ساہر رضا عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ
المدینہ فیضان بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
کسی بھی
معاشرے کی تعمیر میں تعلیم و تربیت بنیادی کردار ادا کرتی ہے، اور جب تعلیم مثال
کے ساتھ دی جائے تو وہ نصیحت دل میں اتر جاتی ہے۔ رسولِ
اکرم ﷺ، معلمِ کامل اور مربی اعظم ہیں ، آپ ﷺ نے مثالوں
اور تمثیلات کے ذریعے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی تربیت فرمائی۔ آپ کی یہ حکمتِ
تربیت آج بھی ہر معلم، مبلغ، والد، اور قائد کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
مثال
کے ذریعے عقیدہ کی اصلاح: حضرت
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں ، فرمایا نبی صلی
اللہ علیہ وسلم نے کہ میری اورجو کچھ مجھےاللہ نے دے کر بھیجا اس کی کہاوت اس شخص
کی سی ہے جس نے کسی قوم کے پاس آکر کہا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے ایک لشکر دیکھا
ہے میں کھلا ڈرانے والاہوں بچو بچو کہ اس کی قوم سے ایک ٹولہ نے اس کی بات مان لی
اور اندھیرے منہ اٹھے اور بروقت نکل گئے تو بچ گئے اور
ان کے ایک ٹولہ نے جھٹلا دیا وہ اسی جگہ رہے پھر سویرے ہی لشکر ان پرٹوٹ پڑا انہیں
ہلاک کرکے تہس نہس کر دیا ۔یہی اس کی مثال ہے جس نے میری
اطاعت کی تو میرے لائے ہوئے کی اتباع کی اور اس کی جس نے میری نافرمانی کی اورمیرے
لائے ہوئے حق کو جھٹلادیا۔( بخاری ، كتاب : الرقاق باب الانتهاء عن المعاصي،
8/ 101) رقم:6482)
پانچوں
نمازوں کی فضیلت ایک نہر کی مثال سے : حضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ حضورنبی کریم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”پانچ نمازوں کی
مثال ایسی ہے جیسے تم میں سے کسی کے گھر کے سامنے ایک بڑی نہر بہتی ہو اور وہ ہر
روز اُس نہر سے پانچ بار غسل کرے۔“ مسند احمد ،
15/ 311، رقم : 9505)
اس حدیث میں
نماز کی فضیلت کا ذکر ہے کہ نماز کی مثال ایک نہر کی سی ہے جس طرح کوئی شخص کسی
نہر میں روزانہ پانچ بار نہائے تو اس پر کوئی میل کُچیل باقی نہیں رہے گا اسی طرح
اگر کوئی شخص روزانہ نمازِ پنجگانہ ادا کرے تو اس کے نامَۂ اعمال میں کوئی گناہ
باقی نہ رہے گا۔
رب
کا ذکر کرنے اور نہ کرنے والی کی مثال مردہ و
زندہ سے: حضرت ابو موسیٰ رضی
اللہ عنہ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے : اس کی مثال جو رب کا ذکر
کرے اور جو نہ کرے ، زندہ و مردہ کی سی ہے ( صحیح بخاری كتاب : الدعوات باب فضل ذكر الله عز وجل،
8/ 86، رقم :6407)
یعنی جیسے زندہ کا جسم روح سے آباد ہے مردہ کا غیر
آباد،ایسے ہی ذاکر کا دل ذکر سے آباد ہے غافل کا دل ویران ہے ۔
قرآن
پڑھنے اور نہ پڑھنے والے کی مثال: حُضورِ انور ﷺ
نے ارشاد فرمایا:”قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال نارنگی کی طرح ہے جس کی خوشبو بھی اچھی اور ذائقہ
بھی عمدہ ہےاور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور
کی طرح ہے جس کی خوشبو نہیں لیکن ذائقہ میٹھا ہے۔قرآن پڑھنے والے منافق کی مثال
پھول کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی اور ذائقہ کڑوا ہےاورقرآن نہ پڑھنے والے منافق کی
مثال اندرائن کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی نہیں اور ذائقہ کڑوا ہے۔“ (صحیح بخاری، كتاب
الأطعمۃ، باب ذكر الطعام ، 7/ 77، رقم
: 5427)
اچھے
اور بُرے دوست کی صحبت کی مثال : حضرتِ سَیِّدُنا
ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور ،
سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’اچھے اور برے دوست کی مثال مشک اٹھانے والے اور بھٹی
دھونکنے والے کی طرح ہے ، مشك اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا
تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا
تمہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔ ‘‘( صحیح بخاری ، كتاب : البيوع باب في
العطار وبيع المسك (3/ 63) رقم (2101)
سُبْحٰنَ اللہ
! کیسی پاکیزہ مثال ہے جس کے ذریعے سمجھایا گیا ہے کہ بروں
کی صحبت فائدہ اور اچھوں کی صحبت نقصان کبھی نہیں دے سکتی ، بھٹی والے سے مشک نہیں
ملے گی گرمی اور دھواں ہی ملے گا ، مشک والے سے نہ گرمی ملے نہ دھواں ، مشک یا
خوشبو ہی ملے گی ۔ مشك والے سے مشک خرید لینا یا اس کا مفت ہی دے دینا
اعلیٰ نفع ہے جس سے ہمیشہ فائدہ پہنچتا رہے گا اور صرف خوشبو پالینا ادنیٰ نفع ہے
۔
عملی
مثال سے اخلاقی تربیت: عبداللہ بن
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا۔ آپ ﷺ نے
فرمایا کہ درختوں میں ایک درخت مرد مومن کی مثال ہے میرے دل میں آیا کہ کہوں کہ یہ
کھجور کا درخت ہے، لیکن حاضرین میں، میں ہی سب سے چھوٹی عمر کا تھا (اس لیے بطور ادب میں چپ رہا) پھر
آپ ﷺ نے خود ہی فرمایا کہ وہ کھجور کا
درخت ہے۔(صحیح بخاری ، كتاب : البيوع باب بيع الجمار وأكلہ، 3/
78، رقم: 2209)
کھجور کا ہر
حصہ مفید ہوتا ہے: پھل، گٹھلی، پتّے، تنا، شاخیں، حتیٰ کہ چھال بھی۔ مسلمان کی بھی یہی شان ہے کہ اس کی زندگی بھی فائدہ مند،
اور موت کے بعد بھی فائدہ باقی رہتا ہے (علم، دعا، صدقہ، اولادِ صالح)۔ کھجور کا
پھل ہمیشہ آتا ہے، پتے نہیں جھڑتے، جیسے مؤمن کا عمل نفع دیتا
ہے، دعائیں ضائع نہیں جاتیں۔
ان تمام احادیث
طیبہ سے رسول اللہ ﷺ کی تربیت کا یہ انداز ہمیں سکھاتا
ہے کہ نصیحت اگر مثال کے ساتھ ہو تو دل میں اترتی ہے، اور عمل پر ابھارتی ہے۔ والدین،
اساتذہ، خطباء اور رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے اس اسلوب
کو اپنائیں تاکہ دل جیتنے والی تربیت ممکن ہو سکے۔اللہ پاک عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami