احمد رضا انصاری ( دورہ حدیث جامعہ
المدینہ فیضانِ بغداد کراچی ، پاکستان)
اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے اپنے حکیمانہ اسلوب اور دل نشین
اندازِ گفتگو کے ذریعے اپنے غلاموں کی وہ تعلیم و تربیت فرمائی،جو قیامت تک آنے
والے لوگوں کے لیے تعلیم و تربیت کا ایک خوب صورت نصاب (Syllabus) بن
گئی،انہی حکیمانہ اسلوب اور دلوں پر اثر کرنے والی گفتگو میں سے مثالوں (Examples) کا استعمال کرکے تربیت فرماناہے،تاکہ مشکل باتوں کا سننے والوں
کے لیے سمجھنا آسان ہو اور ذہنوں میں نقش ہوجائے اسی طرح عمل کرنا اور دوسروں تک
پہنچانا آسان ہو، چنانچہ موضوع کے متعلق چند احادیث پڑھیئے:
(1)
صحابہ ستاروں کی مثل: صحابہ کرام رضوان
اللہ علیہم اجمعین آسمانِ ھدایت کے تارے ہیں،ان کی پیروی کرنا دنیا و آخرت میں کامیابی
کا ذریعہ ہے، چنانچہ اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ
فَبِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمْ اهْتَدَيْتُمْ یعنی
میرے صحابہ تاروں کی طرح ہیں تو تم ان میں سے جس کی پیروی کرو گے ہدایت پاؤ
گے۔(مشکوۃالمصابیح،ج2،ص355،حدیث6018)
(2)
اہل بیت کشتی نوح کی مثل: جس طرح جنتی صحابہ
کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے طریقوں پر چلنا نجات کا راستہ ہے،اسی طرح
اہل بیت کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی پیروی کرنا بھی نجات کا ذریعہ ہے،چنانچہ
اللہ پاک کےآخری نبی ﷺ نے
ارشاد فرمایا: أَلَا
إِنَّ مِثْلَ أَهْلِ بَيْتِي فِيكُمْ مِثْلُ سَفِينَةِ نُوحٍ مَنْ رَكِبَهَا نَجَا
وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا هَلَكَ
یعنی آگاہ
رہو! کہ تم میں میرے اہل بیت کی مثال جناب نوح علیہ السلام کی کشتی کی طرح ہے،جو
اس میں سوار ہوگیا نجات پا گیا اور جو اس سے پیچھے رہ گیا ہلاک ہوگیا۔(فضائل صحابہ
احمد بن حنبل، فضائل الحسن و الحسین رضی اللہ عنہما، حدیث1402)
مفتی احمد یار
خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:دوسری حدیث میں ہے کہ میرے
صحابہ تارے ہیں تم جس کی پیروی کرو گے ہدایت پاجاؤ گے،گویا دنیا سمندر ہے اس سفر میں
جہاز کی سواری اور تاروں کی رہبری دونوں کی ضرورت ہے۔الحمد ﷲ! اہل سنت کا بیڑا پار
ہے کہ یہ اہلِ بیت اور صحابہ دونوں کے قدم سے وابستہ ہیں۔ (مراۃالمناجیح،ج8،ص405قادری
پبلشرز)
(3)
اچھے اور برے دوست کی مثال: دوست زندگی کا ایک
حصہ ہے،اچھے دوست دنیا میں بھی فائدہ پہنچاتے ہیں اور آخرت میں بھی جبکہ برے دوست
دونوں جہان میں نقصان کا سبب بنتے ہیں،جیساکہ فرمان آخری نبی ﷺ ہے کہ: إِنَّمَا مَثَلُ الجَلِيسِ الصَّالِحِ، وَالجَلِيسِ
السُّوءِ، كَحَامِلِ المِسْكِ، وَنَافِخِ الكِيرِ، فَحَامِلُ المِسْكِ: إِمَّا
أَنْ يُحْذِيَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ
رِيحًا طَيِّبَةً، وَنَافِخُ الكِيرِ: إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ، وَإِمَّا
أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً
اچھے برے ساتھی
کی مثال مشک کے اٹھانے اور بھٹی دھونکنے والے کی سی ہے،مشک اٹھانے والا یا تمہیں
کچھ دے دے گا یا تم اس سے خرید لو گے اور یا تم اس سے اچھی خوشبو پالو گے اور بھٹی
دھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلادے گا اور یا تم اس سے بدبو پاؤ گے۔(مسلم،کتاب
البر و الصلۃ ، رقم: 2628)
سبحان الله! کیسی
پاکیزہ مثال ہے جس کے ذریعہ سمجھایا گیا ہے کہ بروں کی صحبت فائدہ اور اچھوں کی
صحبت نقصان کبھی نہیں دے سکتی۔(مرآۃالمناجیح،ج6،ص400قادری پبلشرز)
(4)
ذکر اللہ کرنے اور نہ کرنے والے کی مثال: اللہ پاک کے ذکر سے اپنی زبان کو تر رکھنا روح و بدن،دل و
دماغ اور زندگی کو سکون بخشتا ہےاور اس کے برعکس ذکرِ الٰہی و یاد خدا سے غفلت
برتنا،زندگی کو ویران اور پریشان بنادیتا ہے،چنانچہ آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم
نے رشاد فرمایا: مَثَلُ
الَّذِيْ يَذْكُرُ رَبَّهٗ وَالَّذِيْ لَا يَذْكُرُ مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ یعنی اس کی مثال جو رب کا ذکر کرے اور جو نہ کرے
زندہ و مردہ کی طرح ہے۔(بخارى،کتاب الدعوات، باب فضل ذکر اللہ ،رقم:6407)
لہذا ذکرِ
الٰہی میں مصروف رہ کر حقیقی زندگی گزاریئے اور مردہ دلی و مردہ زندگی
سے محفوظ رہیے۔
(5)
امتی اور حضورﷺکی مثال: اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ اپنی امت کی بہت زیادہ بھلائی چاہنے
والے ہیں،چنانچہ آخری نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ
رَجُلٍ اَوْقَدَ نَاراً فَجَعَلَ الجَنَادِبُ والفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيْهَا وَهُوَ
يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا وَاَنَا اٰخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، وَاَنْتُمْ تَفَلَّتُوْنَ
مِنْ يَدَيَّ
’’میری اور
تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہےجس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور پروانے اس
میں گرنے لگےاور وہ شخص اُنہیں آگ میں گرنے سے بچاتا ہےاورمیں بھی تمہیں تمہاری کمر سے پکڑ کر آگ (میں گرنے) سےبچاتا ہوں اور تم میرے
ہاتھ سے نکلے جاتے ہو.‘‘(مسلم،کتاب الفضائل، باب شفقۃ
ﷺ ۔۔الخ، ج4،ص1790رقم:2285)
قارئین
کرام!اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ تو ہمیں جہنم سے بچانے پر کس
قدر حریص ہیں، ایک ہم ہیں کہ اسی طرف جانے والے اعمال کرتے ہیں،اگر ہم اپنی دنیا و
آخرت کو سنوارنے کا ذہن رکھتے ہیں تو فرامینِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں ہمارے لیے بہترین تعلیم و تربیت ہے، جس پر
عمل کرنا ہمیں دونوں جہان میں کامیابی دلاسکتا ہے۔
محمد یامین ( درجہ رابعہ جامعۃ
المدینہ فیضان بخاری کراچی ، ، پاکستان)
نبی کریم صلی
اللہ علیہ وسلم کو اللہ پاک نے ہر خوبی سے نوازا ہے۔ آپ علیہ الصلاۃ والسلام کا
بات کرنے کا انداز، صحابہ کرام علیہم الرضوان کے درمیان رہنے کا انداز، آپ کا تربیت
کرنے کا طریقہ ، سب بے مثل و بے مثال ہے۔ اللہ کریم نے اپنے حبیب
علیہ الصلاۃ والسلام کی زندگی کو قرآن کریم میں اسوہ حسنہ کے نام سے ذکر کیا ہے۔
اسی کے ساتھ، آپ کا تربیت فرمانے کا انداز،
لوگوں کو سمجھانے کا طریقہ بھی بہت خوب تھا۔ آپ علیہ الصلاۃ والسلام اپنے صحابہ
کرام علیہم الرضوان کو مثالوں سے سمجھاتے تھے۔ اور یہ انسانی فطرت ہے کہ انسان کو
کسی چیز کی مثال دی جائے تو وہ جلدی سمجھ جاتا ہے اور اس کو یاد رکھنا بھی آسان
ہوجاتا ہے۔
جیسا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو نماز کی فضیلت و اہمیت کے بارے میں تربیت فرماتے
ہوئے فرمایا۔ جسے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: “آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم موسمِ سرما میں باہر تشریف لائے
جبکہ درختوں کے پتے جَھڑ رہے تھے۔ تو آپ نے ایک درخت کی ٹہنی پکڑ کر اس کے پتّے
جھاڑتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے ابوذر! میں نے عرض کی: یارسولَ اللہ! میں حاضر ہوں۔ ارشاد فرمایا: بے شک جب کوئی مسلمان اللہ پاک کی رضا کے
لئے نَماز پڑھتا ہے تو اس کے گناہ ایسے جھڑتے ہیں جیسے اس درخت کے پتے جھڑ رہے ہیں۔(مسند احمد، ج 8، ص 133، حدیث: 21612)
اسی طرح، ایک اور مقام پر رسولِ کریم صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے نماز کے ذریعے گناہوں کے ختم ہونے کی مثال بیان فرماتے ہوئے
صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان سے ارشاد فرمایا:بھلا بتاؤ کہ اگر کسی کے دروازے پر
نہر ہو اور اس میں وہ روزانہ پانچ مرتبہ نہاتا ہو تو کیا اس کے بدن پر کچھ میل باقی
رہ جائے گا؟ صحابۂ کرام نے عرض کی:اس کے جسم پر کچھ بھی میل
باقی نہیں رہے گا۔ حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے
ارشاد فرمایا: یہ مثال پانچوں نمازوں کی ہے۔ اللہ پاک اس کے ذریعے گناہوں کو معاف
کر دیتا ہے۔ (بخاری، ج 1، ص 196، حدیث: 528)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ مثال دے
کر نماز کی عظمت اور تاثیر کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے دل میں بٹھایا، تاکہ
وہ نماز کی حفاظت کریں۔ اور جس طرح ظاہری میل کچیل نہانے سے دھل جاتا
ہے، ویسے ہی نماز دل کی گندگی، روحانی غفلت اور گناہوں کے اثرات کو
دھوتی ہے۔
اور دنیا کی حقیقت کو واضح کرنے کے لیے حضور صلی
اللہ علیہ وسلم نے کیا خوب مثال دی ہے: حضرت سیّدُنا جابر
بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
کا گزر چھوٹے کان والے بکری کے ایک مُردہ بچے کے پاس سے ہوا۔ کچھ صحابۂ کرام بھی
آپ کے ہمراہ تھے۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس کا کان پکڑا اور فرمایا: تم میں سے کون اسے ایک درہم میں خریدنا چاہے گا؟ لوگوں نے عرض کی: ہم اسے کسی بھی چیز کے
بدلے میں لینا پسند نہیں کرتے، ہم اس کا کیا کریں گے؟ ارشاد فرمایا: “کیا
تم پسند کرتے ہو کہ یہ تم کو مل جائے؟ انہوں نے عرض کی: اللہ پاک کی قسم! اگر یہ زندہ
ہوتا تب بھی اس میں عیب تھا کہ اس کا ایک کان چھوٹا ہے، اور اب جبکہ یہ مرچکا ہے،
کوئی اسے کیسے لے گا؟ حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
نے ارشاد فرمایا:اللہ پاک کی قسم! جیسے تمہاری نظروں میں یہ مُردہ بچہ کوئی وقعت
نہیں رکھتا، اللہ پاک کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔(مسلم، ص 1210، حدیث: 7418)
آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے ایک مری ہوئی بکری کے
بچے کی مثال دے کر صحابہ کو دنیا کی حقیقت سمجھائی کہ جس طرح وہ مردہ اور ناقص
جانور کسی کے کام کا نہیں، اسی طرح اللہ کے نزدیک یہ دنیا بھی بے وقعت ہے۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں نبی کریم صلی
اللہ علیہ وسلم کے طفیل صحیح طریقے سے سمجھانے کی توفیق عطا فرمائے، دین و دنیا کی
بھلائیاں عطا فرمائے، دنیا کی محبت سے بچائے، اور اپنے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق
عطا فرمائے۔آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم
محمد صائم قریشی (درجہ خامسہ جامعۃُ
المدینہ فیضانِ ابوعطار، کراچی ، پاکستان)
اللہ پاک نے
رسولُ اللہ ﷺ کو معلمِ انسانیت بنا کر مبعوث فرمایا۔ چنانچہ رسولِ پاک ﷺ کا فرمان
ہے:
إِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا یعنی میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ (سنن ابن ماجہ، ج1، ص218، رقم 229
باب: فضل العلماء والحث على طلب العلم)
آپ ﷺ نے تربیتِ
انسانی کے لیے مختلف طریقے اختیار فرمائے، جن میں سے ایک مؤثر طریقہ ”مثالوں کے ذریعے
تعلیم دینا“ ہے ۔ رسولُ اللہ ﷺ کی تعلیمات میں مثالوں کا استعمال ایک نہایت حکیمانہ
اسلوب تھا، جس کے ذریعے آپ ﷺ نے مشکل باتوں کو عام فہم انداز میں سمجھایا۔ یہ طریقہ
نہ صرف سمجھنے میں آسان ہوتا ہے بلکہ ذہن میں نقش بھی ہو جاتا ہے۔موضوع کے متعلق چند فرامینِ مصطفیٰ ﷺ ملاحظہ کیجیے
:
(1) ذکرُ اللہ نہ کرنے والے کی مثال: جو لوگ ذکر اللہ نہیں کرتے، ان کی مثال دیتے ہوئے اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے فرمایا: مَثَلُ الَّذِیْ یَذْكُرُ
رَبَّهٗ، وَالَّذِیْ لَا یَذْكُرُ، مَثَلُ الْحَیِّ وَالْمَیِّتِ ترجمہ: جو اپنے رب کا ذکر کرتا ہے اور جو نہیں
کرتا، دونوں کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے۔ (صحیح بخاری، ج8، ص86، رقم: 6407
كتاب: الدعوات، باب : فضل ذكر الله عزوجل)
جیسے زندہ کا جسم روح سے آباد ہوتا ہے اور مردہ
کا جسم ویران، ایسے ہی ذاکر کا دل ذکر سے آباد اور غافل کا دل ویران ہوتا ہے۔
(2) بغیر ذکرُ اللہ کے مجلس سے اٹھنے کی مثال: جو لوگ اپنی مجلس سے اللہ کا ذکر کیے بغیر اٹھتے ہیں، ان
کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مَا
مِنْ قَوْمٍ یَقُومُونَ مِنْ مَجْلِسٍ لَا یَذْكُرُونَ اللہ َ فِیْهِ، إِلَّا قَامُوا
عَنْ مِثْلِ جِیفَةِ حِمَارٍ، وَكَانَ لَهُمْ حَسْرَةً ترجمہ: جو لوگ کسی مجلس سے اللہ کا ذکر کیے بغیر اٹھتے ہیں،
وہ مردار گدھے کی مانند اٹھتے ہیں، اور یہ ان کے لیے حسرت کا باعث ہوتا ہے۔ (سنن
ابی داؤد، ج5، ص115، رقم 4855، کتاب الادب ، باب کراھیۃ أن یقوم الرجل من مجلسہ
ولا يذكر الله)
مفتی احمد یار
خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ نے اس کی تشریح میں فرمایا: گویا یہ غافل لوگ مردار
گدھا کھا کر اٹھے، جو پلید بھی ہے، حقیر بھی اور
شیطان کا مظہر بھی، کیونکہ اس کے بولنے پر لاحول ،پڑھی جاتی ہے۔ غرض یہ کہ اللہ کے
ذکر سے خالی مجلسیں مردار گدھے کی طرح ہیں اور ان میں شرکت کرنے والے گویا وہ
مردار کھا رہے ہیں۔(مراۃ المناجیح، ج3،ص361)
(3) قرآن کی تلاوت نہ کرنے والے کی مثال: دل ایک لطیف اور عجیب چیز ہے، جس کا صحیح رہنا ضروری ہے۔
قرآن کی تلاوت اس دل کو زندہ رکھنے کا ذریعہ ہے۔ جو لوگ قرآن کی تلاوت نہیں کرتے،
ان کے بارے میں اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے فرمایا: إِنَّ الَّذِیْ لَیْسَ فِیْ
جَوْفِهِ شَیْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ، كَالْبَیْتِ الْخَرِبِ ترجمہ: جس کے سینے میں قرآن نہیں، وہ ویران گھر کی طرح
ہے۔(جامع ترمذی، ج5، ص35، رقم 2913 باب: فضائل القرآن عن رسول اللہ ﷺ)
جیسے گھر انسان و سامان سے آباد ہوتا ہے، ویسے ہی
دل قرآن سے آباد ہوتا ہے۔ جو دل قرآن سے خالی ہو، وہ دل ویران اور بے برکت ہوتا
ہے۔
(4) حافظِ قرآن کی مثال: حافظِ قرآن بننا اللہ پاک کی ایک بڑی نعمت ہے۔ اگرچہ حفظِ
قرآن فرض نہیں، مگر جب کوئی شخص حفظ کرے تو یاد رکھنا اس پر ضروری ہو جاتا ہے۔ چنانچہ رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا: إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ
الْقُرْآنِ، كَمَثَلِ صَاحِبِ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ، إِنْ عَاهَدَ عَلَیْهَا
أَمْسَكَهَا، وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ ترجمہ: حافظِ قرآن کی مثال رسی سے بندھے اونٹ کے مالک جیسی ہے، اگر نگرانی
کرے تو قابو میں رہے گا، ورنہ رسی تڑوا کر بھاگ جائے گا۔ (صحیح بخاری، ج6، ص193،
رقم 5031، کتاب: فضائل القرآن، باب استذکار القرآن، وتعاھدہ)
قرآن کو یاد رکھنے کے لیے مسلسل دہرانا ضروری
ہے، ورنہ وہ دل سے محو ہو جاتا ہے۔(یعنی بُھلا دیا جاتا ہے) اگر حافظ قرآن قرآنِ
پاک کو دل میں بِٹھا لے تو وہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوتا ہے۔
اللہ پاک کے
آخری نبی ﷺ کا تربیتی اسلوب اتنا جامع اور مؤثر ہے کہ
آج بھی آپ ﷺ کی دی گئی مثالیں دلوں کو روشن کرتی ہیں۔ آپ ﷺ کی حکمت عملی یہ تھی کہ
مشکل بات کو مثال کے ذریعے آسان بنایا جائے تاکہ عام و خاص سب افراد سمجھ سکیں۔ آج
کے دور میں اس اسلوب کو بھی اپنائیں، تو تعلیم و دعوت مزید مؤثر بن سکتی ہے۔ ہمیں
بھی چاہیے کہ ہم دین کی بات کو لوگوں کے دلوں میں اتارنے کے لیے حکمت، محبت اور
مثالوں کے ساتھ پیش کریں۔
محمد رضوان عطاری (دورہ حدیث مرکزی
جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ کراچی ، پاکستان)
اللہ تعالی نے
ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بیشتر کمالات و انعامات اور معجزات سے مشرف فرمایا اور آپ کو رحمت اللعالمین بناکر اور اپنا خاص رسول بناکر
بھیجا آپ کے سر پہ ختم نبوت کا تاج سجایا قرآن کریم جیسی عظیم کتاب عطا فرمائی جس کی حفاظت کی ذمہ داری اس
نے خود لی ، الغرض آپ کو بیشتر کمالات سے مشرف فرمایا ، آپ کے کمالات میں سے ایک
کمال یہ ہے کہ آپ معلم کائنات ہیں، قرآن کریم میں اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے : وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ
الْحِكْمَةَۗ ترجمہ کنز الایمان: اور انہیں کتاب اور حکمت کا
علم عطا فرماتے ہیں۔ (پ28، الجمعۃ: 2)
اور حضور کریم
صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مبارک زندگی میں بہترین انداز میں اپنی اس فرضیت کو ادا کیا
، بے شمار کافروں اور مشرکوں کو دین اسلام سے وابستہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم
کا ایک خاصہ یہ بھی ہے کہ آپ مثالوں کے ذریعے بھی صحابہ کرام کو سمجھاتے تھے تاکہ
صحابہ کرام ان باتوں کو بہترین انداز میں سمجھ سکیں ، میں آپ کے سامنے کچھ احادیث
پیش کرتا ہوں جس کے ذریعے آپ سمجھ سکیں گے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کس بہترین
انداز میں مثالیں دے کر صحابہ کرام کی تربیت و تعلیم فرماتے :
(1) لوگوں میں معزز بننے کا نسخہ: قَالَ رَسُولُ اللہ ِ صَلَّی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
فَمَنِ اتَّقَى الشَّبُهَاتِ فَقَدِ اسْتَبْرَأَ لِدِيْنِهِ وعِرْضِهِ، وَمَنْ
وَقَعَ فِيْ الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِيْ الْحَرَامِ كَالرَّاعِي يَرْعَى حَوْلَ الحِمَى
يُوشِكُ أَنْ يَقَعَ فِيْهِ نبی پاک
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شبہات سے بچا تحقیق اس نے اپنا دین اور اپنی عزت کو محفوظ کر لیا اور جو شبہات میں پڑ گیا
وہ حرام میں بھی پڑ گیا جیسا کہ بکریاں چرانے والا چرواہا کہ ممنوعہ چراگاہ کے آس پاس بکریاں چراتا ہے تو قریب ہے کہ
وہ اس ممنوعہ چراگاہ میں داخل ہو جائے۔ (صحیح بخاری کتاب الایمان،
حدیث نمبر 52۔ صحیح مسلم: کتاب المساقاۃ، حدیث نمبر 1599 صفحہ
نمبر 862 ۔انظر
في الاربعين النوويه صفحہ نمبر 45)
(2) والدین سے برا سلوک قیامت کی نشانی: اسی طرح میں آپ کے سامنے ایک اور حدیث پاک پیش کرتا ہوں
: قَالَ أَنْ تَلِدَ الأَمَةُ
رَبَّتَهَا نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کنیز اپنے آقا کو جنے گی۔ (صحیح
مسلم، کتاب الایمان، حدیث نمبر 8، صفحہ نمبر 21 انظر في الاربعين النوويه صفحہ نمبر 29)
اس حدیث پاک
کے ذریعے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے والدین کی عظمت و مقام کو بیان فرمایا، اس کی
شرح میں مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ مرآۃ المناجیح فرماتے ہیں اور اسی
طرح شرح ابن دقیق میں ہے اولاد نا فرمان ہو گی، بیٹا ماں سے ایسا سلوک کرے گا جیسا
کوئی کنیز سے تو گویا ماں اپنے مالک کو جنے گی یعنی ماں باپ کی نافرمانی کا عام
ہونا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے ، یہاں پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مثال کے ذریعے
ماں اور باپ کی عظمت کو بیان فرمایا کہ ان کے ساتھ برا سلوک کرنا یہ قیامت کی نشانیوں
میں سے ایک نشانی ہے لہذا ہمیشہ ماں باپ کا ادب و احترام کیا جائے۔
کامیاب استاد بننے کا طریقہ کار:لَقَدْ كَانَ لَكُمْ
فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ترجمہ کنزالایمان: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔ (الاحزاب: 21)
حضور کریم صلی
اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہمارے لیے ایک رول ماڈل ہے اور خاص طور پر آج کے دور میں
جو شخص چاہتا ہے کہ وہ ایک اچھا استاد بنے تو اسے چاہیے کہ وہ سیرت رسول صلی اللہ
علیہ وسلم کا مطالعہ کرے اور ایک استاد کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ اپنے طلبہ کو
ان کی نفسیات کے مطابق پڑھائے یعنی جب کوئی اہم چیز کا ذکر کرنا ہو تو اس کو مثال
کے ذریعے سمجھائے اور سائنسی اعتبار سے بھی اس کے کثیر فوائد ہیں مثلاً اس سے یاداشت
میں اضافہ ہوتا ہے اور متعلقہ چیز ایک عرصے تک ذہن میں منقوش رہتی ہے۔
محمد شکیل قصوری (درجہ سابعہ مرکزی
جامعۃالمدینہ فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ، پاکستان)
اسلام ایک
کامل دین ہے، جو انسانی فطرت سے ہم آہنگ تعلیمات کے ذریعے نہ صرف
عقائد و عبادات کی اصلاح کرتا ہے بلکہ اخلاق و کردار، معاملات و معاشرت اور تربیت ِانسانیت
کے ہر پہلو کو روشن کرتا ہے۔ اس دینِ فطرت کے عظیم معلم ہمارے
پیارے آقا مدینے والے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، جنہیں
اللہ پاک نے تمام انسانوں کے لیے رہنما بنا کر بھیجا۔اللہ پاک کے آخری نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا اندازِ تعلیم و تربیت نہایت حکیمانہ، مؤثر،
سادہ مگر گہرا اور ہر ذہن و قلب پر اثر انداز ہونے والا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت، نصیحت اور اصلاحِ امت کے لیے مختلف
اسالیب اپنائے، کہیں سوال و جواب، کہیں خاموشی،کہیں اشارات، کہیں عمل کے ذریعے، اور کئی مقامات پر مثالوں کے ذریعے تربیت
فرمانے کا طریقہ اختیار فرمایا ۔ آئیے نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم کے مثالوں کے ذریعے تربیت فرمانے کے متعلق چند فرامینِ مصطفیٰ ملاحظہ فرمائیے
۔
(1) اچھے اور برے دوست کی مثال: ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالٰی
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نیک دوست اور بُرے دوست کی مثال
مُشک (عطر) فروش اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے، مُشک فروش یا تم کو ہدیے میں
مشک دیدے گا یا تم اس سے خرید لو گے، ورنہ کم از کم تمہیں اس سے اچھی خوشبو آئے گی
اور بھٹی دھونکنے والا یا تو چنگاریوں سےتمہارے کپڑے جلائے گا یا تمہیں اس سے
بدبُو آئے گی۔ (صحیح مسلم ، کتاب البر و الصلۃ ولآداب ، باب استحباب مجالسۃ الصالحین ، و مجانبۃ قرناء السوء ، صفحہ : 1088 ، حدیث :
6692 )
یہ حدیت بتاتی ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں اچھے
دوست اور اچھی صحبت کو اختیار کرنا چاہیے۔کیونکہ نیک صحبت ایمان و کردار کو نکھارتی
ہے ۔اور بری صحبت بربادی کا سبب بنتی ہے۔
(2) مومن اور کجھور کا درخت: اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : درختوں میں سے ایک درخت ہے
جس کے پتے نہیں جھڑتے اور وہ درخت مسلمان کی طرح ہے۔ لہذا مجھے بتاؤ کہ وہ کون سا
درخت ہے؟تو لوگوں نے جنگل کے مختلف درختوں کی طرف دھیان کیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر
رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے دل میں یہ خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔ لیکن میں
جھجک گیا پھر وہ لوگ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! آپ بتائیے کہ وہ
کون سا درخت ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کھجور کا درخت ہے ۔
(عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو میں نے یہ بات اپنے والد حضرت عمر رضی
اللہ عنہ کو بتائی تو انہوں نے کہا: اگر تم نے کہہ دیا ہوتا کہ وہ کھجور کا درخت
ہے تو میرے نزدیک یہ جواب فلاں فلاں سے بھی زیادہ پسندیدہ
ہوتا۔( صحیح البخاری ، کتاب العلم،باب الحیاء فی العلم ، صفحہ: 223 ، حدیث : 131)
اس حدیث پاک میں
بیان کیا گیا ہے کہ، کھجور کی طرح مومن ہمیشہ فائدہ دیتا ہے، اس کی ہر چیز اور
حالت سے خیر حاصل ہوتی ہے۔
(3) پانچ نمازیں دریا میں نہانے کی طرح: آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا : تم کیا سمجھتے ہو اگر تم میں سے کسی کے گھر کے سامنے نہر
ہو جس سے وہ ہر روز پانچ مرتبہ نہاتا ہو، کیا اس کے جسم کا
کوئی میل کچیل باقی رہ جائے گا؟ صحابہ نے عرض کی: اس کا کوئی میل کچیل باقی نہیں
رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی
پانچ نمازوں کی مثال ہے، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے گناہوں کو صاف کر دیتا ہے۔ (صحیح مسلم ، کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ ، باب المشی
الی الصلاۃ تمحی بہ الختایا و ترفع بہ الدرجات، جلد : 1 ، صفحہ : 462، حدیث:283 ،
المطبعۃ عیسیٰ البابی الحلبی قاہرہ )
اس حدیث میں بیان
کیا گیا ہے کہ جس طرح نہانے سے جسم پاک ہوتا ہے، اسی طرح نماز سے روحانی میل صاف
ہوتا ہے۔یعنی نماز گناہوں کو مٹانے اور دل کو پاک کرنے کا ذریعہ ہے۔
(4) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال خبردار کرنے والے کی طرح :
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
میری مثال اور میرے دین کی مثال جو کہ اللہ نے مجھے دے کر بھیجا ہے، ایسی ہے جیسے
اس شخص کی مثال جو اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے میری قوم! میں نے لشکر
کو اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا ہے (یعنی دشمن کی فوج کو) اور میں صاف صاف ڈرانے
والا ہوں، پس جلدی بھاگو۔ اب اس کی قوم میں سے بعض نے اس کا کہنا مانا اور وہ شام
ہوتے ہی بھاگ گئے اور آرام سے چلے گئے اور بعض نے جھٹلایا اور وہ صبح تک اس ٹھکانے
میں رہے اور صبح ہوتے ہی لشکر ان پر ٹوٹ پڑا اور ان کو تباہ کیا اور جڑ سے اکھیڑ دیا۔
پس یہی اس شخص کی مثال ہے جس نے میری اطاعت کی اور جو کچھ میں لے کر آیا ہوں اس کی
اتباع کی اور جس نے میرا کہنا نہ مانا اور سچے دین کو جھٹلایا۔ (صحیح بخاری، کتاب
الرقاق ، باب الانتھاء عن المعاصی، صفحہ : 1524 ، حدیث: 6484 )
اس حدیث پاک سے ہمیں یہ نصیحت ملتی ہے کہ ہمیں
ہر حال میں نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم کی پیروی کرنی چاہیے اور جن چیزوں سے آپ صلی اللہ علیہ
وسلم نے منع فرمایا ان سے بچنا چاہیے ۔ تاکہ دنیا و آخرت میں رسوائی کا سامنا نہ
کرنا پڑے۔
اللہ پاک ہمیں نبی پاک صلی اللہ علیہ
وسلم کی تعلیمات پر عمل کرنے، ان کی سیرت سے روشنی حاصل کرنے اور آپ صلی اللہ کے بتائے ہوئے احکامات کو دوسروں تک
پہنچانے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین بجاہ
النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم
محمد طلحہ شوکت ( تخصص فی الحدیث جامعۃُ
المدینہ فیضانِ مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ، پاکستان
اللہ تعالیٰ
نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ صرف آخری نبی بنایا، بلکہ ایک بہترین معلم
اور تربیت فرمانے والا بھی بنایا۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے دین کی باتوں کو صرف
الفاظ کے ذریعے نہیں، بلکہ مثالوں کے ذریعے اس انداز میں سمجھایا کہ وہ باتیں دلوں
میں اتر گئیں۔ آپ ﷺ نے ان مثالوں کو بیان
کرنے کے مختلف ذرائع اور انداز اختیار فرمائے جن کا مقصود آسانی سے مخاطب کو بات
سمجھانا ہے اور یہ انداز کلام میں ایک بلیغ انداز ہے کہ
جس میں مثال کے ذریعے متکلم غیر واضح حقیقت کو مخاطب کے فہم و شعور میں اجاگر کرنے
یا قریب تر لانے کے لیے اسے کسی محسوس واضح چیز سے تشبیہ دے، جیسا کہ قرآن پاک میں
الله پاک نے ارشاد فرمایا : وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ
نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ(۲۱) ترجمۂ کنز العرفان: اور ہم یہ مثالیں لوگوں کے لیے
بیان فرماتے ہیں تاکہ
وہ سوچیں ۔ (الحشر: 21)
جس طرح قرآن کریم میں مثالوں کے ذریعے تربیت
فرمائی گئی ہے ایسے ہی احادیث میں بھی فرمائی گئی ہے،جس کی چند مثالیں مندرجہ ذیل
ہیں :
(1)
اچھی اور بری صحبت کی مثال : حضرت
ابو موسیٰ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مَثَلُ الجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ كَحَامِلِ
المِسْكِ وَنَافِخِ الكِيرِ، فَحَامِلُ المِسْكِ: إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ،
وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً،
وَنَافِخُ الكِيرِ: إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا
خَبِيثَةً۔ یعنی نیک ساتھی اور
بُرے ساتھی کی مثال کستوری (خوشبو) بیچنے والے اور بھٹی میں پھونک مارنے والے کی سی
ہے۔ کستوری بیچنے والا یا تو تمہیں خوشبو تحفے میں
دے گا، یا تم اس سے خرید لوگے، یا کم از کم تمہیں اس سے خوشبو محسوس ہوگی۔ اور بھٹی میں پھونک مارنے والا یا تو تمہارے کپڑے جلا دے
گا، یا تمہیں اس سے بدبو محسوس ہوگی۔(بخاری ،کتاب الذبائح و الصید ، باب المسک ،
جلد:1 ، صفحہ 1035 ، حدیث:5534،الناشر: دارالکتب العلمیہ بیروت ، طبعہ: الحادیہ
عشرہ ، سن طباعت : 2022 )
نیک لوگوں کی
صحبت انسان کو نیک بنا دیتی ہے اور بُرے لوگوں کی صحبت انسان کو برا بنا دیتی ہے
(2) مومن اور کافر کی مثال: حضرت ابو ھریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: الدُّنْيَا سِجْنُ المُؤْمِنِ
وَجَنَّةُ الكَافِرِ یعنی دنیا
مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔ ( ترمذی ، کتاب الزھد ، باب ما جاء
ان الدنیا سجن المؤمن۔۔۔الخ، جلد: 1 صفحہ: 556 ، حدیث: 2324 ، الناشر: دارالکتب
العلمیہ بیروت ، طبعہ: سابعہ ، سن طباعت: 2019)
مومن
کے لیے دنیا اس وجہ سے قید خانہ ہے کیونکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق زندگی نہیں گزار
سکتا بلکہ شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کا مکلف بنایا گیا ہے جبکہ کافر کے لیے یہ دنیا اس وجہ سے جنت ہے کیونکہ اسے کسی بھی
چیز کا مکلف نہیں بنایا گیا اس کے لیے جو بھی عیش و آرام ہے وہ صرف دنیا میں ہے
آخرت میں دائمی عذاب ہو گا۔
(3) رزق کی مثال: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَوْ أَنَّكُمْ تَتَوَكَّلُونَ
عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ، لَرُزِقْتُمْ كَمَا تُرْزَقُ الطَّيْرُ، تَغْدُو
خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا۔ یعنی
اگر تم اللہ پر ایسا بھروسا کرو جیسا
کہ واقعی بھروسا کرنے کا حق ہے، تو وہ تمہیں رزق اسی طرح دے گا جیسے پرندوں کو دیتا
ہے: وہ صبح بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو بھرے پیٹ واپس آتے ہیں۔ (ترمذی ، کتاب
الزھد ، باب فی التوکل علی اللہ ،
جلد:1 صفحہ: 560 ، حدیث: 2344 ، الناشر: دارالکتب العلمیہ بیروت ، طبعہ: سابعہ ،سن
طباعت: 2019)
صرف ہاتھ پر
ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا توکل نہیں، بلکہ کوشش کے ساتھ اللہ پر اعتماد کرنا اصل توکل
ہے۔
جیسے پرندے بغیر کچھ جمع کیے، صرف محنت اور
بھروسے سے اپنا پیٹ بھر لیتے ہیں۔
(4)
مال اور عزت کی مثال: حضرت ابن کعب بن مالک
الانصاری نے اپنے والد سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَا ذئْبَانِ جَائِعَانِ
أُرْسِلَا فِي غَنَمٍ، بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ المَرْءِ عَلَى المَالِ
وَالشَّرَفِ لِدِينِهِ۔ یعنی دو
بھوکے بھیڑیے جو کسی بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیے جائیں، وہ اتنا نقصان نہیں
پہنچاتے جتنا مال اور عزت کی حرص (لالچ) انسان کے دین کو نقصان پہنچاتی ہے۔(ترمذی
، کتاب الزھد ، باب ما جاء فی اخذ المال ، جلد:1 ، صفحہ: 565 ، حدیث: 2376 ،
الناشر: دارالکتب العلمیہ بیروت ، طبعہ: سابعہ ، سن طباعت: 2019 )
جیسے بھیڑیے
بکریوں کو چیر پھاڑ کر تباہ کر دیتے ہیں، ویسے ہی اگر انسان کے دل میں مال اور
شہرت کی شدید خواہش ہو، تو وہ اس کے ایمان، اخلاص اور دینداری کو تباہ کر دیتی ہے۔ یعنی دنیا کی لالچ بندے کو دینی فساد میں مبتلا کر دیتی
ہے۔
(5) مومن کی مثال : حضرت نعمان بن بشیر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تَرَى الْمُؤْمِنِينَ فِي تَرَاحُمِهِمْ وَتَوَادِّهِمْ
وَتَعَاطُفِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ، إِذَا اشْتَكَى عُضْوًا، تَدَاعَى لَهُ
سَائِرُ جَسَدِهِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى یعنی
تم دیکھو گے کہ مومن (آپس میں) ایک دوسرے پر رحم کرنے، محبت رکھنے اور ہمدردی کرنے
میں ایک جسم کی مانند ہیں۔ جب جسم کا ایک عضو (حصہ) تکلیف میں ہوتا ہے، تو سارا جسم بے خوابی
اور بخار کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ (بخاری ، کتاب الادب ، باب رحمۃ الناس و البھائم ، جلد:1 ، صفحہ: 1444 ،
حدیث: 6011 ، الناشر: بیروت - لبنان ، طبعہ: الثالثہ ، سن طباعت: 2024
تمام مومنین ایک
دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں، جیسے جسم کے اعضا۔ اگر ایک کو تکلیف ہو، تو
باقی سب کو بھی اس کا احساس ہوتا ہے یہی ایمان کا تقاضہ ہے۔
انسان کی یہ
فطرت ہے وہ لہو ولعب سے خوش رہتا ہے لیکن جب اسے کوئی نیکی یا اصلاح کی بات کی
جائے تو اکتاہٹ محسوس کرتا ہے اسی لیے حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے لوگوں کی فطرت
کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کی توجہ کو طلب کرنے کے لیے مثالیں دیکھ کر بات سمجھانے
کا اسلوب اپنایا اور مثالوں کے ذریعے سے اپنی امت کو سمجھانے کی ایک وجہ نہیں ہے
بلکہ اور بھی وجوہات ہیں ان میں سے کچھ بات کو واضح کرنا اور آسان کرنا اور گہرے
مفہوم کو آسان کرنا مثالوں کے ذریعے سے سمجھانا انبیا کی سنت ہے اور طریقہ قرآنی
ہے ان تمام وجوہات کو پیش نظر رکھتے ہوئے حضور علیہ الصلوۃ والسلام اپنی امت کو
مثالوں کے ذریعے سمجھاتے وہ احادیث جن میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے مثالوں کے
ذریعے سے تربیت فرمائی ان میں سے چند کا مطالعہ کیجیے :
(1)حضرت سعد
رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی
اللہ تعالی عنہ کے لیے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات پر راضی
نہیں ہو کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو حضرت ہارون کو حضرت موسی سے تھی سوائے اس
کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔( صحیح بخاری ، کتاب المغازی ،باب غزوة تبوك وهى
غزوةالعسرة ،حدیث نمبر 4416 صفحہ ،794 ،مکتبہ دارالکتب علمیہ)
(2)حضرت انس
رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا : نیک ہم
نشین کی مثال خوشبو والے کی طرح ہے اگر تو اس سے کچھ بھی نہ خریدے تو عمدہ خوشبو
کو اس سے پا ہی لے گا اور برے ہم نشین کی مثال بھٹی دھونکانے والے کی طرح ہے اگر
تو اس کی سیاہی سے بچ بھی جائے تو اس کا دھواں تجھے ضرور پہنچے گا ۔( صحیح بخاری
،کتاب الذبائح والصید والتسمیۃ علی لصید ،باب المسک، حدیث نمبر 5534،صفحہ نمبر
،1035،مکتبہ دارالکتب علمیہ)
(3)حضرت ابو
موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا : بے
شک میری مثال اور اس کی جس کے ساتھ مجھے مبعوث کیا ہے اس شخص جیسی ہے جس نے اپنی
قوم کے پاس آ کر کہا : اے قوم میں نے
اپنی آنکھوں سے ایک فوج دیکھی ہے میں تمہیں واضح طور پر اس
سے ڈرانے والا ہوں لہذا اپنے آپ کو بچا لو چنانچہ اس کی قوم میں سے ایک جماعت نے
اس کی بات مانی لہذا راتو رات نکل کر پناہ گاہ میں جا چھپے اور بچ گئے جبکہ ایک
جماعت نے اسے جھٹلایا اور صبح تک اپنے مقامات پر ہی رہے منہ اندھیرے لشکر نے ان پر
حملہ کر دیا پس انہیں ہلاک کر کے غارت گری کا بازار گرم کیا پس یہ مثال ہے اس کی
جس نے میری اطاعت کی اور جو میں لے کر آیا ہوں اس کی پیروی
کی اور اس شخص کی مثال جس نے میری نافرمانی کی اور جو حق میں لے کر آیا ہوں اس
جھٹلایا۔ (صحیح بخاری ،کتاب الرقائق، باب الانتہاءعن المعاصی، حدیث نمبر 6482
،صفحہ 1184، مکتبہ دار الکتب العلمیہ)
حضرت جابر بن
عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک
دن ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے کہا : آپ
کی اور آپ کی امت کی مثال اس طرح ہے جیسا کہ بادشاہ نے ایک بڑا مکان بنایا پھر اس
میں ایک گھر بنایا وہاں ایک دسترخوان لگا کر ایک قاصد کو بھیجا کہ وہ لوگوں کو
کھانے کی دعوت دے چنانچہ بعض نے دعوت قبول کی اور بعض نے دعوت قبول نہ کی ۔یعنی
اللہ بادشاہ ہے وہ بڑا مکان اسلام ہے اور اس کے اندر والا گھر جنت ہے اور اے محمد
صلی اللہ علیہ وسلم آپ رسول ہیں ، جس نے آپ کی دعوت قبول کی وہ اسلام میں داخل ہوا
جو اسلام میں داخل ہوا وہ جنت میں بھی داخل ہوگا ، جو جنت میں داخل ہو گیا اس نے
اس میں موجود چیزیں کھا لیں۔ (صحیح بخاری ،کتاب الاعتصام
باالکتاب واالسنۃ،باب اقتداء سنن رسول اللہ ،حدیث نمبر7280،صفحہ نمبر 1381،مکتبہ
دار الکتب علمیہ)
چنانچہ ان
مثالوں میں ہمارے لیے بے شمار عبر ت و نصحتیں موجود
ہیں ہم ان مثالوں کے ذریعے اپنی زندگی کو سنوار سکتے ہیں اور امثال الاحادیث ہمارے
لیے نہایت ہی اہمیت کی حامل ہیں حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں مثالوں کے ذریعے
کیوں سمجھایا تاکہ ہم غور و فکر کریں عبرت و نصیحت حاصل کریں اور ہم شوق سے پڑھیں
اور غور سے سنیں غیر شعوری طور پر ان سے جو مسائل و نصیحت حاصل ہوتے ہیں ان پر عمل
کریں مثالوں کے ذریعے سے تربیت فرمانا یہ صرف احادیث میں نہیں بلکہ یہ طریقہ قرآنی
بھی ہے تمثیلات کا موضوع بڑی اہمیت رکھتا ہے اس میں تدبر کرنا اور قرآن وحدیث
سمجھنا نہایت ضروری ہے قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا
لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ(۲۱) ترجمۂ کنز العرفان: اور ہم یہ مثالیں لوگوں کے لیے بیان فرماتے ہیں تاکہ
وہ سوچیں ۔ (الحشر: 21)
قرآن مجید نے
بھی بہت زیادہ مثالوں سے سمجھایا اللہ تعالی ہمیں قرآن وحدیث دونوں پر عمل کرنے کی
توفیق عطا فرمائے۔ آمین
محمد اویس تبسم ( دورہ حدیث جامعۃُ
المدینہ فیضان مدینہ سیالکوٹ ، پاکستان)
اللہ پاک نے
انسانوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ،انسان کی تعلیم و تربیت کے لیے اپنے
انبیاء کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا پھر سب سے آخر میں تمام انسانیت کی تعلیم
و تربیت لے لیے اپنے پیارے حبیب سب سے آخری نبی محمد ﷺ کو معلِّم کائنات بنا کر بھیجا۔
رسول کریم ﷺ کا انداز تربیت کیسا کمال کا تھا کہ کبھی پریکٹیکل کر کے دیکھاتے ہیں
اور صحابہ کرام سے فرماتے ہیں یوں کرو ۔کبھی آپ چند الفاظ میں اس طرح تربیت فرماتے
گویا کے سمندر کوزے میں بند فرما دیتے۔اور کبھی انسانی فطرت کے مطابق امثلہ کے ذریعے
تربیت فرماتے کہ انسان اس چیز کو جلدی قبول کرتا ہے جو عقل و سمجھ میں آتی ہے آئیں
ہم ان احادیث کریمہ کو پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں جن میں حضور ﷺ نے پیاری پیاری
مثالوں کے ذریعے تربیت فرمائی ہے :
(1) بادشاہ کی چراگاہ : عَنْ عَامِرٍ قَالَ:سَمِعْتُ
النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیْرٍ یَقُوْلُ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ
اَلْحَلَالُ بَیِّنٌ وَالْحَرَامُ بَیِّنٌ وَبَیْنَھُمَا مُشْتَبِھَاتٌ لَا یَعْلَمُھَا
کَثِیْرٌ مِنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَی الْمُشَبَّھَاتِ اِسْتَبْرَأَ لِدِیْنِہٖ
وَ عِرْضِہٖ وَمَنْ وَّقَعَ فیِ الشُّبُھَاتِ کَرَاعٍ یَرْعٰی حَوْلَ الْحِمٰی یُوْشِکُ
اَنْ یُّوَاقِعَہٗ اَلَا وَاِنَّ لِکُلِّ مَلِکٍ حِمًی اَلَا اِنَّ حِمَی اللہ فِیْ اَرْضِہٖ
مَحَارِمُہٗ اَلَا وَاِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَۃً اِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ
الْجَسَدُ کُلُّہٗ وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ اَلَا وَھِیَ
الْقَلْبُ (صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب
فضل من استبرأ لدینہ،الحدیث:۵۲ ، ج۱،ص۳۳)
ترجمہ:عامر
(شعبی) سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی
اللہ تعالیٰ عنہ سے
سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و
ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ حلال ظاہر ہے اور حرام ظاہر ہے
اور ان دونوں کے درمیان کچھ مُشْتَبَہ چیزیں ہیں جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے تو جو کوئی شبہ کی چیزوں سے
بچ گیا اس نے اپنے دین اور اپنی آبرو کو بچا لیا اور جو کوئی ان شبہ کی چیزوں میں پڑگیا تو اس کی مثال اس
چرواہے کی ہے جو بادشاہ کی محفوظ چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چرائے تو ہوسکتا ہے کہ وہ جانور شاہی چراگاہ میں داخل ہوجائیں ۔سُن لو ! ہر بادشاہ کی ایک
’’حمی‘‘ (محفوظ و مخصوص چراگاہ) ہو تی ہے اور اللہ
عَزَّوَجَلَّ کی ’’حمی‘‘ اس کی زمین میں وہ
چیزیں ہیں جن کو اس نے حرام ٹھہرایا
ہے ۔خبردار! بدن میں ایک گوشت کی بوٹی ایسی ہے کہ اگر وہ درست ہے تو
سارا بدن درست ہے اور اگر وہ فاسد ہوگئی تو سارا بدن بگڑ گیا سن لو! وہ دل ہے۔
سبحان اللہ
حضوراکرم ﷺ یہ ایک مثال دے کر سمجھاتے ہیں کہ جس طرح ہر بادشاہ کی ایک
محفوظ و مخصوص چراگاہ ہوتی ہے جس میں کسی جانور کو چرانے کی
اجازت نہیں ہوتی اور اس کو ’’ حِمیٰ‘‘کہتے
ہیں اسی طرح بادشاہوں کے بادشاہ اللہ
تعالیٰ نے بھی کچھ چیزوں کو
حرام ٹھہرا کر ہر شخص کو منع فرمادیاہے کہ خبردار کوئی اس کے قریب نہ جائے ۔تو یہ
حرام چیزیں گویا اللہ تعالیٰ کی ’’حِمیٰ‘‘ ہیں کہ جس طرح بادشاہوں کی حمی میں کسی کو داخل ہونے کی
اجازت نہیں ہوتی اسی طرح اللہ
تعالیٰ کی حرام کی ہوئی چیزوں کے
پاس کسی کو پھٹکنے کی اجازت نہیں ہے ۔خلاصہ یہ ہے کہ
مسلمان کو حرام اورمُشْتَبَہ دونوں قسم کی چیزوں سے بچنا اور پرہیز کرنا ضروری ہے۔
(2)
زندہ اور مردہ : وَعَنْ
أَبِيْ مُوْسٰى قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الَّذِيْ يَذْكُرُ رَبَّهٗ
وَالَّذِيْ لَا يَذْكُرُ مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ روایت
ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں : فرمایا رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی مثال جو رب کا ذکر کرے اور جو نہ کرے زندہ و مردہ کی
سی ہے ۔(مسلم،بخاری)
یعنی جیسے
زندہ کا جسم روح سے آباد ہے مردہ کا غیر آباد،ایسے ہی ذاکر کا دل ذکر سے آباد ہے
غافل کا دل ویران یا جیسے شہروں کی آبادی زندوں سے ہے مردوں سے نہیں ایسے ہی آخرت
کی آبادی ذاکرین سے ہے غافلین سے نہیں،یا جیسے زندہ دوسروں کو نفع و نقصان پہنچاسکتا
ہے مردہ نہیں،ایسے اللہ کے ذاکر سے نفع و نقصان خلق حاصل کرتی ہے
غافل سے نہیں یا جیسے مردے کو کوئی دوا یا غذا مفید نہیں ایسے ہی غافل کو کوئی عمل
وغیرہ مفید نہیں اللہ کا ذکر کرو پھر دوسرے اعمال،ذاکر مرکر بھی
جیتا ہے غافل زندہ رہ کر بھی مردہ ہے ۔(کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 , حدیث نمبر:2263 )
(3)
مشک سے بھرا تھیلا: وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ فَاقْرَؤُوْهُ، فَإِنَّ مَثَلَ الْقُرْآنِ لِمَنْ
تَعَلَّمَ فَقَرَأَ وَقَامَ بِهٖ كَمَثَلِ جِرَابٍ مَحْشُوٍّ مِسْكًا، تَفُوْحُ رِيْحُهٗ
كُلَّ مَكَانٍ، وَمَثَلُ مَنْ تَعَلَّمَهٗ فَرَقَدَ وَهُوَ فِيْ جَوْفِهٖ كَمَثَلِ جِرَابٍ أُوكِئَ
عَلٰى مِسْكٍ.
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
حضرت ابو
ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں : فرمایا رسو
ل اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے قرآن سیکھو پھر اسے پڑھا
کرو کیونکہ جو قرآن سیکھے اور اس کی قراءت کرے اور اس پرعمل کرے اس کی مثال اس تھیلے
کی سی ہے جس میں مشک بھرا ہو جس کی خوشبو ہر جگہ مہک رہی ہو اور جو اسے سیکھے پھر سویا
رہے اس طرح کہ اس کے سینے میں قرآن ہو وہ اس تھیلے کی طرح ہے جو مشک پر سربند کردیا
گیا ہو (ترمذی،نسائی،ابن ماجہ)
سبحان
اللہ اس حدیث پاک میں باعمل حافظ قرآن کی مثال مشک کے ایسے تھیلے سے دی جس کی
خوشبو پھیل رہی ہے اور بے عمل کی مثال مشک کے اس تھیلے سے جس کا منہ بند ہے کے اس
کے اندر خوشبو تو ہے مگر باہر آنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔
عبد الرحمٰن عطّاری ( دور ہ حدیث
مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضان مدینہ کراچی ، پاکستان)
قرآن کریم اور احادیث طیبہ میں متعدد مقامات پر مثالوں کے ذریعے
ہماری تربیت کی گئی ہے۔مثال کے ذریعے بات جلدی سمجھ میں آجاتی ہے اور یاد رہ جاتی
ہے ۔کئی باتیں ایسی پیچیدہ ہوتی ہیں کہ سامنے والے کو سمجھانا مشکل ہوتا ہے لیکن
اگر مثال بیان کر دی جائے تو اپنی بات سمجھانا آسان ہوجاتا
ہے ۔جانِ عالم ﷺ چونکہ معلم بنا کر بھیجے گیے، کئی مقامات پر آپ ﷺ نے اپنی اعلیٰ باتیں مثالوں
کے ذریعے بیان کیں تاکہ آپ ﷺ کے غلاموں کے لیے آپ ﷺ کے مبارک فرامین کو سمجھنا اور
ان پر عمل کرنا آسان ہوجائے ۔
نمازی
کی مثال: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں
نے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا:تمہاری کیا رائے ہے کہ اگر تم میں سے کسی کے گھر کے
دروازے پر نہر ہو اور وہ روزانہ اس نہر سے پانچ بار نہائے تو کیا اس پر کچھ میل رہ
جائے گا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اس پر کچھ میل باقی نہ بچے گا۔حضور
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:پانچ نمازیں اسی طرح ہیں، اﷲ تعالیٰ ان کے ذریعے
خطاؤں کو مٹا دیتا ہے۔(صحیح بخاری،کتاب مواقیت الصلاة،باب الصلوات الخمس کفارة، حدیث528،دارالکتب
العلمیہ)
حوض
کوثر کی مثال: سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ میرے حوض (کوثر) کی مسافت ایک مہینہ
(کا راستہ) ہے وہ مربع ہے یعنی اس کے چاروں کونے برابر ہیں۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ
سفید اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے ۔ اس کے کوزے چمک اور زیادتی میں آسمان کے
ستاروں کے مثل ہیں جو شخص اس میں سے پیے گا پھر کبھی پیاسا نہ
ہوگا۔(صحیح مسلم،کتاب الفضائل ،باب اثبات حوض نبینا ﷺ و صفاتہ،حدیث2292 ،دارالکتب
العلمیہ)
توبہ
کرنے والے کی مثال: خادمِ رسول سیدنا
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد
فرمایا:اللہ پاک اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جسے اس کا
اُونٹ چَٹیَل میدان میں گم ہونے کے بعد اچانک مل جائے ۔(صحیح بخاری ،کتاب
الدعوات،باب التوبۃ،حدیث 6309 ،دار الکتب العلمیہ)
قرآن
پڑھنے والے مومن و منافق کی مثال: حضرت
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ پاک کے آخری صلی اللہ
علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال نارنگی کی طرح ہے
جس کی خوشبو بھی اچھی اور ذائقہ بھی عمدہ ہے اور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال
کھجور کی طرح ہے جس کی خوشبو نہیں لیکن ذائقہ میٹھا ہے۔قرآن پڑھنے والے منافق کی
مثال پھول کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی اور ذائقہ کڑوا ہے اور قرآن نہ پڑھنے والے
منافق کی مثال اندرائن کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی نہیں اور ذائقہ کڑوا ہے۔(سنن
ترمذی،کتاب الامثال ،باب ماجاء فی مثل المؤمن۔۔۔۔۔، حدیث 2865
،دار الکتب العلمیہ)
دل
کی مثال: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی
کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:بے شک یہ دل ایسے زنگ آلود ہوتے
رہتے ہیں جیسے لوہا ، عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ﷺ ان دلوں کی صیقل
کیا ہے ارشاد فرمایا موت کی زیادہ یاد اور قرآن کریم کی تلاوت ۔(کنز العمال،کتاب
الاذکار ،ج 2،ص241،حدیث3924،موسسۃ الرسالۃ)
مسجد
جلدی آنے والے کی مثال : پیارے آقا
تاجدارِ مدینہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :جمعہ کے دن فرشتے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو کر
مسجد میں آنے والوں کی حاضری لکھتے ہیں جو لوگ پہلے آتے ہیں ان کو پہلے اور جو بعد
میں آتے ہیں ان کو بعد میں اور جو شخص جمعہ کی نماز کو پہلے گیا اس کی مثال اس شخص
کی طرح ہے جس نے مکہ شریف میں قربانی کے لیے اُونٹ بھیجا۔ پھر جو دوسرے نمبر پر آیا
اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے گائے بھیجی پھر جو اس کے بعد آئے وہ اس شخص کے
مانند ہے جس نے دنبہ بھیجا پھر جو اس کے بعد آئے وہ اس شخص کے مانند ہے جس نے مرغی
بھیجی اور جو اسکے بعد آئے وہ اس شخص کی مانند ہے جس نے انڈا بھیجا ، پھر جب امام خطبہ کے لیے اُٹھتا ہے تو فرشتے اپنے
کاغذات لپیٹ لیتے ہیں اور خطبہ سننے میں مشغول ہوجاتے ہیں۔(صحیح بخاری ،کتاب الجمعۃ،باب
الاستمارع الی الخطبۃ ،حدیث 929 ،دار الکتب العلمیہ)
اللہ پاک ہمیں
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرامین کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا
فرمائے ۔آمین
ساجد علی عطاری (درجہ سابعہ جامعہ
المدینہ فیضان بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے معاشرے کے اخلاقی حالات بہت ہی خراب تھے لوگوں میں
شرک اور بت پرستی، ظلم
و جبر اور ناانصافی، قتل و غارت، معمولی باتوں پر لڑائیاں وغیرہ عام
تھیں ، تو اس وقت اللہ پاک نے
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو معلم کائنات بنا کر بھیجا، تاکہ آپ لوگوں کی تربیت فرمائیں ، انہیں اخلاقِ حسنہ سکھائیں اور
آپ علیہ السلام نے اس فریضے کو احسن انداز میں ادا فرمایا
،آپ علیہ السلام کا مبارک انداز تھا کہ جب آپ علیہ السلام
لوگوں کی تربیت فرماتےتو مثال دیکر تربیت فرماتے کیونکہ مثال کے
ساتھ سمجھانا فہم کے زیادہ قریب ہے جیسا کہ ان احادیث مبارکہ
میں ملاحظہ فرمائیں ۔
(1) علم سے فائدہ اٹھانے کی تربیت خزانہ کی مثال دیکر فرمائی: وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ عِلْمٍ لَا
يُنْتَفَعُ بِهِ كَمَثَلِ كَنْزٍ لَا يُنْفَقُ مِنْهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ رَوَاهُ أَحْمَدُ
وَالدَّارمِيُّ روایت ہے حضرت
ابوہریرہ سے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا کہ اس علم کی مثال جس سے نفع نہ اٹھایا
جائے ا س خزانہ کی سی ہے جس سےاللہ کی راہ میں خرچ نہ کیا جائے ۔(لمعات التنقیح فی
شرح مشکات المصابیح جلد1، کتاب العلم ۔فصل الاول ، ص 615 ۔حدیث: 280 مکتبہ علومِ اسلامیہ)
(2) اچھے دوست بنانے کی تربیت مشک اٹھانے والے کی مثال دیکر فرمائی : عنْ اَبِيْ مُوْسَى
الْاَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ قَالَ : اِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيْسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِيْسِ
السُّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيْرِ فَحَامِلُ الْمِسْكِ اِمَّا
اَنْ يُّحْذِيَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ مِنْهُ
رِيْحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيْرِ اِمَّا اَنْ يُّحْرِقَ ثِيَابَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ
مِنْهُ رِيْحًا مُّنْتَنِةً
ترجمہ : حضرتِ
سَیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ
بحرو بَر ﷺ نے ارشادفرمایا : ’’اچھے
اور برے دوست کی مثال مشک اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے ، مشك اٹھانے
والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی
جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تمہیں اس سے ناگوار بو آئے گی
۔ ( صحیح مسلم۔جلد 2 ۔ کتاب البر و
الصلۃ والادب ۔باب استحباب مجالسۃ الصاحین و مجانبۃ قرناء السوء ۔
رقم1305۔ حدیث نمبر: 2628)
سبحان اللہ
کتنے پیارے انداز میں صالحین کی صحبت اختیار کرنے اور برے لوگوں کی صحبت سے بچنے کی
تربیت فرمائی ۔
(3)
اللہ پاک کا ذکر
کرنے کی اہمیت کو زندگی کی مثال دیکر بیان فرمایا: عَنْ أَبِيْ مُوْسٰى
قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ:مَثَلُ الَّذِيْ يَذْكُرُ رَبَّهٗ وَالَّذِيْ لَا يَذْكُرُ مَثَلُ
الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ ترجمہ : حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم
نے فرمایا اس کی مثال جو رب کا ذکر کرے اور جو نہ کرے زندہ و مردہ کی سی ہے ۔(
کتاب: لمعات التنقیح فی شرح مشکوٰۃ المصابیح ۔
جلد 5 ۔ کتاب الدعوات ۔ باب ذکر اللہ والتقرب اِلیہ ، حدیث
نمبر:2263 ، مکتبہ علومِ اسلامیہ)
(4) قرآنِ پاک
کو یاد رکھنے کے متعلق تربیت کرتے ہوئے مثال دیکر فرمایا: عنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہ عَنْہُمَا اَنَّ رَسُوْلَ
اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِنَّمَامَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْاٰنِ
كَمَثَلِ الْاِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ اِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا اَمْسَكَهَا وَاِنْ
اَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ ترجمہ
: حضرت سَیِّدُنا عبداﷲ بن عمر رضی
اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا:حافِظِ
قرآن کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کی طرح ہےکہ اگر(مالک) اس کی حفاظت کرے گا تو اسے
روکے رکھے گا اور اگر اسے کھلا چھوڑ دے گا تو وہ بھاگ جائے گا۔( صحیح بخاری ۔جلد 3/ الجزء الثالث۔ کتاب
فضائل القرآن ۔ باب استذکار القرآن وتعاھُدِہٖ ۔ ص 1434۔ حدیث نمبر5031۔ مکتبہ
الطاف اینڈ سَنز)
ابو کلیم عبدالرحیم عطّاری (درجہ
سادسہ جامعۃ المدینہ سادھو کی لاہور ، پاکستان)
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم اللہ پاک کے آخری نبی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر موڑ پر
اصلاح و تربیت فرمائی مگر یہ اصلاح فرمانے کا انداز مختلف تھا ،انہی میں سے ایک طریقہ
مثالوں کے ذریعے تربیت فرمانا بھی ہے ، آئیے ہم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
کے اس انداز کے متعلق چند احادیث پڑھتے ہیں اور علم میں اضافہ کرتے ہیں:
(1) علم سے نفع اٹھانے اور نہ اٹھانے والے کی
مثال: عَنْ
اَبِیْ مُوْسٰی رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ مَثَلَ مَا بَعَثَنِيَ اللهُ بِهِ مِنَ الْهُدَى
وَالْعِلْمِ كَمَثَلِ غَيْثٍ اَصَابَ اَرْضًا فَكاَنَتْ مِنْهَا طَائِفَةٌ
طَيِّبَةٌ، قَبِلَتِ
الْمَاءَ فَاَنْبَتَتِ الْكَلَاَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيْرَ، وَكَانَ مِنْهَا اَجَادِبُ
اَمْسَكَتِ الْمَاءَ، فَنَفَعَ اللهُ بِهَا النَّاسَ فَشَرِبُوْا مِنْهَا
وَسَقُوْا وَزَرَعُوْا، وَاَصَابَ طَائِفَةً مِنْهَا اُخْرَى، اِنَّمَا هِيَ قِيْعَانٌ لَا تُمْسِكُ مَاءً وَلَا تُنْبِتُ كَلَاً فَذٰلِكَ مَثَلَ مَنْ فَقُهَ فِي دِيْنِ اللهِ تَعَالیَ، وَنَفَعَهُ بِمَا بَعَثَنِي اللهُ بِهِ، فَعَلِمَ وَعَلَّمَ، وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذٰلِكَ رَاْسًا، وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَى اللهِ الَّذِي اُرْسِلْتُ بِهِ
ترجمہ: حضرت
ابوموسٰی رضی اللہ عنہ سےروایت
ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے ارشادفرمایا: ’’اللہ پاک نے
جس ہدایت اورعلم کے ساتھ مجھے بھیجا ہے اس کی مثال اس بارش کی طرح ہے جو زمین پر برسی تو زمین کےایک عمدہ حصےنے اس پانی کو چوس کر گھاس اور بہت سبزہ اُگایااور
زمین کا کچھ حصہ بنجر تھا جس نے اس پانی کو روک لیاتواللہ پاک نےاس سےلوگوں کو
فائدہ پہنچایا اس طرح کہ انہوں نے خود پیا، دوسروں کو پلایااور کاشت کاری کی اور
وہ بارش زمین کے ایک ایسے حصے کو پہنچی جو چٹیل میدان تھا، اس نے نہ پانی روکا اور
نہ ہی گھاس اُگائی۔ (تو پہلی) اس شخص کی مثال ہے جس نےاللہ تعالی کے دین کو سمجھااور جس چیز کے ساتھ اللہ
تعالی نے مجھے بھیجا اس نےاُسے نفع پہنچایاتو اس نے خود بھی علم حاصل کیا اور
دوسروں کو بھی سکھایا۔ (اور دوسری) اس شخص کی مثال ہے کہ جس نے اس (علم) کی طرف توجہ نہ دی (تکبر
کی وجہ سے) اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی وہ ہدایت جس کے ساتھ
مجھے بھیجا گیا ہےاسے قبول نہ کیا۔( مسلم شریف کتاب الفضائل باب بیان مثل ما بعث النبی من الھدی والعلم، ص
1283 حدیث 2287 )
(2) رسولُ اللہﷺ اور امت محمدیہ کی مثال : عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ
اَوْقَدَ نَاراً فَجَعَلَ الجَنَادِبُ والفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيْهَا وَهُوَ
يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا وَاَنَا اٰخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، وَاَنْتُمْ تَفَلَّتُوْنَ
مِنْ يَدَيَّ ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسولُ اللہ ﷺ نے
ارشادفرمایا: ’’ میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہےجس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور پروانے اس میں
گرنے لگےاور وہ شخص اُنہیں آگ میں گرنے سے بچاتا ہےاورمیں بھی تمہیں تمہاری کمر سے پکڑ کر آگ (میں گرنے) سےبچاتا ہوں اور تم میرے
ہاتھ سے نکلے جاتے ہو ۔ ( مسلم کتاب الفضائل باب الشفقت
علی امتہ ص 1284 حدیث 2285 )
(3) احکام الہی نافذ کرنے والے کی مثال: عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ
بَشِیرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ
: مَثَلُ الْقَائِمِ فِی حُدُوْدِ اللَّہِ ، وَالْوَاقِعِ فِیْہَا کَمَثَلِ
قَوْمٍ اسْتَہَمُوْا عَلَی سَفِیْنَۃٍ ، فَصَارَبَعْضُہُمْ اَعْلَاہَا وَبَعْضُہُمْ
اَسْفَلَہَا ، فَکَانَ الَّذِیْنَ فِی اَسْفَلِہَا اِذَا اسْتَقَوْا مِنَ الْمَاء
ِ مَرُّوْا عَلَی مَنْ فَوْقَہُمْ ، فَقَالُوْا : لَوْ اَنَّا خَرَقْنَا فِی نَصِیْبِنَا
خَرْقًا وَلَمْ نُؤْذِ مَنْ فَوْقَنَا ، فَاِنْ تَرُکُوْہُمْ وَمَا اَرَادُوْا ہَلَکُوْا جَمِیْعًا
، وَاِنْ اَخَذُوْا عَلَی اَیْدِیْہِمْ نَجَوْا وَنَجَوْا جَمِیْعًا
ترجمہ: حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبیِّ
کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’اللہ پاک کی مقرر کردہ حدوں پر قائم رہنے والوں اور اس
میں مبتلا ہونے والوں کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے
جنہوں نے ایک بحری جہاز میں قرعہ اندازی کر کے اپنے حصے
تقسیم کر لیے ، بعض کے نصیب میں بالائی اور بعض کے نصیب میں نیچے کا حصہ آیا توجو
لوگ نچلے حصے میں تھے انہیں پانی لینے کے لیے اوپر والے حصے سے گزرنا پڑتا ۔ نچلے
حصے والوں نے کہا : کیوں نہ ہم اپنے حصے میں سوراخ کرلیں (تاکہ پانی لینے میں آسانی
ہو) اور اوپر والوں کو تکلیف میں نہ ڈالیں۔ اب اگر اوپر
والے نیچے والوں کو یہ ارادہ پورا کرنے دیں تو سب ہلاک ہو جائیں گے
اور اگر یہ ان کے ہاتھ پکڑ لیں تو خود بھی نجات پائیں گےاور دیگر لوگ بھی نجات پائیں
گے۔ (بخاری شریف کتاب الشرکت باب ھل یقرع فی القسمتہ والستھام فیہ، ج 2 ،ص 143 ،حدیث : 2593)
(4) اچھے اور برے دوست کی مثال نماز : عَنْ اَبِيْ مُوْسَى الْاَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ
النَّبِيَِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيْسِ
الصَّالِحِ وَالْجَلِيْسِ السُّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيْرِ
فَحَامِلُ الْمِسْكِ اِمَّا اَنْ يُّحْذِيَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وَ
اِمَّا اَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيْحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيْرِ اِمَّا اَنْ يُّحْرِقَ
ثِيَابَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيْحًا مُّنْتَنِةً
ترجمہ: حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے
روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَر ﷺ نے
ارشادفرمایا :اچھے اور برے دوست کی مثال مشک اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی
طرح ہے ، مشك اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے
عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تمہیں اس سے
ناگوار بو آئے گی ۔(بخاری کتاب الذبائح والصید و تسمیتہ علی الصید باب المسک ص 567
ج 3 حدیث 5534)
(5) دنیا و اخرت کی مثال: وَعَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ
شَدَّادٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ : مَا
الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ اِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ اَحَدُكُمْ اِصْبَعَهُ فِي
الْيَمِّ ، فَلْيَنْظُرْ بِمَ يَرْجِعُ ترجمہ: حضرت مُسْتَوْرِدْ بن شَدَّاد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : آخرت کے مقابلے
میں دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے پھر دیکھے
کہ وہ کتنا پانی لے کر لوٹتی ہے ۔ ( مسلم شریف، کتاب
الجنۃ و صفۃ نعیمھا اہلھا باب فناء الدنیا و بیان
الحشر یوم القیامۃ، ص 1529 ، حدیث 2886)
اللہ پاک ہمیں
ان احادیث پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
اویس عطّاری (درجہ ثالثہ جامعۃُ المدینہ
فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
اللہ پاک کا
لاکھ لاکھ شکر کریں تو بھی کم ہے کہ اس نے ، ہمیں اپنے
پیارے محبوب صلی علیہ وآلہ وسلم کی امت میں پیدا فرما کر
ہم پر بڑا حسان فرمایا ہےاللہ تعالٰی کے آخر ی نبی محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت سی مثالوں سے امت کی تربیت
فرمائی جیسا کہ حدیث پاک میں بھی آیا ہے :
آیئے ہم بھی
کچھ ایسی احادیث مبارکہ کا مطالعہ کرتے ہیں کہ جس سے میں نبی پاک (صلی
علیہ وآلہ وسلم )نے مثال سے تربیت فرمائی ہے:
(1)حضور
علیہ السلام کی اپنی امت پر شفقت: حضرتِ جابر رضی اللہ عنہ سے
مروی ہے کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری اور تمہاری مثال اس شخص کی
طرح ہے جس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور پروانے اس میں گرنے لگے اور وہ شخص اُنہیں آگ
میں گرنے سے بچاتا ہے اور میں بھی تمہیں تمہاری کمر سے پکڑ کرآگ ( میں گرنے) سے
بچاتا ہوں اور تم میرے ہاتھ سے نکلے جاتے ہو۔(فیضان ریاض الصالحین٬جلد2٬حدیث
نمبر163ص531)
(2)علم
سیکھنے اور سکھانے والے کی مثال: حضرت
ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبیِّ کریم رؤف
رحیم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ پاک نے جس ہدایت اور علم کے ساتھ مجھے بھیجا ہے اس کی مثال اس
بارش کی طرح ہے جو زمین پر پڑی تو زمین کے ایک عمدہ حصے نے اس پانی کو چوس کر گھاس
اور بہت سبزہ اُگایا اور زمین کا کچھ حصہ بنجر تھا جس نے اس پانی کو روک لیا تو
اللہ نے اس سے لوگوں کو فائدہ پہنچایا اس طرح کہ
انہوں نے خود پیا، دوسروں کو پلایا اور کاشت کاری کی اور وہ بارش زمین کے ایک ایسے
حصے کو پہنچی جو چٹیل میدان تھا، اس نے نہ پانی روکا اور نہ ہی گھاس اُگائی۔ (تو
پہلی) اس شخص کی مثال ہے جس نے اللہ کے
دین کو سمجھا اور جس چیز کے ساتھ اللہ عزوجل نے مجھے بھیجا اس نے اُسے نفع پہنچایا
تو اس نے خود بھی علم حاصل کیا اور دوسروں کو بھی سکھایا۔ (اور دوسری) اس شخص کی
مثال ہے کہ جس نے اس (علم) کی طرف توجہ نہ دی ( تکبر کی وجہ سے) اور اللہ
عَزَّوَجَل کی وہ ہدایت جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہے اسے قبول نہ کیا۔ ( فیضان ریاض الصالحین ،جلد2،حدیث نمبر162، ص526)
(3)اچھے
اور بُرے دوست کی مثال :حضرت سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو جہاں
کے تاجور ، سلطانِ بحر و بر ﷺ نے
ارشاد فرمایا: ”اچھے اور برے دوست کی مثال مشک اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے
کی طرح ہے ، مشک اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس
سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تمہیں اس
سے ناگوار بو آئے گی۔ (فیضان ریاض الصالحین ،جلد4،حدیث نمبر363، ص148)
(4)آخرت
کے مقابلے میں دنیا کی مثال: حضرت
سید نا مُسْتَورِ دُ بن شَدَّادِ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ
نے فرمایا: آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے
تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے پھر دیکھے کہ وہ کتنا پانی لے کر لو ٹتی
ہے۔(فیضان ریاض الصالحین ٬جلد4، حدیث نمبر463، ص671)
(5)
سخی اور بخیل کی مثال ہے: حضرت سیدنا
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے
رسول الله صلى الله تعالی علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ
بخیل اور خرچ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے جن پر ان کے سینے سے لے کر
گلے تک لوہے کی زرہ ہو تو خرچ کرنے والا جب خرچ کرتا ہے تو وہ زرہ
کھل جاتی ہے یا کشادہ ہو کر اس کے جسم پر آجاتی ہے یہاں تک کہ اس کی انگلیوں کے
پورے بھی چھپ جاتے ہیں اور اس کے قدموں کے نشانات مٹادیتی ہے لیکن بخیل جب کوئی چیز
خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کا ہر حلقہ
اپنی جگہ چمٹ جاتا ہے اور وہ اسے کشادہ کرنا چاہتا ہے لیکن وہ کشادہ نہیں ہوتا۔ (فیضان
ریاض الصالحین ، جلد5،حدیث نمبر،560،ص237)
(6)
مسلمانوں کے ساتھ حسن سلوک: حضرت سیدنا نعمان بن
بشیر رضی اللہ عنہ سے
روایت ہے کہ رسول اللهﷺ نے ارشاد فرمایا: مسلمانوں کی آپس میں دوستی، رحمت اور
شفقت کی مثال ایک جسم کی طرح ہے جب جسم کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتا ہے تو پورا جسم
بخار اور بے خوابی کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ (فیضان ریاض الصالحین ٬جلد٬2حدیث
نمبر،224،ص،235)
اللہ پاک سے دعا ہے کہ الله پاک ہم کو ان احادیث مبارکہ پر عمل
کرنے کی تو فیق عطا فرمائے اور ان احادیث مبارکہ کو پڑھ
کر ان کو دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami