مستقیم عطاری (درجہ سابعہ
مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ کراچی ، پاکستان)
کسی کو
سمجھانا کسی کو نصیحت کرنا یہ ایک ایسا کام ہے جس کو ہر
کوئی کما حقہ نہیں کر پاتا، ہمارے پیارے دین اسلام نے
ہماری اس حوالے سے رہنمائی فرمائی ہے ، قرآن پاک کی سورۃ النحل آیت 125 میں اللہ
پاک نے ارشاد فرمایا :اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ترجمہ کنزالایمان: اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکّی تدبیر اور اچھی نصیحت
سے۔ (پ14، النحل: 125)
اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کے کسی کو رب کی طرف بلانا ہے تو اس کو
حکمت کے ذریعے بلانا ہے ، حکمت سے نصیحت کرنا بہت طریقوں سے
ہوسکتا ہے ، ان میں سے کسی کو مثال کے ذریعے سمجھانا بھی ہے ، مثال کے ذریعے سمجھائی جانی والی بات برسوں تک یاد رہتی
ہے اور جلد سمجھ بھی آجاتی ہے ، جس کو ہمارے پیارے آقا صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کو مختلف چیزیں مثالوں کے ذریعے سمجھائیں ،ان
میں سے چند احادیث نقل کی جا رہی ہیں، پڑھیے :
ایک دن درخت سے پتے جھاڑ کر نمازی کے گناہوں کے
جھڑنے کو سمجھایا: عَنْ أَبِی ذَرٍّ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ
وَسَلَّمَ خَرَجَ زَمَنَ الشِّتَاءِ وَالْوَرَقُ یَتَہَافَتُ فَأَخَذَ بِغُصْنَیْنِ
مِنْ شَجَرَۃٍ قَالَ فَجَعَلَ ذَلِکَ الْوَرَقُ یَتَہَافَتُ قَالَ فَقَالَ یَا
أَبَا ذَرٍّ قُلْتُ لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ
الْمُسْلِمَ لَیُصَلِّ الصَّلَاۃَ یُرِیدُ بِہَا وَجْہَ اللَّہِ فَتَہَافَتُ
عَنْہُ ذُنُوبُہُ کَمَا یَتَہَافَتُ ہَذَا الْوَرَقُ عَنْ ہَذِہِ الشَّجَرَۃِ حضرت
ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ نے فرمایا کہ ایک روز سردی
کے موسم میں جب کہ درختوں کے پتے گررہے تھے ۔ (یعنی پت جھڑ کا موسم تھا) حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم باہر
تشریف لے گئے تو آپ نے ایک درخت کی دو ٹہنیاں پکڑیں ( اور انہیں ہلایا) تو ان
شاخوں سے پتے گرنے لگے ۔ آپ نے
فرمایا اے ابوذر! حضرت ابوذر رَضِیَ
اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے
عرض کیا حاضر ہوں یارسول اللہ!آپ نے فرمایاجب مسلمانبندہ خالص اللہ تعالیٰ کے لیے
نماز پڑھتا ہے تو اس کے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں جیسے کہ یہ پتے درخت سے جھڑ رہے ہیں۔(مسند احمد بن حنبل، حدیث نمبر 21596، جلد
5، صفحہ 179)
اس کے علاوہ
بھی کثیر احادیث اس موضوع پر موجود ہیں کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو
پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت آسان انداز میں مثال دے
کر سمجھایا ۔
نوٹ: ہمیں بھی نبی پاک کی سیرت کے اس حسین پہلو سے سیکھنے کو ملا کے جب بھی ہم کسی کو کوئی بات سمجھائیں اس
کو مثال کے ذریعے حکمت سے سمجھایا جائے۔
Dawateislami