قرآن کریم کی طرح احادیث کریمہ میں بھی مثالوں کا استعمال بکثرت
ملتا ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب اور قیامت تک آنے والے
امتیوں کو دین کا پیغام آسانی اور وضاحت کے ساتھ سمجھانے کے لیے کئی مواقع پر روز
مرہ زندگی سے مثالیں دی ہیں ۔ یہاں بعض ذکر کی جاتی ہیں۔
پہلی
مثال اور اس کی وضاحت : حضرت ابو ہریرہ رضی
اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری اور مجھ
سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے کسی آدمی نے گھر بنایا اور اس کے سجانے اور
سنوارنے میں کوئی کمی نہ چھوڑی مگر کسی گوشے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی۔ لوگ
اس کے گرد پھرتے اور تعجب سے کہتے، بھلا یہ اینٹ کیوں نہ رکھی گئی ؟ فرمایا: وہ اینٹ
میں ہوں۔ میں سارے انبیاء سے آخری ہوں ۔ (صحیح بخاری ، کتاب المناقب، الحدیث: ۳۵۳۵ ج ۲ ص ۴۸۴)
اہل اسلام کا یہ
مسلمہ عقیدہ ہے کہ حضور خاتم الانبیاء ﷺ اللہ
کے آخری نبی ہیں۔ آپ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔ اس عقیدہ ختم نبوت کا منکر
کافر و مرتد یعنی دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
دوسری
مثال اور اس کی وضاحت: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
درختوں میں ایک درخت ایسا ہے جس پر پت جھڑ نہیں آتا ( اس کے پتے نہیں جھڑتے) اور
وہ مسلمان کی مانند ہے۔ مجھے بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟ ابن عمر کا کہنا ہے کہ لوگوں
کا دھیان جنگلی درختوں کی طرف چلا گیا عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں میرے ذہن میں آگیا
کہ ہو نہ ہو کھجور کا درخت ہے۔ مگر حیا آڑے آئی آخر کار صحابہ کرام نے عرض کی یا رسول اللہ ! آپ
ہی بتلائیے وہ کون سا درخت ہے۔ فرمایا: وہ کھجور کا درخت ہے۔ (صحیح بخاری ، کتاب
العلم ، الحدیث: ۷۲ ، ج ۱ ص ۴۳)
اس حدیث شریف
میں مومن کی مثال کھجور کے درخت کے ساتھ بیان کی گئی ہے اور سمجھایا گیا ہے کہ جس
طرح کھجور کا تقریباً ہر جز نفع بخش ہے اسی طرح مومن کا ہر فعل نفع
بخش ہوتا ہے ۔
تیسری
مثال اور اس کی وضاحت: حضرت نعمان
بن بشیر سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی
حدوں کو قائم رکھنے والوں اور توڑنے والوں کی مثال ایسی ہے جیسے کشتی کے سواروں نے
اپنا حصہ تقسیم کر لیا۔ بعض کے حصے میں اوپر والا حصہ آیا اور بعض کے حصے میں نیچے
والا پس جو لوگ نیچے تھے انہیں پانی لینے کے لیے اوپر والوں کے پاس جانا پڑتا تھا
انہوں نے کہا کہ کیوں نہ ہم اپنے حصے میں سوراخ کر لیں اور اوپر والوں کے پاس جانے
کی زحمت سے بچیں پس اگر وہ انہیں ان کے ارادے کے مطابق چھوڑے رہیں تو سب ہلاک ہو
جائیں اور اگر ان کے ہاتھ پکڑ لیں تو سارے بچ جائیں۔ (صحیح بخاری، کتاب الشركۃ،
الحدیث: ۲۴۹۳، ج۲، ص۱۴۳)
اس حدیث شریف
میں ایک مثال کے ذریعے برائی سے روکنے اور نیکی کا حکم دینے کی اہمیت کو واضح کیا
گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اگر یہ سمجھ کر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ
ترک کر دیا جائے کہ برائی کرنے والا خود نقصان اٹھائے گا ہمارا کیا نقصان ہے! تو یہ
سوچ غلط ہے۔ اس لیے کہ اس کے گناہ کے اثرات تمام معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے
ہیں اور جس طرح کشتی توڑنے والا اکیلا ہی نہیں ڈوبتا بلکہ وہ سب لوگ ڈوبتے ہیں جو
کشتی میں سوار ہیں، اسی طرح برائی کرنے والے چند افراد کا یہ جرم تمام معاشرے میں
ناسور بن کر پھیلتا ہے۔ (مرآۃ المناجیح، ج۶، ص۵۰۴)
محمد احمد عطاری (درجہ اولی جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
ضرورت انسانی
کو پورا کرنے کے لیے آپس میں گفتگو کرنے کی حاجت پیش آتی رہتی ہے ۔ گفتگو کا انداز
ہر آدمی کا مختلف ہوتا ہے۔ بعض لوگ کلام کرتے ہیں تو فورا اُن کی بات سمجھ آجاتی
ہے۔ بعض لوگ کلام کرتے ہیں لیکن فورا سمجھ نہیں آتی۔ چونکہ ہم مسلمان ہیں ہمارے لیے
نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ ہمارے پیارے
آقا کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اپنے امتیوں سےکلام فرماتے ہوئے مختلف
مقام پر مثالوں سے تربیت فرمائی یہاں تک کہ کلام باری
تھا جس میں اللہ تعالی نے بھی مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ آئیں مثالوں سے تربیت فرمانے کی
ایک جھلک احادیث کی روشنی میں دیکھتے ہیں :
(1)
اچھے اور برے دوست کی مثال : ترجمہ:
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَر ﷺ نے ارشادفرمایا :اچھے اور برے دوست کی مثال مشک اٹھانے
والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے ، مشك اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم
اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا
تمہارے کپڑے جلائے گا یا تمہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔ (بخاری کتاب الذبائح والصید
و تسمیتہ علی الصید باب المسک ص 567 ج 3 حدیث 5534)
(2)
آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال : حضرت
سیدنا مستورد بن شداد رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا: آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی
انگلی سمندر میں ڈالے پھر دیکھے کہ وہ کتنا پانی لے کر
لوٹی ہے۔ (مسلم ،کتاب اللجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا ، باب فناءالدنیاوبیان الحشر یوم
القیامیۃ، ص1529،حدیث،2757)
(3)
سخی اور بخیل کی مثال : حضرت سیدنا
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ
والہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بخیل اور خرچ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں
کی طرح ہے جن پر ان کے سینے سے لے کر گلے تک لوہے کی زرہ ہو تو خرچ کرنے والا جب
خرچ کرتا ہے تو وہ زرہ کھل جاتی ہے یا کشادہ ہو کر اس کے جسم پر آجاتی ہے یہاں تک کہ اس کی انگلیوں کے پورے بھی چھپ جاتے
ہیں اور اس کے قدموں کے نشانات مٹا دیتی ہے لیکن بخیل جب کوئی چیز خرچ کرنے کا
ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کا ہر حلقہ اپنی جگہ چمٹ جاتا ہے اور وہ اسے کشادہ
کرنا چاہتا ہے لیکن وہ کشادہ نہیں ہوتا ۔ (بخاری،کتاب الزکاۃ،باب مثل المتصدق
والبخیل،1/486،حدیث:1443 بتغیر قلیل)
(4)
علم سیکھنے اور سکھانے والے کی مثال : حضرت سیدنا
ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا: اللہ عزوجل نے جس ہدایت اور علم کے ساتھ مجھے بھیجا ہے اس کی مثال
اس بارش کی طرح ہے جو زمین پر برسی تو زمین کے ایک عمدہ حصے نے اس پانی کو چوس کر
گھاس اور بہت سبزہ اگایا اور زمین کا کچھ حصہ بنجر تھا جس نے اس پانی کو روک لیا
تو اللہ عزوجل نے اس سے لوگوں کو فائدہ پہنچایا اس طرح کے انہوں نے خود پیا،دوسروں
کو پلایا اور کاشت کاری کی اور وہ بارش زمین کے ایک ایسے حصے کو پہنچی جو چٹیل میدان
تھا،اس نے نہ پانی روکا اور نہ ہی گھاس اگائی ،(تو پہلی) اس شخص کی مثال ہے جس نے
اللہ عزوجل کے دین کو سمجھا اور جس چیز کے ساتھ اللہ عزوجل نے مجھے بھیجا اس نے
اسے نفع پہنچایا تو اس نے خود بھی علم حاصل کیا اور دوسروں کو بھی سکھایا۔(اور
دوسری) اس شخص کی مثال ہے کہ جس نے اس علم کی طرف توجہ نہ دی (تکبر کی وجہ سے) اور
اللہ عزوجل کی وہ ہدایت جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہے اسے قبول نہ کیا۔ (مسلم،کتاب
الفضائل،باب بیان مثل ما بعث النبی من الھدوالعلم،ص1253،حدیث: 2282)
(5)
آخری نبی :نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا : کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ
تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہو جس طرح ہارون کو حضرت موسی علیہ السلام سے تھی سوائے اس
کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔صحیح البخاری،کتاب المغازی،جلد 2،حدیث 4416)
پیارے اسلامی
بھائیو! حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہماری مثالوں سے تربیت فرمائی کہ دنیا کے
مقابلے میں آخرت کو ترجیح دی جائے،اچھے دوست بنانے چاہیے اور برے دوستوں سے دور
رہنا چاہیے،سخاوت کرنی چاہیے،اور ہمیں ان مثالوں سے علم حاصل کرنا چاہیے۔
محمد فیضان علی عطاری (درجہ
سادسہ مرکزی جامعۃُ المدينہ فیضان مدینہ فیصل آباد ، پاکستان)
نبی کریم ﷺ معلم
اعظم، رہبر اور مصلح ہیں۔
آپ ﷺ نے صرف عبادات کی تعلیم ہی نہیں دی بلکہ اخلاقی
معاشرتی اور عملی زندگی کو سنوارنے کی بھی تربیت فرمائی۔آپ ﷺ نے تعلیم و تربیت کے
ایسے اسلوب اختیار فرمائے جو نہایت مؤثر، دل نشین اور قابلِ عمل تھے۔ ان میں سے ایک
عظیم اور مؤثر طریقہ ”مثالوں کے ذریعے تربیت فرمانا“ ہے ۔ نبی کریم ﷺ کا یہ اسلوب
نہایت سادہ، فطری اور عقل و فہم سے قریب تھا۔ جب آپ ﷺ کسی بات کو دلوں میں راسخ
کرنا چاہتے تو اسے ایک سادہ اور جامع مثال کے ذریعے سمجھا دیتے۔ یہ مثالیں ایسی
ہوتیں جو روزمرہ زندگی سے تعلق رکھتی تھیں اور سامع کے ذہن میں فوراً بیٹھ جاتیں۔
پانچ احادیث
مبارکہ ملاحظہ کیجئے جن میں پیارے آقا ﷺ نے مثال کے ذریعے تربیت فرمائی ہے۔
(1) مؤمن اور منافق کی تلاوت : حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے
کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :مؤمن کے قرآن مجید پڑھنے کی مثال ترنج کی طرح ہے کہ اس کی
خوشبو پاکیزہ اور ذائقہ خوشگوار ہے۔ اور قرآن نہ پڑھنے والے مؤمن کی مثال اس کھجور
کی طرح ہے کہ جس میں خوشبو نہیں لیکن اس کا ذائقہ میٹھا ہے۔ اور منافق کے قرآن
پڑھنے کی مثال ریحان کی طرح ہے کہ اس کی خوشبو تو اچھی ہے اور اس کا ذائقہ کڑوا ہے
اور منافق کے قرآن نہ پڑھنے کی مثال حنظلہ کی طرح ہے کہ جس میں خوشبو نہیں اور اس
کا ذائقہ کڑوا ہے۔(بخاری،باب فضائل القرآن،رقم الحدیث 5020،ص 1298)
(2) نہر کی مثال : حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ
نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو؟ کہ اگر تم میں سے کسی ایک کے دروازے پر نہر ہو اور وہ
دن میں پانچ دفعہ اس نہر میں نہائے کیا اس پر کوئی میل کچیل باقی رہے گی ؟ صحابہ
کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: اس پر میل کچیل نہیں رہے گی۔آپ صلی الله
علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ! یہ مثال ہے پانچ نمازوں کی، اللہ تعالیٰ ان کی وجہ سے
تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے۔(بخاری،کتاب مواقیت الصلاۃ،باب الصلوات الخمس
کفَّارة، رقم الحدیث 528،ص 200)
(3) بخیل اور صدقہ کرنے والے کی مثال :حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی
کریم ﷺ نے فرمایا: بخیل اور صدقہ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں جیسی ہے جن پر دو
زرہیں لوہے کی ہوں۔ جب صدقہ کرنے والا صدقہ دینے کا ارادہ کرے تو وہ اس پر کشادہ
ہو جائے یہاں تک کہ اس کے قدموں کے نشانات کو مٹا دے۔ اور جب بخیل صدقہ کرنے کا
ارادہ کرے تو وہ اس پر تنگ ہو جائے اور اس کے ہاتھ اس کے گلے میں پھنس جائیں اور
ہر حلقہ دوسرے حلقے میں گھس جائے۔ (بخاری،کتاب الزکاة،باب مثل المتصدق والبخیل،رقم
الحدیث 1443،ص 402)
(4) درخت کے پتے جھڑنے کی مثال : حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: بے شک الحمدللہ ، سبحان الله اور ولا اله إلا الله والله اکبر بندے کے گناہوں کو اس طرح جھاڑ دیتے ہیں جیسے اس
درخت کے پتے جھڑتے ہیں۔ (ترمذی،کتاب الدعوات،رقم الحدیث 3533،ص 808)
(5) چرواہے کی مثال :حضرت نعمان بن بشیر رضی الله عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں
کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: جو شبہ ڈالنے والی چیز سے بچا اس نے اپنا دین اور عزت
محفوظ کر لی اور جو شبہ ڈالنے والی چیزوں میں پڑ گیا وہ حرام میں پڑ گیا۔ اس کی
مثال اس چرواہے کی ہے جو کسی دوسرے کی چراگاہ کے اردگرد چراتا ہے تو قریب ہے کہ
جانور اس چراگاہ سے بھی چر لیں۔ (بخاری،کتاب البیوع،باب الحلال بیِّن والحرام الی
آخرہ،رقم الحدیث 2051،ص 536)
پیارے پیارے
اسلامی بھائیو! نبی کریم ﷺ کی دی گئی مثالیں نہ صرف عقل و فہم کے مطابق ہیں بلکہ
ان کے اندر ایک گہرا پیغام اور سبق بھی ہوتا ہے
۔ یہ اسلوبِ تربیت آج بھی معلمین، خطباء، والدین اور تمام مربیین کے لیے مشعل راہ
ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اپنی اصلاح اور دوسروں کی تربیت کے لیے نبی کریم ﷺ کے اس
طریقے کو اپنائیں تاکہ بات کو نہ صرف سمجھایا جا سکے بلکہ دل میں بھی اتارا جا
سکے۔
الله پاک ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
محمد حفیظ الرحمن عطاری (درجہ ثانیہ
مرکزی جامعۃالمدینہ فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ، پاکستان)
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ آپﷺ صحابہ کرام رضی
اللہ تعالٰی عنہم اور دیگر لوگوں کو نہایت مؤثر اور
دلنشین انداز میں تربیت دیتے تھے اور اس تربیت میں مثالوں کا استعمال ایک کلیدی حیثیت
رکھتا تھا۔ آپ ﷺ عام اور روزمرہ کی چیزوں یا واقعات کی مثالیں دے کر پیچیدہ سے پیچیدہ
تصورات اور احکامات کو انتہائی آسانی سے سمجھا دیتے۔ یہ اندازِ تعلیم اس قدر مؤثر
تھا کہ بات دلوں میں اُتر جاتی تھی اور فراموش کرنا مشکل ہوتا تھا۔
قرآن مجید میں
بھی اللہ تعالیٰ نے مثالوں کا بکثرت استعمال کیا ہے تاکہ
لوگوں کو حقائق سمجھائے جا سکیں۔ اس لیے یہ طریقہ خود اللہ تعالیٰ
کا سکھایا ہوا ہے، اور رسول اللہ ﷺ نے بھی اسی اسلوب کو اپنایا۔قرآن کریم میں مختلف مقاصد کے لیے مثالیں دی گئی ہیں، جیسے توحید
کو سمجھانا، شرک کی قباحت بیان کرنا، نیکوکاروں کا انجام بتانا، یا گناہگاروں کی
حالت واضح کرنا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِۚ-وَ
مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ(۴۳)ترجمہ
کنزالایمان: اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان فرماتے ہیں اور اُنہیں نہیں
سمجھتے مگر علم والے۔ (پ20، العنکبوت: 43)
ایک اور جگہ
ارشاد فرمایا: وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا
لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ
یَتَذَكَّرُوْنَۚ (۲۷) ترجمہ کنزالایمان: اور بےشک
ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی کہاوت بیان فرمائی کہ کسی طرح انہیں
دھیان ہو ۔ (پ23،
الزمر: 27)
یہ آیات اس
بات کی دلیل ہیں کہ مثالوں کے ذریعے بات سمجھانا اللہ تعالیٰ
کا پسندیدہ طریقہ ہے اور اسی سنتِ الٰہی پر چلتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے بھی اپنے
صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کی تربیت فرمائی۔ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی عملی زندگی میں بے شمار مواقع پر مثالوں کے ذریعے پیچیدہ
سے پیچیدہ مسائل کو انتہائی آسان بنا کر پیش کیا۔ چند مثالیں درج ذیل ہیں:
(1) ایمان اور کفر کی مثال (ایمان کے درجات):حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اَلْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ
أَوْ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً، فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا
اللَّهُ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَىٰ عَنِ الطَّرِيقِ، وَالْحَيَاءُ
شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِترجمہ: "ایمان
کی ستر سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں۔ ان میں سب سے اعلیٰ لا الٰہ الا اللہ، کہنا ہے اور سب سے ادنیٰ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے، اور حیا بھی
ایمان کی ایک شاخ ہے۔(صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث: 35)
اس
حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ایمان کو ایک درخت کی مانند قرار دیا جس کی کئی شاخیں ہیں،
اس مثال سے ایمان کی جامعیت اور اس کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔
(2)
پانچ وقت کی نمازوں کی مثال (گناہوں کا دھل جانا): حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهَرًا بِبَابِ
أَحَدِكُمْ، يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ، هَلْ يَبْقَىٰ مِنْ
دَرَنِهِ شَيْءٌ قَالُوا: لَا يَبْقَىٰ مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ. قَالَ:
فَذَلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، يَمْحُو اللَّهُ بِهِنَّ الْخَطَايَا
ترجمہ: بھلا یہ
بتاؤ کہ اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر نہر ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ بار غسل
کرے، تو کیا اس کے جسم پر کوئی میل باقی رہے گا؟ صحابہ نے عرض کیا: نہیں، کوئی میل باقی نہیں رہے گا۔ آپ
ﷺ نے فرمایا: یہی حال پانچوں نمازوں کا ہے، اللہ ان کے ذریعے گناہوں کو مٹا دیتا
ہے۔(صحیح بخاری، کتاب مواقیت الصلاۃ، حدیث: 528، صحیح
مسلم، کتاب المساجد، حدیث: 667)
اس مثال کے ذریعے
آپ ﷺ نے نماز کی فضیلت اور اس کے ذریعے گناہوں کے مٹنے کو نہایت واضح اور عام فہم
انداز میں بیان فرمایا کہ انسان فوراً سمجھ جاتا ہے کہ نماز کس طرح گناہوں کا
کفارہ بنتی ہے۔
(3) نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال (صحبت کا
اثر): رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے فرمایا: مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ
وَنَافِخِ الْكِيرِ، فَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ وَإِمَّا أَنْ
تَبْتَاعَ مِنْهُ وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً، وَنَافِخُ
الْكِيرِ إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً ترجمہ: نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال ایسی ہے
جیسے کستوری بیچنے والا اور بھٹی میں کام کرنے والا۔ کستوری بیچنے والا یا تو تمہیں
کچھ دے گا یا تم اس سے خرید لو گے یا کم از کم تمہیں اس سے اچھی خوشبو تو آئے گی۔
اور بھٹی میں کام کرنے والا یا تو تمہارے کپڑے جلا دے گا یا تمہیں اس سے بری بدبو
آئے گی۔ (صحیح بخاری، کتاب البیوع، حدیث: 2101، صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث:
2628)
اس حدیث میں
آپ ﷺ نے انسانی صحبت کے گہرے اثرات کو سمجھانے کے لیے دو متضاد پیشوں کی مثال دی،
جس سے اس بات کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے کہ ہمیں اپنی صحبت کا انتخاب سوچ سمجھ کر
کرنا چاہیے۔
(4) مال کی مثال (صدقہ کی اہمیت): رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:یَقُولُ ابْنُ آدَمَ:
مَالِي مَالِي، وَهَلْ لَكَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ، أَوْ
لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ، أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ ترجمہ: ابن آدم کہتا ہے کہ میرا مال، میرا مال۔ حالانکہ
تجھے تیرے مال میں سے بس وہی ملا جو تو نے کھا کر ختم کر دیا، یا پہن کر پرانا کر
دیا، یا اللہ کی راہ میں دے کر محفوظ کر لیا۔ باقی سب کچھ تو چھوڑ کر جانے والا ہے
اور لوگوں کے لیے چھوڑ جائے گا۔(صحیح مسلم، کتاب الزھد، حدیث: 2959)
اس مثال سے آپﷺ
نے مال کی حقیقی قدر اور اس کے فانی ہونے کو واضح کیا، اور صدقہ کی اہمیت پر زور دیا
کہ صرف وہی مال فائدہ دے گا جو اللہ کی راہ میں خرچ کیا گیا۔
(5) دنیا کی بے ثباتی کی مثال: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کُنْ فِي الدُّنْيَا
كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ ترجمہ:
دنیا میں ایسے رہو جیسے کوئی مسافر یا راہ چلتا عارضی طور پر ٹھہرنے والا ہوتا ہے۔
(صحیح بخاری، کتاب الرقاق، حدیث: 6416)
یہاں آپ ﷺ نے
دنیاوی زندگی کو ایک عارضی سفر اور دنیا کو ایک سرائے سے تشبیہ دی تاکہ انسان دنیاوی
معاملات میں زیادہ مگن نہ ہو اور آخرت کی تیاری کرے۔
رسول اللہ ﷺ
کا مثالوں سے تربیت فرمانے کا انداز کئی وجوہات کی بنا پر نہایت مؤثر ہے :
(1) پیچیدہ
اور گہری باتوں کو عام فہم بنا دیتا ہے ۔
(2) مثالیں
ذہن میں بیٹھ جاتی تھیں اور دیرپا اثرات مرتب کرتی ہے ۔
(3) خشک نظریات کے بجائے مثالوں سے بیان کی گئی بات دل کو زیادہ
چھوتی ہے ۔
(4) مثالیں اکثر کسی خاص عمل کی ترغیب یا اس سے باز رکھنے کے
لیے دی جاتی ہیں۔
(5) مخاطب کی توجہ حاصل کرنے اور اسے بات سننے پر آمادہ کرنے
کا یہ ایک بہترین طریقہ ہے ۔
قرآن و حدیث کی
روشنی میں یہ بات عیاں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی نبوی حکمت
اور بصیرت سے انسانی نفسیات کا گہرا ادراک رکھتے ہوئے مثالوں کو تبلیغ و تربیت کا
ایک بنیادی جزو بنایا۔ آپ ﷺ کا یہ اسلوب نہ صرف صحابہ کرام کے لیے ہدایت کا باعث
بنا بلکہ آج بھی ہمارے لیے ایک مثالی طریقہ ہے کہ ہم کس طرح دین کے احکامات اور
اقدار کو مؤثر طریقے سے دوسروں تک پہنچا سکتے ہیں۔ آپ ﷺ نے ہر اس موقع پر مناسب
مثال پیش کی جہاں بات کو مزید واضح اور قابلِ فہم بنانے کی ضرورت تھی۔
اللہ تعالٰی سے یہ التجاء ہے کہ اللہ تعالٰی
ہمیں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی
سنّتوں پر عمل کرنے والا بنا دے۔ آمین بجاہِ خاتم النبیّین
صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ہمارے پیارے
آقا سید الانبیاء ﷺ جیسا دانا اور علم و حکمت والا نہ کوئی تھا، نہ ہے اور نہ
ہوگا۔ حضور ﷺ اپنے صحابہ کی کئی طریقوں سے تربیت و رہنمائی فرماتے۔ انہیں طریقوں میں
سے ایک بہترین اور عمدہ طریقہ مثالوں کے ذریعے سمجھانا ہے۔
ایسی کئی روایات ملتی ہیں کہ جن میں حضورﷺ نے کئی موضوعات پر مثالوں کے ذریعے
صحابہ کرام کی تربیت فرمائی۔ ان میں سے چند آپ کے سامنے پیش کی
جاتی ہیں:
(
1)مومن اور کافر کی زندگی کی مثال: وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ :مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ تَفَيِّئُهَا
الرِّيَاح ُتَصْرَعُهَا مَرَّةً وَتَعْدِلُهَا أُخْرىٰ حَتّٰى يَأْتِيهِ أَجَلُهٗ
وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ الَّتِي لَا يُصِيبُهَا
شَيْءٌ حَتّٰى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَة (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
روایت ہے حضرت
کعب ابن مالک سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: مؤمن کی مثال کچی کھیتی کی سی
ہے جسے ہوائیں جھلاتی ہیں کبھی گرادیتی ہیں کبھی سیدھاکرتی ہیں یہاں تک کہ اس کی
موت آجاتی ہے اورمنافق کی مثال مضبوط صنوبر کی سی ہے جسےکوئی آفت نہیں پہنچتی حتی
کہ یکبارگی اس کا اکھڑنا ہوتاہے۔
یعنی مسلمان کی
زندگی بیماریوں،مصائب وتکالیف میں گھری ہوتی ہے جن پر وہ صبرکرکے گناہوں سے پاک و
صاف ہوتا رہتا ہے،منافق و کافر کی زندگی آرام و آسائش سےگزرتی ہے جس سے اس کی
غفلتیں بڑھ جاتی ہیں پھر یکبارگی ہی موت آتی ہے۔یہ قاعدہ اکثریہ ہے کلیہ نہیں۔ (کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:2 , حدیث نمبر:1541)
(
2) اہل بیت کی عظمت، مثال کے ذریعے: عن ابی ذَرٍّ أَنَّهٗ قَالَ وَهُوَ آخِذٌ بِبَابِ الْكَعْبَةِ:
سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَلَا إِنَّ مِثْلَ أَهْلِ
بَيْتِي فِيكُمْ مِثْلُ سَفِينَةِ نُوحٍ مَنْ رَكِبَهَا نَجَا وَمَنْ تَخَلَّفَ
عَنْهَا هَلَكَ(مشکوۃ،حدیث 6183) روایت
ہے حضرت ابو ذر سے کہ انہوں نے کعبہ کا دروازہ پکڑے ہوئے فرمایاکہ میں نے نبی ﷺ کو
فرماتے سنا کہ آگاہ رہو کہ تم میں میرے اہل بیت کی مثال جناب
نوح کی کشتی کی طرح ہے جو اس میں سوار ہوگیا نجات پا گیا اور جو اس سے پیچھے رہ گیا
ہلاک ہوگیا۔
مفتی احمد یار
خان نعیمی فرماتے ہیں کہ دروازہ کعبہ اس لیے پکڑا تاکہ اس حدیث کی اہمیت سننے
والوں کو معلوم ہو جائے۔ اور جیسے طوفان نوحی کے وقت ذریعہ نجات صرف کشتی
نوح علیہ السلام تھی ایسے ہی تاقیامت ذریعہ نجات صرف محبت اہل بیت اور ان کی اطاعت
ان کی اتباع ہے،بغیر اطاعت و اتباع دعویٰ محبت بے کار ہے۔ (کتاب:مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ،حدیث نمبر:6183)
(3)
نیکیوں کی ترغیب، مثال کے ذریعے: عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ-: إِنَّ مَثَلَ الَّذِي يَعْمَلُ السَّيِّئَاتِ ثُمَّ يَعْمَلُ
الْحَسَنَاتِ كَمَثَلِ رَجُلٍ كَانَتْ عَلَيْهِ دِرْعٌ ضَيِّقَةٌ قَدْ خَنَقَتْهُ،
ثُمَّ عَمِلَ حَسَنَةً فَانْفَكَّتْ حَلْقَةٌ، ثُمَّ عَمِلَ أُخْرٰى فَانْفَكَّتْ
أُخرٰى حَتّٰى تَخْرُجَ إِلَى الأَرْضِ مشکوۃ، (حدیث 2371)
روایت ہے حضر ت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں
فرمایا رسول ﷺ نے: اس شخص کی مثال جو پہلے گناہ کرتا ہو پھر نیکیاں
کرنے لگے اس کی سی ہے جس پر تنگ زرہ تھی جو اس کا گلا
گھونٹ رہی تھی پھر اس نے ایک نیکی کی تو ایک چھلا کھل گیا پھر
دوسری نیکی کی تو دوسرا کھل گیا حتی کہ وہ زرہ زمین پر گر گئی۔
مراة المناجیح
میں حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی اس کے متعلق کچھ یو بیان فرماتے ہیں:گناہ
چھوڑ کر یا گناہ کے ساتھ ساتھ بعض لوگ پہلے صرف گناہ کرتے ہیں بعد میں گناہ چھوڑ
کر صرف نیکیاں کرنے لگتے ہیں یہ تو اعلیٰ درجہ کے ہیں اور بعض لوگ پھر بعد میں
اگرچہ گناہ کرتے رہیں مگر نیکیاں بھی کرنے لگتے ہیں یہ بھی غنیمت ہے۔غالب یہ ہے کہ
یہاں پہلی جماعت مراد ہے۔
یہ بہت نفیس
مثال ہے کہ جیسے زرہ سارے جسم کو گھیر لیتی ہے،اور اگر تنگ ہو تو تمام بدن کو تکلیف
دیتی ہے ایسے ہی گناہوں میں گھرا ہوا ہر طرح برا ہوتا ہے اللہ
کے نزدیک بھی اور بندوں کی نگاہ میں بھی اس کو قلبی کوفت بھی رہتی ہے،نیکی سے دل
کو خوشی ہوتی ہے،گناہ سے دل کو رنج اگرچہ کبھی یہ خوشی و غم بعض اوقات محسوس نہ
ہوں۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 ، حدیث نمبر:2375)
(4)
اللہ کا ذکر کرنے والے کی مثال:وَعَنْ أَبِيْ مُوْسٰى قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ: مَثَلُ الَّذِيْ يَذْكُرُ رَبَّهٗ وَالَّذِيْ لَا يَذْكُرُ مَثَلُ
الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ (صحیح بخاری،حدیث
6407)روایت ہے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں، رسول ﷺ نے فرمایا : اس کی مثال جو رب کا ذکر کرے اور جو
نہ کرے زندہ و مردہ کی سی ہے۔
یعنی جیسے
زندہ کا جسم روح سے آباد ہے مردہ کا غیر آباد،ایسے ہی ذاکر کا دل ذکر سے آباد ہے
غافل کا دل ویران یا جیسے شہروں کی آبادی زندوں سے ہے مردوں سے نہیں ایسے ہی آخرت
کی آبادی ذاکرین سے ہے غافلین سے نہیں،یا جیسے زندہ دوسروں کو نفع و نقصان
پہنچاسکتا ہے مردہ نہیں،ایسے اللہ کے ذاکر سے نفع و نقصان خلق
حاصل کرتی ہے غافل سے نہیں۔ (کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 ، حدیث نمبر:2263)
(5)
دنیا کی مثال: عَنْ أَنَسٍ
قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: مَثَلُ هَذِهِ الدُّنْيَا
مَثَلُ ثَوْبٍ شُقَّ مِنْ أَوَّلِهِ إِلَى آخِرِهِ فَبَقِيَ مُتَعَلِّقًا بِخَيْطٍ
فِي آخِرِهِ، فَيُوشِكُ ذَلِكَ الْخَيْطُ أَنْ يَنْقَطِعَ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ
فِي شُعَبِ الإِيمَان (مشکوۃ،حدیث
5515)
روایت ہے حضرت
انس سے فرماتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اس دنیا کی مثال اس کپڑے
کی سی ہے جو اول سے آخر تک کاٹ دیا گیا پھر وہ آخر میں ایک دھاگے سے ہلکا رہ گیا ،
قریب ہے کہ یہ دھاگہ ٹوٹ جاوے۔
تشبیہ نہایت ہی
بلیغ ہے جس میں بتایا گیا ہے دنیا اب قریب الختم ہے مگر یہ قرب رب تعالٰی کے علم
کے لحاظ سے ہے نہ کہ ہمارے حساب سے،وہاں کا ایک دھاگہ بھی بہت دراز ہوتا ہے اس لیے
یہ نہیں کہاجاسکتا کہ قریبًا اس فرمان کو چودہ سو برس ہوچکے اب تک وہ دھاگہ ٹوٹا ہی
نہیں۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:7 , حدیث نمبر:5515)
بے شک حضور ﷺ
کا ہر فرمان تمام امت مسلمہ کے لیے دنیا اور آخرت میں کامیابی کا سرچشمہ ہے۔ حضورﷺ
کے فرامین کی پیروی کر کے ہی ہم اپنی دنیا اور آخرت دونوں
سنوار سکتے ہیں۔لہذا جن چیزوں سے حضورﷺ نے منع فرمایا ان سے ہمیشہ پرہیز کرنا اور
جن چیزوں کا حکم فرمایا ان پر عمل کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں اپنے کےمحبوب دانائے
غیوبﷺ کے نقشے قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
محمد اسد جاوید (دورہ حدیث مرکزی
جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ، پاکستان)
حضرت محمد
مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اور آپ کو معلم بنا کر بھیجا گیا ، آپ ﷺ نے
دین کی باتیں سمجھانے کے لیے کئی طریقے اپنائے جیسا کہ براہِ راست نصیحت
کرنا،سوالات کے جوابات دینا،عملی نمونہ پیش کر کے تربیت فرمانا اور خاموشی یا
خاموش رویہ اختیار کر کے سمجھانا وغیرہ انہیں میں سے ایک طریقہ مثال دے
کر تربیت فرمانا بھی ہے ، انسانی فطرت ہے کہ وہ آسان بات جلدی سمجھتا ہے خاص طور
پر جب کوئی بات مثال دے کر سمجھائی جائے تو وہ دل میں اتر جاتی ہے اور لمبے عرصے تک
یاد رہتی ہے، نبی پاک ﷺ نے بہت
سے موقعوں پر دین کی اہم باتوں کو آسان اور سادہ مثالوں سے بیان فرمایا۔ ذیل میں انہیں مثالوں پر مشتمل چند احادیث بیان ذکر کی
جاتی ہیں:
(1) صاحب قرآن کی مثال اونٹ مالک کی مانند: قرآن پاک پڑھنے ، اسے یاد رکھنے کی ترغیب دیتے
ہوئے صاحب قرآن کو اونٹ کے مالک سے تشبیہ دی کہ جس طرح وہ اونٹ کو باندھ کر رکھے
گا تو اس سے قابو میں رہے گا ورنہ وہ بھاگ جائے گا اسی طرح قرآن پاک کو پڑھنا چھوڑ
دیں گے تو وہ بھی سینوں سے نکل جائے گا ، حضرت ابن عمر رضی اللہ
عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ
الْقُرْآنِ كَمَثَلِ صَاحِبِ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ ، إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا
أَمْسَكَهَا وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ ، قرآن کے
حافظ کی مثال اس اونٹ والے کی سی ہے جس نے اونٹ کو مضبوطی سے باندھ رکھا ہو۔ اگر
وہ اس (اونٹ) کی نگرانی کرتا رہے تو اسے قابو میں رکھے گا اور اگر اسے چھوڑ دے تو
وہ بھاگ جائے گا۔( صحیح بخاری،کتاب فضائل القرآن،باب استذکار القرآن و تعاھدہ،حدیث:5031)
(2) پانچوں نمازوں کی مثال دن میں پانچ بار غسل
کرنے سے: الله پاک کے آخری نبی
محمد عربی ﷺ نے پانچوں نمازیں پڑھنے والے کو نہر میں پانچ بار غسل کرنے والے سے
تشبیہ دی کہ جس طرح اس کے جسم پر میل کا اثر باقی نہیں رہتا اسی طرح پانچوں نمازیں
ادا کرنے والا شخص گناہوں کے میل سے پاک و صاف ہو جاتا ہے ، حضرت سیدنا ابو ہریرہ
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ
نَهَرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا، مَا تَقُولُ:
ذَلِكَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ قَالُوا: لَا يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا ، قَالَ:
فَذَلِكَ مِثْلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، يَمْحُو اللَّهُ بِهَا الْخَطَايَا
بتاؤ اگر تم میں
سے کسی کے دروازے پر ایک نہر ہو، جس میں وہ روزانہ پانچ بار غسل کرے، تو کیا اس کے
جسم پر کچھ میل کچیل باقی رہے گا؟ صحابہ نےعرض کی : نہیں، کچھ بھی میل باقی نہیں رہے گا ، آپ ﷺ نے فرمایا: یہی
مثال پانچ نمازوں کی ہے، جن کے ذریعے اللہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ (صحیح بخاری، کتاب المواقیت،باب الصلوات الخمس،حدیث: 528
)
(3) مومن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح: مومن کو کجھور کے درخت سے تشبیہ دی کہ جس طرح
کھجور کا درخت ہر حالت میں فائدہ مند ہوتا ہے چاہے اس کا پھل ہو یا لکڑی یا پھر اس
کی شاخیں اسی طرح ایک مرد مومن بھی اپنے تمام تر افعال سے دوسرے لوگوں کو فائدہ ہی
پہنچاتا ہے ،حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ
شَجَرَةً لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا، وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ، فَحَدِّثُونِي
مَا هِيَ فَوَقَعَ
النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَوَقَعَ فِي نَفْسِي
أَنَّهَا النَّخْلَةُ، فَاسْتَحْيَيْتُ، ثُمَّ قَالُوا: حَدِّثْنَا مَا هِيَ يَا
رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: هِيَ النَّخْلَةُ
درختوں میں ایک
درخت ایسا ہے جس کے پتے نہیں گرتے، اور وہ مسلمان کی مثال ہے، بتاؤ وہ کون سا درخت
ہے؟ لوگ جنگل کے درختوں میں سوچنے لگے۔ حضرت عبداللہ بن عمر کہتے ہیں: میرے دل میں
آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے، مگر میں شرما گیا۔ پھر لوگوں نے عرض کیا: یا رسول
اللہ! بتایئے وہ کون سا درخت ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ
کھجور کا درخت ہے۔ (صحیح بخاری، کتاب العلم، باب الحیاء فی العلم، حدیث: 131)
(4) نیک و بد دوست کی مثال: نیک و بد دوست میں فرق بیان کرتے ہوئے دونوں کی
مثال دی کہ نیک دوست عطر فروش کی طرح ہے اس سے ہر وقت خوشبو ہی آئے گی اور برا
دوست لوہار کی طرح ہے دور سے گزریں تو بھی آگ پڑنے کا خطرہ رہتا ہے ، حضرت ابوموسیٰ
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ، كَحَامِلِ
الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ، فَحَامِلُ الْمِسْكِ: إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ،
وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً،
وَنَافِخُ الْكِيرِ: إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا
خَبِيثَةً نیک اور برے ساتھی کی
مثال ایسی ہے جیسے عطر بیچنے والا اور لوہار کی بھٹی والا۔ عطر والا یا تو تمہیں
کچھ دے دے گا، یا تم اس سے کچھ خرید لو گے، یا تمہیں اس کی خوشبو پہنچے گی۔ اور
لوہار کی بھٹی والا یا تو تمہارے کپڑے جلا دے گا یا تمہیں اس سے بدبو محسوس ہو گی۔(صحیح
بخاری، کتاب الذبائح والصید، باب الجزار، حدیث: 5534)
(5) نفاق سے بچنے کی ترغیب: نفاق سے بچنے کی ترغیب دلاتے ہوئے منافق کی مثال ارشاد
فرمائی کہ وہ اس بکری کی طرح ہے جو دو بکروں کے پاس جائے یعنی منافق شخص کسی کا بھی
مخلص نہیں ہوتا ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے
کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: مَثَلُ
الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ، تَعِيرُ إِلَى
هَذِهِ مَرَّةً، وَإِلَى هَذِهِ مَرَّةً منافق
کی مثال اس بکری کی مانند ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان حیران پھرتی ہے، کبھی ایک طرف
جاتی ہے اور کبھی دوسری طرف۔(صحیح مسلم، کتاب الزکاة، باب ذکر المنافقين واحکامهم،
حدیث نمبر: 7043)
(6) مسئلہ
ختمِ نبوت مع مثال: ختم نبوت کے مسئلہ کو
ذہنوں میں پختہ کرنے کے بہت پیاری مثال دے کر سمجھایا، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ
سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مَثَلِي
وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ، كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بُنْيَانًا فَأَحْسَنَهُ
وَأَجْمَلَهُ، فَجَعَلَ النَّاسُ يُطِيفُونَ بِهِ، وَيَقُولُونَ: مَا رَأَيْنَا
بُنْيَانًا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا، إِلَّا هَذِهِ اللَّبِنَةَ، فَكُنْتُ أَنَا
تِلْكَ اللَّبِنَةَ
میری اور مجھ
سے پہلے انبیا کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک خوبصورت عمارت بنائی ہو، مگر ایک
اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی ہو۔ لوگ اس عمارت کے گرد گھومتے اور اس کی خوبصورتی پر حیران
ہوتے مگر کہتے: کاش یہ اینٹ بھی لگ جاتی۔ تو میں وہ آخری اینٹ ہوں۔(صحیح مسلم،
کتاب الفضائل، باب ذکر کونہ خاتم النبیین ﷺ، حدیث:2286)
مثال
کی اہمیت اور حکمت: مثال کی اہمیت تعلیم و تربیت میں بہت بنیادی حیثیت رکھتی ہے،
جب کوئی بات ذہنی طور پر مشکل ہو، تو مثال اسے سادہ اور قابلِ فہم بنا دیتی
ہے۔مثال دینا تربیت کا نہایت حکیمانہ طریقہ ہے۔ یہ بات کو واضح کرتی ہے،یادگار
بناتی ہے،سننے والے کی دلچسپی قائم رکھتی ہےاور دل و دماغ دونوں کو متاثر کرتی
ہے۔انسانی دماغ تصویری یا عملی مثالوں کے ذریعے سمجھائی جانے والی بات کوجلدی
سمجھتا اور زیادہ عرصہ یاد رکھتا ہے۔
حضور اکرم ﷺ
کا اندازِ تربیت نہایت مؤثر اور محبت پر مبنی ہے، سرکار
مدینہ ﷺ نے نرمی، مثالوں، سوال و جواب اور عملی نمونہ کے ذریعے لوگوں کی تربیت
فرمائی۔ یقیناً نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تعلیم و تربیت کے لیے مثال کے
ذریعے سمجھانے کو کثرت سے استعمال فرمایا۔ ذیل میں احادیث مبارکہ سے
کچھ حکمت آموز مثالیں پیش کی جا رہی ہیں:
پہلی مثال : صحبت کا اثر : حضرت ابو موسیٰ رضی
اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
اچھے برے ساتھی کی مثال مشک کے اٹھانے اور بھٹی دھونکنے والے کی سی ہے۔ مشک بردار یا تمہیں کچھ دے دے گا یا تم اس سے خرید لو گے
اور یا تم اس سے اچھی خوشبو پالو گے۔ اور بھٹی دھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلادے
گا اور یا تم اس سے بدبو پاؤ گے ۔ (بخاری، کتاب البیوع باب فی العطار وبيع المسک ۲/۲۰، الحدیث: (۲۱۰۱)
بیان کردہ حدیث
مبارکہ کی تشریح وتوضیح کرتے ہوئے ، حکیم الامت مُفتی احمدیار
خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:سُبْحٰنَ اللہ(عَزَّ وَجَلَّ)!کیسی پاکیزہ مثال ہے جس کے ذریعے سمجھایا گیا
ہے کہ بُروں کی صحبت فائدہ اور اچھوں کی صحبت نُقصان کبھی نہیں دے سکتی،بھٹّی والے
سے مُشک نہیں ملے گا گرمی اور دُھواں ہی ملے گا،مُشک والے سے نہ گرمی ملے نہ دھواں
مُشک یا خوشبو ہی ملے گی۔(حدیثِ پاک کے اس حصے”مُشک والا یا تو تجھے مُشک ویسے ہی
دے گا یاتُو اس سے خرید لے گا، اور کچھ نہ سہی تو خوشبو توآئے گی“ کی شرح میں مفتی
صاحب فرماتے ہیں:)یہ اَدنیٰ نفع کا ذکر ہے ،مشک خرید لینا یا اس کا مُفت ہی دے دینا
اعلیٰ نفع ہے جس سے ہمیشہ فائدہ پہنچتا رہے گا اور صرف خوشبو پالینا اَدنیٰ نفع
ہے۔خیال رہے کہ ابُوجہل وغیرہ دشمنانِ رسول،حضور(صَلَّی اللہ تَعَالٰی
عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کے پاس حاضر ہوئے ہی نہیں، وہاں حاضری مَحَبَّت سے
حاصل ہوتی ہے۔(حدیثِ پاک کے اس حصے”اور وہ دوسرا تیرے کپڑے جلادے گا یاتُو اس سے
بدبوپائے گا“کی وضاحت میں مفتی صاحب فرماتے ہیں:)اس فرمانِ عالی کا مقصد یہ ہے کہ
حتَّی الْامکان بُری صحبت سے بچو کہ یہ دِین و دنیا برباد کردیتی ہے اور اچھی صحبت
اختیار کرو کہ اس سے دِین و دُنیا سنبھل جاتے ہیں۔ سانپ کی صحبت جان لیتی ہے،بُرے یار
کی صحبت ایمان برباد کردیتی ہے۔(مرآۃ المناجیح،۶/۵۹۱)
دوسری مثال : مسلمانوں کے حقوق اور اُن کی عظمت
کا بیان: مسلم شریف میں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہُ
عنہما سے روایت ہے کہ رسولِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ
فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ اِذَا
اشْتَكىٰ مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعىٰ لَهٗ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى ترجمہ: مؤمنوں کی مثال ایک دوسرے کے ساتھ محبت،
رحمت اور شفقت کرنے میں جسم کی طرح ہے، جب اس کا ایک حصہ بیماری میں مبتلا ہوتا ہے
تو سارا جسم بےخوابی اور بخار میں اس کے ساتھ شریک ہوجاتا ہے۔ (مسلم، ص١٠٧١، باب تراحم المؤمنین
وتعاطفھم وتعاضدھم،حدیث:٦٥٧٦)
عَلَّامَہ
بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : “ علامہ کرمانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایاکہ بخار ایک
حرارتِ غریبہ ہے جو دِل میں پیدا ہوتی ہےاور پورے بدن
میں پھیل جاتی ہےجس سے پورے بدن کو تکلیف ہوتی ہے۔ اِس حدیث پاک میں مسلمانوں کے حقوق کی تعظیم ، ایک دوسرے کی مددکرنےاور ایک
دوسرے کے ساتھ نرمی کرنے کادرس دیاگیاہے۔‘‘
فقیہ اَعظم ،
حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق اَمجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ
القوی فرماتے ہیں : ’’یعنی تکلیف اور راحت میں تمام
اَعضاء آپس میں موافق ہوجاتے ہیں اور ایک دوسرے کو دُکھ میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔
اِس حدیث سے مسلمانوں کے حقوق کی عظمت ، اُن کی معاونت اور ایک دوسرے سے شفقت واضح
ہوتی ہے۔ ‘‘ (فيضان رياض الصالحین جلد : ٣,باب حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان۔ حدیث نمبر :
٢٢٤)
تیسری مثال: گناہوں سے پاک ہونے کا آسان طریقہ :
عَنْ
جَابِرٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ كَمَثَلِ نَهْرٍ جَارٍ غَمْرٍ
عَلَى بَابِ اَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ”
پانچوں نمازوں کی مثال اس بھری ہوئی نہر کی طرح ہے جو تم میں سے کسی کے دروازے کے پاس سے گزر رہی ہواور وہ اس میں ایک دن میں
پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو ۔ (فيضان رياض الصالحین جلد :٤, حدیث نمبر : ٤٢٩)
اس حدیث پاک میں
فرمایا: ” کہ جو نہر تم میں سے کسی کے دروازے کے پاس سے گزر رہی ہو ۔ “یعنی جس طرح
گھر کے دروازے پر موجود نہر تک تم با آسانی پہنچ سکتے اور اس میں نہاکر اپنا میل
کچیل دُور کر سکتے ہو اِسی طرح نماز تک پہنچنے کے لیے تمہیں
کوئی مشکل جھیلنے کی ضرورت نہیں ، تم باآسانی نماز پڑھ کر اپنے آپ کو گناہوں سے
پاک کر سکتے ہو ۔نماز یا دیگر عبادات سے صرف صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں کبیرہ گناہ
توبہ سے ہی معاف ہوتے ہیں ۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں پانچوں نمازیں باجماعت تکبیر اولیٰ
کے ساتھ پہلی صف میں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، نمازوں کی برکت سے ہمارے تمام
صغیرہ کبیرہ گناہوں کو معاف فرمائے ۔
(نوٹ: اس
موضوع پر کتب احادیث میں کئی اور مثالیں بھی موجود ہیں ۔جن میں
حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے امت کی اصلاح و رہنمائی کے لیے مثال
کے ساتھ تربیت فرمائی ہے۔)
نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھنے، علمِ دین حاصل
کرنے اور فرض علوم سیکھنے کا ایک بہترین ذریعہ عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ
اسلامی کے تحت ہونے والے اجتماعات و مدنی مذاکروں میں شرکت کرنا ہے۔
اسی سلسلے میں 22 نومبر 2025ء بمطابق 1جمادی الاخری 1447ھ کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں”ہفتہ
وار مدنی مذاکرے“ کا انعقاد کیا گیا جس میں کثیر اسلامی بھائیوں نے براہِ راست
اور بذریعہ مدنی چینل شرکت کی۔
معلومات کے مطابق بعد نمازِ عشا شروع ہونے والے
اس مدنی مذاکرے میں عاشقانِ رسول کی جانب سے مختلف سوالات کئے گئے جن کے شیخِ
طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد
الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے جوابات ارشاد فرمائے۔
بعض سوال و جواب
سوال:لوگوں کی موجودگی میں کیا احتیاط کی جائے ؟
جواب:لوگوں کے سامنے ہر اُس بات سے بچنا چاہیئے
جس سے کراہیت آئے، بغیر مجبوری تُھوکنا، بدن کھجانا ،بدن سے میل جدا کرنا، دانتوں
سے ناخن کاٹنا، زورسے چھینکنا اور بلند آواز سے کھانسنا، عموماً لوگ ان کاموں کو
پسند نہیں کرتے،اس وجہ سے آپ کی نیکی کی
دعوت خوش دِلی سے نہیں سنیں گے ۔اس طرح کے
آداب سوچنے اورتجربے سے حاصل ہوں گے ۔
سوال:کمانے کھانے میں کیا بات پیشِ نظر رکھی جائے؟
جواب:بندہ تھوڑا کمائے مگر حلال کمائے اور کسی کو ہرگز تکلیف نہ
دے۔مال کمانے سے منع نہیں ہے مگر بندہ حرص نہ کرے، مال کے حقوق ادا کرے یعنی زکوٰۃ
کی ادائیگی بروقت کرے۔
سوال:عبادت اچھے انداز سے ہونے پر خوشی اوردُشواری ہونے پر غم ہونا کیسا؟
جواب:یہ کیفیت فطری ہے اور اللہ و رسول عزوجل و صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے محبت کی علامت ہے ۔
سوال:کئی ایک نوجوان فضول کاموں میں لگےرہتے ہیں مگر
فرض علم سے دُور ہوتے ہیں ،آپ کیا فرماتے
ہیں ؟
جواب:علمِ دین حاصل کرنا افضل عبادت ہے ،ضرورت کے
احکام و مسائل جاننا فرض ہیں ،یہ سب کے لئے
فرض ہے اس کے لئے دِینی ماحول کی ضرورت ہے ،دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول میں رہیں گے تو فرض علوم سیکھنے کی سعادت ملے گی ،نیک اعمال پر
عمل اور قافلوں میں عاشقانِ رسول کے ساتھ سفر کرنے سے علمِ دین حاصل کرنے کا
جذبہ ملے گا، گناہوں سے بچنے کا ذہن بنے
گا۔ اس طرح آپ معاشرے کے اچھے انسان بن
کر اُبھریں گے ۔
سوال:بعض نادان کاروبار میں دھوکہ دیتے ہیں ،کسی طرح بھی اپنی چیزیں بیچنے
کی کوشش کرتے ہیں، آپ کیا فرماتے ہیں ؟
جواب:فرمانِ مصطفی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم:مَنْ غَشَّنَافَلَیْسَ
مِنَّا یعنی جس نے ہمارے ساتھ
دھوکہ کیا وہ ہم میں سے نہیں۔(مسلم،
ص45، حدیث: 101) علامہ عبدالرؤف مناوی رحمۃ اللہ علیہ
لکھتے ہیں: کسی چیز کی ( اصلی ) حالت کو پو شیده رکھنا دھوکہ ہے۔(فيض القدير، ج
4، ص 240، تحت الحديث: 8879) ہر دھو کہ دینے والے کے لئے قیامت کے دن ایک
جھنڈا ہوگا جس کے ذریعے وہ پہچانا جائے گا۔(بخاری شریف، حدیث:6966)دھو
کہ دینے والوں کو اللہ پاک سے ڈرنا چاہیئے ،سچی توبہ کر کے معافی
تلافی کرنی چاہیئے ۔
سوال:مسجد الحرام میں جس مقام پر حضرت ابراہیم علیہ السلام
کے مبارک قدموں کے نشان ہیں، اس مقام
کا کیا نام ہے؟
جواب:مقامِ ابراہیم (علیہ
السلام)۔
سوال:صفا اور مروہ کے درمیان جہاں کچھ دوڑا جاتا ہے، اس جگہ کو کیا کہتے ہیں ؟
جواب: مِیْلَیْن اَخْضَرَیْن۔
سوال:اِس ہفتے کارِسالہ ” کتاب راہِ علم سے 72 مدنی پھول “ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
جواب:یا ربِّ مصطفٰے! جو کوئی 20 صفحات
کا رسالہ ”کتاب راہِ علم سے 72 مدنی پھول“ پڑھ یا سُن لے اُسے علمِ
دین حاصل کرنے کا شوق عطا فرما کر ماں باپ اور خاندان سمیت بے حساب بخش دے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
محمد طحہ جاوید ( درجہ ثانیہ جامعۃ
المدینہ فیضانِ بہارِ مدینہ اورنگی کراچی ، پاکستان)
اسلام ایک
مکمل ضابطۂ حیات ہے جو نہ صرف عقائد،عبادات اور معاملات کو سنوارتا
ہے بلکہ تربیتِ نفس اور حسنِ سلوک کی بھی بنیاد فراہم کرتا ہے۔نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ انسانیت کے لیے کامل نمونہ ہے جنہیں
اللہ تبارک و تعالٰی نے نہ صرف وحی کا حامل بنا
کر بلکہ ”معلّمِ انسانیت“ بنا
کر بھی مبعوث فرمایا ۔ فرمان مصطفی ﷺ ہے : اِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلَّمًا
ترجمہ : بیشک
مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ (سنن ابنِ ماجہ،کتاب السنہ، باب : فضل العلماء
والحث علی طلب العلم،حدیث نمبر: 229 ، صفحہ نمبر 75 )
آپ ﷺ کی تعلیمات میں مثالوں سے تربیت فرمانا ، ایک عظیم اسلوب ہے ،آپﷺ نے تعلیم و تربیت کا وہ حسین
و مؤثر انداز و اسلوب اپنایا جس میں نہ تو جبر تھا اور نہ ہی
سختی تھی بلکہ محبت ،تمثیل ،تشبیہ اور حکمتیں تھی آپ ﷺ نے معرفتِ خدا سے لیکر
زندگی گزارنے کے ہر پہلو کی مثالوں سے تربیت فرمائی تاکہ لوگوں کے قلوب و اذہان میں بات اتر جائےاور با آسانی
سمجھ آجائے۔ یہ مضمون انہی مثالی اندازِ تربیتِ نبویﷺ کی عکاسی کرے گا۔
(1)
ختم نبوت کی مثال : اسی طرح جب
آپ ﷺ نے انبیا اور اپنے آخری نبی ہونے کی تعلیم و تربیت فرمائی تو
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : میری اور مجھ سے پہلے تمام انبیا کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک گھر بنایا اور اس میں ہر طرح کی زینت و زیبائش سے اس کو آراستہ کیا لیکن
کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوٹ
گئی اب تمام لوگ آتے ہیں اور مکان کو چاروں طرف سے
گھوم کر دیکھتے ہیں اور تعجب میں پڑجاتے ہیں لیکن یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ یہاں پر
ایک اینٹ کیوں نہ رکھی گئی؟ تو میں ہی وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔ (صحیح
بخاری، کتاب المناقب، باب خاتم النبیین ﷺ ، حدیث نمبر : 3535، صفحہ نمبر 1619 )
یہ
مثال واضح کرتی ہے کہ آپ ﷺ نے انبیائے کرام کی عمارت کو مکمل کرنے والی آخری اینٹ
کی حیثیت سے خود کو بیان فرمایا ۔یہ ختمِ نبوت کا بیان نہایت
خوبصورت تشریحی انداز ہے جو عقیدے کو واضح اور مضبوط بناتا ہے۔
(3)
رحمۃ للعالمین کی صفت کی مثال : اسی طرح جب آپ نے جہنم کی بات سمجھانی چاہی اور اپنی رحمت و شفقت کی تعلیم و تربیت
فرمائی تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا: میری
اور لوگوں کی مثال ایک ایسے شخص کی ہے جس نے آگ جلائی ،جب اس کے چاروں طرف روشنی
ہوگئی تو پروانے اور کیڑے مکوڑے جو آگ پر گِرتے ہیں اس میں گِرنے لگے اور آگ
جلانے والا انہیں اس میں سے نکالنے لگا لیکن وہ اس کے قابو میں نہیں آئے اور آگ میں
گرتے رہے اسی طرح میں تمہاری کمر کو پکڑ کر آگ سے تمہیں نکالتا
ہوں اور تم ہو کہ اسی میں گرتے جاتے ہو۔( صحیح البخاری،کتاب الرقاق، باب الانتھاء
عن المعاصی، حدیث نمبر: 6483، صفحہ نمبر 2866
)
اس
مثال میں نبی کریم ﷺ نے بتایا کہ جیسے ایک شخص آگ جلا کر کیڑے مکوڑے کو اس سے
بچانے کی کوشش کرے ویسے ہی آپﷺ لوگوں کو جہنم سے بچانے کے لئے روک رہے ہیں۔ یہ آپﷺ
کی رحمت و شفقت کی اعلی مثال ہے۔
(4)
مومن کی مثال : اسی طرح جب آپ نے
مومن کی صفات سمجھانی چاہی اور مومن کو کس طرح ہونا چاہئے اس
کی تربیت فرمائی تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا : مومن کی مثال پودے
کی پہلی نکلی ہوئی ہری شاخ جیسی ہے کہ جب بھی ہوا چلتی ہے اسے جھکا دیتی ہے پھر وہ
سیدھا ہو کر مصیبت برداشت کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور بدکار کی مثال صنوبر کے درخت جیسی ہے کہ سخت ہوتا ہے اور سیدھا کھڑا
رہتا ہے یہاں تک اللہ تعالٰی جب چاہتا ہے اسے اکھاڑ کر پھینک دیتا ہے۔ (صحیح
البخاری، کتاب المرضی، باب ما جاء فی کفارۃ المرض، حدیث نمبر : 5644، صفحہ نمبر 2548 )
یہ مثال مومن
کی صبر اور عاجزی کی تعلیم دیتی ہے کہ مومن آزمائشوں میں
جھکتا رہتا ہے مگر پھر اٹھتا ہے ، جیسے فصلیں جھکتی اور سنبھلتیں ہیں لیکن جو شخص
تکبر کرتا ہے بدکار ہوتا ہے تو اللہ اسے برباد کر دیتا ہے ۔
محمدابراہیم ( تخصص فی الحدیث مرکزی
جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ، پاکستان)
کسی بھی چیز کی مثال بیان کرنے کا مطلب کسی ایسے جزئیہ کوبیان کرنا جو اس چیز کی وضاحت کیلئے ہو
اورمثال سے مقصود تفہیم ہوتی ہے۔اورمثال اپنےممثل لہ کا عین یا غیر ہے ۔صوفیا فرماتے ہیں کہ مثال اپنے
ممثل لہ کا عین
ہے،جبکہ اہل شرع کے نزدیک غیر ہے ۔اوربعض نے کہا نہ عین ،نہ غیر ہے۔اورمثال میں
کامل مشابہت کاہونا ضروری ہے ۔کیونکہ کثرت حروف کثرت معنی پر دلالت کرتے ہیں ۔مثل
اور مثال یہ نصوص میں دوالفاظ استعمال
ہوتے ہیں۔ان میں کچھ فرق ہے کہ مثل تمام اوصاف میں مشترک ہوتی جبکہ مثال کسی ایک وصف میں مشترک ہویانہ ہو۔کسی بھی
چیز کومثال سے بیان کرنے میں سنت الہیہ وسنت نبویہ بھی ہے۔کہ قرآن مجیدواحادیث کریمہ میں کئی مقامات پر مثالوں کے دریعے بات
کوسمجھایا گیاہے ۔جیسا کہ اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتاہے:
وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا
یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءًؕ-صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا
یَعْقِلُوْنَ (۱۷۱)ترجمہ کنزالایمان: اور کافروں کی کہاوت اس کی سی
ہے جو پکارے ایسے کو کہ خالی چیخ و پکار کے سوا کچھ نہ سنے بہرے گونگے اندھے تو انہیں
سمجھ نہیں۔ (پ2، البقرۃ: 171)
اس آیت میں کافروں کی مثال بیا ن فرمائی گئی کہ جس
طرح جانوروں کا ایک ریوڑ ہو اور ان کا مالک انہیں آواز دے تو وہ محض ایک آواز تو
سنتے ہیں لیکن مالک کے کلام کا مفہوم نہیں سمجھتے، یونہی کافروں کا حال ہے۔
اوراب احادیث کی طرف آتےہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ
وسلم نے مثالوں کے ذریعے کیسی تربیت فرمائی ۔ جیسا کہ مسلم شریف کی حدیث پاک حضرت
جابربن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: دن میں پانچ نمازیں پڑھنے والے کی مثال اس طرح ہے کہ تمہارے دروازے کے
سامنے جاری نہر میں دن میں پانچ مرتبہ نہائے۔فرمایا کیااس میں کوئی میل باقی رہے
گی ؟ (یعنی نمازی بھی اسی طرح گناہوں سے پاک ہوجاتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ کی میل نہیں
ہوتی ۔) (المسلم،مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشيری النيسابوری (المتوفى: 261ھ)،رقم٢٨٤،ج١،ص٤٦٣،دار
إحياء التراث العربی بيروت)
اور صحیح
بخاری شریف کی حدیث پاک حضرت ابو موسی اشعری
رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا :کہ قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال سنگترے کی طرح ہے جسکا ذائقہ وبو اچھی ہے ۔قرآن پاک نہ پڑھنے والے کی مثال کھجور کی طرح ہے کہ
جسکی بو نہیں لیکن ذائقہ میٹھا ہے ۔اورقرآن پاک پڑھنے
والے منافق کی مثال ریحانہ کی طرح ہے جسکاذائقہ
کڑوااور بو اچھی ہے۔اور قرآن پاک نہ
پڑھنے والے منافق کی مثال حنظلہ کی طرح ہے جس کیلئے بو نہیں اور ذائقہ کڑوا ہے۔(
صحيح بخاری،الامام البخاری الجعفی،رقم٥٤٢٧،ج٧،ص٧٧،دار طوق النجاة)
اس حدیث پاک
میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے مومن ومنافق قرآن پڑھنے ونہ
پڑھنے والے کے درمیان بڑے احسن وسہل مثالوں کے ساتھ فرق فرمایا ہے۔
تیسیر بشرح
جامع الصغیر میں ایک حدیث پاک حضرت عبداللہ بن عمر رضی
اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کہ
مومن کی مثال عطار(عطربیچنے والا)کی طرح ہے کہ اوراگر اسکے ساتھ چلے توتجھے نفع
دےاوراگر اسکاشریک ہو توتجھے نفع دے۔
امام نووی
رحمہ اللہ اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں کہ اس حدیث پاک میں علماوصلحا کی
صحبت کی طرف راہنمائی فرمائی گئی ہے ۔کیونکہ اس میں دنیاوآخرت کانفع ہے۔ (التيسير
بشرح الجامع الصغير،الامام المناوی القاهری (المتوفى: 1031ه)،ج٢،ص٣٧٢،مكتبۃ
الامام الشافعی الرياض)
اورصحیح
البخاری شریف کی حدیث پاک حضر
ت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
میری مثال اورمجھ سے پہلے انبیاء کرام علیہم السلام کی مثال اس طرح ہے کہ ایک آدمی
نے بڑا حسین وجمیل مکان بنایا لیکن دیوار میں سے ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی ۔توجب لوگوں نے مکان کےاردگرد چکرلگایا اورکہنے لگے کیااس
جگہ اینٹ نہیں لگائی ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اینٹ میں ہوں اورمیں
خاتم النبیین ہوں۔ ( صحيح البخاری،الامام البخاری الجعفی،رقم٣٥٣٥،ج٤،ص١٨٦،دار
طوق النجاة)
مذکورہ احادیث
کریمہ میں خوبصورت انداز میں مثالوں کے ذریعے تربیت فرمائی گئی ۔ اللہ
پاک ہمیں احادیث پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
سمیع اللہ عطّاری (درجہ سادسہ مرکزی
جامعۃُ المدینہ فیضانِ مدینہ کراچی ، پاکستان)
ہمارے پیارے
آقا خاتم النبیین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم دنیا کے سب سے بہترین معلم تھے ، آپ صلی
اللہ تعالی علیہ وسلم کی تعلیمات جامع ،موثر اور حکمت سے بھرپور تھی آپ صلی اللہ
تعالی علیہ وسلم نے تربیت کے مختلف انداز اپنائے جن میں ایک نمایاں انداز مثالوں
کے ذریعے تعلیم و تربیت فرمانا بھی ہے ، آپ کی دی ہوئی مثالیں سادہ اور فہمیدہ ہوتی
تھی ان مثالوں سے دین کے پیچیدہ مسائل بھی آسانی سے سمجھا دیے جاتے تھے۔
دنیا کے ہر کامیاب مربی و معلم نے اس انداز کو اپنایا مگر جو انداز نبی کریم صلی
اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنایا وہ سب سے اعلی موثر اور حکیمانہ تھا اور یہ انداز آج
بھی تربیت و تعلیم کا موثر ترین طریقہ ہے ۔ آئیں اس کی چند مثالیں دیکھتے ہیں جس میں نبی کریم صلی اللہ تعالی
علیہ وسلم نے مثالوں کے ذریعے تربیت فرمائی :
(1)
نبوت کی مثال عمارت سے: حضرت ابو
ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:میری
اور مجھ سے پہلے انبیاء کرام کی مثال ایسی ہے جیسے کسی نے ایک خوبصورت عمارت بنائی
مگر ایک اینٹ کی جگہ خالی رہ گئی لوگ اس عمارت کو دیکھ کر حیران ہوتے اور کہتے ہیں کہ یہ اینٹ بھی لگا دی جاتی میں وہ اینٹ ہوں اور میں
خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ ( ارشاد اساری لشرح صحیح
بخاری ،ج 8 ، ص 39 ، حدیث: 3535 )
(2) نماز کی مثال نہر سے: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے وہ
فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے سنا نبی کریم صلی اللہ
تعالی علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر ایک نہر ہو جس میں وہ
روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرے کیا اس کے جسم پر کچھ میل باقی رہے گی صحابہ نے عرض کی : نہیں یا رسول اللہ !آپ ﷺ نے فرمایا : یہی پانچ نمازوں کی مثال ہے، اللہ ان کے ذریعے گناہوں کو مٹا دیتا ہے ۔ (ارشاد الساری
لشرح صحیح بخاری ، ج 2 ، ص 183 ، حدیث 528 )
(3) امر باالمعروف کی مثال کشتی سے : نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا
: لوگوں کی مثال ایک کشتی میں سوار لوگوں کی سی ہے کچھ اوپر اور کچھ نیچے، نیچے والے پانی کے لیے اوپر والوں کے پاس جاتے ہیں اگر
وہ کہیں کہ ہم نیچے ہی سوراخ کر لیتے ہیں اور اوپر والے انہیں نہ روکیں تو سب غرق ہو جائیں گے اور اگر وہ انہیں روکیں تو سب بچ جائیں گے ۔(
ارشاد الساری لشرح صحیح بخاری ، ج 5 ، ص 507 ، حدیث 2493 )
(4) مؤمن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح: نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا :
مومن کی مثال کھجور کے درخت کی مانند ہے تم اس سے جو بھی چیز لو گے وہ تمہیں نفع
دے گی۔ (ارشاد الساری لشرح صحیح بخاری ، ج 12 ، ص 201 ، حدیث 5444)
نبی کریم صلی
اللہ تعالی علیہ وسلم نے مومن کو کھجور کے درخت سے تشبیہ دی جو ہر حال میں فائدہ
مند ہوتا ہے چاہے پھل ہو یا سایہ اور جس کا ہر حصہ مفید ہوتا ہے۔
(5)
نیک اور برے ساتھی کی مثال: حضرت ابوموسیٰ رضی
اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیک ساتھی اور بُرے ساتھی کی مثال مشک (خوشبو) اٹھانے
والے اور بھٹی دھونکنے والے کی سی ہے۔ مشک اٹھانے والا یا تو تمہیں تحفے میں دے
گا، یا تم اس سے خوشبو خریدو گے، یا کم از کم تمہیں اس سے خوشبو آئے گی۔ اور بھٹی دھونکنے
والا یا تو تمہارے کپڑے جلا دے گا، یا تمہیں اس سے بدبو آئے گی۔ (ارشاد الساری ،
حدیث نمبر 5534)
محمد ثناءاللہ عطّاری (دورہ
حدیث مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ، پاکستان)
اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضور نبی کریم
ﷺ کو تمام انسانیت کے لیے معِلّم بنا کر بھیجا۔آپﷺ نے تبلیغ
اسلام اور تربیت کے لیے ایسے منفرد انداز اختیار فرمائے جو قیامت تک آنے والے
لوگوں کے لیے سبب ہدایت ہیں ۔آپﷺ نے نہ صرف پیغام خدا کو پہنچایا بلکہ دین اسلام
کو سمجھانے کے لیے ایسے پراثر طریقے اختیار فرمائے جن کے ذریعے سے بات سننے والا
اُس بات کو قبول بھی کرتا بلکہ اپنے دل و دماغ میں محفوظ کر لیتا۔️انہی منفرد طریقوں میں سے ایک مثالوں سے تربیت کرنا بھی ہے ۔
مثال بیان
کرنے کی غرض یہ ہوتی ہے کہ کسی غیر واضح اور غیر محسوس چیز کو محسوس چیز کیساتھ
تشبیہ دے کر سمجھانا تاکہ بات اچھی طرح سمجھ آجائے۔ ️ قرآن کریم میں یہ طرزِ عمل بکثرت استعمال کیا گیا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ: اِنَّ اللّٰهَ لَا یَسْتَحْیٖۤ اَنْ
یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَاؕ ترجمہ
کنزالایمان: بےشک اللہ اس سے حیا نہیں فرماتا کہ مثال سمجھانے کو کیسی ہی چیز کا
ذکر فرمائے مچھر ہو یا اس سے بڑھ کر۔ (پ1، البقرۃ: 26)
بعض علما نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے کفار کے معبودوں کی
کمزوری کو مکڑی کے جالوں وغیرہ کی مثالوں سے بیان فرمایا تو کافروں
نے اس پر اعتراض کیا ۔اس کے رد میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (تفسیر کبیر، البقرۃ، تحت
الآیۃ: 26، 1/ 361، طبری، البقرۃ، تحت الآیۃ: 26، 1/ 213-214، ملتقطاً)
اسی عمدہ و
اعلیٰ انداز کی جھلک ہمیں کریم آقا ﷺ کے فرامین مقدّسہ میں بھی نظر آتی ہے ،️ ذیل میں پانچ احادیث طیبہ ملاحظہ فرمائیں:
(1) زندہ اور مردہ: عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ
عَنْهُ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ الَّذِي يَذْكُرُ
رَبَّهُ وَالَّذِي لَا يَذْكُرُ، مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ ترجمہ: حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد
فرمایا کہ جو بندہ اللہ کا ذکر کرے اور جو نہ کرے ان کی مثال زندہ اور
مردہ کی طرح ہے۔ (بخاری کتاب الدعوات ،باب ذکر اللّہ ،ج1،ص1036،ح6407، دار الحدیث قاھرہ)
(2) حضور ﷺ اور سابقہ انبیا : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
قَالَ : إِنَّ مَثَلِي
وَمَثَلَ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بَيْتًا فَأَحْسَنَهُ
وَأَجْمَلَهُ، إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ
يَطُوفُونَ بِهِ وَيَعْجَبُونَ لَهُ وَيَقُولُونَ : هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ
اللَّبِنَةُ . قَالَ : فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتِمُ النَّبِيِّينَ
ترجمہ: حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:میری اور مجھ سے
پہلے آنے والے انبیا کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک خوبصورت
اور مکمل عمارت بنائی ہو، مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی ہو۔ لوگ اس عمارت
کے گرد گھومتے ہیں، اس کی خوبصورتی پر تعجب کرتے ہیں اور کہتے ہیں: کاش یہاں وہ ایک
اینٹ بھی لگا دی جاتی! آپ ﷺ نے فرمایا: " وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین
ہوں (یعنی آخری نبی ہوں)۔(بخاری کتاب المناقب ،باب خاتم النبیین ﷺ،ج1، ص577،ح3535
، دار الحدیث قاھرہ)
(3) گناہوں سے پاکیزگی: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ
سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ
نَهَرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا مَا تَقُولُ
ذَلِكَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ قَالُوا : لَا يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا. قَالَ : فَذَلِكَ مِثْلُ
الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا
ترجمہ: حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: تمہارا کیا خیال ہے، اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر ایک
نہر ہو، اور وہ روزانہ پانچ مرتبہ اس میں غسل کرے، تو کیا اس کے جسم پر کچھ میل کچیل
باقی رہے گا؟ صحابہ نے عرض کیا: "نہیں، کچھ بھی باقی نہ رہے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
یہی مثال پانچ نمازوں کی ہے، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔(بخاری
کتاب: مواقیت الصلاۃ،باب صلوات الخمس کفارۃ ،ج1،ص104،ح528 ، دار الحدیث قاھرہ)
(4) منافق کی مثال: حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی
کریم ﷺسے روایت کی کہ آپ ﷺ نے فرمایا: منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو بکریوں
کے دو ریوڑوں کے درمیان ماری ماری پھرتی ہے کبھی اِس ریوڑ میں چرتی ہے اور کبھی
اُس ریوڑ میں۔(مسلم ،کتاب: صفات المنافقین، ج 1،ص883،ح2784 ، دار الحدیث قاھرہ)
(5) سب سے بڑی مصیبت: عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ
اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ
الْعَصْرِ كَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:جس کی عصر کی نماز فوت ہو جائے، گویا اس کا
اہل و مال (گھر والے اور مال و دولت) سب کچھ چھین لیا گیا ہو۔(بخاری ،کتاب:مواقیت
الصلاۃ ،باب:اِثم من فاتتہ العصر ،ج1،ص106،حدیث:552، دار
الحدیث قاھرہ)
Dawateislami