احد رضا ( درجہ رابعہ جامعۃُ المدینہ
فیضان کنز الایمان کراچی ، پاکستان)
کسی چیز کو
مثال کے ذریعے سمجھنا اور کسی چیز کو بغیر مثال کے سمجھنا ۔ ان دونوں میں بڑا فرق
ہے۔ جب کسی تقریر میں اصول و ضوابط قواعد و قوانین بیان کئے جاتے ہیں پھر اسکی
مثال بیان کی جاتی ہے تو ذہن اس کو جلد قبول کرتا ہے اور بات آسانی سے سمجھ آجاتی
ہے ۔
مثال کا لغوی
معنی، مانند،نمونہ،تشبیہ،نظیر ۔
اصطلاحی تعریف: کسی شے کو اسکے غیر کے ساتھ جانچنے و پرکھنے کو مثال دینا
کہتے ہیں۔ (لسان العرب جلد 1 صفحہ547) سرکار علیہ السلام ہر قول و فعل میں امت کی کامل اصلاح
فرماتے ہیں ۔ اور پیارے آقا علیہ السلام نے کئی بار مثال دیکر بھی اپنی بات کو
سمجھایا ہے
(1)ختم
نبوت کی مثال : حضرت ابوھریرہ رضی
اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا: میری مثال اور مجھ سے پہلے انبیا علیھم السلام کی مثال اس شخص کی
طرح ہے جس نے بہت حسین و جمیل ایک گھر بنایا، مگر اس کے کونے میں ایک اینٹ کی جگہ
چھوڑدی، لوگ اس کے ارد گرد گھومنے لگے اور تعجب سے یہ کہنے لگے کہ اس نے یہ اینٹ کیوں
نہ رکھی؟ پھر سرکار علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا : میں
قصر نبوت کی وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں ۔ (صراط الجنان جلد 8 صفحہ 48 ،
مسلم، کتاب الفضائل۔ باب ذکر کونہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین حدیث شریف
2286)
(2)اچھی اور
بری صحبت کی مثال: حضرتِ سَیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَر ﷺ نے
ارشادفرمایا : ’’اچھے اور برے دوست کی مثال مشک اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے
کی طرح ہے ، مشك اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس
سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تمہیں اس
سے ناگوار بو آئے گی ۔ ( صحیح مسلم۔جلد 2 ۔ کتاب
البر و الصلۃ والادب ۔باب استحباب مجالسۃ الصاحین و
مجانبۃ قرناء السوء ۔ رقم1305۔ حدیث نمبر: 2628)
(3)پانچ
فرض نمازوں کی مثال: حضرت ابوہریرہ رضی
الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو؟ کہ اگر تم میں سے
کسی ایک کے دروازے پر نہر ہو اور وہ دن میں پانچ دفعہ اس نہر میں نہائے کیا اس پر
کوئی میل کچیل باقی رہے گی ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: اس پر
میل کچیل نہیں رہے گی۔آپ صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ! یہ مثال ہے پانچ
نمازوں کی، اللہ تعالیٰ ان کی وجہ سے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے۔(بخاری،کتاب
مواقیت الصلاۃ،باب الصلوات الخمس کفَّارة، رقم الحدیث 528،ص 200)
(4)
صحابہ کرام کی مثال : حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ، آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا: میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں ان میں سے جسکی اقتداء کرو گے ہدایت پاجاؤ
گے ۔ (مشکات المصابیح جلد 2 حدیث شریف 6018)
(5)
اہل بیت اطہار کی مثال: حضرت ابو ذر رضی اللہ
عنہ سے مروی ہے کہ، سرکار علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: تم میں میرے اہلبیت کی
مثال کشتی نوح کی طرح ہے، جو اس میں سوار ہوا نجات پاگیا، اور جو رہ گیا برباد ہوگیا۔
( معجم الکبیر للطبرانی جلد 3 حدیث شریف2665)
اعلی حضرت
عاشق اصحاب و اہلبیت رسالت احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے
ہیں:
اہلِ سنّت کا ہے بیڑا پار اَصحابِ حضور
نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ کی
(حدائق بخشش صفحہ153)
Dawateislami