع
کرنے کی اہمیت پر تربیت فرمائی گئی ہے۔
(2)حضرت ابو
موسی سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس ہدایت
اور علم کی مثال جو رب نے مجھ کو دے کر بھیجا ہے اس بہت سی بارش کی طرح ہے جو کسی
زمین پر پہنچی اس کا کچھ اچھا تھا جس نے پانی کو چوس لیا اور گھاس اور بہت چارہ اگایا
اور بعض حصہ سخت تھا جس نے پانی جمع کر لیا جس سے اللہ تعالی نے لوگوں کو نفع دیا
کہ انہوں نے خود بھی پلایا اور کھیتی کی اور ایک دوسرے حصے میں پہنچا جو چٹیل تھا
کہ نہ پانی جمع کرے اور نہ گھاس اگائے یہ اس کی مثال ہے جو دینی عالم ہو اور اسے
اس چیز نے نفع دیا جو مجھے رب نے دے کر بھیجا اس نے سیکھا اور سکھایا اور اس کی
مثال ہے جس نے اس پر سر نہ اٹھایا اور اللہ کی وہ ہدایت قبول نہ کی جو مجھے دے کر
بھیجا گیا۔ (مراة المناجيح شرح مشكاة المصابیح جلد1،حدیث نمبر 150،ص350)
اس حدیث پاک میں بھی مثال کے ذریعے سمجھایا گیا
ہے یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ظاہری اور باطنی فیض اور نورانی کلام بارش ہے
اور انسانوں کے دل مختلف اقسام کی زمین چنانچہ مومن کا دل قابل کاشت زمین ہے جہاں
عمل اور تقوی کے پودے اگتے ہیں اور علماء مشائخ کے سینے تالاب ہیں جن سے قیامت تک
مسلمانوں کے ایمان کی کھیتیاں سیراب ہوتی رہیں گی اور منافقین اور کفار کے سینے
کھاری زمین ہے کہ نا فائدہ اٹھائیں نہ پہنچائیں۔(مراة المناجيح شرح مشكاة المصابیح
جلد1،حدیث نمبر 150،ص350)
(3)حضرت سَیِّدُنَا
مُسْتَوْرِدْ بن شَدَّادرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسول اکرم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ” آخرت کے مقابلے میں
دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے پھر دیکھے کہ
وہ کتنا پانی لے کر لوٹتی ہے ۔ “(فیضان ریاض الصالحین جلد:4
، حدیث نمبر:463)
(4)روایت ہے
حضرت کعب ابن مالک سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مؤمن کی مثال کچی کھیتی کی سی
ہے جسے ہوائیں جھلاتی ہیں کبھی گرادیتی ہیں کبھی سیدھاکرتی ہیں یہاں تک کہ اس کی
موت آجاتی ہے اورمنافق کی مثال مضبوط صنوبر کی سی ہے جسےکوئی آفت نہیں پہنچتی حتی
کہ یکبارگی اس کا اکھڑنا ہوتاہے۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:2 ، حدیث نمبر:1541)
یعنی مسلمان کی
زندگی بیماریوں،مصائب وتکالیف میں گھری ہوتی ہے جن پر وہ صبرکرکے گناہوں سے پاک و
صاف ہوتا رہتا ہے،منافق و کافر کی زندگی آرام و آسائش سےگزرتی ہے جس سے اس کی
غفلتیں بڑھ جاتی ہیں پھر یکبارگی ہی موت آتی ہے یعنی مسلمان کی زندگی کو کچی کھیتی
کی مثال کے ساتھ اور کفار کی زندگی کو صنوبر کے سخت تنے والے درخت کے ساتھ سمجھا دیا
گیا ۔
یہ چند احادیث
پیش کی گئی ہیں جن میں مثالوں کے ساتھ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے تربیت فرمائی
ہے ۔ اللہ پاک ہمیں احادیث کو پڑھنے انہیں سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا
فرمائے۔ آمین
اللہ پاک نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انسانوں کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا ، آپ
صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف انداز سے اپنی امت کی اصلاح فرمائی ان میں سے ایک
بہترین انداز مثال کے ذریعے سمجھانا بھی ہے آئیے ہم بھی اس انداز کے متعلق چند
احادیث پڑھتے ہیں:
(1) وَعَنِ الْمُسْتَوْرِدِ
بْنِ شَدَّادٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ اِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ
اَحَدُكُمْ اِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ ، فَلْيَنْظُرْ بِمَ يَرْجِعُ ترجمہ: حضرت مُسْتَوْرِدْ
بن شَدَّاد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : آخرت کے
مقابلے میں دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے
پھر دیکھے کہ وہ کتنا پانی لے کر لوٹتی ہے ۔ ( مسلم شریف، کتاب
الجنۃ و صفت نعیمھا اہلھا باب فناء الدنیا و بیان
الحشر یوم القیام، ص 1529 ، حدیث 2886)
(2) عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ
رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
: الْجَنَّةُ اَقْرَبُ اِلَى اَحَدِكُمْ مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَالنَّارُ مِثْلُ
ذٰلِكَترجمہ: حضرت سیدناابن مسعود
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نورکے پیکر ، تمام نبیوں کے
سَروَر ﷺ نے ارشادفرمایا : ’’ جنت تمہارے جوتے کے تسمے سے
بھی تمہارے زیادہ قریب ہے اورجہنم بھی اسی طرح قریب ہے۔ (بخاری،کتاب الرقاق ،باب
الجنۃ اقرب الی احدکم۔۔ الخ 4/243،حدیث 2488)
(3) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ لِوَلَدِهٖ، أُعَلِّمُكُمْ:
إِذَا أَتَيْتُمُ الْغَائِطَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوْا الْقِبْلَةَ وَلَا
تَسْتَدْبِرُوْهَا، وَأَمَرَ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، وَنَهٰى عَنِ الرَّوْثِ
وَالرِّمَّةِ، وَنَهٰى أَنْ يَسْتَطِيْبَ الرَّجُلُ بِيَمِينِهٖ
ترجمہ:روایت
ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں تمہارے لیے ایسا ہوں جیسے بیٹے کے لئے باپ تمہیں
سکھاتا ہوں جب تم بیت الخلاء جاؤ
تو قبلہ کو منہ نہ کرو،اور نہ پیٹھ اور تین پتھروں کا حکم دیا اورلِیدوہڈی سے منع فرمایا اور منع فرمایا کہ کوئی شخص
داہنے ہاتھ سے استنجاء نہ کرے۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1 باب آداب
الخلاء حدیث 319 صفحہ نمبر 246 مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ)
(4) عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ
رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ:مَثَالُ الْمُؤْمِنِيْنَ فِی تَوَادِّهِمْ وَ تَرَاحُمِهِمْ
وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ اِذَا اشْتَكٰى مِنْہُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ
سَائِرُ الْجَسَدِ
بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى
ترجمہ:حضرت سیدنا
نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سےروایت ہےکہ
رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’مسلمانوں کی آپس میں دوستی
، رحمت اور شفقت کی مثال ایک جسم کی طرح ہے جب جسم کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتاہے توپوراجسم بخاراوربے خوابی کی کیفیت میں مبتلاہوجاتاہے۔ ‘‘(مسلم ، کتاب البر والصلۃ ، باب
تراحم المؤمنین ۔۔الخ ،ص 1396 حدیث 2586)
اللہ پاک ہمیں
ان پر عمل کرنے اور دوسرے تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
مبشر عبدالرزاق عطاری (درجہ سادسہ
جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
اللہ پاک نے
حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کائنات رنگا رنگ میں ہادی خلق ، معلم
انسانیت بنا کر اور جوامع الکلم عطا فرما کر مبعوث فرمایا آپ صلی اللہ
علیہ وسلم نے اپنے اعلی اندازِ تربیت عمدہ اخلاق اور بہترین تدبیر سے بنی آدم کو
راہ ہدایت پر گامزن فرمایا اور ہر موڑ پر اپنی امت کی تعلیم و تربیت فرمائی ، آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کا تربیت فرمانے کا انداز انتہائی دل نشین ہوا کرتا کبھی اپنے
عمل سے تربیت فرماتے تو کبھی اشارے کے ذریعے نصیحت فرماتے کبھی اپنے فعل سے تعلیم
دیتے تو کبھی اپنے قول سے وعظ فرماتے ، انہی میں سے ایک عمدہ پہلو ،، مثال کے ذریعے
تربیت فرمانا بھی ہے مثال مشکل بات کو سمجھانے اور دل میں اتارنے کا بہترین اور
آسان ذریعہ ہے اعلی تعلیم یافتہ اور کم پڑھے لکھے شخص کو اگر مثال کے ذریعے سمجھایا
جائے تو مضمون اس کے ذہن میں نقش ہو جاتا ہے اور وہ اسے بآسانی سمجھ جاتا ہے یہی
وجہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کثیر احادیث میں مثال کے ذریعے تربیت
فرمائی ۔ آئیے ہم بھی ان میں سے چند احادیث پڑھتے اور قلوب و اذہان کو معطر کرتے ہیں:
(1) مومن و منافق کی مثال: ایمان انسان کا قیمتی اثاثہ اور عظیم سرمایہ ہے جو دنیا
و آخرت میں فلاح و کامیابی کا سبب ہے جبکہ اس کے برخلاف کفر و نفاق اختیار کرنا
ذلت و رسوائی اور دخول جہنم کا سبب ہے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا : مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ
تَفَيِّئُهَا الرِّيَاح ُتَصْرَعُهَا مَرَّةً وَتَعْدِلُهَا أُخْرىٰ حَتّٰى
يَأْتِيهِ أَجَلُهٗ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ
الَّتِي لَا يُصِيبُهَا شَيْءٌ حَتّٰى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَة
ترجمہ: مؤمن کی
مثال کچی کھیتی کی سی ہے جسے ہوائیں جھلاتی ہیں کبھی گرادیتی ہیں کبھی سیدھاکرتی ہیں
یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے اورمنافق کی مثال مضبوط صنوبر کی سی ہے جسےکوئی
آفت نہیں پہنچتی حتی کہ یکبارگی اس کا اکھڑنا ہوتاہے۔ (مشکوٰۃ
المصابیح (قدیم) کتاب الجنائز ج:2 ، حدیث :1541 ، باب عیادت
المریض وثواب المرض)
(2)
علم کی مثال: یقینا علم دین کی
روشنی سے جہالت کے اندھیرے دور ہوتے ہیں اسی سے دنیا و آخرت کی کامیابی نصیب ہوتی
ہے لیکن یہ فضائل تب ہی حاصل ہوں گے جب علم سے نفع بھی اٹھایا جائے اس کے برخلاف
علم سے فائدہ نہ اُٹھانے کی صورت میں یہ علم بیکار مال کی طرح ہے کہ جو وبال و
نقصان کا باعث ہے جیسا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :مَثَلُ عِلْمٍ لَا يُنْتَفَعُ بِهِ كَمَثَلِ كَنْزٍ لَا
يُنْفَقُ مِنْهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ترجمہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس علم کی
مثال جس سے نفع نہ اٹھایا جائے ا س خزانہ کی سی ہے جس سےاللہ کی راہ میں خرچ نہ کیا
جائے ۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث:280 باب العلم ص75 مکتبہ اسلامیہ)
(3) گناہوں کی بخشش: نماز ایک عظیم الشان عبادت ہے نماز جہاں ایک طرف اللہ و
رسول کی خوشنودی ، مومن کی معراج ، دعا کی قبولیت اور ڈھیروں ثواب کے حصول کا ذریعے
ہے تو دوسری طرف صغیرہ گناہوں کی بخشش کا بھی سبب ہے اسی کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم نے ایک مثال کے ذریعے بیان فرمایاِ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ
أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيْهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا هَلْ يَبْقٰى مِنْ دَرَنهٖ
شَيْءٌ قَالُوا:
لَا يَبْقَى مِنْ دَرَنهٖ شَيْءٌ قَالَ: فَذٰلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللہ ُ بِهِنَّ
الْخَطَايَا
یعنی بتاؤ تو
اگر تم میں سے کسی کے دروازہ پرنہرہو کہ اس میں روزانہ پانچ دفعہ نہائے کیا کچھ میل
رہے گا ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ بالکل میل نہ رہے گافرمایا ، یہ پانچ نمازوں کی مثال
ہے کہ الله ان کی برکت سے گناہ مٹاتا ہے۔ (مسلم شریف، کتاب المساجد، باب مشی الی الصلاۃ ص 332 حدیث
668 )
(4)
اچھےو برے دوست کی مثال: انسانی
زندگی پر اچھی و بری صحبت کا گہرا اثر پڑتا ہے اچھے دوست کی صحبت انسان کو نیک
جبکہ صحبت بد انسان کو سرکش و بے باک بنا دیتی ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا:-: اِنَّمَا
مَثَلُ الْجَلِيْسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِيْسِ السُّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ
وَنَافِخِ الْكِيْرِ فَحَامِلُ الْمِسْكِ اِمَّا اَنْ يُّحْذِيَكَ وَ اِمَّا اَنْ
تَبْتَاعَ مِنْهُ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيْحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ
الْكِيْرِ اِمَّا
اَنْ يُّحْرِقَ ثِيَابَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ رِيْحًا خبیثۃً ترجمہ: حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَر ﷺ نے ارشادفرمایا :اچھے اور برے دوست کی مثال مشک اٹھانے
والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے ، مشك اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم
اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا
تمہارے کپڑے جلائے گا یا تہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔(بخاری کتاب الذبائح والصید
و تسمیتہ علی الصید باب المسک ص 567 ج 3 حدیث 5534)
مفتی احمد یار
خان نعیمی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: کیسی پاکیزہ مثال ہے جس
کے ذریعے سمجھایا گیا ہے کہ بروں کی صحبت فائدہ اور اچھوں کی صحبت
نقصان نہیں دے سکتی بھٹی والے سے مشک نہیں ملے گی گرمی اور دھواں ہی
ملے گا مشک والے سے نہ گرمی ملے نہ دھواں مشک یا خوشبو ہی ملے گی۔ ( مراہ المناجیح
ج6 ص 590)
اس کے علاوہ
کثیر احادیث میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری تعلیم و تربیت فرمائی مگر
افسوس ہم ان کا مطالعہ کرنے اور ان پر عمل کرنے سے نااشنا ہے اللہ پاک کی بارگاہ میں
دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں ان کا مطالعہ کرنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا
فرمائے ۔ امین
فاحد علی عطّاری (درجہ ثالثہ
جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
حضور نبی کریم
صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اپنی امت پر کمال شفیق اور مہربان ہیں
،آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے پیارے آقا صلی
اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے ہمیں بہت سی چیزوں سے تربیت فرمائی اور پیارے آقا صلی
اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا یہ انداز بہت ہی خوبصورت انداز ہے کیونکہ
مثال کے ذریعے مضمون پوری طرح دل میں اتر جاتا ہے اور مثال کے ذریعے اعلی تعلیم یافتہ
یا کم پڑھنے لکھے شخص کو اچھے طریقے سے سمجھ آجاتی ہے ۔ آئیے کچھ احادیث کا مطالعہ
کرتے ہیں جن میں پیارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنی امت کی مثال کے ذریعے
سے تربیت فرمائی:
(1) سخی اور بخیل کا خرچ کرنا: حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے
انہوں نے رسول الله صلی علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بخیل اور خرچ کرنے کی
مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے جن پر ان کے سینے سے لے کر گلے تک لوہے کی زرہ ہو تو
خرچ کرنے والا جب خرچ کرتا ہے تو وہ زرہ کھل جاتی ہے یا کشادہ ہو کر اس کے جسم پر
آجاتی ہے یہاں تک کہ اس کی انگلیوں کے پورے بھی چھپ جاتے ہیں اور اس کے قدموں کے
نشانات مٹادیتی ہے لیکن بخیل جب کوئی چیز خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ
کا ہر حلقہ اپنی جگہ ؟ چمٹ جاتا ہے اور وہ اسے کشادہ کرنا چاہتا ہے لیکن وہ کشادہ
نہیں ہوتا ۔ ( ریاض الصالحین، مترجم، ج 5 ، ص 237، حديث 560،
مکتبۃ المدینہ )
(2) عمدہ خوشبو کاآنا : حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ
عنہ سے روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو
بَر ﷺ نے ارشادفرمایا :اچھے اور برے دوست کی مثال مشک
اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے ، مشك اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا
تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا
تمہارے کپڑے جلائے گا یا تہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔(بخاری کتاب الذبائح والصید
و تسمیتہ علی الصید باب المسک ص 567 ج 3 حدیث 5534)
(3) آگ میں گرنے سے بچانا: حضرت سیدناجابر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول
اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری اور تمہاری مثال اس شخص کی
طرح ہے جس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور پروانے اس میں گرنے لگے اور وہ شخص انھیں آگے۔
میں کرنے سے بچاتا ہے اور میں تمھیں تمھاری کمر سے پڑ کر آگ میں گرنے سے بچاتا ہوں
اور تم میرے ہاتھ سے نکلے جاتے ہو۔ ( ریاض صالحین مترجم ،ج
2، ص 531،حديث 163، مکتبۃ المدینہ )
(4) برائی کو نہ روکنے والوں کی مثال : حضرت سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالٰی عنہ
سے روایت ہے کہ نبی پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ عزوجل کی
مقرر کردہ حدوں پر قائم رہنے والوں اور اس میں مبتلا ہونے والوں کی مثال ان لوگوں
کی طرح ہے۔ جنہوں۔ نے ایک بحری جہاز میں قرعہ اندازی کرکے۔ اپنے حصے تقسیم کر لیے۔
بعض کے نصیب میں بالائی اور بعض کے نصیب میں نیچے کا حصہ آیا تو جو لوگ نچلے حصے میں
تھے انھیں پانی لینے کے لیے۔ اوپر والے حصے سے گزرنا پڑتا۔ نچلے حصے والوں نے کہا
کیوں نہ ہم اپنے حصے میں سوراخ کرلیں تاکہ پانی لینے میں آسانی ہو اور اوپر والوں
کو تکلیف میں نہ ڈالیں ۔ اب اگر اوپر والے نیچے والوں کو یہ ارادہ پورا کرنے دیں
تو سب ہلاک ہو جائیں گے اور اگر یہ ان کے ہاتھ پکڑ لیں تو خود بھی نجات پائیں گے
اور دیگر لوگ بھی نجات پائیں گے۔ (ریاض صالحین،مترجم ج 3 ، ص 60، حديث 187 ، مکتبۃ المدینہ )
(5) دنیا کی مثال: حضرت سیدنا مستورد بن شداد رضی الله تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و
سلم نے فرمایا: آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال ایسی ہے۔ جسے تم میں سے کوئی اپنی
انگلی سمندر میں ڈالے پھر دیکھے کہ وہ کتنا پانی لے کر لوٹتی ہے۔ ( ریاض الصالحین ،ج :4 ص : 671، حدیث نمبر 463 ، مکتبۃ
المدینہ )
محمد فہد مدنی ( مدرس جامعۃ
المدینہ فیضان اسلام اقبال ٹاؤن لاہور ، پاکستان)
اللہ تعالیٰ
نے نبی کریم ﷺ کو معلمِ بنا کر بھیجا اور آپ ﷺ نے اپنی پوری زندگی لوگوں کو علم سکھانے کے لیے مختلف طریقے اختیار فرمائے ۔
ان میں سے ایک مؤثر طریقہ "مثالوں کے ذریعے سمجھانا" تھا۔ آپ ﷺ نے پیچیدہ
باتوں کو سادہ اور عام فہم مثالوں سے واضح فرمایا، تاکہ ہر شخص آسانی سے سمجھ سکے۔
یہاں آپ ﷺ کی
سیرت طیبہ سے چند احادیث ذکر کرتا ہوں جس میں آپﷺنے مثالوں کے ذریعے امت کو تعلیم
دی ۔
(1) اچھے اور برے دوست کی مثال :نبی پاک ﷺ نے برے دوست کے اثر کو بیان کرتے ہوئے
ارشاد فرمایا: حضرتِ سَیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے
روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَر ﷺ نے ارشادفرمایا : ’’اچھے اور برے دوست کی مثال مشک
اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے ، مشك اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا
تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا
تمہارے کپڑے جلائے گا یا تمہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔ ( صحیح مسلم۔جلد 2 ۔ کتاب البر و الصلۃ والادب ۔باب
استحباب مجالسۃ الصاحین و مجانبۃ قرناء السوء ۔ رقم1305۔ حدیث نمبر: 2628)
اس مثال سے آپ
ﷺ نے سکھایا کہ انسان پر اس کے دوست کی صحبت کا گہرا اثر پڑتا ہے۔
(2)گناہ جھڑنے کی مثال : حضرت سیّدُنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
آپ ﷺ موسمِ سرما میں باہر تشریف لائے جبکہ درختوں کے پتے جَھڑ رہے تھے توآپ نے ایک
درخت کی ٹہنی پکڑ کر اس کے پتّے جھاڑتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے ابوذر! میں نے عرض کی:
یارسولَ اللہ! میں حاضر ہوں۔ ارشاد فرمایا: بےشک جب کوئی مسلمان اللہ پاک کی رضا
کے لئے نَماز پڑھتاہے تو اس کے گناہ ایسے جھڑتے ہیں جیسے اس درخت کے پتے جھڑرہے ہیں۔
(مسند احمد،مسند الأنصار،حديث أبى ذر الغفاری رضی الله تعالى عنہ،حدیث: 21556)
اس حدیث مبارکہ
میں آپ ﷺ نے نماز کے ذریعے گناہ جھڑنے کی مثال درخت کے پتوں سے دی کہ جس طرح ٹہنی
کو ہلانے سے پے در پے پتے گرتے ہیں اسی طرح بندۂ مؤمن کے گناہ بھی نماز کے ذریعے
گرتے ہیں۔
(3) ام العلاء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : جب میں
بیمار تھی تو رسول اللہ ﷺ نے میری
عیادت کی، آپ نے فرمایا: ”خوش ہو جاؤ، اے ام العلاء! بیشک بیماری کے ذریعہ اللہ
تعالیٰ مسلمان بندے کے گناہوں کو ایسے ہی دور کر دیتا ہے جیسے آگ، سونے اور چاندی
کے میل کو دور کر دیتی ہے“۔ (سنن ابی داؤد،كتاب الجنائز ،باب عيادة النساء، حدیث:
3092)
مذکورہ حدیث
مبارکہ میں نبی ﷺ نے بیماری کے ذریعے گناہ دور ہونے کی مثال آگ اور سونے ، چاندی
سے دی کہ جس طرح آگ ان دونوں کی میل کو دور کرتی ہے اسی طرح بیماری بھی انسان سے
گناہوں کو دور کرتی ہے۔
عبد الرحمن امجد عطاری (درجہ سادسہ
جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ ایک مکمل تربیتی نصاب ہے۔ مثال دے کر تربیت
کرنا نہ صرف ذہن نشین کروانے میں مؤثر ہے بلکہ کردار سازی میں بھی مددگار ہے۔ آج
کے والدین، اساتذہ، مبلغین، اور قائدین کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی اس
سنتِ تربیت کو اپنائیں تاکہ معاشرے میں علم کے ساتھ ساتھ کردار بھی پروان چڑھے۔
آئیے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مثال کے ذریعے سے تربیت فرمانے کو پڑھیئے :
(1)بے
فائدہ علم: وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ عِلْمٍ لَا يُنْتَفَعُ
بِهِ كَمَثَلِ كَنْزٍ لَا يُنْفَقُ مِنْهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ترجمہ : روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس علم کی مثال جس سے نفع نہ اٹھایا
جائے اس خزانہ کی سی ہے جس سے اللہ کی راہ میں خرچ نہ
کیا جائے۔(مشکوٰۃ المصابیح، علم کا بیان، فصل ثالث ،جلد:1،صفحہ نمبر :39،حدیث
نمبر: 260)
(2)
دنیا فانی ہے: وَعَنِ
الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ
صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ اِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ
اَحَدُكُمْ اِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ ، فَلْيَنْظُرْ بِمَ يَرْجِعُ ترجمہ :حضرت سَیِّدُنَا مُسْتَوْرِدْ بن شَدَّاد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ
رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ” آخرت
کے مقابلے میں دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں
ڈالے پھر دیکھے کہ وہ کتنا پانی لے کر لوٹتی ہے ۔ “
حدیث کی وضاحت
:عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی رحمۃ
اللہ علیہ فرماتے ہیں : ” حدیث پاک کا مطلب یہ ہے کہ دنیا
کی زندگی بہت تنگ ہے اور دنیا فنا ہونے والی ہے جبکہ آخرت خود بھی دائمی ہے اور اس
کی نعمتوں کو بھی دوام حاصل ہے لہذا اگر اِس لحاظ سے دیکھا جائے تو دنیا کی حیثیت
آخرت کے مقابلے میں وہی ہے جو انگلی پر لگنے والے پانی کی حیثیت سمندر کے مقابلے میں
ہوتی ہے ۔ (فیضان ریاض الصالحین، جلد:4،حدیث نمبر:463)
(3)
خوبصورت محل: وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہ ِ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلِي وَمَثَلُ
الْأَنْبِيَاءِ كَمَثَلِ قَصْرٍ أُحْسِنَ بُنْيَانُهٗ تُرِكَ مِنْهُ مَوْضِعُ
لَبِنَةٍ، فَطَافَ بِهِ النُّظَّارُ، يَتَعَجَّبُوْنَ مِنْ حُسْنِ بُنْيَانِهٖ
إِلَّا مَوْضِعَ تِلْكَ اللَّبِنَةِ فَكُنْتُ أَنَا سَدَدْتُ مَوْضِعَ اللَّبِنَةِ
خُتِمَ بِيَ الْبُنْيَانُ وَخُتِمَ بِي الرُّسُلُ .وَفِي رِوَايَةٍ: «فَأَنَا
اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ
ترجمہ : روایت
ہے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم
نے کہ میری اور دوسرے نبیوں کی مثال اس محل کی سی ہے جس کی تعمیر بہت اچھی کی گئی
اور اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی گئی دیکھنے والے اس کے گرد چکر لگاتے تھے اور
اچھی تعمیر سے تعجب کرتے تھے سوائے اس اینٹ کے، تو میں نے ہی اس اینٹ کی جگہ پُر کردی مجھ پر انبیاء ختم
کردئیے گئے اور مجھ پر رسول ختم کر دیئے گئے ایک روایت میں ہے کہ وہ آخری اینٹ میں
ہی ہوں اور نبیوں میں آخری نبی ہوں۔( مشکوٰۃ المصابیح ،باب فضائل سید المرسلین صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ،فصل اول ،صفحہ نمبر :521، جلد:2،حدیث نمبر:5496)
حدیث کی وضاحت
:سبحان الله! کیسی پیاری مثال ہے نبوت گویا نورانی محل ہے حضرات انبیاء کرام گویا
اس کی نورانی اینٹیں،حضور صلی الله علیہ وسلم گویا اس محل کی آخری اینٹ ہیں جس پر
اس عمارت کی تکمیل ہوئی۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور آخری نبی ہیں آپ کے زمانے میں یا
آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ ( مشکوٰۃ المصابیح ،باب فضائل سید المرسلین صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ،فصل اول ،صفحہ نمبر :521، جلد:2،حدیث نمبر:5496)
اعلیٰ حضرت
قدس سرہ فرماتے ہیں
کوئی اور پھول کہاں کھلے نہ جگہ ہے جوشش حسن سے
نہ بہار آور پہ رخ کرے کہ جھپک پلک کی تو خار ہے
(4) زندہ اور
مردہ کی مثال: عَنْ أَبِيْ مُوْسٰى قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَثَلُ الَّذِيْ يَذْكُرُ رَبَّهٗ وَالَّذِيْ لَا يَذْكُرُ
مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ ترجمہ : حضرت ابو موسیٰ فرماتے
ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم
نے فرمایا اس کی مثال جو رب کا ذکر کرے اور جو نہ کرے زندہ و مردہ کی سی ہے ۔(
مشکوٰۃ المصابیح،کتاب الدعوات ،باب ذکر اللہ عزوجل
والتقرب الیہ ،صفحہ نمبر:198،جلد:1،حدیث نمبر:2153)
آباد وہ ہی دل ہے جس میں تمہاری یاد ہے
جو یاد سے غافل ہوا ویران ہے برباد ہے
نبی کریم ﷺ کی تمثیلی تربیت نے امت کو نہ صرف
سکھایا بلکہ سوچنے کا سلیقہ بھی دیا۔ آج ہمیں ضرورت ہے کہ ہم اس عظیم تربیتی اسلوب
کو اپنی تعلیم و تبلیغ میں زندہ کریں، تاکہ دل بدلے، سوچ بدلے، اور امت پھر سے
سنور جائے۔
اللہ عزوجل ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم
النبیین
محمد عمران حیدر عطاری (درجہ ثالثہ
جامعۃ المدینہ فیضان عطار سلطانکے لاہور ، پاکستان)
تاریخِ انسانی
میں اگر کوئی ایک شخصیت ہے جس نے سب سے مؤثر انداز میں لوگوں کی تربیت فرمائی، تو
وہ نبی آخر الزمان، سید المرسلین محمد ﷺ کی ذاتِ مقدس ہے۔آپ ﷺ نے انسانیت کو
اخلاق، عبادات، عقائد اور معاملات کا وہ درس دیا جو قیامت تک کے انسانوں کے لیے
مشعل راہ ہے۔ آپ ﷺ صرف معلم ہی نہیں بلکہ مربیِ کامل تھے، جن کا اسلوبِ تربیت قلوب
کو چھو لیتا اور ذہنوں میں جاگزیں ہو جاتا۔
آپ ﷺ نے اپنی
دعوت و نصیحت میں جو اسلوب اپنایا، ان میں تمثیلات (مثالوں) کا اندازِ بیان نہایت
مؤثر تھا۔ آپ ﷺ فرماتے، سوال کرتے، ذہنوں کو متوجہ کرتے، پھر سادہ اور دل نشین
مثال کے ذریعے مقصد کو سمجھاتے۔ یہی اسلوب آج بھی بہترین تعلیم و تربیت کے اصولوں
میں شمار ہوتا ہے۔
(1) مومن، ایک زندہ اور نفع بخش درخت کی مانند: ایک روز رسول اللہ ﷺ نے صحابۂ کرام سے
سوال فرمایا: درختوں میں ایک درخت ایسا ہے جس کے پتے نہیں
جھڑتے، وہ مسلمان کی مانند ہے۔ بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟ بعد میں فرمایا: هِيَ النَّخْلَةُ وہ کھجور کا درخت ہے۔ (صحیح
بخاری، کتاب: العلم، باب: فضل النخل، حدیث: 72، جلد: 1، صفحہ: 40، مطبوعہ: دار طوق
النجاة، بیروت)
وضاحت: کھجور
کا درخت فائدہ مند، ہر موسم میں سرسبز، مضبوط جڑوں والا، سایہ دار اور نفع بخش
ہوتا ہے اور ایک مومن بھی ایسا ہی ہوتا ہے: وہ خیر
بانٹتا ہے، ثابت قدم رہتا ہے، اور ہر حال میں فائدہ پہنچاتا ہے۔
(2) گناہوں کی صفائی کی نہر: ایک دن رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام سے سوال کیا: أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ
أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا، هَلْ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ
یعنی: اگر تمہارے دروازے پر ایک
نہر ہو، اور تم اس میں روزانہ پانچ مرتبہ نہاؤ، تو کیا تمہارے جسم پر کچھ میل باقی
رہے گا؟ صحابہ نے عرض کیا: نہیں! آپ ﷺ نے فرمایا: فَذَلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، يَمْحُو
اللَّهُ بِهَا الْخَطَايَا یہ پانچ
نمازوں کی مثال ہے، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے گناہ مٹا دیتا ہے۔ (صحیح بخاری، کتاب:
الصلوۃ، باب: الصلوات كفارة، حدیث: 528، جلد: 1، صفحہ: 178، مطبوعہ: دار طوق
النجاة، بیروت)
وضاحت: جیسے
پانی جسم کو صاف کرتا ہے، ویسے ہی نماز روح کو پاک کرتی ہے، گناہوں کو جھاڑ دیتی
ہے۔
(3) مومنین کا باہمی تعلق ، ایک عمارت کی مثال: نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کے باہمی تعلق کو ایک خوبصورت
تمثیل میں یوں بیان فرمایا: المُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ، يَشُدُّ بَعْضُهُ
بَعْضًا یعنی: مومن، دوسرے مومن کے لیے ایسی
عمارت ہے جس کا ایک حصہ دوسرے کو مضبوط کرتا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو ایک
دوسرے میں پھنسا کر عملی مثال دی۔ (صحیح بخاری، کتاب: الأدب، باب: تشبيك الأصابع،
حدیث: 481، جلد: 1، صفحہ: 167، مطبوعہ: دار طوق النجاة، بیروت)
اس سے ہمیں یہ
سبق ملتا ہے کہ مومن ایک دوسرے کا سہارا ہیں، ایک کی کمزوری دوسرے کی طاقت سے پوری
ہوتی ہے۔ یہ اخوتِ اسلامی کی بنیاد ہے۔
نبی کریم ﷺ کا
تمثیلی اندازِ تعلیم محض الفاظ کا کھیل نہیں، بلکہ ایک فکری انقلاب ہے ، جو عام
آدمی سے لے کر فلسفی تک ہر ذہن کو قائل کرتا ہے
۔ یہی انداز آج اساتذہ، والدین، خطباء، اور ہر داعی کے لیے
راہنمائی کا ذریعہ ہے۔
ہمیں چاہیے کہ
ہم بھی تربیت کے اس نبوی منہج کو اپنائیں تاکہ ہماری بات بھی دلوں میں اُترے،
کردار بدلیں، اور نسلیں سنوریں۔
Dawateislami