اللہ پاک کا
بہت احسان ہے کہ اس نے ہمیں اولاد کی نعمت سے نوازا ہے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی
اولاد پر زیادہ سختی سے پیش نہ آئے اگر ان کی کوئی غلطی ہو تو انہیں پیار سے
سمجھائیں ہمارے پیارے نبی ﷺ اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بہت پیار اور
شفقت فرمایا کرتے تھے ہمیں چاہیے ہمارے پیارے نبی ﷺ کی عادت کو اپنائیں اور بچوں
پر سختی نہ کریں۔
ایک حدیث عرض
کرتی ہوں ہمارے پیارے نبی ﷺ نے ایک مقام پر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دینے
کو کہا وہاں کچھ بچے کھیل رہے تھے جس میں ابو محذورہ بھی تھے بچپن کا زمانہ تھا
سارے بچے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی نقل اتارنے لگے جب ہمارے نبی ﷺ نے سنا تو ایک
صحابی سے کہا اس کو پکڑ کر لاؤ وہ سارے بھاگنے لگے، پھر ان کو آپ کے سامنے پیش کیا
اور کہا ایک ایک کر کے سب اپنی اپنی آواز میں اذان سناؤ، پھر سب نے اذان سنائے
حضور ﷺ جانتے تھے پھر سب کی آواز سن کر ابو محذورہ کو کہا اب تو پڑھ تو جب انہوں
نے پڑھی تو حضور پاک ﷺ کی اس پہ شفقت کو دیکھ کر وہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگئے، پھر
حضور ﷺ نے فرمایا: بلال مسجد نبوی میں اذان دیں گے اور ابومحذورہ کعبہ شریف میں
اذان دیں گے۔ یہ حدیث بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے پیارے نبی کی شفقت دیکھ کر
انہوں نے کلمہ پڑھا۔
اپنے بچوں کو
کسی کے سامنے سختی کر کے اس کو کسی کے سامنے کبھی ذلیل نہ کریں اس پر بہت برا اثر
پڑتا ہے، استاد کو بھی چاہیے کہ وہ بچوں کو سختی نہ کرے پیار اور شفقت سے پڑھائے
ہر جگہ رونا رونا میرا بچہ اچھا نہیں، ہمارے بچے ہمارے ہیں نا! پھر کیوں ہم ان پر
سختی کرتے ہیں۔
یہ بات تجربہ شدہ
ہے کہ جب ہم بچوں پر سختی کرتی ہیں تو وہ بات نہیں سنتے بلکہ ضدی ہوجاتے ہیں اور اگر
دین اسلام کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے اور سختی
چھوڑ دی جائے تو وہ فرمانبردار ہوجاتے ہیں، یقیناً یہ دین کی طاقت ہے۔
ہمارے پیارے
نبی ﷺ بھی بچوں سے بہت پیار کیا کرتے تھے وہ بچوں کو پاس بلا کر سینے سے لگاتے تھے،
ایک مرتبہ کسی بچے نے آپ ﷺ کی کپڑوں پر پیشاب کردیاحضور نے پانی منگوایا اور اس پر
بہادیا۔
پیاری پیاری
اسلامی بہنو! دیکھا آپ نے ہمارے پیارے نبی ﷺ نے سختی کرنے کے بجائے اس عورت کی دل
افزائی کی اور ہم کیا کرتے ہیں اس بچے پر سختی کرتے ہیں ہمیں اپنی اس عادت کو بدلنے
کی کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ پاک نے ماں کے درجے کو بلند رکھا ہے اور یہ ہر کسی کے
نصیب میں نہیں ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اس نعمت پر شکر ادا کریں اور سختی کرنے
کے بجائے نرمی کریں۔
اولاد ایک
پھول ہے اب یہ ہمیں سوچنا ہے کہ ہم نے اس پر سختی کر کے اس پھول کو مرجھانا ہے یا
اس پھول کو کھلانا ہے یہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اولاد اللہ پاک کی بہت خوبصورت شے ہے
جس کا کوئی مول نہیں اور اولاد پر سختی کر کے ہم اس حسین شے کو درد دیتے ہیں۔ ہم
اپنی اولاد پر شفقت کریں گے اس کو سینے سے لگا کر رکھیں گے اللہ پاک سے دعا ہے کہ
وہ ہمیں اپنی اولاد پر شفقت کرنے والا بنا دے۔
شیر کے طریقت
امیر اہل سنت فرماتے ہیں: برتن میں سوراخ کرنے کے بعد جتنا بھی بھر لو وہ خالی کا
خالی ہی رہے گا یعنی مار کر ہم بچوں کو سمجھا نہیں رہے بلکہ اسے خود سے دور کر رہے
ہیں، پیارے آقا ﷺ کا فرمان عالی شان ہے: بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ یہ پسند کرتا
ہے کہ تم اپنی اولاد کے ساتھ برابری کا حسن سلوک رکھو حتی کہ بوسہ لینے میں بھی۔
اللہ پاک سے
دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں اپنے بچوں پر سختی سے بچائے۔ آمین
Dawateislami