اللہ پاک نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انسانوں کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف انداز سے اپنی امت کی اصلاح فرمائی ان میں سے ایک بہترین انداز مثال کے ذریعے سمجھانا بھی ہے آئیے ہم بھی اس انداز کے متعلق چند احادیث پڑھتے ہیں:

(1) وَعَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ اِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ اَحَدُكُمْ اِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ ، فَلْيَنْظُرْ بِمَ يَرْجِعُ ترجمہ: حضرت مُسْتَوْرِدْ بن شَدَّاد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : آخرت کے مقابلے میں دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے پھر دیکھے کہ وہ کتنا پانی لے کر لوٹتی ہے ۔ ( مسلم شریف، کتاب الجنۃ و صفت نعیمھا اہلھا باب فناء الدنیا و بیان الحشر یوم القیام، ص 1529 ، حدیث 2886)

(2) عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْجَنَّةُ اَقْرَبُ اِلَى اَحَدِكُمْ مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَالنَّارُ مِثْلُ ذٰلِكَترجمہ: حضرت سیدناابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نورکے پیکر ، تمام نبیوں کے سَروَر ﷺ نے ارشادفرمایا : ’’ جنت تمہارے جوتے کے تسمے سے بھی تمہارے زیادہ قریب ہے اورجہنم بھی اسی طرح قریب ہے۔ (بخاری،کتاب الرقاق ،باب الجنۃ اقرب الی احدکم۔۔ الخ 4/243،حدیث 2488)

(3) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ لِوَلَدِهٖ، أُعَلِّمُكُمْ: إِذَا أَتَيْتُمُ الْغَائِطَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوْا الْقِبْلَةَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوْهَا، وَأَمَرَ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، وَنَهٰى عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ، وَنَهٰى أَنْ يَسْتَطِيْبَ الرَّجُلُ بِيَمِينِهٖ

ترجمہ:روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں تمہارے لیے ایسا ہوں جیسے بیٹے کے لئے باپ تمہیں سکھاتا ہوں جب تم بیت الخلاء جاؤ تو قبلہ کو منہ نہ کرو،اور نہ پیٹھ اور تین پتھروں کا حکم دیا اورلِیدوہڈی سے منع فرمایا اور منع فرمایا کہ کوئی شخص داہنے ہاتھ سے استنجاء نہ کرے۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1 باب آداب الخلاء حدیث 319 صفحہ نمبر 246 مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ)

(4) عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَثَالُ الْمُؤْمِنِيْنَ فِی تَوَادِّهِمْ وَ تَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ اِذَا اشْتَكٰى مِنْہُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى

ترجمہ:حضرت سیدنا نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سےروایت ہےکہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’مسلمانوں کی آپس میں دوستی ، رحمت اور شفقت کی مثال ایک جسم کی طرح ہے جب جسم کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتاہے توپوراجسم بخاراوربے خوابی کی کیفیت میں مبتلاہوجاتاہے۔ ‘‘(مسلم ، کتاب البر والصلۃ ، باب تراحم المؤمنین ۔۔الخ ،ص 1396 حدیث 2586)

اللہ پاک ہمیں ان پر عمل کرنے اور دوسرے تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین