سود کو عربی زبان میں ربا کہتے ہیں۔ جس کا لغوی معنی ہے زیادتی۔ فتاوی رضویہ میں ہے : حدیث پاک میں ہے کہ حضور علیہ السّلام نے ارشاد فرمایا: : کُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَۃً فَھُوَ رِباً یعنی قرض سے جو فائدہ حاصل کیا جائے وہ سود ہے۔ (فتاویٰ رضویہ،17/713)سود کھانے سے اللہ اور اس کے رسول نے منع فرمایا ہے ۔ اللہ کریم قراٰنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً ترجمۂ کنزُالعِرفان : اے ایمان والو! دُگنا دَر دُگنا سود نہ کھاؤ ۔ (پ4،اٰل عمران : 130)اس آیتِ مبارکہ میں سود کھانے سے منع فرمایا گیا اور سود کو حرام قرار دیا گیا۔ سود حرام قطعی ہے اسے حلال جاننے والا کا فر ہے۔ سود کے بارے میں احادیثِ مبارکہ میں بھی سخت وعیدیں آئی ہیں ۔ سود کی مذمت پر 5 احادیثِ مبار کہ درج ذیل ہیں:۔(1)پیٹ میں سانپ : نبیٔ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا کہ معراج کی رات میرا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جن کے پیٹ گھروں کی مانند بڑے تھے اور ان میں سانپ تھے جو باہر سے نظر آ رہے تھے، میں نے حضرت جبرئیل علیہ السّلام سے ان لوگوں کے بارے میں دریافت فرمایا تو انہوں نے عرض کی: یہ وہ لوگ ہیں جو سود کھاتے تھے۔(ابن ماجہ، 3/ 71، حدیث: 2273)

(2)اپنی ماں سے زنا : حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیٔ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: سود کا گناہ 73درجے ہے ، ان میں سب سے چھوٹا یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے زنا کرے۔(مستدرک، 2/338، حدیث: 2306)(3)سب برابر گناہ گار ہیں: حضرت جابر سے روایت ہے کہ اللہ کے آخری نبی نے ارشاد فرمایا: لَعَنَ رَسُوْلُ اﷲ اٰکِلَ الرِّبَا وَمُوْکِلَہُ وَکَاتِبَہُ وَشَاھِدَیْہِ، وَقَالَ: ھُمْ سَوَاءٌ یعنی رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ یہ تمام لوگ برابر ہیں۔( مسلم ،ص663،حدیث:4093)

کرلے تو بہ رب کی رحمت ہے بڑی

قبر میں ورنہ سزا ہوگی کڑی

(4)برباد کر دینے والی سات چیزیں: اللہ کے آخری نبی نے فرمایا: ہلاک کرنے والی سات گناہوں سے بچو! صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے استفسار کیا کہ یا رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم وہ سات چیزیں کیا ہیں؟ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:(1) شرک کرنا،(2) جادو کرنا، (3) کسی کو ناحق قتل کرنا،(4) سود کھانا، (5)یتیم کا مال کھانا، (6)میدانِ جنگ سے راہِ فرار اختیار کرنا اور(7) پاک دامن شادی شدہ مؤمنہ عورتوں پر بہتان لگانا۔ (صحیح البخاری کتاب الوصایا باب ان الذین یاکلون اموال الیتیم الخ، حدیث :2766)(5) بروزِ قیامت سودخور کی حالت: حضرت سیدُنا عوف بن مالک رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن سود خور کو اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ وہ دیوانہ و مخبوط الحواس ہو گا۔ (المعجم الکبیر ،18/60، حدیث:110)

سود و رشوت میں نحوست ہے بڑی نیز دوزخ میں سزا ہو گی کڑی

پیارے اور میٹھے اسلامی بھائیو! آپ نے پڑھا کہ سود خور کے لیے قراٰن و حدیث میں کیا کیا وعیدیں آئی ہیں اور یاد رکھیں۔ آپ دنیا میں جتنا بھی مال کمالیں سارا کا سارا مال دنیا میں ہی رہ جانا ہے اور آپ اپنے ساتھ کچھ بھی لے کر نہیں جا سکیں گے۔ حرام طریقے سے کمانے پر آپ کو قبر و حشر میں رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سود خور جتنا مرضی مال جمع کر لے لیکن اس کی تمنا ،اس کا دل کبھی نہیں بھرے ۔ حدیث پاک میں ہے کہ اگر انسان کے لیے مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کی تمنا کرے گا اور انسان کے پیٹ کو صرف مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو شخص تو بہ کرتا ہے اللہ اس کی تو بہ کو قبول فرماتا ہے۔ (مسلم شریف ، کتاب الزکوۃ ، حدیث :1048)

پیارے اسلامی بھا ئیو ! آپ نے کبھی بھی کسی مالدار کر یہ کہتے ہوئے نہیں سنا ہوگا کہ اب بہت مال کما لیا، بلکہ وہ مزید مال کمانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ اور اسی طرح کوئی عالم ایسا نہیں ملے گا کہ جو یہ کہے: بہت پڑھ لیا، اب مجھے مزید پڑھنے کی حاجت نہیں۔ بلکہ ہر عالم مزید علم کی طلب میں رہتا ہے۔ حدیثِ مبارکہ میں بھی آیا ہے رسولُ اللہ نے ارشاد فرمایا :دو حریص کبھی سیر نہیں ہو سکتے، ایک مال کا حریص اور دوسرا علم کا حریص۔( المستدرک للحاکم، 1/282، حدیث: 318)

اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں علم کا حریص بنائے۔ مال کی حرص سے محفوظ فرمائے۔ خود کا کام کرنے اور سود کے کام میں معاونت کرنے سے بچتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

مال و دولت کی دعا ہم نہ خدا کرتے ہیں ہم تو مرنے کی مدینے میں دعا کرتے ہیں


اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ سود کو ہر مذہب کی تعلیمات میں حرام قرار دیا گیا ہے۔ اور اسی طرح کوئی بھی مہذب معاشرہ سود کے جواز کی بات نہیں کرتا ۔ خصوصاً اسلام نے تو سودی نظام کو ناسور اور تباہ کن قرار دیا ہے۔ اللہ کریم نے ارشاد فرمایا: یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا یعنی اللہ سود کو مٹا دیتا ہے اور برباد کر دیتا ہے۔ جو شخص سود سے دولت جمع کرتا ہے انکی دولت سے خیر کو مٹا دیتا ہے۔ اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جس نظامِ معیشت میں سود داخل ہو جائے اس معیشت کو تباہ کر دیتا ہے۔ اور سودی نظام چلانے والوں سے اللہ کریم نے جنگ کا اعلان فرمایا ہوا ہے اور کون ہے جو اللہ سے جنگ کر سکتا ہے۔ وہ ایک لمحے سے پہلے اگر چاہے تو زمین کو اُٹھا کے آسمانوں تک پہنچا کے پلٹ دے اور نیست و نابود کر دے۔ لیکن یہ انسان احساس ہی نہیں کرتا کہ اُس نے سود کھا کے کتنی بڑی جرات کرلی ، کتنا بڑا وہ جرم کر رہا ہے ۔ حدیثِ پاک میں کئی جگہ سود کی مذمت بیان کی گئی ہے ۔ حدیث پاک میں ہے :۔(1)حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہُ عنہ سے روایت حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، سود لکھنے والے اور اس کی گواہی دینے والے پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ یہ سب اس گناہ میں برابر ہیں۔(مسلم، ص 862، حدیث:106(1599)

(2) احمد نے ایک طویل حدیث میں ، ابن ماجہ نے مختصراً اور اصبہانی نے اس حدیث کو بیان کیا ہے کہ حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا کہ جب مجھے معراج میں سیر کرائی گئی اور ہم ساتویں آسمان پر پہنچے تو میں نے اوپر دیکھا تو مجھے بجلی کی کڑک اور گرج چمک نظر آئی، پھر میں نے ایسی قوم کو دیکھا جن کے پیٹ مکانوں کی طرح تھے اور باہر سے ان کے پیٹوں میں چلتے پھرتے سانپ نظر آرہے تھے، میں نے پوچھا: جبریل! یہ کون ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ سود خور ہیں ۔ (مسند احمد ، مسند ابی ھریرۃ ، 3/269، حدیث :8648)(3)روایت سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے: سود کے ستر حصے ہیں جن سے کمترین حصہ یہ ہے کہ انسان اپنی ماں سے زنا کرے۔( ابن ماجہ، حدیث:2274)

(4) احمد نے بسندِ صحیح اور طبرانی نے یہ حدیث نقل کی ہے کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: انسان کا جان بوجھ کر ایک درہم سود کھانا تینتیس 33 مرتبہ زنا کرنے سے بدتر ہے۔( مسند احمد، مسند الانصار، حدیث عبداللہ بن حنظلۃ۔۔۔الخ ،8/223، حدیث :22016)(5) حضرت سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :سود خور کو قیامت کے دن جنون کی حالت میں اٹھایا جائے گا کہ اس کے سود کھانے کے بارے میں سب اہلِ محشر جان لیں گے۔ (کتاب الکبائرللذہبی،الکبیرۃ الثانیۃ عشرۃ،باب الریاء،ص68)

ہم اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ ہم سب کو سودی کاروبار کی نحوست سے محفوظ رکھے اور ہمیں اسلامی اقتصادیات کی برکات سے مالا مال فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم 


پیارے اسلامی بھائیو ! فی زمانہ جہاں ہمارا معاشرہ بے شمار برائیوں میں مبتلا ہے۔ وہیں ایک مذموم ترین برائی ہمارے معاشرے میں بڑی تیزی کے ساتھ پروان چڑھ رہی ہے وہ یہ ہے کہ اب کسی حاجت مند کو بغیر سود کے فرض ملنا ہو گیا ہے لہذا آئیے اس بھیانک بیماری کے بارے میں جانتے ہیں۔ جو ایک وبا کی طرح ہمارے معاشرے میں پھیلتی چلی جارہی ہے۔ حالانکہ قرض دینے کے بے شمار فضائل احادیث میں وارد ہیں۔

اللہ پاک قراٰن پاک میں ارشاد فرماتا ہیں: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً۪- وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ(۱۳۰) ترجمۂ کنزُالعِرفان : اے ایمان والو! دُگنا دَر دُگنا سود نہ کھاؤ اور اللہ سے ڈرو اس امید پر کہ تمہیں کامیابی مل جائے ۔ (پ4،اٰل عمران : 130)

حدیث (1) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ حضور سیدُ المرسلین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، سود لکھنے والے اور اس کی گواہی دینے والے پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ یہ سب اس گناہ میں برابر ہیں۔ (مسلم، ص 862، حدیث:106(1599)حدیث نمبر (2) حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: سود کا گناہ 73درجے ہے ، ان میں سب سے چھوٹا یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے زنا کرے۔(مستدرک، 2/338، حدیث: 2306)

حدیث نمبر (3) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: سود کا ایک درہم جو آدمی کو ملتا ہے اس کے36 بار زنا کرنے سے زیادہ بُرا ہے۔(شعب الایمان، الثامن والثلاثون من شعب الایمان، 4 / 395، حدیث: 5523)حدیث نمبر (4) حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : سود خور کا نہ صدقہ قبول کیا جائے گا ، نہ جہاد ، نہ حج اور نہ ہی صلہ رحمی۔(تفسیر قرطبی،2/274، البقرۃ،تحت الآیۃ:276)حدیث نمبر (5) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سرورِ کائنات صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: سُود ستر گناہوں کا مجموعہ ہے، ان میں سب سے ہلکا یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے زِنا کرے ۔ (سنن ابن ماجہ ،3/72، حدیث:2274)


آج سود لوگوں کے درمیان ایک عام سی چیز بن گئی ہے۔ حالانکہ شریعتِ مطہرہ میں حرام اور کبیرہ گناہ ہے اور اس میں دنیاوی و اخروی نقصانات ہیں۔ جسے اللہ پاک قراٰنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً۪- وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ(۱۳۰) ترجمۂ کنزُالعِرفان : اے ایمان والو! دُگنا دَر دُگنا سود نہ کھاؤ اور اللہ سے ڈرو اس امید پر کہ تمہیں کامیابی مل جائے ۔ (پ4،اٰل عمران : 130)

سود حرامِ قطعی ہے اور اسے حلال جانے والا کافر ہے۔ اور سودخور قیامت میں ایسے مخبوط الحواس ہوں گے اور ایسے گرتے پڑتے کھڑے ہوں گے جیسے دنیا میں وہ شخص جس پر بھوت سوار ہو۔ کیونکہ سود خور دنیا میں لوگوں کیلئے بھوت بنا ہوا تھا۔آج کل سودی قرضہ لینے دینے کا ابتدائی انداز تو بڑا مہذب ہوتا ہے، اچھے اچھے ناموں سے پکارا جاتا ہے لیکن کچھ ہی عرصے کے بعد قرض دینے والوں کو خوش اخلاقی، ملنساری اور چہرے کی مسکراہٹ سب رخصت ہو جاتی ہے اور اصل چہرہ بے نقاب ہو جاتا ہے۔ جو گالیاں دے رہا ہوتا ہے۔

آئیے سود کی مذمت پر پانچ احادیث ملاحظہ کیجیے :۔(1) حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور سید المرسلین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، سود لکھنے والے اور اس کی گواہی دینے والے پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ یہ سب اس گناہ میں برابر ہیں۔(مسلم، ص 862، حدیث:106(1599)(2) حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: سود کا گناہ 73درجے ہے ، ان میں سب سے چھوٹا یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے زنا کرے۔(مستدرک، 2/338، حدیث: 2306)

(3) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: سود کا ایک درہم جو آدمی کو ملتا ہے اس کے36 بار زنا کرنے سے زیادہ بُرا ہے۔(شعب الایمان، الثامن والثلاثون من شعب الایمان، 4 / 395، حدیث: 5523)(4) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولُ الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: معراج کی رات میرا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جن کے پیٹ گھروں کی مانند بڑے تھے اور ان میں سانپ تھے جو باہر سے نظر آ رہے تھے، میں نے حضرت جبرئیل علیہ السّلام سے ان لوگوں کے بارے میں دریافت فرمایا تو انہوں نے عرض کی: یہ وہ لوگ ہیں جو سود کھاتے تھے۔(ابن ماجہ، کتاب التجارات، باب التغلیظ فی الربا، 3/ 71، حدیث: 2273)

(5) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ سرکارِ دو عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: بے شک سود 70 گنا ہوں کا مجموعہ ہے، ان میں سب سے چھوٹا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے زنا کرے ۔ (ابن ماجہ،3/72،حدیث: 2274) اور سود کا معاشرے پر بھی بہت برا اثر ہوتا ہے۔ سود دینے والا بے رحم ہو جاتا ہے۔ وہ مفت میں کسی کو رقم دینے کا تصور نہیں کرتا۔ انسانی ہمدردی اس سے رخصت ہو جاتی ہے۔ قرض لینے والا ڈوبے ، مرے ، تباہ ہو ،یہ بہر صورت اسے نچوڑنے پر تلا رہتا ہے اسے کسی کی پرواہ نہیں ہوتی۔

قراٰنِ کریم اور احادیث طیبہ میں اللہ اور اس کے رسول نے سود کی سخت مذمت بیان فرمائی ہے۔ اگر ہم ان وعیدات سے بچنا چاہتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ قراٰن و حدیث پر عمل پیرا ہوں۔

سو دو رشوت میں نحوست ہے بڑی نیز دوزخ میں سزا ہو گی کڑی


سود حرامِ قطعی ہے، اسے حلال جاننے والا کافر ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کے متعلق سخت وعیدیں بیان ہوئی ہیں۔ سورۂ بقرہ کی آیت 275،276،278 میں بھی سود کی حرمت کا بیان موجود ہے اور حدیث میں ہے۔ پہلے قراٰنِ پاک سے ملاحظہ فرمائیں۔ الله پاک فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً۪- ترجمۂ کنزُالعِرفان : اے ایمان والو! دُگنا دَر دُگنا سود نہ کھاؤ ۔ (پ4،اٰل عمران : 130) اس آیت میں سود کھانے سے منع کیا گیا اور اسے حرام قرار دیا گیا۔ زمانۂ جاہلیت میں سود کی ایک صورت یہ بھی رائج تھی کہ جب سود کی ادائیگی کی مدت آتی، اگر اس وقت مقروض ادا نہ کرپاتا تو قرض خواہ سود کی مقدار میں اضافہ کر دیتا اور یہ عمل مسلسل کیا جاتا رہتا۔ اسے دُگنا دَر دُگنا کہا جارہا ہے۔

احادیث مبارکہ میں سود کی بہت مذمت بیان ہوئی ہے۔ چند ملاحظہ ہو:۔(1) حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، سود لکھنے والے اور اس کی گواہی دینے والے پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ یہ سب اس گناہ میں برابر ہیں۔(مسلم، ص 862، حدیث:106(1599)

(2) حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: سود کا گناہ 73درجے ہے ، ان میں سب سے چھوٹا یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے زنا کرے۔(مستدرک، 2/338، حدیث: 2306)(3) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: سود کا ایک درہم جو آدمی کو ملتا ہے اس کے36 بار زنا کرنے سے زیادہ بُرا ہے۔(شعب الایمان، الثامن والثلاثون من شعب الایمان، 4 / 395، حدیث: 5523)

(4) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: شبِ معراج میرا گزر ایک قوم پر ہوا جس کے پیٹ گھر کی طرح (بڑے بڑے) ہیں ، ان پیٹوں میں سانپ ہیں جو باہر سے دکھائی دیتے ہیں۔ میں نے پوچھا، اے جبرئیل یہ کون لوگ ہیں ؟ اُنہوں نے کہا، یہ سود خور ہیں۔(سنن ابن ماجہ ،کتاب التجارات،باب التغلیظ في الربا،3/ 72، حدیث: 2273)

سود کی مذمت پر اور بھی آیات اور احادیثِ مبارکہ مذکور ہیں ۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں سود جیسی بری چیز سے محفوظ فرمائے ۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم 


الله پاک نے قراٰنِ پاک میں پارہ تین سورۃُ البقرہ آیت نمبر 275 میں ارشاد فرمایا: اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّؕ- ترجمۂ کنزالعرفان: جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر اس شخص کے کھڑے ہونے کی طرح جسے آسیب نے چھو کرپاگل بنا دیا ہو۔(پ3،البقرۃ:275)

(1)مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ اللہ پاک کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے سود دینے والے اور لینے والے ، اس کے کاغذات تیار کرنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ وہ سب گناہ میں برابر ہیں۔ (مسلم، ص 862،حدیث: 106)(2)حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے۔ سرورِ کائنات صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: سود کا ایک درہم جو آدمی کو ملتا ہے اس کے 36 بار زنا کرنے سے زیادہ برا ہے۔(شعب الایمان، 6/ 395،حدیث: 5523)

(3)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولُ الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: معراج کی رات میرا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جن کے پیٹ گھروں کی مانند بڑے تھے اور ان میں سانپ تھے جو باہر سے نظر آ رہے تھے، میں نے حضرت جبرئیل علیہ السّلام سے ان لوگوں کے بارے میں دریافت فرمایا تو انہوں نے عرض کی: یہ وہ لوگ ہیں جو سود کھاتے تھے۔(ابن ماجہ، کتاب التجارات، باب التغلیظ فی الربا، 3/ 71، حدیث: 2273) (4)حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: سود کا گناہ 73درجے ہے ، ان میں سب سے چھوٹا یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے زنا کرے۔(مستدرک، 2/338، حدیث: 2306)


پیارے اسلامی بھائیو! آج کے زمانے میں سود بہت ہی عام ہو چکا ہے، تجارت، لین دین، بینک اکاؤنٹس، یہاں تک کہ کئی لوگوں کا ذریعۂ معاش ہو چکا ہے۔ دینِ اسلام میں سودی نظام کو تباہ کن اور ہلاکت میں ڈال دینے والا قرار دیا گیا۔ اللہ پاک نے سود پر بہت زبردست لعنت اور وعیدات ارشاد فرمائی۔ اس کی مذمت میں قراٰن پاک میں ارشاد ہوتا ہے: اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰواؕ- ترجمۂ کنز الایمان: اور اللہ نے حلال کیا بیع اور حرام کیا سُود۔ (پ3،البقرة : 275)اور احادیث مبارکہ میں بھی جگہ جگہ اس کی وعیدات بیان فرمائی گئی۔ چند احادیثِ کریمہ پیش کی جاتی ہیں۔(1) حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، سود لکھنے والے اور اس کی گواہی دینے والے پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ یہ سب اس گناہ میں برابر ہیں۔(مسلم، ص 862، حدیث:106(1599)

(2) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: معراج کی رات میرا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جن کے پیٹ گھروں کی مانند بڑے تھے اور ان میں سانپ تھے جو باہر سے نظر آ رہے تھے، میں نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے ان لوگوں کے بارے میں دریافت فرمایا تو انہوں نے عرض کی: یہ وہ لوگ ہیں جو سود کھاتے تھے۔(ابن ماجہ، کتاب التجارات، باب التغلیظ فی الربا، 3/ 71، حدیث: 2273)(3) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: سود کا گناہ 73درجے ہے ، ان میں سب سے چھوٹا یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے زنا کرے۔(مستدرک، کتاب البیوع، انّ اربی الربا عرض الرجل المسلم، 2/338، حدیث: 2306)

(4) حضرت سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :سود خور کو قیامت کے دن جنون کی حالت میں اٹھایا جائے گا کہ اس کے سود کھانے کے بارے میں سب اہلِ محشر جان لیں گے۔( کتاب الکبائر للذھبی ، الكبيرة الثانية عشرة باب الریاء، ص 68)

اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہم سب کو سودی کاروبار کی نحوست اور اس کبیرہ گناہ سے محفوظ رکھے اور ہمیں شریعت کے مطابق حلال مال کما کر زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم 


(1)سود لینا شد ید حرام ہے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: سُود70گناہوں کا مجموعہ ہے، ان میں سب سے ہلکا یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے زنا کرے۔(ابن ماجہ،3/72، حدیث:2274)(2) رشوت کے بارے میں حضرت سیَّدنا ثَوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے رشوت دینے والے ،رشوت لینے والے اور ان دونوں کے درمیان مُعامَلہ کروانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔(مسند امام احمد، 8/327،حدیث:22462)(3) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: شبِ معراج میرا گزر ایک قوم پر ہوا جس کے پیٹ گھر کی طرح بڑے بڑے ہیں ان پیٹوں میں سانپ ہیں جو باہر سے دکھائی دیتے ہیں میں نے پوچھا: اے جبریل یہ کون لوگ ہیں، انہوں نے کہا: یہ سود خور ہیں۔ (سنن ابن ماجہ)

(4) حضرت اسامہ بن زید رضی اللہُ عنہما سے مروی، نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: کہ اُدھار میں سود ہے اور ایک روایت میں ہے، کہ دست بدست ہو تو سود نہیں یعنی جبکہ جنس مختلف ہو۔( صحیحین) (5) حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ پاک کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: (سود سے بظاہر) اگرچہ مال زیادہ ہو، مگر نتیجہ یہ ہے کہ مال کم ہوگا۔ (المسند للامام احمد بن حنبل، ابن ماجہ)


الله پاک فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً۪- ترجمۂ کنزُالعِرفان : اے ایمان والو! دُگنا دَر دُگنا سود نہ کھاؤ ۔ (پ4،اٰل عمران : 130)

ر با یعنی سود( interest) حرام قطعی ہے اس کی حرمت کا منکر کافر اور اس کو حرام سمجھ کر جو اس کا مرتکب ہو فاسق ہے اس کی تعریف بہار شریعت میں کچھ یوں ہے:"عقدِ معاوضہ میں جب دونوں طرف مال ہو اور ایک طرف زیادتی ہو کہ اس کے بدلے میں دوسری طرف کچھ نہ ہو۔(بہار شریعت،2/769)کثیر احادیث سود کی مذمت میں وارد ہوئیں۔ ان میں کچھ یہ ہیں۔(1) حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ميں نے شبِ معراج ديکھا کہ دو شخص مجھے ارضِ مقدس (یعنی بیت المقدس)لے گئے، پھر ہم آگے چل دئيے يہاں تک کہ خون کے ایک دریا پر پہنچے جس میں ایک شخص کھڑا ہوا تھا اور دریا کے کنارے پر دوسرا شخص کھڑا تھا جس کے سامنے پتھر رکھے ہوئے تھے، دریا میں موجود شخص جب بھی باہر نکلنے کا ارادہ کرتا تو کنارے پر کھڑا شخص ایک پتھر اس کے منہ پر مار کر اسے اس کی جگہ لوٹا ديتا، اسی طرح ہوتا رہا کہ جب بھی وہ (دریا والا)شخص کنارے پر آنے کا ارادہ کرتا تو دوسرا شخص اس کے منہ پر پتھر مار کر اسے واپس لوٹا ديتا، میں نے پوچھا: یہ دریا میں کون ہے؟ جواب ملا: یہ سود کھانے والا ہے۔ (صحیح بخاری ،2/14،حدیث: 2085)

(2) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: شبِ معراج میرا گزر ایک قوم پر ہوا جس کے پیٹ گھر کی طرح بڑے بڑے ہیں ان پیٹوں میں سانپ ہیں جو باہر سے دکھائی دیتے ہیں میں نے پوچھا: اے جبریل یہ کون لوگ ہیں، انہوں نے کہا: یہ سود خور ہیں۔ (سنن ابن ماجہ) (3)حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے سود لینے والے اور سود دینے والے اور سود کا کاغذ لکھنے والے اور اُس کے گواہوں پر لعنت فرمائی اوریہ فرمایا: کہ وہ سب برابر ہیں۔( صحیح مسلم ،ص862،حدیث: 106)

(4) حضرت عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہُ عنہما سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: سود کا ایک درہم جس کو جان کر کوئی کھائے، وہ چھتیس مرتبہ زنا سے بھی سخت ہے۔( المسند للامام احمد بن حنبل ،8/223،حدیث: 22016) (5) حضرتِ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: سود کے ستّر حصّے ہیں جن میں سے کمترین حصّہ یہ ہے کہ انسان اپنی ماں سے زِنا کرے۔(مرآۃالمناجیح ،جلد:4 حدیث :2826)

(6) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ِ ہاشمی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: سود کو چھوڑو اور جس میں سود کا شبہ ہو اس کو بھی چھوڑ دو۔ (سنن ابنِ ماجہ، 3/73 ، حدیث: 2276) اللہ پاک ہمیں سود اور جس چیز میں سود کا شبہ بھی ہو اس سے بھی بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین


عاشقانِ رسول کی  دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے شعبہ کفن دفن کے زیرِ اہتمام 17 جنوری 2023ء کو کراچی لیاقت آباد کی شہدا مسجد میں واقع مدرسۃُ المدینہ بوائز میں غسل ِمیت کورس کا اہتمام کیا گیا جس میں ناظم و قاری صاحبان سمیت طلبہ نے شرکت کی۔

ایسٹ ڈسٹرکٹ ذمہ دار عزیر عطاری( شعبہ کفن دفن) نے شرکائے کورس کو غسلِ میت دینے کی فضیلت بتاتے ہوئے انہیں غسلِ میت دینے کا طریقہ اور کفن کاٹنے/ پہنانے کا طریقہ سکھایا نیز نمازِ جنازہ پڑھنے کا طریقہ بھی بتایا۔ (کانٹینٹ: رمضان رضا عطاری)


شعبہ حج وعمرہ دعوتِ اسلامی کے تحت 17 جنوری 2023ء کو شکارپور کے علاقہ صدر میں عمرہ ٹریننگ سیشن کا سلسلہ ہواجس میں مقامی عمرہ زائرین نے شرکت کی۔

ٹریننگ سیشن میں لاڑکانہ ڈویژن ذمہ دار عبدُالرزاق عطاری نے عمرے کے شرعی احکامات و احرام باندھنے کا عملی طریقہ سمجھایا نیز ساتھ ساتھ حاضریِ مدینہ کے آداب بھی بیان کئے۔ بعدازاں زائرین مکہ مدینہ کو نیکی کی دعوت دیتے ہوئے عبادت کا شوق اور گناہوں سے بچنے کا ذہن بھی دیا۔(کانٹینٹ: رمضان رضا عطاری)


16 جنوری 2023 ءبروز پیر  پنجاب کے شہر گوجرانولہ میں قائم دعوتِ اسلامی کے مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں سافٹ اسکلز ٹریننگ سیشن کا انعقاد ہوا جس میں گھریلو صدقہ بکس، شعبہ عشر اور ڈونیشن بکس کی ڈویژن گوجرانولہ کی مینجمنٹ نے شرکت کی ۔

ٹریننگ سیشن میں کارپوریٹ ٹرینر سرشبیر احرام عطاری(کراچی) نے Personal effectiveness کےحوالے سے ذمہ داران کو تربیتی نکات بتائے نیز ذاتی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کے متعلق مدنی پھولوں سے آگاہ کیا۔ (رپورٹ: محمد شہریار عطاری سوشل میڈیا ڈونیشن بکس پنجاب، کانٹینٹ: رمضان رضا عطاری)