آپ جانتے ہیں کہ قرآن کے نزول اور بعثت رسول کا بنیادی اصول تہذیب نفوس(یعنی انسان کی تربیت کرنا) ہے۔ اور انسان کی تربیت کرنے میں مربی (تربیت کرنے والے) کا انداز تربیت ایک اساسی اہمیت رکھتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ معلم و مربی و مصلح و منتظم کائنات ہیں ۔

تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اندازِ تربیت بھی انوکھے،نرالے اور غیر معمولی ہونے چاہئیں اور اس کا اندازہ آپ کی سیرت و احادیث سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کس طرح مقتضائے حال کے مطابق حکمت عملی کے ساتھ اپنے صحابہ کرام کیلئے تعلیم و تربیت کے نئے نئے مختلف انداز و اسالیب اختیار فرماتے جن کا کامل احاطہ انسان کے بس کی بات نہیں ۔حضور نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کردہ اسالیب میں سے ایک اسلوب مثال کے ذریعے تربیت فرمانا بھی ہے۔ یہ وہ اسلوب ہے جس کا استعمال ہمیں قرآن میں بھی کئی جگہ نظر آتا ہے ۔ اس طرح کے اسلوب کا تعلیم و تربیت میں ایک بہت بڑا اور اہم کردار ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مثال کے ذریعے کوئی بھی بات سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے، اس بات کو اپنی زندگی میں نافذ العمل کرنے کی جستجو پیدا ہوتی ہے، بات دلچسپ اور پر اثر ہو جاتی ہے، سوچنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے، مفہوم کی گہرائی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور اس طرح تربیت کرنے کے بعد تربیت کی تاثیر دیرپا ہوتی ہے۔ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے صحابہ کرام اور امت کی تربیت کیلئے بارہا اس انداز کو اختیار فرمایا جس کی کئی مثالیں کتب احادیث میں ملتی ہیں۔ جن میں سے کچھ مثالیں ذیل میں موجود ہیں:

(1) نماز اور نہر کی مثال: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهَرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا مَا تَقُولُ ذَلِكَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ ، قَالُوا : لَا يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا ، قَالَ : فَذَلِكَ مِثْلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ ، يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے پیارے آخری نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تمہاری کیا رائے ہے تم میں سے کسی کے دروازے کے پاس ایک نہر ہو جس میں وہ ہر دن پانچ مرتبہ نہاتا ہو تو تم کیا کہتے ہو کہ اس کے بدن پر کوئی میل باقی رہے گی ۔ صحابہ نے کہا کہ کوئی میل باقی نہیں رہے گی۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی مثال پانچ نمازوں کی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے سبب گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔(صحیح بخاری ، کتاب مواقیت الصلاۃ ،باب الصلاۃ الخمس کفارۃ،ج1، ص 113 ، مکتبہ سلطانیہ)

(2) اللہ کا ذکر کرنے اور نہ کرنے والے کی مثال: قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ وَالَّذِي لَا يَذْكُرُ رَبَّهُ ، مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ ہمارے پیارے آخری نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس شخص کی مثال جو اپنے رب کا ذکر کرتا ہے اور اس شخص کی مثال جو اپنے رب کا ذکر نہیں کرتا زندہ اور مردہ کی سی ہے۔(صحیح بخاری ، کتاب الدعوات ،باب فضل ذکر اللہ عزوجل ،ج8، ص 86، مکتبہ سلطانیہ)

(3)بے عمل اہل علم کی مثال: قَالَ : مَثَلُ الَّذِي يَتَعَلَّمُ العِلْمَ ، ثُمَّ لَا يُحَدِّثُ بِه كَمَثَلِ اللَّذِي يَكْنِزُ الكَنْزَ فَلَا يُنْفِقُ مِنْه ہمارے پیارے آخری نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص جو علم سیکھے اور اور اسے آگے نہ بتائے اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو خزانہ جمع کرتا ہے لیکن اس میں سے خرچ نہیں کرتا ۔ (المعجم الاوسط للطبرانی ،اردو، باب الألف:احمد بن المعلی الدمشقی، ج 1 ، ص 411 ، حدیث 689)

(4)صدقہ واپس لینے والے کی مثال: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَثَلُ الَّذِي يَرْجِعُ فِي صَدَقَتِهِ، كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَقِيءُ، ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ فَيَأْكُلُهُ ہمارے پیارے آخری نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص جو اپنا صدقہ واپس لے لیتا ہے اس شخص کی مثال اس کتے کی طرح ہے جو اپنی قے کی طرف لوٹتا ہے تاکہ اسے کھا سکے۔ ( صحیح مسلم ،کتاب الھبات ، باب تحریم الرجوع فی الصدقۃ والھبۃ بعد القبض،ج 3، ص 1230 ،حدیث نمبر 1622، مکتبہ دار احیاء التراث العربی بیروت)

(5)دنیا و آخرت کی مثال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ فَلْيَنْظُرْ بِمَاذَا يَرْجِعُ۔ہمارے پیارے آخری نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دنیا آخرت کے مقابلے میں ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے اور دیکھے کہ وہ انگلی کتنا سا پانی لے کر آئی ہے۔(سنن ترمذی ،ابواب الزھد ،باب ما جاء فی جوان الدنیا علی اللہ ،ج 4 ،ص 561 ، 2323 ،مکتبہ مصطفی البابی الحلبی مصر)

(6) حافظ قرآن کی مثال: عنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہ عَنْہُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِنَّمَامَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْاٰنِ كَمَثَلِ الْاِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ اِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا اَمْسَكَهَا وَاِنْ اَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ ترجمہ : حضرت سَیِّدُنا عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا:حافِظِ قرآن کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کی طرح ہےکہ اگر(مالک) اس کی حفاظت کرے گا تو اسے روکے رکھے گا اور اگر اسے کھلا چھوڑ دے گا تو وہ بھاگ جائے گا۔( صحیح بخاری ۔جلد 3/ الجزء الثالث۔ کتاب فضائل القرآن ۔ باب استذکار القرآن وتعاھُدِہٖ ۔ ص 1434۔ حدیث نمبر5031۔ مکتبہ الطاف اینڈ سَنز)

(7) علما کی مثال: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مَثَلَ الْعُلَمَاءِ فِي الْأَرْضِ، كَمَثَلِ النُّجُومِ فِي السَّمَاءِ يُهْتَدَى بِهَا فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ، فَإِذَا انْطَمَسَتْ النُّجُومُ، أَوْشَكَ أَنْ تَضِلَّ الْهُدَاةُ ہمارے پیارے آخری نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ بے شک زمین پر علما کی مثال آسمان پر موجود ان ستاروں کی سی ہے جن کے ذریعے بحر وبر کی تاریکیوں میں رہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔ پھر جب ستارے ماند پڑ جائیں گے تو قریب ہے کہ ہدایت یافتہ لوگ گمراہ ہو جائیں۔ (مسند امام احمد ،اردو،حضرت انس بن مالک کی مرویات، ج 5، حدیث نمبر 12627)

حاصل کلام یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری تربیت کیلئے جو جو انداز اختیار فرمائے ان میں سے ایک انداز ”مثالوں سے تربیت فرمانا“ بھی بہت عمدہ اور مؤثر طریقہ ہے اور یہی انداز ہمیں قرآن کریم میں کئی مقامات پر ملتا ہے۔ اور ہمیں تو آج کے دور میں اپنی اور دوسروں کی اصلاح کی نہایت ضرورت ہے۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں اپنی اور دوسروں کی تربیت مؤثر انداز میں کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔