اسلام ایک ایسا مکمل ضابطۂ حیات ہے جس نے نہ صرف انسان کی عبادات بلکہ اس کی سیرت، معاشرت، اخلاق، تربیت اور فکری ارتقاء کے پہلوؤں کو بھی شامل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد ﷺ کو معلمِ انسانیت، مزکیٔ نفس، اور مربیٔ کائنات بنا کر بھیجا۔ آپ ﷺ نے اپنی حکمت، نرمی، اخلاق اور بصیرت سے لوگوں کے دل جیتے، اور انہیں اعلیٰ تربیت دی۔ آپ کا اندازِ تربیت بے مثال تھا، جس میں سب سے مؤثر اسلوب تمثیل (مثالوں) کے ذریعے تربیت دینا ہے ۔

تمثیل یا مثال، کسی بات کو دوسرے انداز سے اس طرح پیش کرنا ہے کہ سننے والا اسے بہتر طور پر سمجھ سکے۔ نبی کریم ﷺ نے تمثیل کا استعمال نہ صرف علمی و عقلی وضاحت کے لیے کیا بلکہ اخلاقی، روحانی اور دینی تربیت کے لیے بھی فرمایا۔

آپ ﷺ کی تعلیم کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ مخاطب صرف معلومات حاصل نہ کرے، بلکہ دل سے سیکھے، سوچے اور اس پر عمل کرے۔ اس مقصد کے لیے آپ مثالوں، سوالات، ترتیبِ الفاظ اور موقع کی مناسبت سے بات کرتے۔ آپ ﷺ کی تمثیلات میں نہ مبالغہ ہوتا تھا، نہ گراوٹ، بلکہ انتہائی سادہ، عام فہم اور گہرا اثر رکھتی تھیں۔

قرآن کریم میں بھی تمثیل کا استعمال : اللہ تعالیٰ نے خود بھی قرآن کریم میں کئی مواقع پر تمثیلات بیان فرمائیں۔ جیسے مکھی، مکڑی، چراغ، درخت، بارش وغیرہ سے ایمان، کفر، اخلاص، نفاق اور اعمال کو سمجھایا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسی قرآنی اسلوب کو اپنایا۔آپ ﷺ کی چند تمثیلیں درج ذیل ہیں :

(1) نیک و بد دوست کی مثال : نبیِّ کریم ﷺ نے فرمایا: اِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيْسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِيْسِ السُّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيْرِ فَحَامِلُ الْمِسْكِ اِمَّا اَنْ يُّحْذِيَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيْحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيْرِ اِمَّا اَنْ يُّحْرِقَ ثِيَابَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ رِيْحًا خبیثۃً

ترجمہ: اچھے اور برے دوست کی مثال مشک اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے ، مشك اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔(بخاری کتاب الذبائح والصید و تسمیتہ علی الصید باب المسک ص 567 ج 3 حدیث 5534)

اس تمثیل سے صحبت کے اثرات واضح ہوتے ہیں، جو تربیتِ کردار میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

(2) پانچ نمازوں کی مثال نہر کے غسل سے : عَنْ اَبِيْ مُوْسَى الْاَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيْسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِيْسِ السُّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيْرِ فَحَامِلُ الْمِسْكِ اِمَّا اَنْ يُّحْذِيَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيْحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيْرِ اِمَّا اَنْ يُّحْرِقَ ثِيَابَكَ وَ اِمَّا اَنْ تَجِدَ رِيْحًا خبیثۃً

ترجمہ: حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَر ﷺ نے ارشادفرمایا :اچھے اور برے دوست کی مثال مشک اٹھانے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے ، مشك اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔(بخاری کتاب الذبائح والصید و تسمیتہ علی الصید باب المسک ص 567 ج 3 حدیث 5534)

یہ مثال نمازوں کی اہمیت اور گناہوں کی صفائی کو خوبصورتی سے واضح کرتی ہے۔

(3) منافق کی مثال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ، تَعِيرُ إِلَى هَذِهِ مَرَّةً، وَإِلَى هَذِهِ مَرَّةً نبی ﷺ نے فرمایا: منافق اس بکری کی طرح ہے جو دو ریوڑوں کے بیچ بھٹکتی ہے، نہ اس طرف جاتی ہے، نہ اس طرف۔ (صحیح مسلم: حدیث 2770)

یہ مثال منافق کی تذبذب، بےاصولیت اور دوغلے پن کو ظاہر کرتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ کے اس اسلوبِ تربیت کے کئی فائدے ہیں :

فہم میں آسانی: تمثیل عام فہم انداز میں بات سمجھاتی تھی۔

یادداشت میں پختگی: مثالیں یاد رہتی ہیں، اس لیے صحابہ طویل عرصے تک بات یاد رکھتے۔

عمل کی تحریک: تمثیل سامع کے اندر عمل کا جذبہ پیدا کرتی۔

فطری رغبت: انسان فطرتاً قصہ اور مثال پسند کرتا ہے، اس لیے سننے میں دلچسپی بڑھتی۔

اگر آج ہم بھی تعلیم و تبلیغ میں آپ ﷺ کے اس اسلوب کو اپنائیں تو نہ صرف فہم و ادراک میں اضافہ ہوگا، بلکہ عمل کی طرف بھی رغبت پیدا ہو گی، اور سچی تربیت کا دروازہ کھلے گا۔

اللہ پاک سے دعا ہے ہمیں بھی اللہ پاک اس انداز تربیت کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین