گلبرگ ٹاؤن،  کراچی کے النور سوسائٹی میں واقع دعوتِ اسلامی کے جامعۃالمدینہ بوائز میں شعبہ کفن دفن کے تحت غسلِ میت کورس کا انعقاد ہوا جس میں طلبۂ کرام سمیت دیگر اسلامی بھائیوں نے بھی شرکت کی۔

اس کورس میں شعبے کے ڈسٹرکٹ ناظم آباد ذمہ دار عزیر عطاری نے شرکا کو غسلِ میت کی فضیلت و اہمیت بتاتے ہوئے انہیں غسلِ میت دینے کا شرعی طریقہ سکھایا نیز کفن کاٹنے / پہنانے کے حوالے سے بھی اُن کی رہنمائی کی۔(رپورٹ: شعبہ کفن دفن ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


کراچی کے علاقے ناظم آباد ٹاؤن کی جامع مسجد آصفیہ میں شعبہ کفن دفن دعوتِ اسلامی کے تحت کفن دفن کورس منعقد ہوا جس میں مسجد کے نمازی حضرات، ٹاؤن ذمہ دار نعیم عطاری اور یوسی نگران مولانا سیّد راشد عطاری مدنی نے شرکت کی۔

ناظم آباد ڈسٹرکٹ کے ذمہ دار عزیر عطاری نے کورس کے دوران حاضرین کو غسلِ میت کی فضیلت و اہمیت کے بارے میں بتایا اور انہیں غسلِ میت دینے ، کفن کاٹنے / پہنانے کا شرعی طریقہ سکھایا۔

بعدازاں ڈسٹرکٹ ذمہ دار نے نمازی حضرات کو دعوتِ اسلامی کے نیک اجتماعات میں شرکت کرنے اور دینی کاموں میں حصہ لینے کی ترغیب دلائی جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔(رپورٹ: شعبہ کفن دفن ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں شعبہ کفن دفن کے تحت پچھلے دنوں غسلِ میت کورس کا اہتمام کیا گیا جس میں مرکزی جامعۃالمدینہ فیضانِ مدینہ کراچی بوائز کے طلبۂ کرام نے شرکت کی۔

اس موقع پر شعبے کے سٹی ذمہ دار مولانا یاسر عطاری مدنی نے غسلِ میت کی فضیلت و اہمیت کے بارے میں بتایا اور حاضرین کو غسلِ میت دینے، کفن کاٹنے / پہنانے کا مکمل طریقہ پریکٹکل کرکے بتایا۔

اس کے علاوہ سٹی ذمہ دار نےطلبۂ کرام کو دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں میں بھی عملی طور پر حصہ لینے کی ترغیب دلائی جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔(رپورٹ: عزیر عطاری ڈسٹرکٹ ذمہ دار ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

دعوتِ اسلامی کے شعبہ مدنی کورسز کے تحت ضلع قصور کی تحصیل پتوکی میں قائم کپس کالج میں 7 دن کا فیضانِ نماز کورس منعقد کیا گیا جس میں اسٹوڈنٹس سمیت دیگر اسٹاف نے بھی شرکت کی۔

اس کورس میں معلم محمد ساجد عطاری نے اسٹوڈنٹس کو نماز کی اہمیت بیان کرتے ہوئے طہارت کے متعلق بتایا اور غسل و وضو کے مسائل سکھائے جبکہ زندگی میں کیسے کامیابی حاصل ہو؟ والدین کی شان اور حسنِ اخلاق کے موضوع پر بیان کیا۔

اس کے علاوہ معلم نے وہاں موجود اسٹوڈنٹس کو دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے وابستہ رہنے کی ترغیب دلائی جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔(رپورٹ:محمداحمدسیالوی عطاری رکن شعبہ مدنی کورسزواعتکاف، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

ہمارے معاشرے میں ہنسی مذاق انسانوں کے گھل مل جانے، دل بہلانے اور ماحول کو خوشگوار بنانے کا ذریعہ ہے۔ مگر جب اسی مذاق میں جھوٹ شامل ہوجائے تو یہ خوشگواری گناہ اور دل آزاری میں بدل سکتی ہے۔ اسلام کی تعلیمات ہمیں سچائی کا درس دیتی ہیں، چاہے صورتحال سخت ہو یا نرم، سنجیدگی ہو یا مزاح۔

اسی چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے شیخ طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے مسلمانوں کو اس گناہ سے بچانے کے لئے عاشقانِ رسول کو اس ہفتے 14 صفحات کا رسالہ ”مذاق میں جھوٹ بولنا کیسا؟“ پڑھنے/ سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے/ سننے والوں کو اپنی دعاؤں بھی سے نوازا ہے۔

دعائے عطار

یاربِّ کریم! جو کوئی 14 صفحات کا رسالہ ”مذاق میں جھوٹ بولنا کیسا؟“ پڑھ یا سُن لے اُسے ہمیشہ سچ بولنے کی توفیق دے اور اس کو ماں باپ سمیت بے حساب بخش دے۔ اٰمین

یہ رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کیجئے:

Download


الله پاک اور اس کے محبوب مكرم شفیع معظم رحمت دو عالم ﷺ نے قرآن وسنت میں ہدایت اور راہنمائی عطا فرمانے کے مختلف ذرائع اور انداز اختیار فرمائے ہیں، جس میں ایک طریقہ امثلہ کے ذریعے مخاطب کو بات سمجھانا ہے اور انداز کلام میں یہ ایک بلیغ انداز ہے جس میں مثال کے ذریعے غیر واضح حقیقت کو متکلم مخاطب کے فہم و شعور میں اجاگر کرنے یا قریب تر لانے کے لیے اسے کسی محسوس واضح چیز سے تشبیہ دیتا ہے، اس لیے قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے:

وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ(۲۱) ترجمۂ کنز العرفان: اور ہم یہ مثالیں لوگوں کے لیے بیان فرماتے ہیں تاکہ وہ سوچیں ۔ (الحشر: 21)

کتاب اللہ کی طرح ذخیره حدیث میں بھی ہمیں متعد دار شادات مصطفوى ملتے ہیں جس میں ہادیِ برحق رسول صادق ﷺ نے مثالوں کے ذریعے بہت سی باتیں ارشاد فرمائی ہیں۔

(1) حضرت سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ پاک کے آخری صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال نارنگی کی طرح ہے جس کی خوشبو بھی اچھی اور ذائقہ بھی عمدہ ہے اور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور کی طرح ہے جس کی خوشبو نہیں لیکن ذائقہ میٹھا ہے۔قرآن پڑھنے والے منافق کی مثال پھول کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی اور ذائقہ کڑوا ہے اور قرآن نہ پڑھنے والے منافق کی مثال اندرائن کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی نہیں اور ذائقہ کڑوا ہے۔ (سنن ترمذی،کتاب الامثال ،باب ماجاء فی مثل المؤمن۔۔۔۔۔، حدیث 2865 ،دار الکتب العلمیہ)

(2) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَثَلُ الْبَخِيْلِ وَالْمُنْفِقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ مِنْ ثُدِيهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا فَأَمَّا الْمُنْفِقُ فَلَا يُنْفِقُ إِلَّا سَبَغَتْ أَوْ وَفَرَتْ عَلَى جِلْدِهِ حَتَّى تُخْفِيَ بَنَانَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ وَأَمَّا الْبَخِيلُ فَلَا يُرِيدُ أَنْ يُنْفِقَ شَيْئًا إِلَّا لَزِقَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَكَانَهَا فَهُوَ يُوَسِعُهَا فَلَا تَتَّسِعُ ، ترجمہ حدیث حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول الله ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بخیل اور خرچ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے جن پر ان کے سینے سے لے کر گلے تک لوہے کی زرہ ہو تو خرچ کرنے والا جب خرچ کرتا ہے تو وہ زرہ کھل جاتی ہے یا کشادہ ہو کر اس کے جسم پر آجاتی ہے یہاں تک کہ اس کی انگلیوں کے پورے بھی چھپ جاتے ہیں اور اس کے قدموں کے نشانات مٹادیتی ہے لیکن بخیل جب کوئی چیز خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کا ہر حلقہ اپنی جگہ چمٹ جاتا ہے اور وہ اسے کشادہ کرنا چاہتا ہے لیکن وہ کشادہ نہیں ہو تا۔( فیضان رياض الصالحین جلد : 5، حدیث نمبر :560)

(3) وَعَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ ، فَلْيَنْظُرُ بِمَ يَرْجِعُ ترجمہ : حضرت سیدنا مُسْتَورِدُ بن شَدَّ اد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : ” آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے پھر دیکھے کہ وہ کتنا پانی لے کر لوٹتی ہے۔“ ( فیضان رياض الصالحین جلد :4،حدیث نمبر : 463)

(4) عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَالُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطْفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى ترجمہ : حضرت سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ تَعَالٰی عَنْہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تَعَالٰی عَلَيْہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”مسلمانوں کی آپس میں دوستی ، رحمت اور شفقت کی مثال ایک جسم کی طرح ہے جب جسم کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتا ہے تو پورا جسم بخار اور بے خوابی کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔“۔ ( فیضان رياض الصالحین جلد : 3، حدیث نمبر : 224)

(5) عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ عَلَى حَصِيرٍ فَقَامَ وَقَدْ أَثَرَ فِي جَسَدِهِ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نَبْسُطَ لَكَ وَنَعْمَلَ فَقَالَ: مَا لِي وَلِلدُّنْيَا وَمَا أَنَا وَالدُّنْيَا إِلَّا كَرَاكِبٍ اسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ ثُمَّ رَاحَ وَ تَرَكَهَا (مشكاة المصابيح، كتاب الرقاق الفصل الثانی الحديث : ۵۱۸۸، ج ۲، ص ۲۴۷)

ترجمہ: حضرت عبد الله بن مسعود رضی الله تعالى عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ ایک چٹائی پر سو کر جب اُٹھے تو آپ کے جسم مبارک پر چٹائی کا نشان پڑ گیا تھا تو عبد اللہ بن مسعود رضی الله تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول الله ! کاش! آپ ہم لوگوں کو حکم فرماتے کہ ہم لوگ آپ کے لیے بچھونا بچھا دیتے اور آپ کی راحت کا سامان کر دیتے تو حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے دنیا سے کیا مطلب میری اور دنیا کی مثال تو ایسی ہے جیسے کوئی سوار کسی درخت کے سایہ میں کچھ دیر بیٹھ جاتا ہے پھر اُس درخت کو چھوڑ کر چل دیتا ہے۔( منتخب حدیثیں، حدیث نمبر : 24)


رسولِ اکرم ﷺ پوری انسانیت کے لیے معلم و مربی بنا کر بھیجے گئے۔ آپ ﷺ نے حکمت، مثالوں، عمل، اور محبت سے دلوں کو فتح کیا۔ آپ ﷺ کا اندازِ تربیت انتہائی مؤثر اور منفرد تھا، جس میں سے ایک نمایاں طریقہ ”مثالوں (تمثیل) کے ذریعے تربیت“ ہے۔

مثالوں کے ذریعے تربیت کے فائدے: (1) بات جلدی سمجھ میں آتی ہے (2) یادداشت میں رہتی ہے (3) تصور قائم ہو جاتا ہے (4) سامع کی توجہ مرکوز ہو جاتی ہے (5) عمل کی تحریک ملتی ہے۔

(1) مشک والے اور لوہار کی مثال: مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ، كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ یعنی نیک اور بُرے ساتھی کی مثال کستوری والے اور لوہار کی سی ہے۔( صحیح البخاری، كتاب الذبائح والصيد، باب المسك (من أمثال الأصحاب)، جلد: 7، صفحہ: 2505 ، حدیث نمبر: 5534، دار الفكر)

(2) آگ کی مثال: إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًاوَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ ترجمہ: میری اور تمہاری مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلا دی ، میں تمہیں اس سے بچانے کی کوشش کر رہا ہوں مگر تم فرار ہو رہے ہو۔ (صحیح مسلم، كتاب الفضائل، باب: بيان مثال، جلد: 4، صفحہ: 1788 ، حدیث نمبر: 2284، دار احياء التراث العربی)

رسول اللہ ﷺ نے تمثیل کے ذریعے نہ صرف بات سمجھائی بلکہ عمل کی تحریک بھی دی۔ آپ ﷺ کا ہر انداز حکمت، شفقت اور فہم پر مبنی تھا۔ آج ضرورت ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کے اس اسلوب تربیت کو اپنائیں تاکہ دلوں میں علم جاگزیں ہو اور عمل کی راہیں کھلیں۔

اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی بنا کر بھیجا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے ، آیئے ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مثال کے ساتھ تربیت فرمانا ملاحظہ کرتے ہیں:

(1) دل کی مثال: روایت ہے ابوموسیٰ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرماتے ہیں : فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے : دل کی مثال اس پر کی سی ہے جو میدانی زمین میں ہو جسے ہوائیں ظاہروباطن الٹیں پلٹیں ۔ ( مشکوٰۃ المصابیح ، فصل:ایمان کا بیان ، باب: تقدیر پر ایمان لانے کا بیان ، جلد:1 حدیث نمبر:103)

(2) ہدایت وعلم کی مثال: حضرت ابوموسیٰ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اس ہدایت و علم کی مثال جو رب نے مجھے دے کر بھیجا اس بہت سی بارش کی طرح جوکسی زمین میں پہنچی اس کا کچھ حصہ اچھا تھا جس نے پانی چوسا اور گھاس اور بہت چارہ اگادیا اور بعض حصہ سخت تھا جس نے پانی جمع کرلیا جس سےاللہ نے لوگوں کو نفع دیا کہ انہوں نے خود پیا پلایا اور کھیتی کی اور ایک دوسرے حصہ میں پہنچا جو چیٹل تھا کہ نہ پانی جمع کرے اور نہ گھاس اُگائے یہ اس کی مثال ہے جو دینی عالم ہوا اور اسے اس چیزنے نفع دیا جو مجھے رب نے دے کر بھیجا اس نے سیکھا اورسکھایا اور اس کی مثال ہے جس نے اس پر سر نہ اٹھایا اوراللہ کی وہ ہدایت قبول نہ کی جو مجھے دے کر بھیجا گیا۔( مشکوٰۃ المصابیح، فصل: ایمان کا بیان ، باب: قرآن وسنت مضبوطی سے پکڑنا، جلد:1 حدیث نمبر:150)

(3)میری اور تمہاری مثال: حضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہےکہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’ میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہےجس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور پروانے اس میں گرنے لگےاور وہ شخص اُنہیں آگ میں گرنے سے بچاتا ہےاورمیں بھی تمہیں تمہاری کمر سے پکڑ کر آگ سےبچاتا ہوں اور تم میرے ہاتھ سے نکلے جاتے ہو ۔ ‘‘ ( فیضان ریاض الصالحین ، فصل:سنت، باب: سنت کے آداب ، جلد:2 ، حدیث نمبر:163 )

(4) اہل بیت کی مثال: روایت ہے حضرت ابو ذر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے کہ انہوں نے کعبہ کا دروازہ پکڑےہوئے فرمایا کہ میں نے نبی صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ آگاہ رہو کہ تم میں میرے اہل بیت کی مثال جناب نوح کی کشتی کی طرح ہے جو اس میں سوار ہوگیا نجات پا گیا اور جو اس سے پیچھے رہ گیا ہلاک ہوگیا۔ (مشکوٰۃ المصابیح، فصل: فضائل کا بیان، باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کے فضائل، جلد:8 حدیث نمبر:6183)

(5) صحابہ کرام کی مثال: روایت ہے حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرماتے ہیں : فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میرے صحابہ کی مثال میری امت میں کھانے میں نمک کی سی ہے کہ کھانا بغیر نمک کے درست نہیں ہوتا ، حسن نے فرمایا کہ ہمارا نمک تو چلا گیا ہم کیسے درست ہوں۔ (مشکوٰۃ المصابیح، فصل: فضائل کا بیان، باب: حضرات صحابہ کرام کے فضائل ، جلد:8 حدیث نمبر:6015 )

اللہ تعالیٰ ہمیں ان احادیث مبارکہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین


مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًاۚ      ترجمہ کنزالایمان: ان کی کہاوت اس کی طرح ہے جس نے آگ روشن کی ۔ (پ1، البقرۃ: 17)

مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًا: ان کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ روشن کی: یہ ان لوگوں کی مثال ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے کچھ ہدایت دی یا اُس پر قدرت بخشی پھر انہوں نے اسے ضائع کردیا اور ابدی دولت کو حاصل نہ کیا ،ان کا انجام حسرت و افسوس اور حیرت و خوف ہے اس میں وہ منافق بھی داخل ہیں جنہوں نے اظہارِ ایمان کیا اور دل میں کفر رکھ کر اقرار کی روشنی کو ضائع کردیا اور وہ بھی جو مومن ہونے کے بعد مرتد ہوگئے اور وہ بھی جنہیں فطرتِ سلیمہ عطا ہوئی اور دلائل کی روشنی نے حق کو واضح کیا مگر انہوں نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا اور گمراہی اختیار کی اور جب حق کو سننے ، ماننے، کہنے اور دیکھنے سے محروم ہوگئے تو کان، زبان، آنکھ سب بیکار ہیں۔ (تفسیرِ صراط الجنان جلد1 ص90 مکتبۃ المدینہ)

پیارے اسلامی بھائیو !اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں مختلف مقامات پر مؤمنین اور منافقین اور دیگر چیزوں کی مثالوں کو بیان فرمایااور ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مختلف مقامات پر مثالیں دیکر صحابہ کرام علیہم الرضوان کی تربیت فرمائی کیونکہ مثالوں کا بیان حکمت کے مطابق اور مضمون کو دل نشین کرنے والا ہوتا ہے، اسی مناسبت سے پانچ احادیث مبارکہ ذکر کی جاتی ہیں :

(1) پانچ نمازوں کی مثال: قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيْهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا هَلْ يَبْقٰى مِنْ دَرَنهٖ شَيْءٌ قَالُوا: لَا يَبْقَى مِنْ دَرَنهٖ شَيْءٌ. قَالَ:فَذٰلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللہ ُ بِهِنَّ الْخَطَايَا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بتاؤ تو اگر تم میں سے کسی کے دروازہ پرنہرہو کہ اس میں روزانہ پانچ دفعہ نہائے کیا کچھ میل رہے گا ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ بالکل میل نہ رہے گا، فرمایا : یہ پانچ نمازوں کی مثال ہے کہ الله ان کی برکت سے گناہ مٹاتا ہے۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد 1،ص 339، الفصل الاول،باب نماز کا بیان ، حدیث 519،مکتبہ اسلامیہ)

(2) سخی اور بخیل کی مثال: عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہ عَنْہُ اَنَّهُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ:مَثَلُ الْبَخِيْلِ وَالمُنْفِقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيْدٍ مِنْ ثُدِيِّهِمَا اِلَى تَرَاقِيْهِمَا فَاَمَّا الْمُنْفِقُ فَلَا يُنْفِقُ اِلَّا سَبَغَتْ اَوْ وَفَرَتْ عَلَى جِلْدِهِ حَتَّى تُخْفِيَ بَنَانَهُ وَتَعْفُوَ اَثَرَهُ وَاَمَّا الْبَخِيْلُ فَلَا يُرِیْدُ اَنْ يُنْفِقَ شَيْئًا اِلَّا لَزِقَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَكَانَهَا فَهُوَ يُوَسِّعُهَا فَلَا تَتَّسِعُ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بخیل اور خرچ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے جن پر ان کے سینے سے لے کر گلے تک لوہے کی زرہ ہو تو خرچ کرنے والا جب خرچ کرتا ہے تو وہ زرہ کھل جاتی ہے یا کشادہ ہو کر اس کے جسم پر آجاتی ہے یہاں تک کہ اس کی انگلیوں کے پورے بھی چھپ جاتے ہیں اور اس کے قدموں کے نشانات مٹادیتی ہے لیکن بخیل جب کوئی چیز خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کا ہر حلقہ اپنی جگہ چمٹ جاتا ہے اور وہ اسے کشادہ کرنا چاہتا ہے لیکن وہ کشادہ نہیں ہوتا۔( فیضانِ ریاض الصالحین جلد 5, ص 237، باب جودو سخاوت کا بیان)

(2) صحابہ کی مثال نمک کی طرح: وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہ ِ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ أَصْحَابِي فِي أُمَّتِي كَالْمِلْحِ فِي الطَّعَامِ لَا يَصْلُحُ الطَّعَامُ إِلَّا بِالْمِلْحِ قَالَ الْحَسَنُ: فَقَدْ ذَهَبَ مِلْحُنَا فَكَيْفَ نَصْلُحُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میرے صحابہ کی مثال میری امت میں کھانے میں نمک کی سی ہے کہ کھانا بغیر نمک کے درست نہیں ہوتا ، حسن نے فرمایا کہ ہمارا نمک تو چلا گیا ہم کیسے درست ہوں ۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح،باب حضراتِ صحابہ کے فضائل، جلد 8 الفصل الثانی،حدیث 6015)

(3) دنیا کی مثال کپڑے کی طرح: عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللَّه عليه وسلم: مَثَلُ هَذِهِ الدُّنْيَا مَثَلُ ثَوْبٍ شُقَّ مِنْ أَوَّلِهِ إِلَى آخِرِهِ فَبَقِيَ مُتَعَلِّقًا بِخَيْطٍ فِي آخِرِهِ، فَيُوشِكُ ذَلِكَ الْخَيْطُ أَنْ يَنْقَطِعَ حضرت انس سے روایت ہے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اس دنیا کی مثال اس کپڑے کی سی ہے جو اول سے آخر تک کاٹ دیا گیا پھر وہ آخر میں ایک دھاگے سے ہلکا رہ گیا ،قریب ہے کہ یہ دھاگہ ٹوٹ جاوے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد 7، ص 275 الفصل الثالث، باب قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا اس کی قیامت قائم ہوگی،حدیث نمبر 5273مکتبہ اسلامیہ)

(4) مؤمن اور ایمان کی مثال: وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَثَلُ الْمُؤْمِنِ وَمَثَلُ الْإِيمَانِ كَمَثَلِ الْفَرَسِ فِي آخِيَّتِهٖ يَجُولُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلٰى آخِيَّتِهٖ وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَسْهُو ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الإِيمَانِ فَأَطْعِمُوا طَعَامَكُمُ الْأَتْقِيَاءَ وَأُوْلُوا مَعْرُوفَكُمُ الْمُؤْمِنِينَ روایت ہے حضرت ابو سعید سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایا کہ مؤمن اور ایمان کی مثال گھوڑے کی سی ہے اپنی رسی میں جو گھومتا ہے پھر اپنی رسی کی طرف لوٹ آتا ہے اور مؤمن بھول جاتا ہے پھر ایمان کی طرف لوٹ آتا ہے تو تم اپنا کھانا پرہیزگاروں کو کھلاؤ اور نیکو کار مؤمنوں کو۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد 6، ص 72، الفصل الثانی ،باب دعوت کا بیان، حدیث 4065 مکتبہ اسلامیہ)

(5)قرآن والے کی مثال: وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ كَمَثَلِ صَاحِبِ الإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ، إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن والے کی مثال بندھے اونٹ والے کی سی ہے اگر اس کی نگہبانی کرے گا تو اسے روک لے گا اور اگر چھوڑ دے گا تو بھاگ جائے گا ۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد 6، ص 286 ،باب آداب تلاوت، الفصل الاول، حدیث2083 مکتبہ اسلامیہ)

اللہ پاک ہمیں بھی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی تعلیمات کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کا ایک اہم طریقہ مثالوں سے سمجھانا تھا۔ آپ ﷺ نے مختلف مواقع پر مثالوں کے ذریعے لوگوں کی تربیت فرمائی، جس سے نصیحتیں زیادہ مؤثر ہوتی ہیں، رسول اللہ ﷺ نے مثالوں کے ذریعے تربیت کے لیے مختلف انداز اپنائے۔ کبھی آپ نے کوئی واقعہ بیان کیا، کبھی کوئی تمثیل پیش کی، اور کبھی کسی جانور یا چیز کی مثال دے کر سمجھایا۔ اس طرح کی تربیت سے لوگوں کو بات آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے اور وہ اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

(1)نبیِّ کریم ﷺ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب بندہ میرے قریب آتا ہے تو میں ایک ذراع اس کے قریب آتا ہوں اور جب بندہ ایک ذراع میرے قریب آتا ہے تو میں ایک بازو اس کے قریب آتا ہوں جب میری طرف چل کے آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کے جاتا ہوں ۔ (صحیح بخاری شریف۔ ج2 کتاب الرد علی الجھمیۃ وغیرھم التوحید۔حدیث نمبر 7536صفحہ 683)

(2) حضرت سیدنا ابو ہریر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنت میں کچھ ایسے لوگ داخل ہوں گے جن کے دل پرندوں کے دلوں کی مثل ہوں گے ( مسلم کتاب الجنۃ۔۔۔الخ باب یدخل الجنۃ اقوام۔۔۔ الخ ، ص 284حدیث:1522)

(3) حضرت کعب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبیِّ کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کی مثال کھیتی کے پودے کی طرح ہے ہوا اسے کبھی جھکا دیتی ہے اور کبھی سیدھا کر دیتی ہے اور منافق کی مثال سنوبر کی ہے جو سیدھا کھڑا رہتا ہے یہاں تک کہ ہوا اسے ایک ہی دفعہ اکھاڑ دیتی ہے ۔ (صحیح بخاری جلد دوم صفحہ 361 کتاب المرضی حدیث نمبر5643)

(4) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ سے روایت ہے کہ میں نبیِّ کریم ﷺ کی بیماری میں خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور حضورکو سخت بخار تھا۔ میں نے عرض کیا: آپ کو سخت بخار آ رہا ہے اور یہ اس بنا پر ہے کہ آپ کے لیے دو گنا اجر ہے۔ فرمایا: ہاں! جس مسلمان کو کوئی تکلیف پہنچے اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو دور کرتا ہے جیسا کہ درخت کے پتے کرتے ہیں ۔(صحیح بخاری جلد دوم صفحہ362کتاب المرضی باب شدۃ المرض حدیث نمبر5647)


(1) جنت کی بشارت : عَنْ ابی هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَقْوَاهُ أَفْئدَتُهُمْ مِثْلُا افئدة الطير حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے حضور نبی کریم رؤف رحیم صلى الله تعالى علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنت میں کچھ ایسے لوگ داخل ہوں گے جن کے دل پرندوں کے دلوں کی مثل ہوں گے۔(فیضانِ ریاض الصالین ،جلد 2 ، صفحہ 42 مکتبۃ المدینہ)

حدیث مذکور میں اُن لوگوں کو جنت کی بشارت دی گئی ہے جن کے دل پرندوں کے دلوں کی نرم وکمزور ہوں گے ، جس طرح رزق کے معاملے میں پرندے اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہیں ایساہی توکل ان لوگوں کا ہو گا۔ جس طرح پرندوں کے دلوں میں حسد ، بغض، کینہ وغیرہ نہیں ہو تا اس طرح ان نیک بختوں کے دل بھی اِن صِفاتِ مذمومہ سے پاک ہوں گے ۔ (فیضانِ ریاض الصالین ،جلد 2 ، صفحہ 42 مکتبۃ المدینہ)

(2)بخار کو برا نہ کہو : محمد بن یوسف نے کہا ہمیں سفیان نے بیان کیا انہوں نے اعمش سے روایت کیا انہوں نے ابراھیم تیمی سے انہوں نے حرث بن سوید انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میں خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور حضورکو سخت بخار تھا۔ میں نے عرض کیا: آپ کو سخت بخار آ رہا ہے اور یہ اس بنا پر ہے کہ آپ کے لیے دو گنا اجر ہے۔ فرمایا: ہاں! جس مسلمان کو کوئی تکلیف پہنچے اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو دور کرتا ہے جیسا کہ درخت کے پتے گرتے ہیں ۔ (صحیح بخاری ،جلد 2، صفحہ362،کتاب المرضی باب شدۃ المرض، حدیث نمبر5647)


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں ہر پہلو کو نہایت حکمت، نرمی اور فطرتِ انسانی کے مطابق سمجھایا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سیرتِ طیبہ سے ہمیں تعلیم و تربیت کا ہر اسلوب سکھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مثالوں کے ذریعے بھی صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تربیت فرماتے، تاکہ تعلیم نہ صرف آسان ہو بلکہ دل نشین بھی ہو جائے۔ آپ کا اندازِ تربیت مختصر، مؤثر اور حکمت سے بھرپور ہوتا۔ چنانچہ ذیل میں ایسی ہی چند احادیث نقل کی گئی ہے آپ بھی پڑھیے :

(1) مؤمن اور منافق کی مثالیں : ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال نارنگی کی طرح ہے جس کی خوشبو بھی اچھی اور ذائقہ بھی عمدہ ہے اور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور کی طرح ہے جس کی خوشبو نہیں لیکن ذائقہ میٹھا ہے۔قرآن پڑھنے والے منافق کی مثال پھول کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی اور ذائقہ کڑوا ہے اور قرآن نہ پڑھنے والے منافق کی مثال اندرائن کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی نہیں اور ذائقہ کڑوا ہے۔(سنن ترمذی،کتاب الامثال ،باب ماجاء فی مثل المؤمن۔۔۔۔۔، حدیث 2865 ،دار الکتب العلمیہ)

(2) نيک اور برے لوگوں کی صحبت کا اثر : ابوبردہ بن ابی موسی اپنے والد موسیٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيْسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِيْسِ السُّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيْرِ فَحَامِلُ الْمِسْكِ اِمَّا اَنْ يُّحْذِيَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيْحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيْرِ اِمَّا اَنْ يُّحْرِقَ ثِيَابَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ رِيْحًا خبیثۃً

ترجمہ: حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَر ﷺ نے ارشادفرمایا :اچھے اور برے دوست کی مثال مشک اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے ، مشك اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔(بخاری کتاب الذبائح والصید و تسمیتہ علی الصید باب المسک ص 567 ج 3 حدیث 5534)

(3) پانچویں نمازوں کی مثالیں : حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پانچ نمازوں کی مثال اس گہری نہر کی طرح ہے جو تم میں سے کسی کے دروزاے پر بہہ رہی ہو اور وہ روزانہ اس میں سے پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو۔ حسن کہنے لگا کہ پھر تو اس کے جسم پر کوئی میل کچیل باقی نہیں رہے گی۔ (صحیح مسلم، کتاب: مساجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کا بیان، باب: مسجد کی طرف نماز کے لئے جانے والے کے ایک ایک قدم پر گناہ مٹ جاتے ہیں اور درجات بلند ہوتے ہیں۔ حدیث نمبر: 668 جلد :2، صفحہ: 132 )

(4) حافظ قرآن کی مثال : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اِنَّمَامَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْاٰنِ كَمَثَلِ الْاِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ اِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا اَمْسَكَهَا وَاِنْ اَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنا عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا:حافِظِ قرآن کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کی طرح ہےکہ اگر(مالک) اس کی حفاظت کرے گا تو اسے روکے رکھے گا اور اگر اسے کھلا چھوڑ دے گا تو وہ بھاگ جائے گا۔( صحیح بخاری ۔جلد 3/ الجزء الثالث۔ کتاب فضائل القرآن ۔ باب استذکار القرآن وتعاھُدِہٖ ۔ ص 1434۔ حدیث نمبر5031۔ مکتبہ الطاف اینڈ سَنز)

اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ رب ذوالجلال ہمیں ان احادیث کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین