علی حسین بن محمد احمد ( جامعۃالمدینہ
کنزالایمان مصطفی آباد رائیونڈ ، پاکستان)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری حیات مبارکہ رہتی دنیا کیلئے نہ صرف
بہترین نمونہ بلکہ ایک مکمل نظریہ حیات ہے ۔ کائنات کے سب سے بہترین معلم حضور سید
عالم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔
(1)
عَنْ أَبِيْ
مُوْسٰى قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ:مَثَلُ الَّذِيْ يَذْكُرُ رَبَّهٗ وَالَّذِيْ لَا يَذْكُرُ مَثَلُ
الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ ترجمہ : حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم
نے فرمایا اس کی مثال جو رب کا ذکر کرے اور جو نہ کرے زندہ و مردہ کی سی ہے ۔(مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 ، حدیث نمبر:2263 )
(2)وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:
قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ
الزَّرْعِ لَا تزَالُ الرِّيْحُ تُمِيْلُهٗ وَلَا يزَالُ الْمُؤْمِنُ يُصِيْبُهُ
البَلَاءُ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ شَجَرَةِ الْأَرْزَةِ لَا تَهْتَزَّ
حَتّٰى تَسْتَحْصَدَ ترجمہ: روایت
ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں ،فرمایا
رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ
مؤمن کی مثال کھیت کی سی ہے جسے ہوائیں جھلاتی رہتی ہیں اور مؤمن کو مصیبتیں پہنچتی
رہتی ہیں اورمنافق کی مثال درخت صنوبر کی سی ہے جو کٹنے تک جنبش نہیں کرتا۔(مسلم،بخاری۔ مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:2
، حدیث نمبر:1542 )
اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ مؤمن خوشی سے مرتا
ہے اورمنافق جبرًا موت دیاجاتاہے،موت ایک ریل ہے جو دولہا کو سسرال تک پہنچاتی ہے
اورپھانسی کے مجرم کو پھانسی تک مؤمن کی دنیوی تکلیفیں آخرت کی راحت کا سبب ۔ (مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:2 ، حدیث نمبر:1542 )
(3)عَنْ اَبِيْ مُوْسَى
الْاَشْعَرِيْ رَضِيَ الله عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَاُالْقُرْآنَ مَثَلُ
الْاُتْرُجَّةِ رِيْحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ
الَّذِي لَا يَقْرَاُ القُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ لَارِيْحَ لَهَا وَطَعْمُهَا
حُلْوٌ وَمَثلُ
الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَاُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ رِيْحُهَا
طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِيْ لاَ يَقْرَاُ الْقُرْاٰنَ
كَمَثَلِِ الْحَنْظَلَةِ لَيْسَ لَهَا رِيْحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ
ترجمہ: حضرت سَیِّدُناابو موسٰی
اَشعری رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتےہیں کہ حُضورِ انور ﷺ نے ارشاد فرمایا:”قرآن
پڑھنے والے مومن کی مثال نارنگی کی طرح ہے جس کی خوشبو بھی اچھی اور ذائقہ بھی عمدہ ہےاور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور کی طرح ہے جس کی خوشبو نہیں لیکن ذائقہ میٹھا
ہے۔قرآن پڑھنے والے منافق کی مثال پھول کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی اور ذائقہ
کڑوا ہےاورقرآن نہ پڑھنے والے منافق کی مثال اندرائن کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی
نہیں اور ذائقہ کڑوا ہے۔( فیضان ریاض الصالحین جلد:7 ، حدیث نمبر:995 )
نارنگی سے تشبیہ
دینے کی وجہ:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:”قرآن پاک پڑھنے والے مومن کو نارنگی کے
ساتھ اس لیے تشبیہ دی گئی ہے کہ یہ تمام شہروں میں پائے جانے والے پھلوں میں سب سے
بہترین پھل ہے۔اس میں بکثرت صفات مطلوبہ اور خواص ہیں ۔
(4)وَعَنْ أَبِيْ مُوسٰى قَالَ:
قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلّٰى اللہ ُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ الْقَلْبِ كَرِيشَةٍ بِأَرْضِ فَلَاةٍ
يُقَلِّبُهَا الرِّيَاحُ ظَهْرَالْبَطْنِ رَوَاهُ أَحْمَدُ۔ ترجمہ: روایت ہے حضرت ابو موسیٰ رضی
اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے
دل کی مثال اس پر کی سی ہے جو میدانی زمین میں ہو جسے ہوائیں ظاہروباطن الٹیں پلٹیں ۔(مرآۃالمناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ،3 ،حدیث نمبر
،2263 )
Dawateislami