اللہ کے آخری نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم ، ہادی عالم ، منبع علم و حکمت اور معلم کائنات ہیں اور ہر شعبہ زندگی کے افراد کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اسوہ نور ہیں ، جن پر وہ عمل کر کے ترقی کی منازل طے کرتا جاتا ہے اور اپنی دنیا و آخرت کو سنوار لیتا ہے ، رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کی اصلاح تعلیم و تربیت کے لیے نہایت حکیمانہ انداز اختیار کیا اور آپ نے سامع کی ذہنی وساطت کے مطابق تربیت کے ہر طریقے کو شرف عطا فرمایا ، انہی طریقوں میں سے دل کو متاثر کرنے اور بات کو موثر انداز میں سمجھانے کے لئے ایک طریقہ مثالوں کے ساتھ تربیت فرمانا ہے ، یہ طریقہ صرف صحابہ کرام علیہم الرضوان کے لئے ہی نہ مؤثر ثابت ہوا بلکہ رہتی دنیا تک کے لئے روشنی کا مینار ہے ۔ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا مثالوں کے ساتھ تربیت فرمانے کی چند مثالیں مذکور ہیں :

(1) ذکر کرنے اور نہ کرنے والوں کی مثال: نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر الہیٰ کرنے اور نہ کرنے والوں کی تمثیل بیان کرتے ہوئے فرمایا ، مَثَلُ الَّذِيْ يَذْكُرُ رَبَّهٗ وَالَّذِيْ لَا يَذْكُرُ مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اس کی مثال جو رب کا ذکر کرے اور جو نہ کرے زندہ و مردہ کی سی ہے۔ (بخاری شریف ، کتاب الدعوات ، باب فضائل ذکر اللہ عزوجل ، حدیث نمبر : 6307، دارلحدیث قاہرہ)

(2) تمام مومنین رحم دلی اور پیار محبت میں ایک جسم کی طرح ہیں: اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مومنین کو آپس میں پیار محبت اور رحمدلی کی تربیت دیتے ہوئے فرمایا : قَالَ رَسُولُ اللہ ِ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَرَى المُؤْمِنِينَ فِي تَرَاحُمِهِمْ وَتَوَادِّهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكٰى عُضْوًا تَدَاعٰى لَهٗ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمّٰى یعنی رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم مسلمانوں کو آپس کی رحمت آپس کی محبت آپس کی مہربانی میں ایک جسم کی طرح دیکھو گے کہ جب ایک عضو بیمار ہوجائے تو سارے جسم کے اعضاء بے خوابی اور بخار کی طرف ایک دوسرے کو بلاتے ہیں۔ (بخاری شریف حدیث نمبر 6011 دارالحدیث قاہرہ)

3 :پانچ نمازیں پڑھنا پانچ مرتبہ نہر میں نہانے کی طرح ہے : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ نمازیں پڑھنے کو نہر میں نہانے کے ساتھ تمثیل بیان کرتے ہوئے فرمایا : قَالَ رَسُوْلُ اللہ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيْهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا هَلْ يَبْقٰى مِنْ دَرَنهٖ شَيْءٌ قَالُوا: لَا يَبْقَى مِنْ دَرَنهٖ شَيْءٌ. قَالَ: فَذٰلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللہ ُ بِهِنَّ الْخَطَايَا

یعنی رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بتاؤ تو اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر نہر ہو کہ اس میں روزانہ پانچ دفعہ نہائے کیا کچھ میل رہے گا ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ بالکل میل نہ رہے گا، فرمایا : یہ پانچ نمازوں کی مثال ہے کہ الله ان کی برکت سے گناہ مٹاتا ہے۔ (بخاری شریف ، حدیث نمبر : 528، دارالحدیث قاہرہ)

(4) مسکین پر خرچ کرنے والا اور بیوہ عورت پر خرچ کرنےوالا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے: رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوہ عورت اور مسکینوں پر خرچ کرنے کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا : یعنی بے شوہر والی اور مسکینوں پر خرچ کرنے والا الله کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے یا دن کو روزہ اور رات کو قیام کرنے والے کی طرح ہے۔ ( بخاری شریف ، حدیث نمبر : 6006 ، دار الحدیث قاہرہ)

(5) متکبر لوگ قیامت کے دن چیونٹیوں کی طرح جمع کیے جائیں گے : رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے متکبرین کے عذاب کو تمثیل کے ساتھ بیان کرتے ہوئے فرمایا : قَالَ: يُحْشُرُ الْمُتَكَبِّرُونَ أَمْثَالَ الذَّرِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي صُوَرِ الرِّجَالِ يَغْشَاهُمُ الذُّلُّ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ يُسَاقُونَ إِلٰى سِجْنٍ فِي جَهَنَّمَ يُسَمّٰى: بُولَسُ تَعْلُوهُمْ نَارُ الْأَنْيَارِ يُسْقَوْنَ مِنْ عُصَارَةِ أَهْلِ النَّارِ طِينَةَ الْخَبَالِ متکبر لوگ قیامت کے دن چیونٹیوں کی طرح جمع کیے جائیں گے مردوں کی صورت میں، جن پر ہر جگہ سے ذلت چھا جائے گی ، ہانکے جائیں گے دوزخ کے ایک قید خانہ کی طرف جسے بولس کہا جاتا ہے ان پر آگوں کی آگ چھا جائے گی اور وہ دوزخیوں کی پیپ پلائے جائیں گے جسے طینۃ الخبال، کہتے ہیں۔ (مراة المناجيح ، حدیث نمبر : 5112)

اس طرح اور بہت سی احادیثِ مبارکہ ہیں جن میں نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کی مثالوں کے ساتھ تربیت فرمائی اور اس سے مبلغین و قارئین کے لئے درس بھی ہے کہ مخاطب کے ذہن کے مطابق کلام کیا جائے اور جس طریقے سے مخاطبین بات کو اچھی طرح سمجھے اس طریقے کو اپنے کلام اور تربیت میں شامل کریں۔