تربیت کا مقصد
صرف معلومات دینا نہیں بلکہ دلوں کو بدلنا اور کردار کی تشکیل کرنا ہوتا ہے۔ اگر
تاریخ انسانی میں کسی شخصیت کو کامل ترین مربی کہا جا سکتا ہے، تو وہ نبی اکرم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی ہے۔ آپ نے لوگوں کے دلوں میں ایمان، اخلاق اور
سچائی کی ایسی تخم ریزی کی کہ دنیا اس کی مثال دینے سے قاصر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے مثالوں، تمثیلات اور حکایات کے ذریعے جو انداز تربیت اختیار فرمایا،
وہ آج بھی علم و اصلاح کے میدان میں رہنمائی کرتا ہے۔
مثالوں کا
اسلوب محض انسانی طریقہ نہیں بلکہ ربانی حکمت ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا
ہے: وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ
نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِۚ-وَ مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ(۴۳) ترجمہ کنزالایمان: اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان فرماتے ہیں اور
اُنہیں نہیں سمجھتے مگر علم والے۔ (پ20، العنکبوت: 43)
یہی اسلوب نبی
کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اپنایا اور امت کی تعلیم میں مثالوں کو بنیاد
بنایا۔
(1) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک
عبرت انگیز مثال: آپ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے فرمایا : میری اور تمہاری مثال اس شخص جیسی ہے جس نے آگ جلائی، جب اس
نے روشنی پھیلائی تو پروانے اور کیڑے اس میں گرنے لگے، اور وہ انہیں بچانے کی کوشش
کرتا ہے، اور میں تمہیں (جہنم کی آگ سے) بچا رہا ہوں، مگر تم میری گرفت سے نکل نکل
کر اس میں جا رہے ہو۔ (صحیح بخاری، کتاب الرقاق، باب قول النبیﷺ لو
تعلمون ما أعلم، ج 5، ص 235، حدیث: 6483، دار السلام )
اس حدیث میں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت سے شفقت، اور ان کی غفلت کا دردناک
نقشہ ایک مثال کے ذریعے کھینچا۔
(2) اجتماعتی زندگی میں مثال کا استعمال: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مومنوں کی آپس میں محبت، رحمت اور شفقت کی مثال ایک جسم
کی مانند ہے، جب اس کے ایک عضو کو تکلیف ہو تو سارا جسم بے خوابی اور بخار میں
مبتلا ہو جاتا ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب البر والصلہ، باب تراحم المؤمنین،
ج 4، ص 1999، حدیث: 2586، دار الفکر)
یہ ایک جامع
مثال ہے جو اسلامی معاشرے میں اجتماعی ہمدردی اور وحدت کی بنیاد رکھتی ہے۔
(3) ایک حکمت آموز تمثیل: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کی مثال بارش کی مانند ہے، معلوم نہیں کہ ابتدا
میں برکت ہے یا آخر میں۔ (سنن ترمذی، کتاب الامثال، باب ما جاء في مثل أمة محمد ﷺ،
ج 5، ص 88، حدیث: 2869، دار ابن حزم)
یہ مثال امت
کو امید، تسلسل اور صلاحیت کے ساتھ جڑے رہنے کا پیغام دیتی ہے۔
نبی کریم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسلوب تربیت میں تمثیل و حکایت کا استعمال صرف الفاظ کی
خوبصورتی کے لیے نہ تھا، بلکہ یہ تعلیم میں دل نشینی، اصلاح میں تاثیر اور کردار
سازی میں گہرائی کا راز تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر مثال ایک عملی درس،
ہر حکایت ایک اخلاقی سبق اور ہر تشبیہ ایک تربیتی پُل تھی جو انسان کو جہالت سے
علم، غفلت سے عمل، اور گناہ سے نجات کی طرف لے جاتی تھی۔
Dawateislami