بچوں پر بےجا
سختی کرنے سے مراد ہے کہ ان کو بلاوجہ ڈانٹا جائے ان کی بات کو نہ سنا جائے انہیں
توجہ نہ دی جائے اور ہر چھوٹی بڑی غلطی پر شفقت اور محبت سے سمجھانے کی بجائے ان
کے ساتھ سختی سے پیش آیا جائے۔ اب ایک بچہ قوم کا سرمایہ ہوتا ہے بچوں کی تربیت
ایک نہایت ہی اہم اور نازک پہلو ہے جہاں اسلام میں بچوں سے محبت اور شفقت سے پیش
آنے کا بیان کیا گیا ہے وہیں ان پر بےجا سختی کرنے سے بھی منع فرمایا گیا ہے اور
یہ کہا گیا ہے کہ بچوں کی اصلاح اور تربیت میں سختی کے بجائے محبت شفقت وحکمت کو
اختیار کرنا زیادہ موثر اور دیر پا نتائج کا حامل ہے بیجا سختی وقتی طور پر تو
اطاعت پیدا کر سکتی ہے لیکن دل میں خوف بغاوت اور دوری کا سبب بھی بن سکتی ہے جبکہ
اس کے برعکس نرمی اور محبت بچوں کے دلوں میں اعتماد تعلق اور اطاعت کا جذبہ پیدا
کرتی ہے۔
لہذا قرآن میں
بھی یہ بات موجود ہے کہ اپنے بچوں پر ظلم نہ کرو جیسا کہ آیت مبارکہ میں ہے: وَ لَا تَقْتُلُوْۤا
اَوْلَادَكُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍؕ-(پ 15، بنی اسرائیل: 31) ترجمہ اور
اپنی اولاد کو قتل نہ کرو مفلسی کے ڈر سے۔
اسی طرح حدیث
مبارکہ میں نبی کریم ﷺ نے نرمی کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: بےشک اللہ
تعالیٰ نرمی فرمانے والا ہے اور نرمی کو پسند فرماتا ہے اور نرمی پر وہ کچھ عطا
فرماتا ہے جو سختی پر نہیں دیتا۔ (مسلم، ص 1398، حدیث: 2593)
حضور
کی بچوں سے محبت: حضرت
انس فرماتے ہیں کہ میں نے 10 سال حضور ﷺ کی خدمت کی آپ نے مجھے کبھی اف تک نہ کہا
نہ کسی کام کے کرنے پر ملامت کی نہ چھوڑنے پر۔ (بخاری، 2/243، حدیث: 2768)
سبحان اللہ
آقا علیہ الصلوٰۃ و السلام اپنے غلاموں سے بھی کس قدر شفقت فرمایا کرتے، مزید ایک
اور حدیث میں ارشاد فرمایا: جو نرمی سے محروم کر دیا گیا وہ تمام بھلائی سے محروم
کر دیا گیا۔ ان ارشادات سے بھی یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ بچوں سے سختی کی بجائے محبت
سے پیش آنا چاہیے۔
اور ان کے
درمیان عدل و انصاف قائم کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے یعنی کہ اگر کسی کے دو یا اس
سے زیادہ اولاد ہیں تو اگر وہ ایک کو کوئی چیز دے تو دوسرے کو بھی وہی دے یعنی کہ
انصاف و عدل کیا جائے بچوں کے درمیان پیار کرنے میں بھی نوازنےمیں بھی والدین کی
ذمہ داری کہ وہ انصاف کا ترازو تھامیں، اسی طرح بچوں سے کئی چیزوں میں مشورہ بھی
کریں اس سے بچوں کا کانفیڈنس ڈیویلپ ہوتا ہے۔ اصل میں بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ بچے
کو اگر والد یہ کہہ دیں کہ تمہیں تو کچھ آتا ہی نہیں ہے تو وہ اس طنز کی وجہ سے
اچھی بات بھی نہیں مانتا اور یوں وہ برائی اور حسن اخلاق اور دین کی تعلیم سے دور
ہو کر باغی بن جاتا ہے۔
لہذا والدین
کو چاہیے کہ وہ اس بات کو محسوس کریں اور کہیں کہ بیٹا کئی چیز میں آپ ہم سے آگے
ہیں کیونکہ ٹیکنالوجی میں انہوں نے بہت کچھ سیکھ لیا ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں
ہے تو اس طرح آپ کی اولاد حسن اخلاق اور دینی تعلیمات سے بھی آراستہ ہوگی، اسی طرح
بچوں کو آداب بھی سکھایا جائے، ایک روایت میں ہے کہ حضور نے ارشاد فرمایا کہ اولاد
کے لیے باپ کا کوئی عطیہ اچھی تربیت سے بہتر نہیں۔ (ترمذی، 3/383، حدیث: 1959)
اب کتنا
خوبصورت ہے وہ گھر جس میں چھوٹے بڑوں کا ادب کریں اور بڑے بالخصوص چھوٹوں پر شفقت
اور محبت کریں ان پر بےجا سختی سے گریز کریں اور ان کا خیال رکھیں۔
Dawateislami