اسلام ایک
مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو نہ صرف عبادات میں بلکہ معاشرت، اور تربیت کے ہر
پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عظیم معلم اور رہنما ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ
کرام رضی اللہ عنہم اور اُمت کی تعلیم و تربیت کے لیے جو طریقہ اختیار فرمایا، وہ
نہایت حکمت پر مبنی تھا۔ ان طریقوں میں ایک طریقہ یہ تھا کہ آپ صلی
اللہ علیہ وسلم مثالوں کے ذریعے بات سمجھاتے۔ یہ مثالیں بعض اوقات روزمرہ زندگی سے
لی جاتیں، کبھی جانوروں، درختوں، یا گھریلو اشیاء سے، اور کبھی انسانی نفسیات کو
مدِنظر رکھ کر ترتیب دی جاتیں ۔آئیے اس کے متعلق کچھ معلومات حاصل کرتے ہیں ۔
زندہ و مردہ کی مثال : عَنْ أَبِيْ مُوْسٰى قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى
اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَثَلُ الَّذِيْ يَذْكُرُ رَبَّهٗ وَالَّذِيْ لَا
يَذْكُرُ مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ ترجمہ : حضرت ابو موسیٰ فرماتے
ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم
نے فرمایا اس کی مثال جو رب کا ذکر کرے اور جو نہ کرے زندہ و مردہ کی سی ہے ۔ ( مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 , حدیث نمبر:2263)
تمہاری
اور میری مثال : عَنْ
جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ
مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ اَوْقَدَ نَاراً فَجَعَلَ الجَنَادِبُ
والفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيْهَا وَهُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا وَاَنَا اٰخِذٌ
بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، وَاَنْتُمْ تَفَلَّتُوْنَ مِنْ يَدَيَّ ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ
اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہےکہ رسولُ اللہ صَلَّی
اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے
ارشادفرمایا: ’’ میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہےجس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور پروانے اس میں
گرنے لگےاور وہ شخص اُنہیں آگ میں گرنے سے بچاتا ہےاورمیں بھی تمہیں تمہاری کمر سے پکڑ کر آگ (میں گرنے) سےبچاتا ہوں اور تم میرے
ہاتھ سے نکلے جاتے ہو ۔ ‘‘ (فیضان ریاض الصالحین جلد:2
، حدیث نمبر:163)
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کا اندازِ تعلیم نہایت حکیمانہ تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی مثالیں صرف الفاظ نہیں تھیں
بلکہ حکمت، اور تعلیم و تربیت کا خزانہ تھیں۔ آج کے دور میں جب سیکھنے اور سکھانے
کے بے شمار ذرائع موجود ہیں، پھر بھی اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری بات دلوں میں اترے
، تو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اسلوب کو
اپنانا ہو گا۔ چاہے ہم والدین ہوں، اساتذہ، مبلغین یا مقررین ۔ مثالوں کے ذریعے بات سمجھانا ایک سنتِ نبوی ہے، جو ہر
دور میں مؤثر رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ ( ان شاء اللہ عزوجل)
Dawateislami