اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت و رہنمائی کے لیے انبیاء کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا تاکہ وہ انسانیت کو سیدھے راستے پر گامزن کر سکیں۔ ان انبیائے کرام علیہم السلام میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی بناکر بھیجا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات نہ صرف الفاظ تک محدود تھیں بلکہ آپ نے عملی مثالوں، سادہ تشبیہات اور دلنشین حکایات کے ذریعے لوگوں کی تربیت فرمائی انہیں دین کی حقیقی روح سے روشناس کرایا۔ آپ کی یہ منفرد حکمتِ عملی آج بھی انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے، ان میں سے چند احادیث پڑھیئے:

مثالوں سے تربیت کی اہمیت: انسانی فطرت ہے کہ وہ مثالوں سے زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ مثالیں پیچیدہ تصورات کو آسان بنا دیتی ہیں، اور سننے والے کے ذہن میں ایک واضح نقش چھوڑ جاتی ہیں۔ اسی نفسیاتی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تعلیمات میں مثالوں کا استعمال فرمایا۔انہیں مثالوں میں سے چند مثالیں درج ذیل ہیں۔

(1) اچھے اور برےدوست کی مثال: عَنْ اَبِيْ مُوْسَى الْاَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيْسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِيْسِ السُّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيْرِ فَحَامِلُ الْمِسْكِ اِمَّا اَنْ يُّحْذِيَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيْحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيْرِ اِمَّا اَنْ يُّحْرِقَ ثِيَابَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ رِيْحًا خبیثۃً

ترجمہ: حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَر ﷺ نے ارشادفرمایا :اچھے اور برے دوست کی مثال مشک اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے ، مشك اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔(بخاری کتاب الذبائح والصید و تسمیتہ علی الصید باب المسک ص 567 ج 3 حدیث 5534)

(2) حلال اور حرام کا درمیانہ راستہ: عَنْ عَامِرٍ قَالَ:سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیْرٍ یَقُوْلُ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ اَلْحَلَالُ بَیِّنٌ وَالْحَرَامُ بَیِّنٌ وَبَیْنَھُمَا مُشْتَبِھَاتٌ لَا یَعْلَمُھَا کَثِیْرٌ مِنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَی الْمُشَبَّھَاتِ اِسْتَبْرَأَ لِدِیْنِہٖ وَ عِرْضِہٖ وَمَنْ وَّقَعَ فیِ الشُّبُھَاتِ کَرَاعٍ یَرْعٰی حَوْلَ الْحِمٰی یُوْشِکُ اَنْ یُّوَاقِعَہٗ اَلَا وَاِنَّ لِکُلِّ مَلِکٍ حِمًی اَلَا اِنَّ حِمَی اللّٰہِ فِیْ اَرْضِہٖ مَحَارِمُہٗ اَلَا وَاِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَۃً اِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ اَلَا وَھِیَ الْقَلْبُ

ترجمہ:عامر (شعبی) سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ حلال ظاہر ہے اور حرام ظاہر ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ مُشْتَبَہ چیزیں ہیں جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے تو جو کوئی شبہ کی چیزوں سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور اپنی آبرو کو بچا لیا اور جو کوئی ان شبہ کی چیزوں میں پڑگیا تو اس کی مثال اس چرواہے کی ہے جو بادشاہ کی محفوظ چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چرائے تو ہوسکتا ہے کہ وہ جانور شاہی چراگاہ میں داخل ہوجائیں ۔سُن لو ! ہر بادشاہ کی ایک ’’حمی‘‘ (محفوظ و مخصوص چراگاہ) ہو تی ہے اور اللہ عزوجل کی ’’حمی‘‘ اس کی زمین میں وہ چیزیں ہیں جن کو اس نے حرام ٹھہرایا ہے ۔خبردار! بدن میں ایک گوشت کی بوٹی ایسی ہے کہ اگر وہ درست ہے تو سارا بدن درست ہے اور اگر وہ فاسد ہوگئی تو سارا بدن بگڑ گیا سن لو! وہ دل ہے۔ (صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب فضل من استبرأ لدینہ،الحدیث:52،ج1،ص33)

(3) دیا ہوا صدقہ واپس لینے کی مثال: عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَضَاعَهُ الَّذِي كَانَ عِنْدَهُ فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَبِيعُهُ بِرُخْصٍ، ‏‏‏‏‏‏فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا تَشْتَرِي وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ أَعْطَاكَهُ بِدِرْهَمٍ فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ

ترجمہ: زید بن اسلم سے ان کے باپ نے بیان کیا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ انہوں نے ایک گھوڑا اللہ تعالیٰ کے راستہ میں ایک شخص کو سواری کے لیے دے دیا۔ لیکن اس شخص نے گھوڑے کو خراب کردیا۔ اس لیے میں نے چاہا کہ اسے خرید لوں۔ میرا یہ بھی خیال تھا کہ وہ اسے سستے داموں بیچ ڈالے گا۔ چنانچہ میں نے رسول اللہ سے اس کے متعلق پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا صدقہ واپس نہ لو۔ خواہ وہ تمہیں ایک درہم ہی میں کیوں نہ دے کیونکہ دیا ہوا صدقہ واپس لینے والے کی مثال قے کر کے چاٹنے والے کی سی ہے۔( صحیح بخاری، کتاب: زکوۃ کا بیان، باب: کیا آدمی اپنی چیز کو جو صدقہ میں دی ہو پھر خرید سکتا ہے؟ حدیث نمبر: 1490، صفحہ:363، دارابن کثیربیروت )

(4) اللہ تعالیٰ کی حدود میں سستی برتنے اور اس میں مبتلا ہونے کی مثال: ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَثَلُ الْمُدْهِنِ فِي حُدُودِ اللَّهِ وَالْوَاقِعِ فِيهَا، ‏‏‏‏‏‏مَثَلُ قَوْمٍ اسْتَهَمُوا سَفِينَةً، ‏‏‏‏‏‏فَصَارَ بَعْضُهُمْ فِي أَسْفَلِهَا وَصَارَ بَعْضُهُمْ فِي أَعْلَاهَا، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَ الَّذِي فِي أَسْفَلِهَا يَمُرُّونَ بِالْمَاءِ عَلَى الَّذِينَ فِي أَعْلَاهَا فَتَأَذَّوْا بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخَذَ فَأْسًا، ‏‏‏‏‏‏فَجَعَلَ يَنْقُرُ أَسْفَلَ السَّفِينَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَوْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ مَا لَكَ قَالَ:‏‏‏‏ تَأَذَّيْتُمْ بِي، ‏‏‏‏‏‏وَلَا بُدَّ لِي مِنَ الْمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ أَخَذُوا عَلَى يَدَيْهِ أَنْجَوْهُ وَنَجَّوْا أَنْفُسَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ تَرَكُوهُ أَهْلَكُوهُ وَأَهْلَكُوا أَنْفُسَهُمْ

ترجمہ: نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی حدود میں سستی برتنے والے اور اس میں مبتلا ہوجانے والے کی مثال ایک ایسی قوم کی سی ہے جس نے ایک کشتی (پر سفر کرنے کے لیے جگہ کے بارے میں) قرعہ اندازی کی۔ پھر نتیجے میں کچھ لوگ نیچے سوار ہوئے اور کچھ اوپر۔ نیچے کے لوگ پانی لے کر اوپر کی منزل سے گزرتے تھے اور اس سے اوپر والوں کو تکلیف ہوتی تھی۔ اس خیال سے نیچے والا ایک آدمی کلہاڑی سے کشتی کا نیچے کا حصہ کاٹنے لگا (تاکہ نیچے ہی سمندر سے پانی لے لیا کرے) اب اوپر والے آئے اور کہنے لگے کہ یہ کیا کر رہے ہو؟ اس نے کہا کہ تم لوگوں کو (میرے اوپر آنے جانے سے) تکلیف ہوتی تھی اور میرے لیے بھی پانی ضروری تھا۔ اب اگر انہوں نے نیچے والے کا ہاتھ پکڑ لیا تو انہیں بھی نجات دی اور خود بھی نجات پائی۔ لیکن اگر اسے یوں ہی چھوڑ دیا تو انہیں بھی ہلاک کیا اور خود بھی ہلاک ہوگئے۔( صحیح بخاری، کتاب: گواہیوں کا بیان، باب: مشکلات کے وقت قرعہ اندازی کرنا، حدیث نمبر: 2686)

آج ہمیں ضرورت ہے کہ ہم اپنے گھروں، مدارس اور معاشروں میں تعلیم و تربیت کے انہی حکیمانہ اصولوں کو اپنائیں، تاکہ بات دلوں تک پہنچے اور کردار کا حصہ بنے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر اسوۂ حسنہ کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔