خوفِ خدا وہ بنیادی صفت ہے جو مومن کے کردار کو جلا بخشتی
ہے۔ نبی کریم ﷺ نے امت کو اللہ کی خشیت اختیار کرنے کی بارہا تاکید فرمائی۔ آپ ﷺ
نے اسے تمام بھلائیوں کی جڑ قرار دیا ہے۔
(1) تنہائی میں اللہ کا ذکر اور گریہ زاری:نبی کریم ﷺ
نے ان لوگوں کو قیامت کے دن اللہ کے سائے کی نوید سنائی جو تنہائی میں اللہ سے
ڈرتے ہیں۔ ارشادِ نبوی ہے:وَرَجُلٌ ذَكَرَ
اللَّهَ خَالِيًا، فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ"اور وہ شخص جس نے تنہائی میں
اللہ کو یاد کیا، پھر اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔" (صحیح بخاری: 660، صحیح
مسلم: 1031)
(2) جہنم سے نجات کی ضمانت:اللہ
کے خوف سے نکلنے والا ایک آنسو بھی جہنم کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کافی ہے۔ رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا:"لاَ يَلِجُ النَّارَ
رَجُلٌ بَكَى مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ حَتَّى يَعُودَ اللَّبَنُ فِي الضَّرْعِ"ترجمہ:وہ
شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا جو اللہ کے خوف سے رو پڑا، یہاں تک کہ دودھ (دوبارہ)
تھن میں واپس لوٹ جائے (یعنی ناممکن ہے)۔" (جامع ترمذی: 1633، امام ترمذی نے
اسے حسن صحیح کہا )
(3) خشیتِ الٰہی اور نبی کریم ﷺ کا مقام:آپ
ﷺ کائنات میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والے تھے۔ آپ ﷺ نے اپنی امت کو اللہ کی
عظمت کا احساس دلاتے ہوئے فرمایا:"لَوْ
تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلاً وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا"اگر
تم وہ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔ (صحیح بخاری:
6485)
(4) اللہ کے خوف کا بدلہ:اللہ
تعالیٰ اپنے ان بندوں کو جو اس سے ڈرتے ہیں، کبھی مایوس نہیں کرتا۔ حدیث قدسی میں
نبی کریم ﷺ نے اللہ کا یہ ارشاد نقل فرمایا:"وَعِزَّتِي
لَا أَجْمَعُ عَلَى عَبْدِي خَوْفَيْنِ وَلَا أَجْمَعُ
لَهُ أَمْنَيْنِ، إِذَا
أَمِنَنِي فِي الدُّنْيَا أَخَفْتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِذَا خَافَنِي فِي
الدُّنْيَا أَمَّنْتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِترجمہ:
میری عزت کی قسم! میں اپنے بندے پر دو خوف اور دو امن جمع نہیں کروں گا۔ اگر وہ دنیا
میں مجھ سے بے خوف رہا تو میں اسے قیامت کے دن خوف زدہ کروں گا، اور اگر وہ دنیا میں
مجھ سے ڈرتا رہا تو میں اسے قیامت کے دن امن دوں گا۔(صحیح ابن حبان: 640)
(5) جامع نبوی دعا:آپ ﷺ
اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے تاکہ امت کو اس کی اہمیت کا اندازہ ہو:"اللَّهُمَّ
اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ مَا تَحُولُ بِهِ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَعَاصِيكَ"ترجمہ:اے
اللہ! ہمیں اپنا اتنا خوف عطا کر جو ہمارے اور تیری نافرمانی کے درمیان رکاوٹ بن
جائے۔" (جامع ترمذی: 3502)
مذکورہ بالا احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ خوفِ خدا محض ایک
جذبہ نہیں بلکہ ایک عمل ہے جو انسان کو گناہوں سے بچاتا ہے۔ اللہ کا ڈر رکھنے والا
انسان معاشرے کے لیے بہترین نمونہ بن جاتا ہے کیونکہ اسے ہر وقت یہ احساس رہتا ہے
کہ وہ اپنے رب کے سامنے جوابدہ ہے۔
محمد فیضان عطاری (درجہ ثالثہ جامعۃ
المدینہ فیضان عثمان غنی ،کراچی،پاکستان )
خوفِ خدا ایک ایسی قلبی کیفیت کا نام ہے جو انسان کو معصیت
کی راہ سے ہٹا کر بندگی کی شاہراہ پر گامزن کر دیتی ہے۔ شریعت کی اصطلاح میں اللہ
تعالیٰ کی بے نیازی، اس کی گرفت اور اس کی ناراضگی کے ڈر سے گناہوں کو چھوڑ دینا
خوفِ خدا کہلاتا ہے۔ یہ صفت مومن کے ایمان کی روح اور تقویٰ کی بنیاد ہے۔ اللہ
تبارک و تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں اپنے بندوں کو بارہا اپنے خوف کا حکم دیا ہے،
چنانچہ ارشاد فرمایا: وَ
خَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۱۷۵)ترجمہ کنز الایمان: اور مجھ سے
ڈرو اگر تم ایمان رکھتے ہو۔(پارہ 4، سورۃ آل عمران، آیت 175)
اس آیت سے واضح
ہے کہ خوفِ خدا اور ایمان کا آپس میں گہرا تعلق ہے، یعنی جس قدر ایمان پختہ ہوگا،
اسی قدر دل میں خشیتِ الٰہی زیادہ ہوگی۔ نبی کریم ﷺ جو کائنات میں سب سے زیادہ
اللہ کی پہچان رکھنے والے ہیں، آپ ﷺ نے اپنے فرامین اور عمل کے ذریعے امت کو خوفِ
خدا کی بے حد ترغیب دلائی ہے۔
ایک اور مقام پر
فرمایا: لَا يَلِجُ النَّارَ رَجُلٌ بَكٰی مِنْ
خَشْيَةِ اللهِ حَتّٰی يَعُوْدَ اللَّبَنُ فِي الضَّرْعِ ترجمہ
وہ شخص جہنم میں نہیں جائے گا جو اللہ کے خوف سے رویا یہاں تک کہ دودھ تھن میں
واپس لوٹ جائے۔(سنن الترمذی، کتاب فضائل الجہاد، جلد 3، صفحہ 256، حدیث 1639،
مطبوعہ دار الفکر )
یہ مثال اس بات
کی پختگی کو ظاہر کرتی ہے کہ اللہ کے ڈر سے رونے والے کے لیے جہنم سے خلاصی یقینی
ہے۔ خوفِ خدا کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کی تنہائی اور جلوت پاکیزہ ہو جاتی ہے،
وہ بندوں کے حقوق غصب کرنے سے باز رہتا ہے اور اس کے اخلاق میں عاجزی پیدا ہوتی
ہے۔
نبوی تعلیمات ہمیں یہ بھی بتاتی ہیں کہ اللہ کا ڈر مایوسی
کا نام نہیں بلکہ یہ تو اللہ کی رحمت کی طرف بھاگنے کا نام ہے۔ ایک مومن کے لیے
خوف اور رجا (امید) کے درمیان رہنا ضروری ہے۔ اگر انسان کے دل میں اللہ کا ڈر ختم
ہو جائے تو وہ سرکش ہو جاتا ہے اور معاشرے میں ظلم و ستم کا بازار گرم ہو جاتا ہے۔
آج ہمارے معاشرے میں بڑھتے ہوئے جرائم اور اخلاقی پستی کی سب سے بڑی وجہ دلوں سے
خوفِ خدا کا نکل جانا ہے۔ اگر ہم نبی کریم ﷺ کی ترغیبات پر عمل کرتے ہوئے اپنی
زندگیوں میں خشیتِ الٰہی کو جگہ دیں تو دنیا و آخرت کی کامیابی مقدر بن سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے محبوب ﷺ کے صدقے میں وہ دل عطا فرمائے جو اس کے ذکر سے تڑپ
اٹھے اور وہ آنکھیں عطا فرمائے جو اس کے خوف سے نم ہو جائیں۔ آمین بجاہ النبی الامین
ﷺ۔
خوفِ خدا کی تعریف :خوف سے
مراد وہ قلبی کیفیت ہے جو کسی ناپسندیدہ امر کے پیش آنے کی توقع کے سبب پیدا ہو،
مثلاً پھل کاٹتے ہوئے چھری سے ہاتھ کے زخمی ہوجانے کا ڈر۔ جبکہ خوفِ خدا کا مطلب یہ
ہے کہ اللہ تَعَالٰی کی بے نیازی، اس کی ناراضگی، اس کی گرفت اور اس کی طرف سے دی
جانے والی سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل گھبراہٹ میں مبتلا ہو جائے۔ (نجات
دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ۲۰۰)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ
ترجمۂ کنزالایمان:’’اے ایمان
والو اللہ سے ڈرو۔‘‘(پ۲۲،
الاحزاب: ۷۰)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ
رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ(۴۶)ترجمۂ کنزالایمان: ’’اور جو
اپنے ربّ کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔(پ۲۷،
الرحمن: ۴۶)
حکمت کی اصل خوفِ خدا ہے:حضور
نبی رحمت شفیع اُمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد
فرمایا: ’’حکمت کی اصل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا خوف ہے۔‘‘سرکارِ مدینہ راحت قلب وسینہ
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ
اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: ’’اگر تم مجھ سے ملنا چاہتے ہو تو میرے بعد بھی
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے بہت ڈرتے رہنا۔‘‘(نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ۲۰۱)
خوفِ خدا کا حکم:خوفِ خدا تمام نیکیوں
اور دنیا وآخرت کی ہر بھلائی کی اصل ہے، خوفِ خدا نجات دلانے اور جنت میں لے جانے
والا عمل ہے۔ پھر خوف کے تین درجات ہیں: (۱)
ضعیف: (یعنی کمزور) یہ وہ خوف ہے جو انسان کو کسی نیکی کے اپنانے اور
گناہ کو چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی قوت نہ رکھتا ہو، مثلاً جہنم کی سزاؤں کے حالات
سن کر محض جھرجھری لے کر رہ جانا اور پھرسے غفلت ومعصیت (گناہ)میں گرفتار ہوجانا۔(۲) معتدل: (یعنی متوسط) یہ وہ خوف
ہے جو انسان کو نیکی کے اپنانے اور گناہ کو چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی قوت رکھتا
ہو، مثلاً عذابِ آخرت کی وعیدوں کو سن کر ان سے بچنے کے لیے عملی کوشش کرنا اور
اس کے ساتھ ساتھ ربّ تَعَالٰی سے اُمید رحمت بھی رکھنا۔ (۳) قوی: (یعنی مضبوط) یہ وہ خوف ہے
جو انسان کو ناامیدی، بے ہوشی اور بیماری وغیرہ میں مبتلا کردے، مثلاً اللہ
تَعَالٰی کے عذاب وغیرہ کا سن کر اپنی مغفرت سے ناامید ہوجانا۔ یہ بھی یاد رہے کہ اِن
سب میں بہتر درجہ ’’معتدل‘‘ ہے کیونکہ خوف ایک ایسے تازیانے (کوڑے)کی مثل ہے جو کسی
جانور کو تیز چلانے کے لیے مارا جاتا ہے، لہٰذا اگر اس تازیانے کی ضرب (چوٹ)اتنی
ضعیف (کمزور) ہو کہ جانور کی رفتار میں ذرہ بھر بھی اضافہ نہ ہو تو اس کا کوئی
فائدہ نہیں اور اگر یہ اِتنی قوی ہو کہ جانور اس کی تاب نہ لاسکے اور اتنا زخمی
ہوجائے کہ اس کے لیے چلنا ہی ممکن نہ رہے تو یہ بھی نفع بخش نہیں اور اگر یہ معتدل
ہو کہ جانور کی رفتار میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوجائے اور وہ زخمی بھی نہ ہو تو یہ
ضرب بے حد مفید ہے۔(نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ۲۰۱،۲۰۲)
خوفِ خدا پیدا کرنے کے آٹھ (8)طریقے:(1)ربّ
تَعَالٰی کی بارگاہ میں سچی توبہ کرلیجئے:جس طرح طویل دنیاوی سفر پر تنہا روانہ
ہوتے وقت عموماًہماری یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہی سامان ساتھ رکھیں جو مفید ہو نقصان
دہ اشیاء ساتھ نہیں رکھتےتاکہ ہمارا سفر قدرے آرام سے گزرے اور ہمیں زیادہ پریشانی
کا سامنا نہ کر نا پڑے، بالکل اسی طرح سفرِ آخرت کو کامیابی سے طے کرنے کی خواہش
رکھنے والے کو چاہیے کہ روانگی سے قبل گناہوں کا بوجھ اپنے کندھوں سے اتارنے کی
کوشش کرے کہ کہیں یہ بوجھ اسے تھکا کر کامیابی کی منزل پر پہنچنے سے محروم نہ کر
دے۔ اس بوجھ سے چھٹکارے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ بندہ اپنے پروردگار عَزَّ وَجَل کی
بارگاہ میں سچی توبہ کرے کیونکہ سچی توبہ گناہوں کو اس طرح مٹا دیتی ہے جیسے کبھی
کیے ہی نہ تھے ۔ چنانچہ فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم ہے: ’’گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسےاس نے گناہ کیا ہی نہ ہو۔‘‘
(2)خوفِ خدا کے لیے بارگاہ ربّ العزت میں دعا کیجئے:یوں
دعا کیجئے: اے میرے مالک عَزَّ وَجَل! تیرا یہ کمزور وناتواں بندہ دنیا وآخرت میں
کامیابی کے لئے تیرے خوف کو اپنے دل میں بسانا چاہتاہے۔ اے میرے ربّ عَزَّوَجَل! میں
گناہوں کی غلاظت سے لتھڑا ہوا بدن لیے تیری پاک بارگاہ میں حاضر ہوں۔اے میرے پرورد
گار عَزَّ وَجَل!مجھے معاف فرمادے اور آئندہ زندگی میں گناہوں سے بچنے کے لئے اس
صفت کو اپنانے کے سلسلے میں بھرپور عملی کوشش کرنے کی توفیق عطافرمادے اور اس کوشش
کو کامیابی کی منزل پر پہنچادے۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ !مجھے اپنے خوف سے معمور
دل، رونے والی آنکھ اور لرزنے والا بدن عطا فرما ۔ آمین یارب
! میں تیرے خوف سے روتا رہوں ہر دم دیوانہ شہنشاہِ مدینہ کا بنا دے
(3)خوفِ خدا کے فضائل پیش نظر رکھیے: فطری
طور پر انسان ہر اس چیز کی طرف آسانی سے مائل ہوجاتا ہے جس میں اسے کوئی فائدہ
نظر آئے۔ اس تقاضے کے پیش نظر ہمیں چاہیے کہ قرآن واحادیث میں بیان کردہ خوفِ
خدا کے فضائل پیش نظر رکھیں، چند فضائل یہ ہیں:خوفِ خدا رکھنے والوں کے لیے دو
جنتوں کی بشارت دی گئی ہے۔ خوفِ خدا رکھنے والوں کو آخرت میں کامیابی کی نوید
(خوشخبری)سنائی گئی ہے۔ خوفِ خدا رکھنے والوں کو جنت کے باغات اور چشمے عطا کیے
جائیں گے۔ خوفِ خدا رکھنے والے آخرت میں امن کی جگہ پائیں گے۔ خوفِ خدا رکھنے
والوں کو مددوتائید الٰہی حاصل ہوتی ہے۔خوفِ خدا رکھنے والے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے
پسندیدہ بندے ہیں۔ خوفِ خدا اَعمال میں قبولیت کا ایک سبب ہے۔خوفِ خدا رکھنے والے
بارگاہ الٰہی میں مکرم ہیں۔خوفِ خدا رکھنے والے دنیا وآخرت میں کامیاب وکامران ہیں۔
خوفِ خدا جہنم سے چھٹکارے کا سبب ہے۔ خوفِ خدا ذریعہ نجات ہے۔
(4) خوفِ خدا کی علامات پر غور کیجئے:
جب کسی چیز کی علامات پائی جائیں گیں تو وہ شے بھی خود بخود پائی جائے گی۔ حضرت سیدنا
فقیہ ابواللیث سمرقندی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں: اللہ عَزَّ
وَجَلَّ کے خوف کی علامت آٹھ چیزوں میں ظاہر ہوتی ہے: (۱) انسان کی زبان میں، اس طرح کہ
ربّ تَعَالٰی کا خوف اس کی زبان کو جھوٹ، غیبت، فضول گوئی سے روکے گا اور اسے
ذکرُاللہ، تلاوتِ قرآن اور علمی گفتگو میں مشغول رکھے گا۔(۲)اس کے شکم میں، اس طرح کہ وہ
اپنے پیٹ میں حرام کو داخل نہ کرے گا اور حلال چیز بھی بقدرِ ضرورت کھائے گا۔(۳)اس کی آنکھ میں، اس طرح کہ وہ
اسے حرام دیکھنے سے بچائے گا اور دنیا کی طرف رغبت سے نہیں بلکہ حصولِ عبرت کے لیے
دیکھے گا۔(۴)اس کے
ہاتھ میں، اس طرح کہ وہ کبھی بھی اپنے ہاتھ کو حرام کی جانب نہیں بڑھائے گا بلکہ
ہمیشہ اِطاعت الٰہی میں استعمال کرے گا۔ (۵)
اس کے قدموں میں، اس طرح کہ وہ انہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی
میں نہیں اٹھائے گا بلکہ اس کے حکم کی اِطاعت کے لیے اٹھائے گا۔(۶)اس کے دل میں، اس طرح کہ وہ
اپنے دل سے بغض، کینہ اور مسلمان بھائیوں سے حسد کرنے کو دور کردے اور اس میں خیرخواہی
اور مسلمانوں سے نرمی کا سلوک کرنے کا جذبہ بیدار کرے۔ (۷)اس کی اطاعت و فرمانبرداری میں،
اس طرح کہ وہ فقط اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رِضا کے لیے عبادت کرے اور رِیاء ونفاق سے
خائف رہے۔(۸) اس کی
سماعت میں، اس طرح کہ وہ جائز بات کے علاوہ کچھ نہ سنے۔
(5)جہنم کے عذابات پر غوروتفکر کیجئے:جہنم
کے عذابات پر غور کرنے کے لیے پانچ فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پیش خدمت ہیں: دوزخیوں میں سب سے ہلکا عذاب جس کو ہوگا اسے آگ
کی جوتیاں پہنائی جائیں گی جس سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا۔دوزخیوں میں بعض وہ لوگ
ہوں گے جن کے ٹخنوں تک آگ ہوگی اور بعض لوگ وہ ہوں گے جن کے زانوؤں تک آگ کے
شعلے پہنچیں گے اور بعض وہ ہوں گے جن کی کمرتک ہوگی اور بعض لوگ وہ ہوں گے جن کے
گلے تک آگ کے شعلے ہوں گے، اگر اس زرد پانی کا ایک ڈول جو دوخیوں کے زخموں سے جاری
ہوگا، دنیا میں ڈال دیاجائے تو دنیا والے بدبودار ہوجائیں۔دوزخ کی آگ ہزار سال تک
بھڑکائی گئی یہاں تک کہ سرخ ہوگئی، پھر ہزار سال تک بھڑکائی گئی یہاں تک کہ سفید
ہوگئی، پھر ہزار سال تک بھڑکائی گئی یہاں تک کہ سیاہ ہوگئی، پس اب وہ نہایت سیاہ
ہے،دوزخ میں بختی اونٹ کے برابر سانپ ہیں، یہ سانپ ایک بارکسی کو کاٹے تو اس کا
درد اور زہر چالیس برس تک رہے گا اور دوزخ میں پالان باندھے ہوئے خچروں کی مثل
بچھو ہیں تو اُن کے ایک بار کاٹنے کا درد چالیس سال تک رہے گا۔
(6)خوفِ خدا کے بارے میں بزرگانِ دِین کے اَحوال کا
مطالعہ کیجئے: چند اَحوال پیش خدمت ہیں:حضرت سیدنا ابراہیم خلیلُ اللہ
عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو
خوفِ خدا کے سبب اس قدر گریہ وزاری فرماتے کہ ایک میل کے فاصلے سے اُن کے سینے میں
ہونے والی گڑگڑاہٹ کی آواز سنائی دیتی۔ ایک دن حضرت سیدنا داود عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام لوگوں کو نصیحت کرنے اور خوفِ خدا دِلانے کے لیے گھرسے
باہر تشریف لائے تو آپ کے بیان میں اس وقت چالیس ہزار لوگ موجود تھے، جن پر آپ
کے پُراَثر بیان کی وجہ سے ایسی رقت طاری ہوئی کہ تیس ہزار لوگ خوفِ خدا کی تاب نہ
لاسکے اور انتقال کر گئے۔ حضرت سیدنا یحییٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو خوفِ خدا کے سبب اس قدر روتے کہ درخت اور
مٹی کے ڈھیلے بھی آپ کے ساتھ رونے لگتے۔ حضرت سیدنا شعیب عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام خوفِ خدا سے اتنا روتے تھے کہ مسلسل رونے کی وجہ سے آپ کی
اکثر بینائی رخصت ہوگئی۔ایک بار حضور نبی رحمت شفیع اُمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک جنازے میں شریک تھے، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قبر کے کنارے بیٹھے اور اتنا روئے کہ آپ کی چشمانِ
اَقدس (مبارک آنکھوں)سے نکلنے والے آنسوؤں سے مٹی نم ہوگئی، پھر فرمایا: اے
بھائیو! اس قبر کے لیے تیاری کرو۔
حضرت سیدنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام نے ایک بار
بارگاہِ رِسالت میں عرض کی: جب سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جہنم کو پیدا فرمایا ہے،
میری آنکھیں اس وقت سے کبھی اس خوف کے سبب خشک نہیں ہوئیں کہ مجھ سے کہیں کوئی
نافرمانی نہ ہوجائے اور میں جہنم میں نہ ڈال دیا جاؤں۔
(7)خود اِحتسابی کی عادت اپناتے ہوئے فکرمدینہ کیجئے:اپنی
ذات کا محاسبہ کرلینے کی عادت اپنا لینے سے بھی خوفِ خدا کے حصول کی منزل پر
پہنچنا قدرے آسان ہوجاتا ہے، فکرمدینہ کا آسان سا مطلب یہ ہے کہ انسان اُخروی
اعتبار سے اپنے معمولات زندگی کا محاسبہ کرے، پھر جو کام اس کی آخرت کے لیے نقصان
دہ ثابت ہوسکتے ہیں، انہیں درست کرنے کی کوشش میں لگ جائے اور جو اُمور اُخروی
اِعتبار سے نفع بخش نظر آئیں، اِن میں بہتری کے لیے اِقدامات کرے، مدنی اِنعامات
پر عمل کرے۔
(8)خوفِ خدا رکھنے والوں کی صحبت اِختیار کیجئے:
ایسے نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھنا بھی بندے کے دل میں خوفِ خدا بیدار کرنے میں
بہت مددگار ثابت ہوگا۔ ہر صحبت اپنا اثر رکھتی ہے، مثال کے طور پر اگر آپ کو کبھی
کسی میت والے گھر جانے کا اتفاق ہوا ہو تو وہاں کی فضا پر چھائی ہوئی اداسی دیکھ
کر کچھ دیر کے لئے آپ بھی غمگین ہوجائیں گے اور اگر کسی شادی پر جانے کا اتفاق
ہوا ہو تو خوشیوں بھرا ماحول آپ کو بھی کچھ دیر کے لئے مسرور کر دے گا ۔بالکل اسی
طرح اگر کوئی شخص غفلت کا شکارہو کر گناہوں پر دلیرہوجانے والے لوگوں کی صحبت میں
بیٹھے گا ،تو غالب گمان ہے کہ وہ بھی بہت جلد انہی کی مانندہوجائے گا اور اگر کوئی
شخص ایسے لوگوں کی صحبت اختیارکرے گا جن کے دل خوفِ خدا سے معمور ہوں، اُن کی
آنکھیں اللہ تَعَالٰی کے ڈر سے روئیں تو امید ہے کہ یہی کیفیات اس کے دل میں بھی
سرایت کر جائیں گی ۔اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَل (نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ۲۰۳تا۲۰۹)
ابو صَفی محمد علی(درجہ سادسہ جامعۃ
المدينہ فيضان عثمان غنى ،کراچی،پاکستان)
خوفِ خدا وہ باطنی کیفیت ہے جو دل کو بیدار، نیت کو خالص
اور عمل کو سنوار دیتی ہے۔ یہ خوف مایوسی یا گھبراہٹ کا نام نہیں بلکہ اللہ کی
عظمت، اس کی بارگاہ میں جواب دہی اور اس کی ناراضی سے بچنے کے شعور کا نام ہے۔ نبی
کریم ﷺ نے امت کی تربیت میں خوفِ خدا کو مرکزی مقام عطا فرمایا، کیونکہ یہی خوف
انسان کو گناہ سے روکتا، نفس کو قابو میں رکھتا اور بندے کو تقویٰ کے راستے پر
گامزن کرتا ہے۔ جس دل میں خوفِ خدا جاگزیں ہو جائے وہ تنہائی میں بھی گناہ سے ڈرتا
اور مجمع میں بھی حق پر قائم رہتا ہے۔
تقویٰ اور خوفِ خدا کی جامع نصیحت:رسولِ
اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اتَّقِ اللَّهَ
حَيْثُمَا كُنْتَ یعنی جہاں کہیں بھی ہو اللہ سے ڈرتے رہو۔ (سنن الترمذی،
کتاب البر والصلۃ، حدیث نمبر: 1987)
یہ مختصر مگر ہمہ گیر فرمان اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ
خوفِ خدا کسی خاص وقت یا جگہ سے وابستہ نہیں بلکہ مومن کی پوری زندگی پر محیط ہونا
چاہیے، کیونکہ یہی احساس اسے ہر حال میں گناہ سے بچاتا ہے۔
خوفِ خدا اور آنسوؤں کی فضیلت:رسولِ
اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: عَيْنَانِ لَا
تَمَسُّهُمَا النَّارُ: عَيْنٌ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ، وَعَيْنٌ بَاتَتْ
تَحْرُسُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ یعنی دو آنکھیں ایسی ہیں جنہیں
آگ نہیں چھوئے گی: ایک وہ آنکھ جو اللہ کے خوف سے روئی، اور دوسری وہ آنکھ جو اللہ
کی راہ میں پہرہ دیتی رہی۔ (سنن الترمذی، کتاب فضائل الجهاد، حدیث نمبر: 1639)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خوفِ خدا دل میں اتر جائے
تو وہ آنسوؤں کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے اور یہی کیفیت نجات کا سبب بن جاتی ہے۔
تنہائی میں خوفِ خدا کی قدر:رسولِ
اکرم ﷺ نے ان سات خوش نصیبوں کا ذکر فرمایا جنہیں قیامت کے دن عرش کا سایہ نصیب
ہوگا، ان میں ایک وہ شخص بھی ہے:
وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ یعنی
وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ (صحیح
البخاری، کتاب الاذان، حدیث نمبر 660؛ صحیح مسلم، کتاب الزكاة، حدیث نمبر 1031)
یہ تنہائی کا
خوف دراصل اخلاص کی بلند ترین صورت ہے، جہاں بندہ لوگوں سے نہیں بلکہ صرف اپنے رب
سے ڈرتا ہے۔
خوفِ خدا اور حقیقی دانش:رسولِ
اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: لَوْ تَعْلَمُونَ
مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا یعنی
اگر تم وہ جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم کم ہنسو اور زیادہ روؤ۔ (صحیح البخاری،
کتاب الرقاق، حدیث نمبر: 6486؛ صحیح مسلم، کتاب الفضائل، حدیث نمبر: 2359)
اس فرمان میں حضور ﷺ نے آخرت کے حقائق کی طرف اشارہ فرما
کر خوفِ خدا کو حکمت اور دانائی کا لازمی نتیجہ قرار دیا ہے۔
خوفِ خدا کا قرآنی معیار:اللہ تعالیٰ ارشاد
فرماتا ہے: اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ
الْعُلَمٰٓؤُاؕ
ترجمۂ کنز الایمان: اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم
والے ہیں۔(سورۃ فاطر: 28)
یہ آیت بتاتی ہے
کہ خوفِ خدا جہالت نہیں بلکہ معرفت کا ثمر ہے، اور جتنا علم بڑھتا ہے اتنا ہی دل میں
خشیت گہری ہوتی جاتی ہے۔خوفِ خدا کی یہ نبوی ترغیبات انسان کے دل میں ذمہ داری،
آنکھوں میں حیا اور اعمال میں سنجیدگی پیدا کرتی ہیں۔ جو شخص اس خوف کو اپنا زادِ
راہ بنا لیتا ہے وہ دنیا کی لغزشوں سے محفوظ اور آخرت کی تیاری میں مصروف رہتا ہے۔
یہی خوف اسے رب کے قریب، گناہ سے دور اور تقویٰ کے اعلیٰ مقام تک پہنچا دیتا ہے۔ ایسا
کردار دیکھ کر ہی دلوں میں رشک پیدا ہوتا ہے کہ یہ زندگی محض ظاہری دینداری نہیں
بلکہ باطن کی وہ روشنی ہے جو چراغِ نبوت ﷺ سے جلائی گئی ہو۔
عبداللہ
عطاری (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
خوفِ خدا وہ عظیم دولت ہے جو بندے کو گناہوں سے روکتی، نیکیوں
کی طرف مائل کرتی اور آخرت کی تیاری کا جذبہ عطا کرتی ہے۔ نبیِّ کریم ﷺ نے اپنی
امت کو بارہا اللہ پاک کے خوف کی ترغیب دلائی، کیونکہ خوفِ خدا دل کی اصلاح اور
اعمال کی درستگی کا ذریعہ ہے۔ خوفِ خدا مایوسی نہیں بلکہ نجات کا راستہ ہے۔
سرکار مدینہ راحت قلب و سینہ فیض گنجینہ ﷺ نے ارشاد فرمایا
: مَنْ خَافَ اللهَ أَخَافَ، اللهُ مِنْهُ
كُلَّ شَيْءٍ، وَمَنْ لَمْ يَخَفِ اللهَ خَافَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ جو
اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ ہر چیز کو اس سے ڈرا دیتا ہے،اور جو اللہ سے نہیں ڈرتا،
اللہ اسے ہر چیز سے ڈرا دیتا ہے۔(شعب الايمان کتاب: الخوف من الله حدیث نمبر: 795)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا
کہ خوفِ خدا انسان کو باوقار، مضبوط اور بے خوف بنا دیتا ہے، جبکہ اللہ سے بے خوفی
ہر طرح کے خوف کو جنم دیتی ہے۔
ایک اور مقام پر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے
خوف خدا کی ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:
لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا
وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًااگر تم وہ جان لو جو میں جانتا ہوں تو کم ہنستے اور زیادہ
روتے۔(صحیح بخاری کتاب: الرقاق ،باب قول النبی ﷺ لو تعلمون ما أعلم، حدیث نمبر:
6486)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہ یہ حدیث دنیا کی
غفلت کو توڑ کر آخرت کی جواب دہی کا احساس بیدار کرتی ہے۔
مزید خوف خدا کی ترغیب دلاتے ہوئے اللہ کے آخری نبی ﷺ نے
فرمایا :عَيْنَانِ لَا تَمَسُّهُمَا
النَّارُ: عَيْنٌ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ دو
آنکھیں ایسی ہیں جنہیں جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی،ان میں سے ایک وہ آنکھ ہے جو اللہ
کے خوف سے روئی۔(جامع ترمذی، کتاب الزهد، باب: ما جاء فی البكاء من خشیۃ الله،حدیث
نمبر: 1633)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! خوفِ خدا کے آنسو جہنم سے
نجات کا مضبوط ذریعہ ہیں۔ اللہ پاک ہمیں بھی خوف خدا میں رونے والی آنکھیں عطاء
فرمائے آمین۔ آئیے مزید پڑھتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے خوف خدا کے حوالے سے کیا
ارشاد فرمایا چنانچہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :لَا تَمَسُّ النَّارُ عَيْنًا بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ، وَلَا
عَيْنًا بَاتَتْ تَحْرُسُ فِي سَبِيلِ اللَّهِجہنم کی
آگ اس آنکھ کو نہ چھوئے گی جو اللہ کے خوف سے روئی،اور نہ اس آنکھ کو جو اللہ کی
راہ میں پہرہ دیتی رہی۔(سنن ترمذی، کتاب: فضائل الجهاد،حدیث نمبر: 1639) (مشکاة
المصابیح،کتاب: الجهاد،حدیث نمبر: 3828)
مزید حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :وَعِزَّتِي لَا أَجْمَعُ عَلَى عَبْدِي خَوْفَيْنِ وَلَا
أَمْنَيْنِ، إِنْ خَافَنِي فِي الدُّنْيَا أَمَّنْتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِاللہ
پاک فرماتا ہے:میری عزت کی قسم! میں اپنے بندے پر دو خوف اور دو امن جمع نہیں
کرتا،اگر وہ دنیا میں مجھ سے ڈرا تو قیامت میں اسے امن عطا کروں گا۔(المعجم الكبير
للطبرانی ،حدیث نمبر: 11209)
میرے پیارے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہ دنیا میں خوفِ
خدا، آخرت کے دائمی امن کی ضمانت ہے۔
خوف خدا کے فوائد :
گناہوں سے حفاظت،دل کی نرمی،عبادت میں خشوع،آخرت کی فکر،اللہ پاک کی رضا۔آئیے مزید
ہم پڑھتے ہیں کہ کس طرح سے خوف خدا حاصل ہو سکتا ہے :
قرآنِ کریم کا ترجمہ و تفسیر پڑھنا،قبر و آخرت کو یاد
کرنا،نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنا،موت کو کثرت سے یاد کرنا،گناہوں پر فوراً توبہ
کرنا۔
پیارے اسلامی بھائیو!ہم نے خوفِ خدا کی اہمیت کو قرآن و
حدیث کی روشنی میں پڑھا۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم صرف پڑھنے والے نہ بنیں
بلکہ عمل کرنے والےبھی بنیں۔ آئیے! ہم سب سچی توبہ کریں، اپنے گناہوں پر نادم ہوں
اور پختہ ارادہ کریں کہ آئندہ زندگی کو اللہ پاک کی نافرمانی سے بچائیں گے۔آئیے!
دل ہی دل میں یہ نیت کریں: ہم نمازوں کی پابندی کریں گے،نگاہوں، زبان اور دل کی
حفاظت کریں گے،والدین کی فرمانبرداری کریں گے،اور ہر حال میں اللہ پاک سے ڈرتے
ہوئے زندگی گزاریں گے۔
وقار حسین عطاری (درجہ خامسہ جامعۃالمدینہ
فیضان فاروق اعظم سادھوکی، لاہور،پاکستان )
خوفِ خدا (تقوی) اسلام کی روح اور ایمان کی بنیاد ہے۔
قرآن و حدیث میں جس صفت کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا خوف ہے،
جو انسان کو گناہوں سے روکتا اور نیکیوں پر آمادہ کرتا ہے۔ نبی کریم صلى الله علیہ
وسلم کا ہر قول، ہر فعل اور ہر تربیتی انداز اس بات کی عملی تصویر تھا کہ بندہ
اپنے رب کے حضور جواب دہ ہونے کا احساس زندہ رکھے۔ یہی خوفِ خدا انسان کو حقیقی
بندگی کے مقام تک پہنچاتا ہے۔
(1)گناہ جھڑتے ہیں:حضرت
عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے: حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: جب اللہ تعالی کے خوف کے سبب کسی آدمی کا جسم کپکپانے لگتا ہے تو اس کے
گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں، جس طرح خشک درخت کے پتے جھڑ جاتے ہیں۔(الترغيب والترھیب،جلد3
،صفحہ521، حدیث5025، مکتبہ شبیر برادرز)
(2)دو خوف اور دو امن جمع نہیں کروں گا:مصطفی
جان رحمت صلى الله تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: الله پاک ارشاد فرماتا
ہے: مجھے اپنی عزت کی قسم میں اپنے بندے پر دو خوف اور دو امن جمع نہ کروں گا۔ جو
مجھ سے دنیا میں بے خوف رہے گا اسے قیامت کے دن خوف زدہ کروں گا اور جو دنیا میں
مجھ سے خوف زدہ رہے گا اسے روز قیامت امن عطا کروں گا۔(الزھد لابن المبارک،باب
ماجاءفی الخشوع والخوف ، ص50 ،حدیث157)
(3)خوف حکمت اور دانائی:حضور
نبی پاک ، صاحب لولاک صلی اللہ تعالى علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمايا: اللہ عزوجل
کا خوف حکمت و دانائی کی بنیاد ہے۔(شعب الايمان،باب فی الخوف من اللہ ،جلد 1،ص
470،حدیث744)
(4)مجھ سے ملنا چاہتے ہو تو:حضور
نبی کریم رؤف رحیم صلى الله تعالی علیہ والہ وسلم نے حضرت سید نا عبد الله بن
مسعود رضی الله تعالى عنہ سے ارشاد فرمایا: اگر تم مجھ سے ملنا چاہتے ہو تو میرے
بعد بھی اللہ تعالی سے بہت ڈرتے رہنا۔(احیاءالعلوم، جلد4،ص472،مکتبۃ المدینہ)
(5)جہنم حرام فرما دیتا ہے: جس
بندہ مومن کی آنکھوں سے اللہ کے خوف کے سبب مکھی کے پر برابر بھی آنسو نکل کر اس
کے چہرے تک پہنچا تو اللہ اس بندے پر دوزخ کو حرام فرما دیتا ہے ۔ (سنن ابن
ماجہ،کتاب الزھد،باب الحزن والبکاء،جلد1،صفحہ446،حدیث4197)
حضرت سیدنا یحییٰ بن معاذرازی رحمۃ الله علیہ سے پوچھا گیا
کل بروز قیامت مخلوق میں سے سب سے زیادہ امن میں کون ہو گا؟فرمایا : جو آج دنیا میں
سب سے زیادہ خوف خدا رکھنے والا ہے۔(احیاءالعلوم، جلد 4، صفحہ474،مکتبۃ المدینہ)
خوفِ خدا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا بنیادی
ستون ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قول و عمل دونوں سے امت کو یہ سبق دیا کہ اللہ
تعالیٰ کی عظمت اور آخرت کی جواب دہی کا احساس انسان کو گناہوں سے بچاتا اور نیکی
کی راہوں پر گامزن کرتا ہے۔ آج اگر مسلمان فرد اور معاشرہ خوفِ خدا کو اپنائے تو
اخلاقی بگاڑ، ظلم اور بے راہ روی کا خاتمہ ممکن ہے۔ ہمیں چاہیے کہ نبی کریم صلی
اللہ علیہ وسلم کی ان تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور حقیقی کامیابی حاصل
کریں۔
محمد شاہزیب سلیم عطاری(درجہ سادسہ
جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی، لاہور،پاکستان)
انسانی زندگی کی اصلاح اور اس کی باطنی پاکیزگی کا سب سے
مؤثر ذریعہ خوفِ خدا ہے۔ یہی وہ عظیم صفت ہے جو انسان کو گناہوں سے روکتی، نیکیوں
کی طرف مائل کرتی اور اس کے ظاہر و باطن کو سنوارتی ہے۔ جب دل میں اللہ تعالیٰ کا
خوف پیدا ہو جاتا ہے تو انسان تنہائی اور مجمع دونوں میں برائی سے بچتا اور ہمیشہ
بھلائی کی راہ اختیار کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنی امت
کے دلوں میں خوفِ خدا پیدا کرنے کی بھرپور ترغیب دی۔نبی کریم ﷺ نے مختلف انداز میں
اللہ کے خوف کی اہمیت کو اجاگر فرمایا۔ کبھی وعظ و نصیحت کے ذریعے، کبھی آخرت کی
وعیدات سنا کر، اور کبھی اللہ کی رحمت و عذاب دونوں کا تذکرہ کر کے آپ ﷺ نے دلوں
کو نرم اور بیدار کیا۔ کیونکہ یہی خوف انسان کو تقویٰ، پرہیزگاری اور اطاعتِ الٰہی
کی طرف لے جاتا ہے۔ صحابۂ کرام کی زندگیاں اس خوفِ خدا کی عملی تصویر تھیں وہ اللہ
کے خوف سے روتے، راتوں کو عبادت کرتے اور ہر عمل میں آخرت کو پیشِ نظر رکھتے تھے۔
لہٰذا
خوفِ خدا محض ایک جذبہ نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے جسے نبی کریم ﷺ نے اپنی
تعلیمات اور عملی نمونے سے واضح فرمایا۔ یہی خوف انسان کو دنیا و آخرت میں کامیابی،
دل کا سکون اور اللہ کی رضا عطا کرتا ہے آئیے چند احادیث ملاحظہ کیجئے جس میں نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف خدا کی ترغیبات ارشاد فرمائیں۔
((1خوف
خدا سے رونے والا جہنم میں نہیں جائے گا :عَنْ
اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
:لَا يَلِجُ النَّارَ رَجُلٌ بَكَى مِنْ خَشْيَةِ اللهِ حَتَّى يَعُوْدَ اللَّبَنُ فِي الضَّرْعِ وَلَا يَجْتَمِعُ عَلَی
عَبْدٍ غُبَارٌ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ.حضرت
سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسولُ اﷲ صَلَّی اﷲ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”اﷲ عَزَّ وَجَلَّ کے خوف سے
رونے والا شخص جہنم میں نہیں جائے گا حتّٰی کہ دودھ تھنوں میں واپس آجائے
اور کسی بندے پر راہِ خدا کا غبار اور جہنم کا دھواں جمع نہیں ہوسکتا۔ “ (فیضان ریاض
الصالحین ج7 ، حدیث نمبر:1304)
(2) جہنم سے نکلنا :وَعَنْ
أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى اللَّه عليه وسلم قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ جَلَّ
ذِكْرُهُ: أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ ذَكَرَنِي يَوْمًا أَوْ خَافَنِي فِي
مَقَامٍ روایت
ہے حضرت انس سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ اللہ تعالٰی فرمائے
گا کہ آگ سے اسے نکال لو جس نے مجھے ایک دن یاد کیا ہو یا ایک جگہ میں مجھ سے خوف
کیا ہو۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ج7 ، حدیث نمبر:5349 )
شرح حدیث
:جو مسلمان عمر بھر میں ایک بار بھی مجھ سے ڈرا ہو اور ڈر کر گناہ سے توبہ کرلی ہو
یا جسے میں ایک بار بھی گناہ کرتے وقت یاد آگیا ہوں اور اس یاد کی وجہ سے وہ گناہ
سے باز رہا ہو اسے دوزخ سے نکال لو یا بچا لو۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
ج7 ، حدیث نمبر:5349 )
(3)آقا علیہ الصلاۃ والسلام کی وصیت :وَعَنْ
أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا قَالَ:
يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُسَافِرَ فَأَوْصِنِي قَالَ:
عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللّٰه وَالتَّكْبِيرِ عَلٰى كُلِّ شَرَفٍ، فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ قَالَ:
اَللّٰهُمَّ اطْوِ لَهُ الْبُعْدَ وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ
ترجمہ:روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ میں
سفر کا ارادہ کررہا ہوں مجھے کچھ وصیت فرمایئے فرمایا اللہ کا
خوف گرہ باندھ لو اور ہر بلندی پر تکبیر کہو جب اس شخص نے پیٹھ پھیری تو
فرمایا الٰہی اس کے لیے دوری لپیٹ دے اور اس پر سفر آسان کر۔
شرح حدیث
:ہر جگہ ہر حال میں خوفِ
خدا دل میں رکھو کہ یہ تمام نیکیوں اور گناہوں سے بچنے کی اصل ہےاور دورانِ
سفر میں جب کسی ٹیلہ یا پہاڑی پر چڑھو تو اللہ اکبر کہہ لو،غرض دل و زبان
دونوں کا انتظام فرمادیا۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ج4 ،حدیث
نمبر:2438 )
(4)خوف خدا میں رونے والی آنکھ :عَنِ
ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى
اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:عَيْنَانِ لَا تَمسُّهُمَا النَّارُ عَيْنٌ
بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللهِ
وَعَيْنٌ بَاتَتْ تَحْرُسُ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ.
حضرت
سَیِّدُنا عبداﷲبن عباس رضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ میں نے رسولُ اﷲ
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فرماتے ہوئے سنا:دو آنکھیں ایسی
ہیں جنہیں جہنم کی آگ نہ چھوئے گی :(1) اﷲ عَزَّ وَجَلَّ کے خوف سے رونے والی
آنکھ اور (2)راہِ خدا میں پہرہ دینے والی آنکھ۔ (فیضان ریاض الصالحین ج7 ، حدیث
نمبر:1305)
عامر
فرید (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سا دھوکی، لاہور،پاکستان )
خوفِ خدا سے مراد اللہ تعالیٰ کی بے نیازی، ناراضگی اور
آخرت میں جوابدہی کے ڈر سے دل میں پیدا ہونے والی وہ کیفیت ہے جو انسان کو گناہوں
سے روک کر نیکی کی طرف راغب کرتی ہے۔ یہ تقویٰ کی بنیاد، اللہ کی معرفت اور اطاعتِ
الہی کا ذریعہ ہے، جو دل میں نرمی، پاکیزگی اور آخرت میں امن کا باعث بنتا ہے۔
(1)جس نے ایک دن خوف سے اللہ تعالیٰ کو یاد کیا :روایت
ہے حضرت انس سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ اللہ تعالٰی فرمائے
گا: کہ آگ سے اسے نکال لو جس نے مجھے ایک دن یاد کیا ہو یا ایک جگہ میں مجھ سے خوف
کیا ہو ۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:7 ، حدیث نمبر:5349)
(2)خوف سے بچت:روایت ہے حضرت ابن عمر
سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم جب مقامِ حجر میں گزرے تو فرمایا ظالموں کے
گھروں میں نہ داخل ہو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا مگر اس طرح جاؤ کہ تم اس خوف
سے روتے ہو کہ تم کو بھی وہ عذاب پہنچے جو انہیں پہنچا پھر اپنا سر جھکا لیا اور
رفتار تیز فرمالی حتی کہ اس علاقے کو طے کرلیا۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
جلد:6 ،حدیث نمبر:5125)
(3)اللہ تعالیٰ کو پیاری چیز:روایت
ہے حضرت ابو امامہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایااﷲ تعالٰی کو
دو قطروں سے زیادہ کوئی چیز پیاری نہیں ایک آنسو کا قطرہ جواﷲ کے خوف سے ہو۔(مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:5 ،حدیث نمبر:3837)
(4)جو آنکھ اللہ کے خوف سے روئے:روایت
ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے دو آنکھیں ہیں
جنہیں آگ نہ چھوئے گی ایک وہ آنکھ جواﷲ کے خوف سے روئے اور ایک وہ آنکھ جواﷲ کی
راہ میں پہرہ دے ۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:5 ،حدیث نمبر:3829)
(5)خوف سے سفر آسان :روایت
ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ میں سفر کا ارادہ
کررہا ہوں مجھے کچھ وصیت فرمایئے فرمایا اللہ کا خوف گرہ باندھ لو اور ہر بلندی پر
تکبیر کہو جب اس شخص نے پیٹھ پھیری تو فرمایا الٰہی اس کے لیے دوری لپیٹ دے اور اس
پر سفر آسان کر۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 , حدیث نمبر:2438)
محمد
فیضان علی عطاری (درجہ سادسہ مرکزی جامعۃالمدينہ فیضان مدینہ، فیصل آباد،پاکستان)
خوف سے مراد وہ قلبی کیفیت ہے جو کسی ناپسندیدہ امر کے پیش
آنے کی توقع کے سبب پیدا ہو، مثلاً پھل کاٹتے ہوئے چھری سے ہاتھ کے زخمی ہو جانے
کا ڈر، جبکہ خوفِ خدا کا مطلب یہ ہے کہ الله پاک کی بے نیازی، اس کی ناراضگی، اس کی
گرفت اور اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل گھبراہٹ میں
مبتلا ہو جائے۔(احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجاء، باب بیان حقیقۃ الخوف، 4/
190 )
خوفِ خدا ایمان کی روح اور تقویٰ کی اصل ہے۔ یہ وہ باطنی
کیفیت ہے جو انسان کو گناہوں سے روکتی، اطاعت پر آمادہ کرتی اور الله پاک کے قُرب
کی طرف لے جاتی ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے اپنی تعلیمات اور ارشادات کے ذریعے خوفِ خدا کی
عظیم ،اہمیت سے آگاہ فرمایا اور اسے اُخروی نجات کا ذریعہ قرار دیا ہے۔
(1) خوفِ خدا اور عرش کا سایہ:قیامت
کے دن جہاں ہر طرف نفسا نفسی کے عالم میں ہر کوئی پریشان ہوگا، وہاں خوفِ خدا
رکھنے والوں کے لیے خاص انعام ہوگا۔ رسول الله ﷺ نے فرمایا: "
رَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ "ترجمہ:
ایسا شخص جس نے الله پاک کو تنہائی میں یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ
نکلے۔ اس شخص کو الله پاک قیامت کے دن اپنے عرش کا سایہ عطا فرمائے گا جب کوئی سایہ
نہ ہوگا۔ (صحيح البخاری، كتاب المحاربين، حدیث: 6806)
(2)خوفِ خدا نجات کا ذریعہ :پیارے
آقا جان عالم ﷺ نے خوف خدا کو بندے کی نجات کا قوی ذریعہ قرار دیا ہے، چنانچہ حضرت
ابو ہریرہ رضی الله عنہ فرماتے ہیں، آپ ﷺ کا فرمان ہے: " مَنْ خَافَ أَدْلَجَ، ومَنْ أَدْلَجَ بَلَغَ المنْزِلَ،
أَلَا إِنَّ سِلْعَةَ اللهِ غَالِيَةٌ، أَلَا إِنَّ سِلْعَةَ اللهِ الجَنَّةُ "
ترجمہ: جسے خوف ہوتا ہے وہ اول وقت ہی میں سفر پر نکل پڑتا ہے اور جو اول وقت ہی میں
سفر کا آغاز کر دیتا ہے وہ منزل تک پہنچ جاتا ہے۔ سن لو! کہ الله کا سامان بڑی قیمت
والا ہے، جان لو کہ الله کا سامان جنت ہے۔ (ترمذی، باب ثواب الاطعام والسقی ولاکسو
وحدیث من خاف ادلج، حدیث: 2450)
اس حدیث مبارکہ میں خوفِ خدا کو منزلِ مقصود (رضائے الٰہی
اور جنت) تک پہنچنے کا محرک بتایا گیا ہے۔ جو بندہ الله پاک سے ڈرتا ہے، وہ سستی و
کاہلی کو ترک کر کے اول ہی سے کامیابی حاصل کرنے کے لیے نیکی کی راہ اختیار کرتا
ہے۔
(3) حکمت کی اصل :پیارے آقا جان عالم ﷺ نے
حکمت کی اصل بیان کرتے ہوئے فرمایا: " رَأْسُ
الْحِكْمَةِ مَخَافَةُ اللهِ " ترجمہ: حکمت کی اصل الله
پاک کا خوف ہے۔ (شعب الایمان، باب فی الخوف من الله،1/ 470، حدیث: 743)
(4) میرے بعد بھی ڈرتے رہنا :صحابہ
کرام کو خوف خدا کی تعلیم دیتے ہوئے سرکار ﷺ نے حضرت عبد الله بن مسعود رضی الله
عنہ سے فرمایا: اگر تم مجھ سے ملنا چاہتے ہو تو میرے بعد بھی الله پاک سے بہت ڈرتے
رہنا۔(احیاء العلوم،4/ 472)
(5) موجودہ دور میں خوفِ خدا کی ضرورت:فی
زمانہ جہاں انسان ظاہری ترقی کے عروج پر جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف باطنی زوال کا
بھی شکار ہے۔ گناہ کو معمولی سمجھا جانے لگا ہے اور الله پاک کی پکڑ کو فراموش کیا
جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں خوفِ خدا کو اختیار کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ مندرجہ
بالا احادیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خوف خدا ہی وہ قوت ہے جو انسان کو بے راہ
روی سے بچا کر سیدھی راہ پر قائم رکھتی ہے۔ماہنامہ فیضانِ مدینہ کے قارئین! جو
بندہ الله پاک سے ڈرتا ہے، وہ دنیا میں بھی محفوظ رہتا ہے اور آخرت میں بھی سرخرو
ہوتا ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے دل میں خوفِ خدا کو زندہ رکھے، کیونکہ
یہی خوف اصلاحِ نفس، حسنِ عمل اور نجاتِ ابدی کی کنجی ہے۔ الله پاک ہمیں پیارے آقا
جان عالم ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے خوفِ خدا کو اختیار کرنے کی توفیق عطا
فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین صلی الله علیہ وآلہ وسلم۔
علی حیدر عطاری (درجہ سادسہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی ،لاہور،پاکستان )
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ہمیں اِس دنیا میں اپنی عبادت کرنے
کے لیے پیدا فرمایا ہے، اس نے زندگی اور موت کو بھی پیدا کیا تا کہ یہ جانچ ہو کہ
کون نیک اور اچھے اعمال کرتا ہے اور کون گناہ اور بُرے اعمال ؟ جو نیک اعمال کرے
گا ، وہ اسے دائمی نعمت یعنی جنت عطا فرمائے گا اور جو بُرے اعمال کرے گا، وہ اُسے
چاہے گا تو عذاب میں گرفتار کرے گا لہذا سمجھدار وہی ہے جو نیکیوں بھری زندگی
گزارے اور اپنے آپ کو گناہوں سے بچائے لیکن کسی بھی اچھی چیز کا حصول اُمید کے سبب
اور بری چیز سے بچاؤ خوف کے سبب ہوتا ہے لہذا ہمیں اپنے دل میں خوف خدا کو پیدا
کرنا ہو گا۔
(1)عَن اَبي
هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَلِجُ النَّارَ رَجُلٌ بَكٰى مِنْ خَشْيَةِ اللهِ
حَتّٰى يَعُوْدَ اللَّبَنُ فيِ الضَّرْعِ وَلَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيْلِ
اللهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسولِ اَکرم ، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خوف سے رونے والاجہنم میں
داخل نہ ہوگا ، یہاں تک کہ دودھ تھنوں میں واپس لوٹ جائے ، اور راہِ خدا کا گرد و
غُبار اور جہنم کا دھواں جمع نہیں ہو سکتے ۔(ترمذی کتاب فضائل الجھادباب ماجاءفی
فضل الغارفی سبیل اللہ /236حدیث 1639)
(2)وَعَنْ
عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ ، قَالَ : اَتَيْتُ رَسُوْلَ
الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم وَهُوَ يُصَلِّي وَلِجَوْفِهِ اَزِيْزٌ
كَاَزِيْزِ الْمِرْجَلِ مِنَ الْبُكَاءِ.ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَاعبداللہ
بن شخیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ’’میں حضور نبی کریم صَلَّی
اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا توآپ صَلَّی
اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نماز پڑھ رہے تھے اور ( خوفِ خدا سے )
رونے کی وجہ سے آپ کے سینہ مبارکہ سے ہنڈیا جیسی آواز آ رہی تھی ۔ ‘‘(ابو داؤد
کتاب الصلاۃ باب البکاء فی الصلاۃ٫جلد٫1ص ٫342حدیث 904)
(3)عَنْ
اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:سُئِلَ رَسُولُ الله صَلَّی اللّٰہ
عَلَیْہِ وَسَلَّم عَنْ اَكْثَرِ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّةَ قَالَ:تَقْوَى
اللهِ وَحُسنُ الْخُلُقِ، وَسُئِلَ عَنْ اَكْثَرِ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ،
فَقَالَ:اَلْفَمُ وَالْفَرْجُ.
حضرت سَیِّدُنَاابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے
ہیں:رسول ُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے پوچھا گیا کہ
ایسا کونسا عمل ہے جس کی وجہ سے لوگ بکثرت جنت میں داخل ہوں گے؟فرمایا:’’اللہ تعالیٰ
کا خوف اور حُسنِ اخلاق ۔‘‘پھر اس چیزکے بارے میں پوچھا گیا جس کی وجہ سے بکثرت
لوگ جہنم میں داخل ہوں گے تو فرمایا :’’زبان اور شرمگاہ۔‘‘(ترمذی ،کتاب البروالصلت
،،باب ماجاء فی حسن الخلق ،جلد3،ص 404،حدیث نمبر 2011)
(4)عَنِ ابْنِ
عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:عَيْنَانِ لَا تَمسُّهُمَا النَّارُ عَيْنٌ بَكَتْ
مِنْ خَشْيَةِ اللهِ وَعَيْنٌ بَاتَتْ تَحْرُسُ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ.ترجمہ
:حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عباس ر َضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ میں نے
رسولُ اﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فرماتے ہوئے سنا:”دو
آنکھیں ایسی ہیں جنہیں جہنم کی آگ نہ چھوئے گی :(1) اﷲ عَزَّوَجَلَّ کے خوف سے
رونے والی آنکھ اور (2)راہِ خدا میں پہرہ دینے والی آنکھ۔“(فیضان ریاض الصالحین
جلد:7 ، حدیث نمبر:1305)
آصف شوکت علی( درجہ خامسہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی، لاہور،پاکستان)
خوف خدا تمام نیکیوں اور دنیا و آخرت کی بھلائی کی اصل
ہے خوف خدا نجات دلانے اور جنت میں لے جانے والا عمل ہے ۔ قیامت کے دن اپنے رب کے
حضور حساب کے لیے کھڑے ہونے کا ڈر ہو اور وہ گناہوں کو چھوڑ دے اور فرائض کی بجا
آوری کرے تو اس کے لیے آخرت میں دو جنتیں ہیں اب یہاں پر پانچ حدیث بیان کی جاتی
ہیں ۔
(1) مجھ سے ملنا چاہتے ہو :سرکار
مدینہ راحت قلب سینہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی
اللہ عنہ سے فرمایا: اگر تم مجھ سے ملنا چاہتے ہو تو میرے بعد بھی اللہ پاک سے بہت
ڈرتے رہنا۔ (احیاء العلوم ٫جلد 4صفحہ 472)
(2) جہنم میں داخل نہیں ہوگا :
سردار دو جہان محبوب رحمن صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا :خوف خدا سے
رونے والا ہرگز جہنم میں داخل نہیں ہوگا حتی کہ دودھ تھن میں واپس آ جائے۔(نیکی کی
دعوت حصہ اول صفحہ نمبر 276)
(3) آگ سے نکال لو :حضرت
انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے نے ارشاد
فرمایا کہ اللہ تعالٰی فرمائے گا کہ آگ سے اسے نکال لو جس نے مجھے ایک دن یاد کیا
ہو یا ایک جگہ میں مجھ سے خوف کیا ہو ۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:7
حدیث نمبر:5349)
(4) اپنی امت پر خوف کرتا ہوں : حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ
عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جن چیزوں سے میں اپنی
امت پر خوف کرتا ہوں ان میں سے بڑی خوف ناک چیز قوم لوط کا کام ہے۔(مرآۃ المناجیح
شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5 حدیث نمبر 3577)
(5) دل خوف زدہ ہو گئے :حضرتِ
سَیِّدُناعِرباض بِن سَارِیہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ بَیان کرتےہیں کہ
حُضُورنبی کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم
نے ہمیں ایک ایسا وعظ فرمایا جس سے دِل خوف زدہ اور آنکھیں آبدِیدہ ہو گئیں۔ (فیضان
ریاض الصالحین جلد 6 حدیث نمبر 702٫)
خوف کے لغوی معنی خطرہ ، ڈر ،ہیبت ، فکر ، خدشہ ،اصطلاح
میں خوف اسے کہتے ہیں کہ بندہ اپنے آپ کو امرِ مکروہ سے بچائے اور بجا آوریِ
احکامِ حق میں عبودیت کے ساتھ سرگرم رہے۔
بخشش کا پروانہ: حضرت انس رضی اللہُ عنہ
سے مروی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو اللہ پاک کے
خوف سے روئے، وہ اس کی بخشش فرما دے گا۔(کنزالعمال، جلد 3، صفحہ 63)
خوف خدا میں آنسو بہانا ایک عظیم الشان نیکی اور لازوال
نعمت ہے، خوفِ الٰہی کی خوبی انسان کو اللہ پاک کے بہت قریب کر دیتی ہیں، خوفِ خدا
میں رونے کے بہت سے فضائل و برکات ہیں کہ خوفِ خدا میں رونے والی آنکھ برائی نہیں
بلکہ خوبی اور بھلائی دیکھتی ہے، جب انسان اپنے اندر خشیتِ الٰہی پیدا کر لیتا ہے
تو وہ ہر قسم کی برائی سے محفوظ ہوکر اللہ پاک کی بارگاہ میں بہت مقبول ہو جاتا ہے
، جب دلوں کی زمین سے خوفِ خدا پیدا ہو، آنسو بہہ کر خشیت کے باغیچے کو سیراب کریں
تو ندامت کی کلی کھل اُٹھتی ہے اور انسان کو توبہ کا پھل نصیب ہو جاتا ہے۔ربّ کریم
کی خشیت اس کا بہت بڑا انعام ہے، وہ جس کے لئے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اسے اپنی
خشیت کے سبب رونا عطا فرماتا ہے، خوفِ خدا میں رونا انسان کو تقوی کی دولت سے
سرفراز فرماتا ہے، یہ تو ایسی لازوال نعمت ہے کہ جب یہ کسی انسان کو مل جائے تو یہ
خاکی ہوتے ہوئے بھی خاکی نہیں رہتا، بلکہ وہ ملکوتی صفات کا لباس زیب تن کر لیتا
ہے، اس پر ہمیشہ ایک کیفیت طاری رہتی ہے، وہ ہَمہ وقت اپنے ربّ کی یاد میں مصروف
رہتا ہے، دنیا کی رنگینیاں اس پر اثر نہیں کرتیں، خشیتِ الٰہی کی چادر اس کو دنیا
کی فحاشیوں سے محفوظ کرلیتی ہے، وہ کامل انسان بن کر کشت حیات میں آخرت کی فصل
اگانے میں شب و روز مصروف رہتا ہے۔خوف خدا کا معنی:خوفِ خدا کا مطلب قلب کی وہ کیفیت
کہ اللہ پاک کی گرفت، ناراضی، بے نیازی، اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ
کر انسان کا دل گھبرا جائے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو جائیں۔
خوف خدا میں رونے کے متعلق احادیث مبارکہ :حدیث:
مبارکہ:حضرت یحییٰ علیہ السلام نے فرمایا:جنت اور دوزخ کے درمیان ایک گھاٹی ہے،جسے
وہی طے کرسکتا ہے،جو بہت رونے والا ہو۔(ریاض الصالحین:48، شعب الایمان، 1/393، حدیث:809)
اللہُ اکبر! کیا شان ہے اللہ پاک کے خوف میں رونے کی! اس
کے سبب کتنی نعمتوں سے نوازا جاتا ہے، وہ نعمتیں جس کا انسان احاطہ نہیں کر سکتا، یہاں
تک کہ خوفِ الٰہی میں رونا انسان کو جنت میں پہنچا دے گا، تم
گناہوں کی بخشش ہو جاتی ہے۔
جنت میں ہنساؤں
گا: حضرت انس رضی اللہُ عنہُ سے روایت ہے،ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی:وَقُوْدُہَا
النَّاسُ وَالْحِجَارَۃ (پ28، تحریم)پھر ارشاد فرمایا:جہنم کی آگ ہزار برس تک دہکائی گئی تو
سُرخ ہو گئی، پھر ہزار برس تک دھکائی گئی تو سفید ہو گئی، پھر ہزار برس تک دھکائی
گئی تو سیا ہ ہو گئی، اب نری سیاہ ہے، یہ سن کر ایک حبشی رونے لگا، آقا صلی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: یہ کون رو رہا ہے؟عرض کی گئی:حبشہ کا رہنے والا ہے۔
تو آپ نے اس کے رونے کو پسند فرمایا۔ اتنے میں جبرئیل آمین وحی لے کر آئے کہ ربّ
کریم فرماتا ہے:مجھے اپنے عزت و جلال کی قسم! میرا جوبندہ دنیا میں میرے خوف سے
روئے گا، میں اسے جنت میں ضرور ہنساؤں گا۔(شعب الایمان،حدیث:799)
اللہ پاک کے خوف میں رونے والے کو جنت اور جنت کی نعمتیں
بھی ملیں گی۔
در نایاب ہیں بلاشبہ وہ ہیرے انمول اشک آقا کی جو یادوں
میں بہا کرتے ہیں(وسائل بخشش، صفحہ 143)
ہم بھی خوف خدا میں آنسو بہائیں۔ اس کے لئے ہمیں غور و
فکر کرنا ہوگا کہ اب تک ہم نے اپنی زندگی کس طرح گزاری، نزع میں ہمارے ساتھ کیا
ہوگا، قبر و حشر اور میزان میں ہمارا کیا بنے گا، جنت میں داخلہ نصیب ہوگا یا
معاذاللہ جہنم میں جھونک دیا جائے گا اور غوروفکر کرنے سے ربّ کریم نے چاہا تو ہمیں
بھی اپنے دل میں رقت محسوس ہوگی، آنکھ سے خوف خدا کے سبب ایک قطرہ بھی آنسو کا بہہ
گیا تو آخرت سنور جائے گی۔اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں خوفِ خدا میں رونے والی آنکھیں
عطا فرمائے، کثرت سے آنسو بہائیں اور یہ آنسو ہمیں تسکین دیں اور ہمارے لئے ذریعہ
نجات بن جائیں، اس سے پہلے کہ آنسو خون بن جائیں اور داڑیں انگاروں میں بدل جائیں۔
جی چاہتا ہے پھوٹ کے روؤں تیرے ڈر سے اللہ مگر دل سے
قساوت نہیں جاتی۔
خوف خدا پاک ہماری اخروی نجات کے لئے بڑی اہمیت کا حامل
ہے کیونکہ عبادات کی بجاآوری اور برائیوں سے باز رہنے کا عظیم ذریعہ خوف خدا ہے،
خوفِ خدا کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک کی بے نیازی، اس کی ناراضی، اس کی گرفت اور اس
کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل گھبراہٹ میں مبتلا ہوجائے۔(احیاء
العلوم،ج4)
خوف خدا میں رونا ایک عظیم الشان نیکی ہے، جو اللہ پاک
اپنے خاص اور مقرب بندوں کو عطا فرماتا ہے، یہی وہ لوگ ہیں جن کا ذکر اللہ پاک نے
اپنی کتاب قرآن مجید میں فرمایا، چنانچہ ارشادِ باری ہے:ترجمہ ٔکنزالایمان:جب ان
پر رحمٰن کی آیتیں پڑھی جاتیں، گرپڑتے، سجدہ کرتے اور روتے۔خشیتِ الٰہی سے رونے
والوں کے فضائل کے کیا کہنے کہ جس طرح قرآن پاک میں ان کا ذکر کیا گیا ہے، اسی طرح
احادیث مبارکہ میں بھی بے شمار فضائل بیان ہوئے ہیں، چنانچہ حضرت عقبہ بن عامر رضی
اللہُ عنہ نے عرض کی:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم! نجات کیا ہے؟ فرمایا:اپنی
زبان کو روک رکھو، تمہارا گھر تمہیں کفایت کرے اور گناہوں پر رونا اختیار کرو۔(سنن
ترمذی، جلد 4، صفحہ 182، حدیث: 2414)
حضرت محمد بن منکدر رضی اللہُ عنہ جب روتے تو آنسوؤں کو
اپنے چہرے اور داڑھی سے صاف کرتے اور فرماتے: مجھے معلوم ہوا ہے کہ آگ اس جگہ کو
نہ چھوئے گی، جہاں خوف خدا سے نکلنے والے آنسو لگے ہوں۔(احیاء العلوم، جلد 4، صفحہ
201)
ایک ہزار دینار صدقہ کرنے سے بہتر:حضرت عبداللہ بن عمرو
بن عاص رضی اللہُ عنہ نے فرمایا:اللہ پاک کے خوف سے آنسو کا ایک قطرہ بہنا میرے
نزدیک ایک ہزار دینار صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔(شعب الایمان، 1/502، حدیث: 842)
خوفِ خدا سے رونا سنت ہے:حضرت ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ سے
مروی ہے: جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی:ترجمۂ کنزالایمان:تو کیا اس بات سے تم تعجب
کرتے ہو اور ہنستے ہو اور روتے نہیں۔تو اصحابِ صُفّہ رضی اللہُ عنہم اس قدر روئے
کہ ان کے رخسار آنسوؤں سے تر ہو گئے، انہیں روتا دیکھ کر رحمت عالم صلی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلم بھی رونے لگے، پھر آپ نے ارشاد فرمایا:وہ شخص جہنم میں داخل نہیں
ہوگا، جو اللہ پاک کے ڈر سے رویا ہو۔(شعب الایمان،ج 1، حدیث: 798)
خوف خدا کے معنی: خوفِ خدا کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک کی
بے نیازی، اس کی ناراضی، اس کی گرفت اور اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ
کر انسان کا دل گھبراہٹ میں مبتلا ہوجائے، اس کے قہر و غضب سے خوفزدہ ہو جائے، جب
کبھی بھی گناہ کا ارادہ ہو تو اسے اُس کے ربّ کریم کا خوف گناہوں سے باز رکھے، اسی
طرح جیسے بندہ خوفِ خدا رکھنے سے گناہوں سے محفوظ رہتا ہے، اسی طرح خوف خدا کے سبب
اس کے گناہوں کو مٹا دیا جاتا ہے، خوف خدا میں رونے اور گریہ و زاری کرنے کے بہت
فضائل ہیں، انسان کو چاہئے کہ وہ حقیقت میں اپنے اندر خوف خدا پیدا کرے۔خوف خدا کی
ترغیب و فضائل قرآن کی روشنی میں:سورۂ رحمٰن میں خوفِ خدا رکھنے والوں کے لئے دو
جنتوں کی بشارتیں ہیں، ارشاد ہوتا ہے:وَ
لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ ۔ترجمۂ کنز الایمان:اور جو اپنے ربّ کے حضور کھڑے ہونے
سے ڈرے اس کے لئے دو جنتیں ہیں۔اسی طرح سورۂ الِ عمران، آیت 175 میں ارشاد ہوتا
ہے:وَخَافُوْنِ اِنْ کُنْتُمْ
مُؤمِنِیْن۔ترجمۂ کنزالایمان:اور مجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے
ہو۔سورۂ بقرہ، آیت نمبر 40 :وَاِ
یَّایَ فَارْھَبُوْن۔
Dawateislami