مثال ایک ایسا فن ہے کہ جس کے ذریعے کسی بھی بات کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے جب کسی چیز کی مثال دی جاتی ہے تو انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور اس سے تربیت حاصل کرتاہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام علوم کا منبع بنایا ہے اسی وجہ سے کائنات کا ہر فن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیاگیا ، تو مثال کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ احادیث پڑھیئے:

((1 مجھے ہدایت کیساتھ بھیجا گیا : وَعَنْ أَبِي مُوسٰى قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ مَا بَعَثَنِيَ اللہ ُ بِهٖ مِنَ الْهُدٰى وَالْعِلْمِ كَمَثَلِ الْغَيْثِ الْكَثِيْرِ أَصَابَ أَرْضًا، فَكَانَتْ مِنْهَا طَائِفَةٌ طَيِّبَةٌ قَبِلَتِ الْمَاءَ فَأَنْبَتَتِ الْكَلأَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيْرَ،وَكَانَتْ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ،فَنَفَعَ اللہ ُ بِهَا النَّاسَ،فَشَرِبُوْا وَسَقَوْا وَزَرَعُوْاوَأَصَابَ مِنْهَا طَائِفَةٌ أُخْرٰى إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ لَا تُمْسِكُ مَاءً وَلَا تُنْبِتُ كَلأً،فَذٰلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقُهَ فِي دِينِ اللهِ، وَنَفَعَهٗ مَا بَعَثَنِيَ اللہ ُ بِهٖ فَعَلِمَ وَعَلَّمَ، وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذٰلِكَ رَأْسًا وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَى اللهِ الَّذِيْ أُرْسِلْتُ بِهٖ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ  علیہ وسلم نے کہ اس ہدایت و علم کی مثال جو رب نے مجھے دے کر بھیجا   اس بہت سی بارش کی طرح ہے   جوکسی زمین میں پہنچی اس کا کچھ حصہ اچھا تھا جس نے پانی چوسا اور گھاس اور بہت چارہ اُگا دیا اور بعض حصہ سخت تھا   جس نے پانی جمع کرلیا جس سے اللہ نے لوگوں کو نفع دیا کہ انہوں نے خود پیا پلایا اور کھیتی کی اور ایک دوسرے حصہ میں پہنچا جو چیٹل تھا کہ نہ پانی جمع کرے اور نہ گھاس اُگائے   یہ اس کی مثال ہے جو دینی عالم ہوا اور اسے اس چیز نے نفع دیا جو مجھے رب نے دے کر بھیجا اس نے سیکھا اور سکھایا    اور اس کی مثال ہے جس نے اس پر سر نہ اٹھایا اور اللہ کی وہ ہدایت قبول نہ کی جو مجھے دے کر بھیجا گیا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ، جلد 1، کتاب الایمان ،باب قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھامنا ، حدیث نمبر 142، صفحہ نمبر 28)

((2دل کے بارے میں : وَعَنْ أَبِيْ مُوسٰى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلّٰى اللہ ُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ الْقَلْبِ كَرِيشَةٍ بِأَرْضِ فَلَاةٍ يُقَلِّبُهَا الرِّيَاحُ ظَهْرَالْبَطْنِ روایت ہے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول  الله  صلی اللہ علیہ وسلم  نے : دل کی مثال اس پر کی سی ہے جو میدانی زمین میں ہو جسے ہوائیں ظاہر ، باطن الٹیں پلٹیں  ۔(مشکوٰۃ المصابیح ، جلد 1، کتاب الایمان تقدیر پر ایمان لانے کا با،حدیث نمبر 95، صفحہ نمبر 22)

((3سیدھے راستہ کے بارے میں : وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللہ ُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ضَرَبَ اللہ ُ مَثَلًا صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا وَعَنْ جَنَبَتَيِ الصِّرَاطِ سُورَانِ فِيْهِا أَبْوَابٌ مُفَتَّحَةٌ وَعَلَى الْأَبْوَابِ سُتُورٌ مُرَخَاةٌ وَعِنْدَ رَأْسِ الصِّرَاطِ دَاعٍ يَقُولُ: اِسْتَقِيْمُوا عَلَى الصِّرَاطِ وَلَا تَعْوَجُّوْا وَفَوْقَ ذٰلِكَ دَاعٍ يَدْعُو كُلَّمَا هَمَّ عَبْدٌ أَنْ يَفْتَحَ شَيْئًا مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ قَالَ: وَيْحَكَ لَا تَفْتَحْهُ فَإِنَّكَ إِنْ تَفْتَحْهُ تَلِجْهُ ثُمَّ فَسَّرَهُ فَأَخْبَرَ: أَنَّ الصِّرَاطَ هُوَ الْإِسْلَامُ وَأَنَّ الْأَبْوَابَ الْمُفَتَّحَةَ مَحَارِمُ اللهِ وَأَنَّ السُّتُورَ الْمُرَخَاةَ حُدُودُ الله وَأَنَّ الدَّاعِيَ عَلٰى رَأْسِ الصِّرَاطِ هُوَ الْقُرْآنُ وَأَنَّ الدَّاعِيَ مِنْ فَوْقِهٖ ھُوَ وَاعِظُ اللهِ فِي قَلْبِ كُلِّ مُؤْمِنٍ

روایت ہے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا نبی صلی اللہ  علیہ  وسلم نے : کہا اللہ نے سیدھے راستہ کی مثال قائم فرمائی   اور اس راستہ کے دوطرفہ دو دیواریں ہیں جن میں کھلے ہوئے دروازے ہیں دروازوں پر پردے لٹکے ہیں راستہ کے کنارے پر پکارنے والا کہہ رہا ہے کہ راستہ پر سیدھے چلے جاؤ ٹیڑھے نہ ہونا اس کے اوپر ایک منادی بھی ہے جو پکارتا ہے جب کوئی بندہ ان میں سے کوئی دروازہ کھولنا چاہتا ہے تو داعی کہتا ہے ہائے افسوس اسے نہ کھول اگر کھولے گا تو اس میں گھس جائے گا پھر اس کی تفسیر یوں فرمائی کہ راستہ تو اسلام ہے  اور کھلے ہوئے دروازے اللہ کے محرمات ہیں   اور لٹکے ہوئے پردے اللہ کی حدیں ہیں   اور راستے کے کنارے پر پکارنے والا قرآن ہے اور اس کے اوپر بلانے والا اللہ کا واعظ ہے جو ہر مؤمن کے دل میں ہوتا ہے ۔ (مشکوٰۃ المصابیح ، جلد 1، کتاب الایمان ،باب قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھامنا ، حدیث نمبر 181، صفحہ نمبر 32)

((4دوستی کے بارے میں : عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَثَالُ الْمُؤْمِنِيْنَ فِی تَوَادِّهِمْ وَ تَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ اِذَا اشْتَكٰى مِنْہُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى حضرت سیدنا نعمان بن بشیر  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہےکہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’مسلمانوں کی آپس میں دوستی ، رحمت اور شفقت کی مثال ایک جسم کی طرح ہے جب جسم کا کوئی عضو تکلیف میں  ہوتا ہے تو پورا جسم بخار اور بے خوابی کی کیفیت  میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ ( فیضان ریاض الصالحین   جلد:3 ،حدیث نمبر:224)

اللہ تعالیٰ ہمیں ان احادیث پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین