عثمان غنی ( دورہ حدیث، مرکزی جامعۃ
المدینہ فیضانِ مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ، پاکستان)
اللہ کے آخری
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے متعدد گوشے اور بہت سے پہلو ہیں ، ان میں سے ہر گوشہ اور پہلو مخلوق کے انتہائی اہم ہے ، بالخصوص تعلیم کا پہلو ایک نہایت ہی عظیم
اور روشن پہلو ہے ، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے مقاصد میں سے ایک
مقصد ان پڑھ لوگوں کو تعلیم دینا بھی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا
:
هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا
عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَۗ-وَ
اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ(۲)ترجمہ کنزالایمان: وہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں
سے ایک رسول بھیجا کہ ان پر اس کی آیتیں پڑھتے ہیں اور انہیں پاک کرتے ہیں اور
انہیں کتاب اور حکمت کا علم عطا فرماتے ہیں اور بےشک وہ اس سے پہلے ضرور کُھلی گمراہی میں تھے ۔ (الجمعۃ، آیت : 2 )
لہذا آپ نے
اپنے اسی مقصد کو پورا فرماتے ہوئے تعلیم کے جتنے احسن
طریقےہو سکتے تھے سب طریقوں سے امت کو تعلیم فرمائی ، انہیں
طریقوں میں سے ایک طریقہ مثالوں سے سمجھنا بھی ہے ، ان میں سے چند احادیث پڑھیے:
حضور ﷺ اور
سابقہ انبیاء علیہم السلام کی مثال: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ
رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّ مَثَلِي وَمَثَلَ
الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بَيْتًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ،
إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ
وَيَعْجَبُونَ لَهُ وَيَقُولُونَ : هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ . قَالَ :
فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتِمُ النَّبِيِّينَ
حضرت ابوھریرہ
رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام
نے فرمایا میری اور مجھ سے پہلے انبیاء علیھم السلام کی
مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے کوئی عمارت بنائی تو اس کو خوب آراستہ پیراستہ کیا لیکن
اس کے کونوں میں سے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوٹ گئی لوگ اس کے اردگرد
گھومتے رہے اور اسے دیکھ کر خوش ہوتے رہے اور کہتے اس اینٹ کو کیوں
نہیں رکھا گیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو میں ہی وہ
آخری اینٹ ہوں اور میں ہی خاتم النبیین( صلی اللہ علیہ وسلم) ہوں ۔ (صحیح البخاری کتاب المناقب باب
خاتم النبیین حدیث نمبر 3535 )
ذکر الٰہی کرنے اور نہ کرنے والے کی مثال : عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ
اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ
رَبَّهُ وَالَّذِي لَا يَذْكُرُ، مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے
روایت ہے فرماتے ہیں ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنے رب کا ذکر کرنے والے اور نہ کرنے والے کی مثال زندہ
اور مردہ جیسی ہے ۔ (صحیح البخاری ، کتاب الدعوات ، باب فضل ذکر
اللہ عزوجل ، حدیث نمبر: 6407)
اس
حدیث شریف میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ذکر کرنے والے کو زندہ شخص کی مثل قرار دیا جس کا ظاہر نورِ حیات سے مزین ہے اور باطن ذکر کرنے کی وجہ سے علم و فہم اور ادراک سے روشن
اور ذکر نا کرنے والے کو مردہ شخص کی مثل قرار دیا جس کا ظاہر اور باطن دونوں مردہ ہو چکے ہیں ۔
نیک اور برے دوست کی مثال : عَنْ اَبِيْ مُوْسَى
الْاَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ قَالَ : اِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيْسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِيْسِ
السُّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيْرِ فَحَامِلُ الْمِسْكِ اِمَّا
اَنْ يُّحْذِيَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ مِنْهُ
رِيْحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيْرِ اِمَّا اَنْ يُّحْرِقَ ثِيَابَكَ
وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ رِيْحًا خبیثۃً
ترجمہ: حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَر ﷺ نے ارشادفرمایا :اچھے اور برے دوست کی مثال مشک اٹھانے
والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے ، مشك اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم
اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا
تمہارے کپڑے جلائے گا یا تہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔(بخاری کتاب الذبائح والصید
و تسمیتہ علی الصید باب المسک ص 567 ج 3 حدیث 5534)
اس حدیث شریف
میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اچھے دوست کو مُشک والے کی مثل قرار دے کر نیک اور
صالح لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کی ترغیب دی اور برے بد عقیدہ اور فاسقوں کو بھٹی
والے کی مثل قرار دے کر ایسوں سے بچنے کی ترغیب دی ۔
الحمدللہ دعوت اسلامی کے مدنی ماحول میں بکثرت نیک لوگوں کی اور علما کی صحبت میسر آتی ہے لہذا آپ بھی دعوت اسلامی کے مشکبار ماحول سے وابستہ ہو جائیں تاکہ نیکی کا اور علم دین حاصل کرنے کا جذبہ حاصل ہو سکے۔
Dawateislami