سید ایاز علی ( درجہ سابعہ
جامعۃ المدینہ فیضان بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
اسلام ایک ایسا
مکمل ضابطۂ حیات ہے جس نے نہ صرف انسان کی عبادات بلکہ اس کی سیرت، معاشرت، اخلاق،
تربیت اور فکری ارتقاء کے پہلوؤں کو بھی شامل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب
نبی حضرت محمد ﷺ کو معلمِ انسانیت، مزکیٔ نفس، اور مربیٔ کائنات بنا کر بھیجا۔ آپ ﷺ
نے اپنی حکمت، نرمی، اخلاق اور بصیرت سے لوگوں کے دل جیتے، اور انہیں اعلیٰ تربیت
دی۔ آپ کا اندازِ تربیت بے مثال تھا، جس میں سب سے مؤثر اسلوب تمثیل (مثالوں) کے
ذریعے تربیت دینا ہے ۔
تمثیل یا
مثال، کسی بات کو دوسرے انداز سے اس طرح پیش کرنا ہے کہ سننے والا اسے بہتر طور پر
سمجھ سکے۔ نبی کریم ﷺ نے تمثیل کا استعمال نہ صرف علمی و عقلی وضاحت کے لیے کیا
بلکہ اخلاقی، روحانی اور دینی تربیت کے لیے بھی فرمایا۔
آپ ﷺ کی تعلیم
کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ مخاطب صرف معلومات حاصل نہ کرے، بلکہ دل سے سیکھے، سوچے
اور اس پر عمل کرے۔ اس مقصد کے لیے آپ مثالوں، سوالات، ترتیبِ
الفاظ اور موقع کی مناسبت سے بات کرتے۔ آپ ﷺ کی تمثیلات میں نہ مبالغہ ہوتا تھا،
نہ گراوٹ، بلکہ انتہائی سادہ، عام فہم اور گہرا اثر رکھتی تھیں۔
قرآن کریم میں بھی تمثیل کا استعمال : اللہ تعالیٰ
نے خود بھی قرآن کریم میں
کئی مواقع پر تمثیلات بیان فرمائیں۔ جیسے مکھی، مکڑی، چراغ، درخت، بارش وغیرہ سے ایمان،
کفر، اخلاص، نفاق اور اعمال کو سمجھایا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسی قرآنی اسلوب کو اپنایا۔آپ ﷺ کی چند تمثیلیں درج ذیل ہیں :
(1) نیک و بد دوست کی مثال : نبیِّ کریم ﷺ
نے فرمایا: اِنَّمَا مَثَلُ
الْجَلِيْسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِيْسِ السُّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ
الْكِيْرِ فَحَامِلُ الْمِسْكِ اِمَّا اَنْ يُّحْذِيَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَبْتَاعَ
مِنْهُ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيْحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيْرِ اِمَّا اَنْ يُّحْرِقَ
ثِيَابَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ رِيْحًا خبیثۃً
ترجمہ: اچھے
اور برے دوست کی مثال مشک اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے ، مشك
اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے
گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تہیں اس سے ناگوار بو آئے گی
۔(بخاری کتاب الذبائح والصید و تسمیتہ علی الصید باب المسک ص 567 ج 3 حدیث 5534)
اس تمثیل سے
صحبت کے اثرات واضح ہوتے ہیں، جو تربیتِ کردار میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔
(2) پانچ نمازوں کی مثال نہر کے غسل سے : عَنْ اَبِيْ مُوْسَى
الْاَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ قَالَ : اِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيْسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِيْسِ
السُّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيْرِ فَحَامِلُ الْمِسْكِ اِمَّا
اَنْ يُّحْذِيَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ مِنْهُ
رِيْحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيْرِ اِمَّا اَنْ يُّحْرِقَ ثِيَابَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ
رِيْحًا خبیثۃً
ترجمہ: حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے
روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَر ﷺ نے
ارشادفرمایا :اچھے اور برے دوست کی مثال مشک اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی
طرح ہے ، مشك اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے
عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تہیں اس سے
ناگوار بو آئے گی ۔(بخاری کتاب الذبائح والصید و تسمیتہ علی الصید باب المسک ص 567
ج 3 حدیث 5534)
یہ مثال نمازوں کی اہمیت اور گناہوں کی
صفائی کو خوبصورتی سے واضح کرتی ہے۔
(3) منافق کی مثال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: مَثَلُ
الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ، تَعِيرُ إِلَى
هَذِهِ مَرَّةً، وَإِلَى هَذِهِ مَرَّةً نبی ﷺ نے فرمایا: منافق اس بکری کی طرح ہے جو دو ریوڑوں
کے بیچ بھٹکتی ہے، نہ اس طرف جاتی ہے، نہ اس طرف۔ (صحیح مسلم: حدیث 2770)
یہ مثال منافق
کی تذبذب، بےاصولیت اور دوغلے پن کو ظاہر کرتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ
کے اس اسلوبِ تربیت کے کئی فائدے ہیں :
فہم میں آسانی: تمثیل عام فہم انداز میں بات
سمجھاتی تھی۔
یادداشت میں پختگی: مثالیں یاد رہتی ہیں، اس لیے
صحابہ طویل عرصے تک بات یاد رکھتے۔
عمل کی تحریک:
تمثیل سامع کے اندر عمل کا جذبہ پیدا کرتی۔
فطری رغبت: انسان فطرتاً قصہ اور مثال پسند کرتا
ہے، اس لیے سننے میں دلچسپی بڑھتی۔
اگر آج ہم بھی
تعلیم و تبلیغ میں آپ ﷺ کے اس اسلوب کو اپنائیں تو نہ صرف فہم و ادراک میں اضافہ ہوگا،
بلکہ عمل کی طرف بھی رغبت پیدا ہو گی، اور سچی تربیت کا دروازہ کھلے گا۔
اللہ پاک سے
دعا ہے ہمیں بھی اللہ پاک اس انداز تربیت کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
اسلام ایک
مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو نہ صرف عبادات میں بلکہ معاشرت، اور تربیت کے ہر
پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عظیم معلم اور رہنما ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ
کرام رضی اللہ عنہم اور اُمت کی تعلیم و تربیت کے لیے جو طریقہ اختیار فرمایا، وہ
نہایت حکمت پر مبنی تھا۔ ان طریقوں میں ایک طریقہ یہ تھا کہ آپ صلی
اللہ علیہ وسلم مثالوں کے ذریعے بات سمجھاتے۔ یہ مثالیں بعض اوقات روزمرہ زندگی سے
لی جاتیں، کبھی جانوروں، درختوں، یا گھریلو اشیاء سے، اور کبھی انسانی نفسیات کو
مدِنظر رکھ کر ترتیب دی جاتیں ۔آئیے اس کے متعلق کچھ معلومات حاصل کرتے ہیں ۔
زندہ و مردہ کی مثال : عَنْ أَبِيْ مُوْسٰى قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى
اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَثَلُ الَّذِيْ يَذْكُرُ رَبَّهٗ وَالَّذِيْ لَا
يَذْكُرُ مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ ترجمہ : حضرت ابو موسیٰ فرماتے
ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم
نے فرمایا اس کی مثال جو رب کا ذکر کرے اور جو نہ کرے زندہ و مردہ کی سی ہے ۔ ( مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 , حدیث نمبر:2263)
تمہاری
اور میری مثال : عَنْ
جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ اَوْقَدَ نَاراً فَجَعَلَ الجَنَادِبُ
والفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيْهَا وَهُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا وَاَنَا اٰخِذٌ
بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، وَاَنْتُمْ تَفَلَّتُوْنَ مِنْ يَدَيَّ ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ
اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہےکہ رسولُ اللہ صَلَّی
اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے
ارشادفرمایا: ’’ میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہےجس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور پروانے اس میں
گرنے لگےاور وہ شخص اُنہیں آگ میں گرنے سے بچاتا ہےاورمیں بھی تمہیں تمہاری کمر سے پکڑ کر آگ (میں گرنے) سےبچاتا ہوں اور تم میرے
ہاتھ سے نکلے جاتے ہو ۔ ‘‘ (فیضان ریاض الصالحین جلد:2
، حدیث نمبر:163)
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کا اندازِ تعلیم نہایت حکیمانہ تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی مثالیں صرف الفاظ نہیں تھیں
بلکہ حکمت، اور تعلیم و تربیت کا خزانہ تھیں۔ آج کے دور میں جب سیکھنے اور سکھانے
کے بے شمار ذرائع موجود ہیں، پھر بھی اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری بات دلوں میں اترے
، تو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اسلوب کو
اپنانا ہو گا۔ چاہے ہم والدین ہوں، اساتذہ، مبلغین یا مقررین ۔ مثالوں کے ذریعے بات سمجھانا ایک سنتِ نبوی ہے، جو ہر
دور میں مؤثر رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ ( ان شاء اللہ عزوجل)
علی حسین بن محمد احمد ( جامعۃالمدینہ
کنزالایمان مصطفی آباد رائیونڈ ، پاکستان)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری حیات مبارکہ رہتی دنیا کیلئے نہ صرف
بہترین نمونہ بلکہ ایک مکمل نظریہ حیات ہے ۔ کائنات کے سب سے بہترین معلم حضور سید
عالم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔
(1)
عَنْ أَبِيْ
مُوْسٰى قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ:مَثَلُ الَّذِيْ يَذْكُرُ رَبَّهٗ وَالَّذِيْ لَا يَذْكُرُ مَثَلُ
الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ ترجمہ : حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم
نے فرمایا اس کی مثال جو رب کا ذکر کرے اور جو نہ کرے زندہ و مردہ کی سی ہے ۔(مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 ، حدیث نمبر:2263 )
(2)وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:
قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ
الزَّرْعِ لَا تزَالُ الرِّيْحُ تُمِيْلُهٗ وَلَا يزَالُ الْمُؤْمِنُ يُصِيْبُهُ
البَلَاءُ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ شَجَرَةِ الْأَرْزَةِ لَا تَهْتَزَّ
حَتّٰى تَسْتَحْصَدَ ترجمہ: روایت
ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں ،فرمایا
رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ
مؤمن کی مثال کھیت کی سی ہے جسے ہوائیں جھلاتی رہتی ہیں اور مؤمن کو مصیبتیں پہنچتی
رہتی ہیں اورمنافق کی مثال درخت صنوبر کی سی ہے جو کٹنے تک جنبش نہیں کرتا۔(مسلم،بخاری۔ مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:2
، حدیث نمبر:1542 )
اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ مؤمن خوشی سے مرتا
ہے اورمنافق جبرًا موت دیاجاتاہے،موت ایک ریل ہے جو دولہا کو سسرال تک پہنچاتی ہے
اورپھانسی کے مجرم کو پھانسی تک مؤمن کی دنیوی تکلیفیں آخرت کی راحت کا سبب ۔ (مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:2 ، حدیث نمبر:1542 )
(3)عَنْ اَبِيْ مُوْسَى
الْاَشْعَرِيْ رَضِيَ الله عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَاُالْقُرْآنَ مَثَلُ
الْاُتْرُجَّةِ رِيْحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ
الَّذِي لَا يَقْرَاُ القُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ لَارِيْحَ لَهَا وَطَعْمُهَا
حُلْوٌ وَمَثلُ
الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَاُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ رِيْحُهَا
طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِيْ لاَ يَقْرَاُ الْقُرْاٰنَ
كَمَثَلِِ الْحَنْظَلَةِ لَيْسَ لَهَا رِيْحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ
ترجمہ: حضرت سَیِّدُناابو موسٰی
اَشعری رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتےہیں کہ حُضورِ انور ﷺ نے ارشاد فرمایا:”قرآن
پڑھنے والے مومن کی مثال نارنگی کی طرح ہے جس کی خوشبو بھی اچھی اور ذائقہ بھی عمدہ ہےاور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور کی طرح ہے جس کی خوشبو نہیں لیکن ذائقہ میٹھا
ہے۔قرآن پڑھنے والے منافق کی مثال پھول کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی اور ذائقہ
کڑوا ہےاورقرآن نہ پڑھنے والے منافق کی مثال اندرائن کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی
نہیں اور ذائقہ کڑوا ہے۔( فیضان ریاض الصالحین جلد:7 ، حدیث نمبر:995 )
نارنگی سے تشبیہ
دینے کی وجہ:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:”قرآن پاک پڑھنے والے مومن کو نارنگی کے
ساتھ اس لیے تشبیہ دی گئی ہے کہ یہ تمام شہروں میں پائے جانے والے پھلوں میں سب سے
بہترین پھل ہے۔اس میں بکثرت صفات مطلوبہ اور خواص ہیں ۔
(4)وَعَنْ أَبِيْ مُوسٰى قَالَ:
قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلّٰى اللہ ُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ الْقَلْبِ كَرِيشَةٍ بِأَرْضِ فَلَاةٍ
يُقَلِّبُهَا الرِّيَاحُ ظَهْرَالْبَطْنِ رَوَاهُ أَحْمَدُ۔ ترجمہ: روایت ہے حضرت ابو موسیٰ رضی
اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے
دل کی مثال اس پر کی سی ہے جو میدانی زمین میں ہو جسے ہوائیں ظاہروباطن الٹیں پلٹیں ۔(مرآۃالمناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ،3 ،حدیث نمبر
،2263 )
علی حیدر (درجہ خامسہ مرکزی
جامعۃُ المدینہ فیضانِ مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ، پاکستان)
اللہ تعالیٰ
نے انسان کی ہدایت و رہنمائی کے لیے انبیاء کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا
تاکہ وہ انسانیت کو سیدھے راستے پر گامزن کر سکیں۔ ان انبیائے کرام علیہم السلام میں
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی بناکر بھیجا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات نہ صرف الفاظ تک محدود تھیں بلکہ
آپ نے عملی مثالوں، سادہ تشبیہات اور دلنشین حکایات کے ذریعے لوگوں کی تربیت فرمائی
انہیں دین کی حقیقی روح سے روشناس کرایا۔ آپ کی یہ منفرد حکمتِ عملی آج بھی انسانیت
کے لیے مشعلِ راہ ہے، ان میں سے چند احادیث پڑھیئے:
مثالوں
سے تربیت کی اہمیت: انسانی فطرت ہے
کہ وہ مثالوں سے زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ مثالیں پیچیدہ تصورات کو آسان بنا دیتی ہیں،
اور سننے والے کے ذہن میں ایک واضح نقش چھوڑ جاتی ہیں۔ اسی نفسیاتی پہلو کو مدنظر
رکھتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تعلیمات میں مثالوں کا استعمال
فرمایا۔انہیں مثالوں میں سے چند مثالیں درج ذیل ہیں۔
(1)
اچھے اور برےدوست کی مثال: عَنْ
اَبِيْ مُوْسَى الْاَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَِّ صَلَّى
اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيْسِ الصَّالِحِ
وَالْجَلِيْسِ السُّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيْرِ فَحَامِلُ
الْمِسْكِ اِمَّا اَنْ يُّحْذِيَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وَ اِمَّا
اَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيْحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيْرِ اِمَّا اَنْ يُّحْرِقَ ثِيَابَكَ
وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ رِيْحًا خبیثۃً
ترجمہ: حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے
روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَر ﷺ نے
ارشادفرمایا :اچھے اور برے دوست کی مثال مشک اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی
طرح ہے ، مشك اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے
عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تہیں اس سے
ناگوار بو آئے گی ۔(بخاری کتاب الذبائح والصید و تسمیتہ علی الصید باب المسک ص 567
ج 3 حدیث 5534)
(2) حلال اور حرام کا درمیانہ راستہ: عَنْ عَامِرٍ قَالَ:سَمِعْتُ
النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیْرٍ یَقُوْلُ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ
عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ اَلْحَلَالُ بَیِّنٌ وَالْحَرَامُ بَیِّنٌ وَبَیْنَھُمَا
مُشْتَبِھَاتٌ لَا یَعْلَمُھَا کَثِیْرٌ مِنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَی
الْمُشَبَّھَاتِ اِسْتَبْرَأَ لِدِیْنِہٖ وَ عِرْضِہٖ وَمَنْ وَّقَعَ فیِ
الشُّبُھَاتِ کَرَاعٍ یَرْعٰی حَوْلَ الْحِمٰی یُوْشِکُ اَنْ یُّوَاقِعَہٗ اَلَا
وَاِنَّ لِکُلِّ مَلِکٍ حِمًی اَلَا اِنَّ حِمَی اللّٰہِ فِیْ اَرْضِہٖ
مَحَارِمُہٗ اَلَا وَاِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَۃً اِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ
الْجَسَدُ کُلُّہٗ وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ اَلَا وَھِیَ
الْقَلْبُ
ترجمہ:عامر
(شعبی) سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے
رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو
یہ فرماتے ہوئے سنا کہ حلال ظاہر ہے اور حرام ظاہر ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ
مُشْتَبَہ چیزیں ہیں جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے تو جو کوئی شبہ کی چیزوں سے بچ گیا اس نے اپنے دین
اور اپنی آبرو کو بچا لیا اور جو کوئی ان شبہ کی چیزوں میں پڑگیا
تو اس کی مثال اس چرواہے کی ہے جو بادشاہ کی محفوظ
چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چرائے تو ہوسکتا ہے کہ وہ جانور شاہی چراگاہ میں داخل ہوجائیں ۔سُن لو ! ہر بادشاہ کی ایک
’’حمی‘‘ (محفوظ و مخصوص چراگاہ) ہو تی ہے اور اللہ عزوجل کی ’’حمی‘‘ اس کی زمین میں وہ چیزیں ہیں جن
کو اس نے حرام ٹھہرایا ہے ۔خبردار! بدن میں ایک گوشت کی بوٹی ایسی ہے
کہ اگر وہ درست ہے تو سارا بدن درست ہے اور اگر وہ فاسد ہوگئی تو سارا بدن بگڑ گیا
سن لو! وہ دل ہے۔ (صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب فضل من استبرأ لدینہ،الحدیث:52،ج1،ص33)
(3)
دیا ہوا صدقہ واپس لینے کی مثال: عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:
سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ
فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَضَاعَهُ الَّذِي كَانَ عِنْدَهُ فَأَرَدْتُ أَنْ
أَشْتَرِيَهُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَبِيعُهُ بِرُخْصٍ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ
صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَا تَشْتَرِي وَلَا
تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ، وَإِنْ أَعْطَاكَهُ بِدِرْهَمٍ فَإِنَّ الْعَائِدَ
فِي صَدَقَتهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ
ترجمہ: زید بن
اسلم سے ان کے باپ نے بیان کیا کہ
میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ انہوں
نے ایک گھوڑا اللہ تعالیٰ کے راستہ میں ایک شخص کو سواری کے لیے دے دیا۔ لیکن اس
شخص نے گھوڑے کو خراب کردیا۔ اس لیے میں نے چاہا کہ اسے خرید لوں۔ میرا یہ بھی خیال
تھا کہ وہ اسے سستے داموں بیچ ڈالے گا۔ چنانچہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
اپنا صدقہ واپس نہ لو۔ خواہ وہ تمہیں ایک درہم ہی میں کیوں نہ دے کیونکہ دیا ہوا
صدقہ واپس لینے والے کی مثال قے کر کے چاٹنے والے کی سی ہے۔( صحیح
بخاری، کتاب: زکوۃ کا بیان، باب: کیا آدمی اپنی چیز کو
جو صدقہ میں دی ہو پھر خرید سکتا ہے؟ حدیث نمبر: 1490، صفحہ:363، دارابن کثیربیروت )
(4)
اللہ تعالیٰ کی حدود میں سستی برتنے اور
اس میں مبتلا ہونے کی مثال: يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الْمُدْهِنِ فِي حُدُودِ اللَّهِ وَالْوَاقِعِ
فِيهَا، مَثَلُ قَوْمٍ اسْتَهَمُوا سَفِينَةً، فَصَارَ بَعْضُهُمْ فِي
أَسْفَلِهَا وَصَارَ بَعْضُهُمْ فِي أَعْلَاهَا، فَكَانَ الَّذِي فِي
أَسْفَلِهَا يَمُرُّونَ بِالْمَاءِ عَلَى الَّذِينَ فِي أَعْلَاهَا فَتَأَذَّوْا
بِهِ، فَأَخَذَ فَأْسًا، فَجَعَلَ يَنْقُرُ أَسْفَلَ السَّفِينَةِ،
فَأَتَوْهُ، فَقَالُوا: مَا لَكَ قَالَ: تَأَذَّيْتُمْ بِي،
وَلَا بُدَّ لِي مِنَ الْمَاءِ، فَإِنْ أَخَذُوا عَلَى يَدَيْهِ
أَنْجَوْهُ وَنَجَّوْا أَنْفُسَهُمْ، وَإِنْ تَرَكُوهُ أَهْلَكُوهُ
وَأَهْلَكُوا أَنْفُسَهُمْ
ترجمہ: نعمان
بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی حدود میں سستی برتنے والے اور اس میں مبتلا
ہوجانے والے کی مثال ایک ایسی قوم کی سی ہے جس نے ایک کشتی (پر
سفر کرنے کے لیے جگہ کے بارے میں) قرعہ اندازی کی۔ پھر نتیجے
میں کچھ لوگ نیچے سوار ہوئے اور کچھ اوپر۔ نیچے کے لوگ پانی لے کر اوپر کی منزل سے
گزرتے تھے اور اس سے اوپر والوں کو تکلیف ہوتی تھی۔ اس خیال سے نیچے والا ایک آدمی
کلہاڑی سے کشتی کا نیچے کا حصہ کاٹنے لگا (تاکہ نیچے ہی سمندر سے
پانی لے لیا کرے) اب اوپر والے آئے اور کہنے لگے کہ یہ کیا کر رہے
ہو؟ اس نے کہا کہ تم لوگوں کو (میرے اوپر آنے جانے سے) تکلیف ہوتی تھی اور میرے لیے بھی پانی ضروری تھا۔ اب اگر
انہوں نے نیچے والے کا ہاتھ پکڑ لیا تو انہیں بھی نجات دی اور خود بھی نجات پائی۔
لیکن اگر اسے یوں ہی چھوڑ دیا تو انہیں بھی ہلاک کیا اور خود بھی ہلاک ہوگئے۔(
صحیح بخاری، کتاب: گواہیوں کا بیان، باب: مشکلات کے وقت قرعہ اندازی کرنا، حدیث نمبر: 2686)
آج ہمیں ضرورت
ہے کہ ہم اپنے گھروں، مدارس اور معاشروں میں تعلیم و تربیت کے انہی حکیمانہ اصولوں
کو اپنائیں، تاکہ بات دلوں تک پہنچے اور کردار کا حصہ بنے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر اسوۂ حسنہ کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
محمد حسنین ابراہیم (درجہ سابعہ
مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ، پاکستان)
اللہ کے آخری
نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم ، ہادی عالم ، منبع علم و حکمت اور معلم کائنات
ہیں اور ہر شعبہ زندگی کے افراد کے لئے رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اسوہ نور ہیں ، جن پر وہ عمل کر کے ترقی
کی منازل طے کرتا جاتا ہے اور اپنی دنیا و آخرت کو سنوار لیتا ہے ،
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کی اصلاح تعلیم و تربیت
کے لیے نہایت حکیمانہ انداز اختیار کیا اور آپ نے سامع کی ذہنی وساطت کے مطابق تربیت کے ہر طریقے کو شرف
عطا فرمایا ، انہی طریقوں میں سے دل کو متاثر کرنے اور بات
کو موثر انداز میں سمجھانے کے لئے ایک طریقہ مثالوں کے ساتھ تربیت فرمانا ہے ، یہ
طریقہ صرف صحابہ کرام علیہم الرضوان کے لئے ہی نہ مؤثر ثابت ہوا بلکہ رہتی دنیا تک کے لئے روشنی کا مینار ہے ۔ رسولِ پاک صلی
اللہ علیہ وسلم کا مثالوں کے ساتھ تربیت فرمانے کی چند مثالیں مذکور ہیں :
(1)
ذکر کرنے اور نہ کرنے والوں کی مثال: نبی رحمت صلی
اللہ علیہ وسلم نے ذکر الہیٰ کرنے
اور نہ کرنے والوں کی تمثیل بیان کرتے ہوئے فرمایا ، مَثَلُ الَّذِيْ يَذْكُرُ رَبَّهٗ وَالَّذِيْ لَا يَذْكُرُ
مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ یعنی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اس کی مثال جو رب کا ذکر کرے اور جو نہ کرے زندہ و مردہ
کی سی ہے۔ (بخاری شریف ، کتاب الدعوات ،
باب فضائل ذکر اللہ عزوجل ، حدیث نمبر : 6307، دارلحدیث قاہرہ)
(2)
تمام مومنین رحم دلی اور پیار محبت میں ایک جسم کی طرح ہیں: اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مومنین کو آپس میں پیار محبت اور رحمدلی کی تربیت دیتے ہوئے
فرمایا : قَالَ
رَسُولُ اللہ ِ
صَلَّى اللہ ُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَرَى المُؤْمِنِينَ فِي تَرَاحُمِهِمْ وَتَوَادِّهِمْ
وَتَعَاطُفِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكٰى عُضْوًا تَدَاعٰى لَهٗ سَائِرُ
الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمّٰى یعنی
رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم مسلمانوں کو آپس کی رحمت آپس کی
محبت آپس کی مہربانی میں ایک جسم کی طرح دیکھو گے کہ
جب ایک عضو بیمار ہوجائے تو سارے جسم کے اعضاء بے خوابی اور بخار کی طرف ایک دوسرے
کو بلاتے ہیں۔ (بخاری شریف حدیث نمبر 6011 دارالحدیث قاہرہ)
3
:پانچ نمازیں پڑھنا پانچ مرتبہ نہر میں نہانے کی طرح ہے : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ
نمازیں پڑھنے کو نہر میں نہانے کے ساتھ تمثیل بیان کرتے ہوئے
فرمایا : قَالَ
رَسُوْلُ اللہ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ أَرَأَيْتُمْ
لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيْهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا
هَلْ يَبْقٰى مِنْ دَرَنهٖ شَيْءٌ قَالُوا: لَا يَبْقَى مِنْ دَرَنهٖ شَيْءٌ. قَالَ:
فَذٰلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ
الْخَمْسِ يَمْحُو اللہ ُ بِهِنَّ الْخَطَايَا
یعنی رسول
الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بتاؤ تو اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر نہر ہو کہ اس میں روزانہ پانچ دفعہ نہائے کیا کچھ میل
رہے گا ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ بالکل میل نہ رہے گا، فرمایا : یہ پانچ نمازوں کی
مثال ہے کہ الله ان کی برکت سے گناہ مٹاتا ہے۔ (بخاری شریف ،
حدیث نمبر : 528، دارالحدیث قاہرہ)
(4) مسکین پر خرچ کرنے والا اور بیوہ عورت پر خرچ کرنےوالا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے: رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوہ عورت اور
مسکینوں پر خرچ کرنے کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا : یعنی
بے شوہر والی اور مسکینوں پر خرچ کرنے والا الله کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح
ہے یا دن کو روزہ اور رات کو قیام کرنے والے کی طرح ہے۔ ( بخاری شریف ، حدیث نمبر :
6006 ، دار الحدیث قاہرہ)
(5) متکبر لوگ قیامت کے دن چیونٹیوں کی طرح جمع کیے
جائیں گے : رسول رحمت صلی اللہ علیہ
وسلم نے متکبرین کے عذاب کو تمثیل کے ساتھ بیان کرتے ہوئے فرمایا : قَالَ: يُحْشُرُ
الْمُتَكَبِّرُونَ أَمْثَالَ الذَّرِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي صُوَرِ الرِّجَالِ
يَغْشَاهُمُ الذُّلُّ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ يُسَاقُونَ إِلٰى سِجْنٍ فِي جَهَنَّمَ
يُسَمّٰى: بُولَسُ تَعْلُوهُمْ نَارُ الْأَنْيَارِ يُسْقَوْنَ مِنْ عُصَارَةِ
أَهْلِ النَّارِ طِينَةَ الْخَبَالِ متکبر
لوگ قیامت کے دن چیونٹیوں کی طرح جمع کیے جائیں گے مردوں کی صورت میں، جن پر ہر جگہ سے ذلت چھا جائے گی ، ہانکے جائیں گے دوزخ کے ایک قید خانہ کی طرف جسے بولس
کہا جاتا ہے ان پر آگوں کی آگ چھا جائے گی اور وہ دوزخیوں کی پیپ پلائے
جائیں گے جسے طینۃ الخبال، کہتے ہیں۔ (مراة المناجيح ، حدیث نمبر : 5112)
اس طرح اور
بہت سی احادیثِ مبارکہ ہیں جن میں نبی رحمت صلی اللہ علیہ
وسلم نے امت کی مثالوں کے ساتھ تربیت فرمائی اور اس سے مبلغین و قارئین کے لئے درس
بھی ہے کہ مخاطب کے ذہن کے مطابق کلام کیا جائے اور جس طریقے سے مخاطبین بات
کو اچھی طرح سمجھے اس طریقے کو اپنے کلام اور تربیت میں شامل کریں۔
عثمان غنی ( دورہ حدیث، مرکزی جامعۃ
المدینہ فیضانِ مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ، پاکستان)
اللہ کے آخری
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے متعدد گوشے اور بہت سے پہلو ہیں ، ان میں سے ہر گوشہ اور پہلو مخلوق کے انتہائی اہم ہے ، بالخصوص تعلیم کا پہلو ایک نہایت ہی عظیم
اور روشن پہلو ہے ، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے مقاصد میں سے ایک
مقصد ان پڑھ لوگوں کو تعلیم دینا بھی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا
:
هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا
عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَۗ-وَ
اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ(۲)ترجمہ کنزالایمان: وہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں
سے ایک رسول بھیجا کہ ان پر اس کی آیتیں پڑھتے ہیں اور انہیں پاک کرتے ہیں اور
انہیں کتاب اور حکمت کا علم عطا فرماتے ہیں اور بےشک وہ اس سے پہلے ضرور کُھلی گمراہی میں تھے ۔ (الجمعۃ، آیت : 2 )
لہذا آپ نے
اپنے اسی مقصد کو پورا فرماتے ہوئے تعلیم کے جتنے احسن
طریقےہو سکتے تھے سب طریقوں سے امت کو تعلیم فرمائی ، انہیں
طریقوں میں سے ایک طریقہ مثالوں سے سمجھنا بھی ہے ، ان میں سے چند احادیث پڑھیے:
حضور ﷺ اور
سابقہ انبیاء علیہم السلام کی مثال: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ
رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّ مَثَلِي وَمَثَلَ
الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بَيْتًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ،
إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ
وَيَعْجَبُونَ لَهُ وَيَقُولُونَ : هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ . قَالَ :
فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتِمُ النَّبِيِّينَ
حضرت ابوھریرہ
رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام
نے فرمایا میری اور مجھ سے پہلے انبیاء علیھم السلام کی
مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے کوئی عمارت بنائی تو اس کو خوب آراستہ پیراستہ کیا لیکن
اس کے کونوں میں سے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوٹ گئی لوگ اس کے اردگرد
گھومتے رہے اور اسے دیکھ کر خوش ہوتے رہے اور کہتے اس اینٹ کو کیوں
نہیں رکھا گیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو میں ہی وہ
آخری اینٹ ہوں اور میں ہی خاتم النبیین( صلی اللہ علیہ وسلم) ہوں ۔ (صحیح البخاری کتاب المناقب باب
خاتم النبیین حدیث نمبر 3535 )
ذکر الٰہی کرنے اور نہ کرنے والے کی مثال : عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ
اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ
رَبَّهُ وَالَّذِي لَا يَذْكُرُ، مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے
روایت ہے فرماتے ہیں ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنے رب کا ذکر کرنے والے اور نہ کرنے والے کی مثال زندہ
اور مردہ جیسی ہے ۔ (صحیح البخاری ، کتاب الدعوات ، باب فضل ذکر
اللہ عزوجل ، حدیث نمبر: 6407)
اس
حدیث شریف میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ذکر کرنے والے کو زندہ شخص کی مثل قرار دیا جس کا ظاہر نورِ حیات سے مزین ہے اور باطن ذکر کرنے کی وجہ سے علم و فہم اور ادراک سے روشن
اور ذکر نا کرنے والے کو مردہ شخص کی مثل قرار دیا جس کا ظاہر اور باطن دونوں مردہ ہو چکے ہیں ۔
نیک اور برے دوست کی مثال : عَنْ اَبِيْ مُوْسَى
الْاَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ قَالَ : اِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيْسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِيْسِ
السُّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيْرِ فَحَامِلُ الْمِسْكِ اِمَّا
اَنْ يُّحْذِيَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ مِنْهُ
رِيْحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيْرِ اِمَّا اَنْ يُّحْرِقَ ثِيَابَكَ
وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ رِيْحًا خبیثۃً
ترجمہ: حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَر ﷺ نے ارشادفرمایا :اچھے اور برے دوست کی مثال مشک اٹھانے
والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے ، مشك اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم
اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا
تمہارے کپڑے جلائے گا یا تہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔(بخاری کتاب الذبائح والصید
و تسمیتہ علی الصید باب المسک ص 567 ج 3 حدیث 5534)
اس حدیث شریف
میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اچھے دوست کو مُشک والے کی مثل قرار دے کر نیک اور
صالح لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کی ترغیب دی اور برے بد عقیدہ اور فاسقوں کو بھٹی
والے کی مثل قرار دے کر ایسوں سے بچنے کی ترغیب دی ۔
الحمدللہ دعوت اسلامی کے مدنی ماحول میں بکثرت نیک لوگوں کی اور علما کی صحبت میسر آتی ہے لہذا آپ بھی دعوت اسلامی کے مشکبار ماحول سے وابستہ ہو جائیں تاکہ نیکی کا اور علم دین حاصل کرنے کا جذبہ حاصل ہو سکے۔
مستقیم عطاری (درجہ سابعہ
مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ کراچی ، پاکستان)
کسی کو
سمجھانا کسی کو نصیحت کرنا یہ ایک ایسا کام ہے جس کو ہر
کوئی کما حقہ نہیں کر پاتا، ہمارے پیارے دین اسلام نے
ہماری اس حوالے سے رہنمائی فرمائی ہے ، قرآن پاک کی سورۃ النحل آیت 125 میں اللہ
پاک نے ارشاد فرمایا :اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ترجمہ کنزالایمان: اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکّی تدبیر اور اچھی نصیحت
سے۔ (پ14، النحل: 125)
اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کے کسی کو رب کی طرف بلانا ہے تو اس کو
حکمت کے ذریعے بلانا ہے ، حکمت سے نصیحت کرنا بہت طریقوں سے
ہوسکتا ہے ، ان میں سے کسی کو مثال کے ذریعے سمجھانا بھی ہے ، مثال کے ذریعے سمجھائی جانی والی بات برسوں تک یاد رہتی
ہے اور جلد سمجھ بھی آجاتی ہے ، جس کو ہمارے پیارے آقا صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کو مختلف چیزیں مثالوں کے ذریعے سمجھائیں ،ان
میں سے چند احادیث نقل کی جا رہی ہیں، پڑھیے :
ایک دن درخت سے پتے جھاڑ کر نمازی کے گناہوں کے
جھڑنے کو سمجھایا: عَنْ أَبِی ذَرٍّ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ
وَسَلَّمَ خَرَجَ زَمَنَ الشِّتَاءِ وَالْوَرَقُ یَتَہَافَتُ فَأَخَذَ بِغُصْنَیْنِ
مِنْ شَجَرَۃٍ قَالَ فَجَعَلَ ذَلِکَ الْوَرَقُ یَتَہَافَتُ قَالَ فَقَالَ یَا
أَبَا ذَرٍّ قُلْتُ لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ
الْمُسْلِمَ لَیُصَلِّ الصَّلَاۃَ یُرِیدُ بِہَا وَجْہَ اللَّہِ فَتَہَافَتُ
عَنْہُ ذُنُوبُہُ کَمَا یَتَہَافَتُ ہَذَا الْوَرَقُ عَنْ ہَذِہِ الشَّجَرَۃِ حضرت
ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ نے فرمایا کہ ایک روز سردی
کے موسم میں جب کہ درختوں کے پتے گررہے تھے ۔ (یعنی پت جھڑ کا موسم تھا) حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم باہر
تشریف لے گئے تو آپ نے ایک درخت کی دو ٹہنیاں پکڑیں ( اور انہیں ہلایا) تو ان
شاخوں سے پتے گرنے لگے ۔ آپ نے
فرمایا اے ابوذر! حضرت ابوذر رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے
عرض کیا حاضر ہوں یارسول اللہ!آپ نے فرمایاجب مسلمانبندہ خالص اللہ تعالیٰ کے لیے
نماز پڑھتا ہے تو اس کے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں جیسے کہ یہ پتے درخت سے جھڑ رہے ہیں۔(مسند احمد بن حنبل، حدیث نمبر 21596، جلد
5، صفحہ 179)
اس کے علاوہ
بھی کثیر احادیث اس موضوع پر موجود ہیں کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو
پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت آسان انداز میں مثال دے
کر سمجھایا ۔
نوٹ: ہمیں بھی نبی پاک کی سیرت کے اس حسین پہلو سے سیکھنے کو ملا کے جب بھی ہم کسی کو کوئی بات سمجھائیں اس
کو مثال کے ذریعے حکمت سے سمجھایا جائے۔
احد رضا ( درجہ رابعہ جامعۃُ المدینہ
فیضان کنز الایمان کراچی ، پاکستان)
کسی چیز کو
مثال کے ذریعے سمجھنا اور کسی چیز کو بغیر مثال کے سمجھنا ۔ ان دونوں میں بڑا فرق
ہے۔ جب کسی تقریر میں اصول و ضوابط قواعد و قوانین بیان کئے جاتے ہیں پھر اسکی
مثال بیان کی جاتی ہے تو ذہن اس کو جلد قبول کرتا ہے اور بات آسانی سے سمجھ آجاتی
ہے ۔
مثال کا لغوی
معنی، مانند،نمونہ،تشبیہ،نظیر ۔
اصطلاحی تعریف: کسی شے کو اسکے غیر کے ساتھ جانچنے و پرکھنے کو مثال دینا
کہتے ہیں۔ (لسان العرب جلد 1 صفحہ547) سرکار علیہ السلام ہر قول و فعل میں امت کی کامل اصلاح
فرماتے ہیں ۔ اور پیارے آقا علیہ السلام نے کئی بار مثال دیکر بھی اپنی بات کو
سمجھایا ہے
(1)ختم
نبوت کی مثال : حضرت ابوھریرہ رضی
اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا: میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیا علیھم السلام کی مثال اس شخص کی
طرح ہے جس نے بہت حسین و جمیل ایک گھر بنایا، مگر اس کے کونے میں ایک اینٹ کی جگہ
چھوڑدی، لوگ اس کے ارد گرد گھومنے لگے اور تعجب سے یہ کہنے لگے کہ اس نے یہ اینٹ کیوں
نہ رکھی؟ پھر سرکار علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا : میں
قصر نبوت کی وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں ۔ (صراط الجنان جلد 8 صفحہ 48 ،
مسلم، کتاب الفضائل۔ باب ذکر کونہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین حدیث شریف
2286)
(2)اچھی اور
بری صحبت کی مثال: حضرتِ سَیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَر ﷺ نے
ارشادفرمایا : ’’اچھے اور برے دوست کی مثال مشک اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے
کی طرح ہے ، مشك اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس
سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تمہیں اس
سے ناگوار بو آئے گی ۔ ( صحیح مسلم۔جلد 2 ۔ کتاب
البر و الصلۃ والادب ۔باب استحباب مجالسۃ الصاحین و
مجانبۃ قرناء السوء ۔ رقم1305۔ حدیث نمبر: 2628)
(3)پانچ
فرض نمازوں کی مثال: حضرت ابوہریرہ رضی
الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو؟ کہ اگر تم میں سے
کسی ایک کے دروازے پر نہر ہو اور وہ دن میں پانچ دفعہ اس نہر میں نہائے کیا اس پر
کوئی میل کچیل باقی رہے گی ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: اس پر
میل کچیل نہیں رہے گی۔آپ صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ! یہ مثال ہے پانچ
نمازوں کی، اللہ تعالیٰ ان کی وجہ سے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے۔(بخاری،کتاب
مواقیت الصلاۃ،باب الصلوات الخمس کفَّارة، رقم الحدیث 528،ص 200)
(4)
صحابہ کرام کی مثال : حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ، آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا: میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں ان میں سے جسکی اقتداء کرو گے ہدایت پاجاؤ
گے ۔ (مشکات المصابیح جلد 2 حدیث شریف 6018)
(5)
اہل بیت اطہار کی مثال: حضرت ابو ذر رضی اللہ
عنہ سے مروی ہے کہ، سرکار علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: تم میں میرے اہلبیت کی
مثال کشتی نوح کی طرح ہے، جو اس میں سوار ہوا نجات پاگیا، اور جو رہ گیا برباد ہوگیا۔
( معجم الکبیر للطبرانی جلد 3 حدیث شریف2665)
اعلی حضرت
عاشق اصحاب و اہلبیت رسالت احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے
ہیں:
اہلِ سنّت کا ہے بیڑا پار اَصحابِ حضور
نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ کی
(حدائق بخشش صفحہ153)
ساہر رضا عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ
المدینہ فیضان بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
کسی بھی
معاشرے کی تعمیر میں تعلیم و تربیت بنیادی کردار ادا کرتی ہے، اور جب تعلیم مثال
کے ساتھ دی جائے تو وہ نصیحت دل میں اتر جاتی ہے۔ رسولِ
اکرم ﷺ، معلمِ کامل اور مربی اعظم ہیں ، آپ ﷺ نے مثالوں
اور تمثیلات کے ذریعے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی تربیت فرمائی۔ آپ کی یہ حکمتِ
تربیت آج بھی ہر معلم، مبلغ، والد، اور قائد کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
مثال
کے ذریعے عقیدہ کی اصلاح: حضرت
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں ، فرمایا نبی صلی
اللہ علیہ وسلم نے کہ میری اورجو کچھ مجھےاللہ نے دے کر بھیجا اس کی کہاوت اس شخص
کی سی ہے جس نے کسی قوم کے پاس آکر کہا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے ایک لشکر دیکھا
ہے میں کھلا ڈرانے والاہوں بچو بچو کہ اس کی قوم سے ایک ٹولہ نے اس کی بات مان لی
اور اندھیرے منہ اٹھے اور بروقت نکل گئے تو بچ گئے اور
ان کے ایک ٹولہ نے جھٹلا دیا وہ اسی جگہ رہے پھر سویرے ہی لشکر ان پرٹوٹ پڑا انہیں
ہلاک کرکے تہس نہس کر دیا ۔یہی اس کی مثال ہے جس نے میری
اطاعت کی تو میرے لائے ہوئے کی اتباع کی اور اس کی جس نے میری نافرمانی کی اورمیرے
لائے ہوئے حق کو جھٹلادیا۔( بخاری ، كتاب : الرقاق باب الانتهاء عن المعاصي،
8/ 101) رقم:6482)
پانچوں
نمازوں کی فضیلت ایک نہر کی مثال سے : حضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ حضورنبی کریم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”پانچ نمازوں کی
مثال ایسی ہے جیسے تم میں سے کسی کے گھر کے سامنے ایک بڑی نہر بہتی ہو اور وہ ہر
روز اُس نہر سے پانچ بار غسل کرے۔“ مسند احمد ،
15/ 311، رقم : 9505)
اس حدیث میں
نماز کی فضیلت کا ذکر ہے کہ نماز کی مثال ایک نہر کی سی ہے جس طرح کوئی شخص کسی
نہر میں روزانہ پانچ بار نہائے تو اس پر کوئی میل کُچیل باقی نہیں رہے گا اسی طرح
اگر کوئی شخص روزانہ نمازِ پنجگانہ ادا کرے تو اس کے نامَۂ اعمال میں کوئی گناہ
باقی نہ رہے گا۔
رب
کا ذکر کرنے اور نہ کرنے والی کی مثال مردہ و
زندہ سے: حضرت ابو موسیٰ رضی
اللہ عنہ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے : اس کی مثال جو رب کا ذکر
کرے اور جو نہ کرے ، زندہ و مردہ کی سی ہے ( صحیح بخاری كتاب : الدعوات باب فضل ذكر الله عز وجل،
8/ 86، رقم :6407)
یعنی جیسے زندہ کا جسم روح سے آباد ہے مردہ کا غیر
آباد،ایسے ہی ذاکر کا دل ذکر سے آباد ہے غافل کا دل ویران ہے ۔
قرآن
پڑھنے اور نہ پڑھنے والے کی مثال: حُضورِ انور ﷺ
نے ارشاد فرمایا:”قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال نارنگی کی طرح ہے جس کی خوشبو بھی اچھی اور ذائقہ
بھی عمدہ ہےاور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور
کی طرح ہے جس کی خوشبو نہیں لیکن ذائقہ میٹھا ہے۔قرآن پڑھنے والے منافق کی مثال
پھول کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی اور ذائقہ کڑوا ہےاورقرآن نہ پڑھنے والے منافق کی
مثال اندرائن کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی نہیں اور ذائقہ کڑوا ہے۔“ (صحیح بخاری، كتاب
الأطعمۃ، باب ذكر الطعام ، 7/ 77، رقم
: 5427)
اچھے
اور بُرے دوست کی صحبت کی مثال : حضرتِ سَیِّدُنا
ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور ،
سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’اچھے اور برے دوست کی مثال مشک اٹھانے والے اور بھٹی
دھونکنے والے کی طرح ہے ، مشك اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا
تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا
تمہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔ ‘‘( صحیح بخاری ، كتاب : البيوع باب في
العطار وبيع المسك (3/ 63) رقم (2101)
سُبْحٰنَ اللہ
! کیسی پاکیزہ مثال ہے جس کے ذریعے سمجھایا گیا ہے کہ بروں
کی صحبت فائدہ اور اچھوں کی صحبت نقصان کبھی نہیں دے سکتی ، بھٹی والے سے مشک نہیں
ملے گی گرمی اور دھواں ہی ملے گا ، مشک والے سے نہ گرمی ملے نہ دھواں ، مشک یا
خوشبو ہی ملے گی ۔ مشك والے سے مشک خرید لینا یا اس کا مفت ہی دے دینا
اعلیٰ نفع ہے جس سے ہمیشہ فائدہ پہنچتا رہے گا اور صرف خوشبو پالینا ادنیٰ نفع ہے
۔
عملی
مثال سے اخلاقی تربیت: عبداللہ بن
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا۔ آپ ﷺ نے
فرمایا کہ درختوں میں ایک درخت مرد مومن کی مثال ہے میرے دل میں آیا کہ کہوں کہ یہ
کھجور کا درخت ہے، لیکن حاضرین میں، میں ہی سب سے چھوٹی عمر کا تھا (اس لیے بطور ادب میں چپ رہا) پھر
آپ ﷺ نے خود ہی فرمایا کہ وہ کھجور کا
درخت ہے۔(صحیح بخاری ، كتاب : البيوع باب بيع الجمار وأكلہ، 3/
78، رقم: 2209)
کھجور کا ہر
حصہ مفید ہوتا ہے: پھل، گٹھلی، پتّے، تنا، شاخیں، حتیٰ کہ چھال بھی۔ مسلمان کی بھی یہی شان ہے کہ اس کی زندگی بھی فائدہ مند،
اور موت کے بعد بھی فائدہ باقی رہتا ہے (علم، دعا، صدقہ، اولادِ صالح)۔ کھجور کا
پھل ہمیشہ آتا ہے، پتے نہیں جھڑتے، جیسے مؤمن کا عمل نفع دیتا
ہے، دعائیں ضائع نہیں جاتیں۔
ان تمام احادیث
طیبہ سے رسول اللہ ﷺ کی تربیت کا یہ انداز ہمیں سکھاتا
ہے کہ نصیحت اگر مثال کے ساتھ ہو تو دل میں اترتی ہے، اور عمل پر ابھارتی ہے۔ والدین،
اساتذہ، خطباء اور رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے اس اسلوب
کو اپنائیں تاکہ دل جیتنے والی تربیت ممکن ہو سکے۔اللہ پاک عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
عبدالرحمن عطاری (درجہ سادسہ جامعۃُ المدینہ فیضان ضیاء الدین سیالکوٹ ، پاکستان)
مثال ایک ایسا
فن ہے کہ جس کے ذریعے کسی بھی بات کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے جب کسی چیز کی مثال دی
جاتی ہے تو انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور اس سے تربیت
حاصل کرتاہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام علوم
کا منبع بنایا ہے اسی وجہ سے کائنات کا ہر فن نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیاگیا ، تو مثال کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم
کی کچھ احادیث پڑھیئے:
((1 مجھے ہدایت کیساتھ بھیجا گیا : وَعَنْ أَبِي مُوسٰى قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله
صَلَّى اللہ ُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ مَا بَعَثَنِيَ اللہ ُ
بِهٖ مِنَ الْهُدٰى وَالْعِلْمِ كَمَثَلِ الْغَيْثِ الْكَثِيْرِ أَصَابَ أَرْضًا، فَكَانَتْ
مِنْهَا طَائِفَةٌ طَيِّبَةٌ قَبِلَتِ الْمَاءَ فَأَنْبَتَتِ الْكَلأَ وَالْعُشْبَ
الْكَثِيْرَ،وَكَانَتْ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ،فَنَفَعَ اللہ ُ
بِهَا النَّاسَ،فَشَرِبُوْا وَسَقَوْا وَزَرَعُوْاوَأَصَابَ مِنْهَا طَائِفَةٌ أُخْرٰى
إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ لَا تُمْسِكُ مَاءً وَلَا تُنْبِتُ كَلأً،فَذٰلِكَ مَثَلُ
مَنْ فَقُهَ فِي دِينِ اللهِ، وَنَفَعَهٗ مَا بَعَثَنِيَ اللہ ُ بِهٖ فَعَلِمَ وَعَلَّمَ،
وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذٰلِكَ رَأْسًا وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَى اللهِ الَّذِيْ
أُرْسِلْتُ بِهٖ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا : رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اس ہدایت و علم کی مثال جو رب نے مجھے دے کر
بھیجا اس بہت سی بارش کی طرح ہے جوکسی زمین میں پہنچی اس کا کچھ حصہ
اچھا تھا جس نے پانی چوسا اور گھاس اور بہت چارہ اُگا دیا اور بعض حصہ سخت تھا
جس نے پانی جمع کرلیا جس سے اللہ نے لوگوں کو نفع دیا کہ انہوں نے خود پیا
پلایا اور کھیتی کی اور ایک دوسرے حصہ میں پہنچا جو چیٹل تھا کہ نہ پانی جمع کرے
اور نہ گھاس اُگائے یہ اس کی مثال ہے جو دینی عالم ہوا اور اسے اس چیز نے
نفع دیا جو مجھے رب نے دے کر بھیجا اس نے سیکھا اور سکھایا اور اس کی
مثال ہے جس نے اس پر سر نہ اٹھایا اور اللہ کی وہ ہدایت قبول نہ کی جو مجھے دے کر
بھیجا گیا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ، جلد 1، کتاب الایمان ،باب
قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھامنا ، حدیث نمبر 142، صفحہ نمبر 28)
((2دل کے بارے میں : وَعَنْ أَبِيْ مُوسٰى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ
صَلّٰى اللہ ُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ الْقَلْبِ كَرِيشَةٍ بِأَرْضِ
فَلَاةٍ يُقَلِّبُهَا الرِّيَاحُ ظَهْرَالْبَطْنِ روایت ہے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے
فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے : دل کی
مثال اس پر کی سی ہے جو میدانی زمین میں ہو جسے ہوائیں ظاہر ، باطن الٹیں پلٹیں
۔(مشکوٰۃ المصابیح ، جلد
1، کتاب الایمان تقدیر پر ایمان لانے کا با،حدیث نمبر 95، صفحہ نمبر 22)
((3سیدھے راستہ کے بارے میں : وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ
أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ضَرَبَ اللہ ُ مَثَلًا صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا
وَعَنْ جَنَبَتَيِ الصِّرَاطِ سُورَانِ فِيْهِا أَبْوَابٌ مُفَتَّحَةٌ وَعَلَى الْأَبْوَابِ
سُتُورٌ مُرَخَاةٌ وَعِنْدَ رَأْسِ الصِّرَاطِ دَاعٍ يَقُولُ: اِسْتَقِيْمُوا
عَلَى الصِّرَاطِ وَلَا تَعْوَجُّوْا وَفَوْقَ ذٰلِكَ دَاعٍ يَدْعُو كُلَّمَا
هَمَّ عَبْدٌ أَنْ يَفْتَحَ شَيْئًا مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ قَالَ: وَيْحَكَ لَا
تَفْتَحْهُ فَإِنَّكَ إِنْ تَفْتَحْهُ تَلِجْهُ ثُمَّ فَسَّرَهُ فَأَخْبَرَ: أَنَّ الصِّرَاطَ هُوَ
الْإِسْلَامُ وَأَنَّ الْأَبْوَابَ الْمُفَتَّحَةَ مَحَارِمُ اللهِ وَأَنَّ
السُّتُورَ الْمُرَخَاةَ حُدُودُ الله وَأَنَّ الدَّاعِيَ عَلٰى رَأْسِ الصِّرَاطِ
هُوَ الْقُرْآنُ وَأَنَّ الدَّاعِيَ مِنْ فَوْقِهٖ ھُوَ وَاعِظُ اللهِ فِي قَلْبِ
كُلِّ مُؤْمِنٍ
روایت ہے حضرت ابن مسعود رضی
اللہ عنہ سے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے : کہا اللہ نے سیدھے
راستہ کی مثال قائم فرمائی اور اس راستہ کے دوطرفہ دو دیواریں ہیں جن میں
کھلے ہوئے دروازے ہیں دروازوں پر پردے لٹکے ہیں راستہ کے کنارے پر پکارنے والا کہہ
رہا ہے کہ راستہ پر سیدھے چلے جاؤ ٹیڑھے نہ ہونا اس کے اوپر ایک منادی بھی ہے جو
پکارتا ہے جب کوئی بندہ ان میں سے کوئی دروازہ کھولنا چاہتا ہے تو داعی کہتا ہے
ہائے افسوس اسے نہ کھول اگر کھولے گا تو اس میں گھس جائے گا پھر اس کی تفسیر یوں
فرمائی کہ راستہ تو اسلام ہے اور کھلے ہوئے دروازے اللہ کے محرمات ہیں اور
لٹکے ہوئے پردے اللہ کی حدیں ہیں اور راستے کے کنارے پر پکارنے والا
قرآن ہے اور اس کے اوپر بلانے والا اللہ کا واعظ ہے جو ہر مؤمن کے دل میں ہوتا ہے ۔ (مشکوٰۃ المصابیح ،
جلد 1، کتاب الایمان ،باب قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھامنا ، حدیث نمبر 181، صفحہ
نمبر 32)
((4دوستی کے بارے میں : عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ : قَالَ
رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَثَالُ الْمُؤْمِنِيْنَ فِی
تَوَادِّهِمْ وَ تَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ اِذَا اشْتَكٰى
مِنْہُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى حضرت سیدنا نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُما سے روایت ہےکہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
نے ارشاد فرمایا : ’’مسلمانوں کی آپس میں دوستی ، رحمت اور شفقت کی مثال ایک جسم کی
طرح ہے جب جسم کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتا ہے تو پورا جسم بخار اور بے خوابی
کی کیفیت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ ( فیضان ریاض الصالحین جلد:3 ،حدیث
نمبر:224)
اللہ تعالیٰ ہمیں ان احادیث پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے ۔ آمین
تربیت کا مقصد
صرف معلومات دینا نہیں بلکہ دلوں کو بدلنا اور کردار کی تشکیل کرنا ہوتا ہے۔ اگر
تاریخ انسانی میں کسی شخصیت کو کامل ترین مربی کہا جا سکتا ہے، تو وہ نبی اکرم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی ہے۔ آپ نے لوگوں کے دلوں میں ایمان، اخلاق اور
سچائی کی ایسی تخم ریزی کی کہ دنیا اس کی مثال دینے سے قاصر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے مثالوں، تمثیلات اور حکایات کے ذریعے جو انداز تربیت اختیار فرمایا،
وہ آج بھی علم و اصلاح کے میدان میں رہنمائی کرتا ہے۔
مثالوں کا
اسلوب محض انسانی طریقہ نہیں بلکہ ربانی حکمت ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا
ہے: وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ
نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِۚ-وَ مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ(۴۳) ترجمہ کنزالایمان: اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان فرماتے ہیں اور
اُنہیں نہیں سمجھتے مگر علم والے۔ (پ20، العنکبوت: 43)
یہی اسلوب نبی
کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اپنایا اور امت کی تعلیم میں مثالوں کو بنیاد
بنایا۔
(1) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک
عبرت انگیز مثال: آپ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے فرمایا : میری اور تمہاری مثال اس شخص جیسی ہے جس نے آگ جلائی، جب اس
نے روشنی پھیلائی تو پروانے اور کیڑے اس میں گرنے لگے، اور وہ انہیں بچانے کی کوشش
کرتا ہے، اور میں تمہیں (جہنم کی آگ سے) بچا رہا ہوں، مگر تم میری گرفت سے نکل نکل
کر اس میں جا رہے ہو۔ (صحیح بخاری، کتاب الرقاق، باب قول النبیﷺ لو
تعلمون ما أعلم، ج 5، ص 235، حدیث: 6483، دار السلام )
اس حدیث میں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت سے شفقت، اور ان کی غفلت کا دردناک
نقشہ ایک مثال کے ذریعے کھینچا۔
(2) اجتماعتی زندگی میں مثال کا استعمال: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مومنوں کی آپس میں محبت، رحمت اور شفقت کی مثال ایک جسم
کی مانند ہے، جب اس کے ایک عضو کو تکلیف ہو تو سارا جسم بے خوابی اور بخار میں
مبتلا ہو جاتا ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب البر والصلہ، باب تراحم المؤمنین،
ج 4، ص 1999، حدیث: 2586، دار الفکر)
یہ ایک جامع
مثال ہے جو اسلامی معاشرے میں اجتماعی ہمدردی اور وحدت کی بنیاد رکھتی ہے۔
(3) ایک حکمت آموز تمثیل: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کی مثال بارش کی مانند ہے، معلوم نہیں کہ ابتدا
میں برکت ہے یا آخر میں۔ (سنن ترمذی، کتاب الامثال، باب ما جاء في مثل أمة محمد ﷺ،
ج 5، ص 88، حدیث: 2869، دار ابن حزم)
یہ مثال امت
کو امید، تسلسل اور صلاحیت کے ساتھ جڑے رہنے کا پیغام دیتی ہے۔
نبی کریم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسلوب تربیت میں تمثیل و حکایت کا استعمال صرف الفاظ کی
خوبصورتی کے لیے نہ تھا، بلکہ یہ تعلیم میں دل نشینی، اصلاح میں تاثیر اور کردار
سازی میں گہرائی کا راز تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر مثال ایک عملی درس،
ہر حکایت ایک اخلاقی سبق اور ہر تشبیہ ایک تربیتی پُل تھی جو انسان کو جہالت سے
علم، غفلت سے عمل، اور گناہ سے نجات کی طرف لے جاتی تھی۔
حماد اسجد (درجہ رابعہ جامعۃ
المدینہ فیضان عثمان غنی کراچی ، پاکستان)
آپ جانتے ہیں کہ قرآن کے نزول اور بعثت رسول کا بنیادی اصول تہذیب
نفوس(یعنی انسان کی تربیت کرنا) ہے۔ اور انسان کی تربیت کرنے میں
مربی (تربیت کرنے والے) کا انداز تربیت ایک اساسی اہمیت رکھتا ہے۔ حضور صلی اللہ
علیہ وسلم چونکہ معلم و مربی و مصلح و منتظم کائنات ہیں ۔
تو حضور صلی
اللہ علیہ وسلم کے اندازِ تربیت بھی انوکھے،نرالے اور غیر معمولی ہونے چاہئیں اور اس کا اندازہ آپ کی سیرت و احادیث سے بخوبی لگایا جا
سکتا ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کس طرح مقتضائے حال کے مطابق حکمت عملی کے
ساتھ اپنے صحابہ کرام کیلئے تعلیم و تربیت کے نئے نئے مختلف انداز و اسالیب اختیار
فرماتے جن کا کامل احاطہ انسان کے بس کی بات نہیں ۔حضور نبی کریم رؤف الرحیم صلی
اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ اسالیب میں سے ایک اسلوب مثال کے ذریعے تربیت
فرمانا بھی ہے۔ یہ وہ اسلوب ہے جس کا استعمال ہمیں قرآن میں بھی کئی جگہ نظر آتا
ہے ۔ اس طرح کے اسلوب کا تعلیم و تربیت میں ایک بہت بڑا اور اہم کردار ہے۔ اس کی
وجہ یہ ہے کہ مثال کے ذریعے کوئی بھی بات سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے، اس بات کو اپنی زندگی میں نافذ العمل کرنے کی جستجو پیدا
ہوتی ہے، بات دلچسپ اور پر اثر ہو جاتی ہے، سوچنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے، مفہوم کی گہرائی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور اس طرح
تربیت کرنے کے بعد تربیت کی تاثیر دیرپا ہوتی ہے۔ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے
صحابہ کرام اور امت کی تربیت کیلئے بارہا اس انداز کو اختیار فرمایا جس کی کئی
مثالیں کتب احادیث میں ملتی ہیں۔ جن میں سے کچھ مثالیں ذیل میں موجود ہیں:
(1)
نماز اور نہر کی مثال: عَنْ أَبِي
هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهَرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ
يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا مَا تَقُولُ ذَلِكَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ
، قَالُوا : لَا يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا ، قَالَ : فَذَلِكَ مِثْلُ
الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ ، يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا
حضرت ابو
ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے پیارے
آخری نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تمہاری کیا رائے ہے تم
میں سے کسی کے دروازے کے پاس ایک نہر ہو جس میں وہ ہر دن پانچ مرتبہ نہاتا ہو تو
تم کیا کہتے ہو کہ اس کے بدن پر کوئی میل باقی رہے گی ۔ صحابہ نے کہا کہ کوئی میل
باقی نہیں رہے گی۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی مثال پانچ نمازوں
کی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے سبب گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔(صحیح بخاری ، کتاب مواقیت
الصلاۃ ،باب الصلاۃ الخمس کفارۃ،ج1، ص 113 ، مکتبہ سلطانیہ)
(2)
اللہ کا ذکر کرنے اور نہ کرنے والے کی مثال: قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ وَالَّذِي لَا يَذْكُرُ
رَبَّهُ ، مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ ہمارے
پیارے آخری نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس شخص کی مثال جو
اپنے رب کا ذکر کرتا ہے اور اس شخص کی مثال جو اپنے رب کا ذکر نہیں کرتا زندہ اور
مردہ کی سی ہے۔(صحیح بخاری ، کتاب الدعوات ،باب فضل ذکر اللہ عزوجل ،ج8، ص 86،
مکتبہ سلطانیہ)
(3)بے
عمل اہل علم کی مثال: قَالَ : مَثَلُ الَّذِي يَتَعَلَّمُ العِلْمَ ، ثُمَّ لَا يُحَدِّثُ
بِه كَمَثَلِ اللَّذِي يَكْنِزُ الكَنْزَ فَلَا يُنْفِقُ مِنْه ہمارے پیارے آخری نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص جو علم سیکھے اور اور اسے آگے نہ بتائے اس کی مثال
اس شخص کی طرح ہے جو خزانہ جمع کرتا ہے لیکن اس میں سے خرچ نہیں کرتا ۔ (المعجم الاوسط للطبرانی ،اردو، باب
الألف:احمد بن المعلی الدمشقی، ج 1 ، ص 411 ، حدیث 689)
(4)صدقہ
واپس لینے والے کی مثال: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَثَلُ
الَّذِي يَرْجِعُ فِي صَدَقَتِهِ، كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَقِيءُ، ثُمَّ يَعُودُ فِي
قَيْئِهِ فَيَأْكُلُهُ ہمارے پیارے
آخری نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص جو اپنا صدقہ واپس
لے لیتا ہے اس شخص کی مثال اس کتے کی طرح ہے جو اپنی قے کی طرف لوٹتا ہے تاکہ اسے
کھا سکے۔ ( صحیح مسلم ،کتاب الھبات ، باب تحریم الرجوع فی الصدقۃ والھبۃ بعد القبض،ج
3، ص 1230 ،حدیث نمبر 1622، مکتبہ دار احیاء التراث العربی بیروت)
(5)دنیا
و آخرت کی مثال: قَالَ
رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ
إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ فَلْيَنْظُرْ
بِمَاذَا يَرْجِعُ۔ہمارے پیارے آخری
نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دنیا
آخرت کے مقابلے میں ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے اور دیکھے
کہ وہ انگلی کتنا سا پانی لے کر آئی ہے۔(سنن ترمذی ،ابواب الزھد ،باب ما جاء فی
جوان الدنیا علی اللہ ،ج 4 ،ص 561 ، 2323 ،مکتبہ مصطفی البابی الحلبی مصر)
(6)
حافظ قرآن کی مثال: عنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہ عَنْہُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ قَالَ: اِنَّمَامَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْاٰنِ كَمَثَلِ الْاِبِلِ
الْمُعَقَّلَةِ اِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا اَمْسَكَهَا وَاِنْ اَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ ترجمہ : حضرت سَیِّدُنا عبداﷲ بن
عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا:حافِظِ قرآن کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کی
طرح ہےکہ اگر(مالک) اس کی حفاظت کرے گا تو اسے روکے رکھے گا اور اگر اسے کھلا چھوڑ
دے گا تو وہ بھاگ جائے گا۔( صحیح بخاری ۔جلد 3/ الجزء الثالث۔ کتاب فضائل القرآن ۔ باب استذکار القرآن وتعاھُدِہٖ ۔ ص
1434۔ حدیث نمبر5031۔ مکتبہ الطاف اینڈ سَنز)
(7)
علما کی مثال: قَالَ
النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مَثَلَ الْعُلَمَاءِ فِي
الْأَرْضِ، كَمَثَلِ النُّجُومِ فِي السَّمَاءِ يُهْتَدَى بِهَا فِي ظُلُمَاتِ
الْبَرِّ وَالْبَحْرِ، فَإِذَا انْطَمَسَتْ النُّجُومُ، أَوْشَكَ أَنْ تَضِلَّ
الْهُدَاةُ ہمارے پیارے آخری نبی
محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ بے شک زمین پر علما کی مثال آسمان پر موجود ان ستاروں کی سی ہے جن کے ذریعے
بحر وبر کی تاریکیوں میں رہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔ پھر جب ستارے ماند پڑ جائیں گے
تو قریب ہے کہ ہدایت یافتہ لوگ گمراہ ہو جائیں۔ (مسند امام احمد ،اردو،حضرت انس بن
مالک کی مرویات، ج 5، حدیث نمبر 12627)
حاصل کلام یہ
ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری تربیت کیلئے جو جو انداز اختیار فرمائے ان
میں سے ایک انداز ”مثالوں سے تربیت فرمانا“ بھی بہت عمدہ اور مؤثر طریقہ ہے اور یہی
انداز ہمیں قرآن کریم میں
کئی مقامات پر ملتا ہے۔ اور ہمیں تو آج کے دور میں
اپنی اور دوسروں کی اصلاح کی نہایت ضرورت ہے۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں اپنی اور دوسروں کی
تربیت مؤثر انداز میں کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
Dawateislami