وقار حسین عطاری (درجہ خامسہ جامعۃالمدینہ
فیضان فاروق اعظم سادھوکی، لاہور،پاکستان )
نمبر: 03246535883
خوفِ خدا (تقوی) اسلام کی روح اور ایمان کی بنیاد ہے۔
قرآن و حدیث میں جس صفت کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا خوف ہے،
جو انسان کو گناہوں سے روکتا اور نیکیوں پر آمادہ کرتا ہے۔ نبی کریم صلى الله علیہ
وسلم کا ہر قول، ہر فعل اور ہر تربیتی انداز اس بات کی عملی تصویر تھا کہ بندہ
اپنے رب کے حضور جواب دہ ہونے کا احساس زندہ رکھے۔ یہی خوفِ خدا انسان کو حقیقی بندگی
کے مقام تک پہنچاتا ہے۔
(1)گناہ جھڑتے ہیں:حضرت
عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے: حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: جب اللہ تعالی کے خوف کے سبب کسی آدمی کا جسم کپکپانے لگتا ہے تو اس کے
گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں، جس طرح خشک درخت کے پتے جھڑ جاتے ہیں۔(الترغيب والترھیب،جلد3
،صفحہ521، حدیث5025، مکتبہ شبیر برادرز)
(2)دو خوف اور دو امن جمع نہیں کروں گا:مصطفی
جان رحمت صلى الله تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: الله پاک ارشاد فرماتا
ہے: مجھے اپنی عزت کی قسم میں اپنے بندے پر دو خوف اور دو امن جمع نہ کروں گا۔ جو
مجھ سے دنیا میں بے خوف رہے گا اسے قیامت کے دن خوف زدہ کروں گا اور جو دنیا میں
مجھ سے خوف زدہ رہے گا اسے روز قیامت امن عطا کروں گا۔(الزھد لابن المبارک،باب
ماجاءفی الخشوع والخوف ، ص50 ،حدیث157)
(3)خوف حکمت اور دانائی:حضور
نبی پاک ، صاحب لولاک صلی اللہ تعالى علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمايا: اللہ عزوجل
کا خوف حکمت و دانائی کی بنیاد ہے۔(شعب الايمان،باب فی الخوف من اللہ ،جلد 1،ص
470،حدیث744)
(4)مجھ سے ملنا چاہتے ہو تو:حضور
نبی کریم رؤف رحیم صلى الله تعالی علیہ والہ وسلم نے حضرت سید نا عبد الله بن
مسعود رضی الله تعالى عنہ سے ارشاد فرمایا: اگر تم مجھ سے ملنا چاہتے ہو تو میرے
بعد بھی اللہ تعالی سے بہت ڈرتے رہنا۔(احیاءالعلوم، جلد4،ص472،مکتبۃ المدینہ)
(5)جہنم حرام فرما دیتا ہے: جس
بندہ مومن کی آنکھوں سے اللہ کے خوف کے سبب مکھی کے پر برابر بھی آنسو نکل کر اس
کے چہرے تک پہنچا تو اللہ اس بندے پر دوزخ کو حرام فرما دیتا ہے ۔ (سنن ابن
ماجہ،کتاب الزھد،باب الحزن والبکاء،جلد1،صفحہ446،حدیث4197)
حضرت سیدنا یحییٰ بن معاذرازی رحمۃ الله علیہ سے پوچھا گیا
کل بروز قیامت مخلوق میں سے سب سے زیادہ امن میں کون ہو گا؟فرمایا : جو آج دنیا میں
سب سے زیادہ خوف خدا رکھنے والا ہے۔(احیاءالعلوم، جلد 4، صفحہ474،مکتبۃ المدینہ)
Dawateislami