سید محمد ارسلان قریشی عطاری (درجہ
عالیہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی ،کراچی ،پاکستان)
خوفِ خدا ایمان کی روح اور انسان کی اصلاح کا بنیادی ذریعہ
ہے۔ یہ ایسا خوف نہیں جو مایوسی پیدا کرے، بلکہ ایسا شعور ہے جو انسان کو گناہ سے
روکے اور نیکی کی طرف راغب کرے۔ حضور جان عالم ﷺ نے اپنی تعلیمات اور عملی زندگی
کے ذریعے امت کو خوفِ خدا کی اہمیت سمجھائی۔
(1) سات خوش نصیب افراد میں ایک :نبی کریم
ﷺ نے فرمایا: سات آدمی ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے عرش کے سائے میں
جگہ دے گا… ان میں سے ایک وہ شخص ہے جسے کوئی حسین و بااثر عورت گناہ کی دعوت دے
اور وہ کہے: میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔(صحیح بخاری، حدیث: 1433 جلد 2 دار التأصيل ،القاهرۃ)
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ اصل خوفِ خدا وہ ہے جو تنہائی
اور موقع ملنے کے باوجود انسان کو گناہ سے روک دے۔ اللہ کا ڈر انسان کے دل میں ہو
تو وہ خفیہ حالات میں بھی نافرمانی نہیں کرتا۔
(2) آنکھوں کا آنسو اور جہنم سے نجات :رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا:دو آنکھوں کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی: ایک وہ آنکھ جو اللہ کے
خوف سے روئی، اور دوسری وہ جو اللہ کی راہ میں پہرہ دیتی رہی۔(جامع ترمذی، حدیث:
1733 جلد 3 دار الرسالۃ العالمیہ)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے خوف سے بہنے والا
آنسو بہت قیمتی ہے۔ یہ آنسو ریاکاری کا نہیں بلکہ سچے دل کی کیفیت کا نتیجہ ہوتا
ہے، جو انسان کو اللہ کے قریب کر دیتا ہے۔
یہاں بھی قیامت کے دن عرش کے سائے کا ذکر ہے۔ اس سے
معلوم ہوتا ہے کہ خوفِ خدا صرف زبان کا دعویٰ نہیں بلکہ دل کی کیفیت ہے، جو تنہائی
میں ظاہر ہوتی ہے۔
(3) مومن کا خوف اور امید :نبی کریم
ﷺ نے فرمایا:اگر مومن کو معلوم ہو جائے کہ اللہ کے ہاں کیسی سزا ہے تو کوئی بھی
جنت کی امید نہ رکھے، اور اگر کافر کو معلوم ہو جائے کہ اللہ کے ہاں کیسی رحمت ہے
تو کوئی بھی جنت سے مایوس نہ ہو۔(صحیح مسلم، حدیث: 2755 دار الطباعۃ العامرة
تركيا)
یہ حدیث اعتدال سکھاتی ہے۔ خوفِ خدا کا مطلب مایوسی نہیں
بلکہ خوف اور امید کے درمیان توازن ہے۔ مسلمان اللہ کی رحمت سے امید بھی رکھتا ہے
اور اس کی پکڑ سے ڈرتا بھی ہے۔
(4) زبان اور دل کی اصلاح :رسول
اللہ ﷺ اکثر یہ دعا فرمایا کرتے تھے:اے اللہ! مجھے اپنی خشیت (خوف) عطا فرما جو میرے
اور گناہوں کے درمیان حائل ہو جائے۔(جامع ترمذی، حدیث: 3809 جلد 6 دار الرسالۃ
العالمیہ)
اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ خوفِ خدا مانگا بھی جاتا ہے۔
یہ دل کی دولت ہے جو انسان کو برائی سے بچاتی ہے اور نیکی پر قائم رکھتی ہے۔
خوفِ
خدا کے عملی اثرات :
گناہوں سے بچاؤ: جب انسان کو یقین
ہو کہ اللہ ہر حال میں دیکھ رہا ہے تو وہ چھپ کر بھی گناہ نہیں کرتا۔ اخلاق کی
اصلاح: خوفِ خدا انسان کو جھوٹ، دھوکہ اور ظلم سے روکتا ہے۔
عبادت میں خشوع: اللہ کے ڈر سے نماز، روزہ اور دیگر
عبادات میں اخلاص پیدا ہوتا ہے۔
آخرت کی فکر: ایسا شخص دنیا کی عارضی لذتوں پر آخرت کو
ترجیح دیتا ہے۔خوفِ خدا ایمان کی علامت اور کامیابی کا راستہ ہے۔ نبی کریم ﷺ کی
تعلیمات ہمیں سکھاتی ہیں کہ اللہ سے ڈرنا دراصل اپنے آپ کو سنوارنا ہے۔ جب دل میں
اللہ کی عظمت اور جواب دہی کا احساس پیدا ہو جائے تو انسان کی زندگی سنور جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سچا خوفِ خدا عطا فرمائے اور اپنی رضا کے راستے پر چلنے کی توفیق
دے۔ آمین یا رب العالمین۔
امیر
حمزہ عطاری (درجہ خامسہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى، کراچی، پاکستان)
پیارے
اسلامی بھائیو! انسان کی اصلاح کا سب سے بڑا ذریعہ خوفِ خدا ہے۔خَوْفِ خُدا سے
مُراد یہ ہے کہ اللہ تَعَالیٰ کی بے نیازی، اُس کی ناراضی، اس کی گَرِفْت اور اس کی
طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل گھبراہٹ میں مُبْتَلَا ہوجائے۔
(ماخوذ از احیاء العلوم، کتاب الخوف والرجاء، ج۴)
خَوْفِ خُدَا مومنین کی لازمی صفات میں سے ہے اور اللہ
عَزَّ وَجَلَّ نے قرآنِ مجید میں مُتَعدّد مقامات پر اس صِفَت کو اختیار کرنے کا
حکم فرمایا ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ
لَقَدْ وَصَّیْنَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ اِیَّاكُمْ
اَنِ اتَّقُوا اللّٰهَؕ
ترجمہ کنز الایمان: اور بیشک تاکید فرما دی ہے ہم نے ان
سے جو تم سے پہلے کتاب دئیے گئے اور تم کو کہ اللہ سے ڈرتے رہو۔ (پ۵، النساء: ۱۳۱)
آیئے! اب پیارے آقا، اَحْمدِ مجتبیٰ، مُحمدِ مُصْطَفٰے ﷺ
کی زبانِ حقِ تَرجُمان سے نکلنے والے ان مُقَدّس کلمات کو بھی سَمَاعَت فرمایئے،
جن میں آپ نے خوفِ خدا کی فضیلت بیان فرمائی ہے۔
(1) حضرتِ سَیِّدُنا ابُو ہُرَیْرَہ رَضِیَ
اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ سروَرِ عالَم، نُورِ مُجَسَّم ﷺ نے ارشاد فرمایا
کہ اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے: ”مجھے اپنی عزّت و جَلال کی قسم! میں اپنے بندے پر دو
خَوف جمع نہیں کروں گا اور نہ اس کے لئے دو اَمْن جمع کروں گا، اگر وہ دنیا میں
مجھ سے بے خَوف رہے تو میں قیامت کے دن اسے خوف میں مُبْتَلَا کروں گا اور اگر وہ
دنیا میں مجھ سے ڈرتا رہے تو میں بروزِ قیامت اسے اَمْن میں رکھوں گا۔“ (شعب الایمان،
باب فی الخوف من اللہ تعالیٰ، ۱/۴۸۳،
حدیث: ۷۷۷)
(2) سَروَرِ عالَم، شَفِیْعِ مُعَظَّم ﷺ نے
فرمایا: ”جس مومن کی آنکھوں سے اللہ تَعَالٰی کے خوف سے آنسو نکلتا ہے، اگرچہ مکّھی
کے سر کے برابر ہو، پھر وہ آنسو اُس کے چہرے کے ظاہری حصّے تک پہنچے، اللہ تعالیٰ
اُسے جہنّم پر حَرام کر دیتا ہے۔“ (شعب الایمان، باب فی الخوف من اللہ تعالیٰ، ۱/۴۹۰، حدیث: ۸۰۲)
(3) رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب مومن
کا دل اللہ تَعَالٰی کے خَوف سے لَرَزْتا ہے، تو اُس کی خطائیں اس طرح جَھڑتی ہیں،
جیسے درخت سے پتے جَھڑتے ہیں۔“ (شعب الایمان، باب فی الخوف من اللہ تعالیٰ، ۱/۴۹۱، حدیث: ۸۰۳)
تیرے
ڈر سے سَدا تَھر تَھراؤں خوف سے تیرے آنسو
بہاؤں
کَیْف
ایسا دے، ایسی ادا کی میرے مولیٰ تُو خَیْرات دیدے
پیارے اسلامی بھائیو! واقعی ہمیں ہر لمحہ خوفِ خدا سے
لرزاں و تَرساں رہنا چاہئے۔ بے شک اللہ کریم کی بارگاہ میں وہی بندہ عزت و احترام
والا ہے جو تقویٰ اختیار کرتا اور اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و
فرمانبرداری کرے۔
چنانچہ حضرت سَیِّدُنا علی المُرتَضیٰ، شَیرِ خدا
کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں کہ نبیِ کریم ﷺ نے ارشاد
فرمایا: جب قیامت کا دن ہوگا تو بندوں کو اللہ تَعَالٰی کے سامنے کھڑا کیا جائے گا
اس حال میں کہ وہ بغیر ختنہ کیے ہوں گے، پھر اللہ تَعَالٰی ارشاد فرمائے گا: اے میرے
بندو! میں نے تمہیں حکم دیا اور تم نے میرے حکم کو ضائع کر دیا اور تم نے اپنے
نسبوں کو بُلند کیا اور اس کے ذریعے ایک دوسرے پر فخر کیا، (لہٰذا) آج کے دن میں
تمہارے نسبوں کو حقیر و ذلیل قرار دے رہا ہوں، میں ہی بدلہ دینے والا حاکم ہوں،
کہاں ہیں مُتَّقی لوگ؟ کہاں ہیں مُتَّقی لوگ؟ بیشک اللہ تَعَالٰی کے یہاں تم میں زیادہ
عزّت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔(تاریخ بغداد، ذکر من اسمہ علی، علی
بن ابراہیم العمری القزوینی، ۱۱/۳۳۷،
رقم: ۶۱۷۲)
پیارے اسلامی بھائیو! خوفِ خدا ہی وہ چراغ ہے جو دل کے
اندھیروں کو مٹاتا اور بندے کو معصیت کی کھائیوں سے بچاتا ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جو
انسان کو تنہائی میں بھی گناہ سے روکتی اور عبادت پر ابھارتی ہے۔ جس دل میں خوفِ
خدا بس جائے وہ دل سخت نہیں رہتا بلکہ نرم، عاجز اور اطاعت گزار بن جاتا ہے۔
آئیے! ہم بھی آج عہد کریں کہ اپنی زندگی کو تقویٰ و پرہیزگاری
سے سنواریں گے، ظاہر و باطن کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھالیں گے، اور ہر قدم
پر یہ سوچیں گے کہ ہمیں ایک دن اپنے رب کے حضور کھڑا ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی
خوفِ خدا نصیب فرمائے، گناہوں سے بچنے کی توفیق دے اور قیامت کے دن اپنے امن و
امان میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
مبشر عبد الرزاق عطاری ( درجہ
سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی، لاہور،پاکستان )
جہالت کے اندھیروں سے بھری اس دنیا میں علم و آگہی کی
شمعیں جلانے، طالبانِ حق کو معرفت حقیقت کے جام پلانے،اور بھٹکی انسانیت کو اپنے
خالق کا پتہ بتانے کے لیے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم ہادی اور رہبر بن کر مبعوث
ہوئے آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے انسانیت کو اللہ وحدہ لا شریک کی بارگاہ
میں سرنگوں کیا اور ان کے ظاہر و باطن کو ہر طرح کی آلودگیوں سے پاک کر کے راہ حق
پر گامزن فرمایا، سرور کائنات صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تعلیمات کا ایک
پہلو لوگوں کو اللہ تَعَالٰی کی بے نیازی، اس کی ناراضگی، اس کی گرفت اور اس کی
طرف سے دی جانے والی سزاؤں سے ڈرا کر ان کے دلوں میں اللہ پاک کا خوف پیدا کرنا
بھی تھا کیونکہ خوف خدا رضائے الٰہی ،اُخروی نجات ، عبادات کی بجا آوری اور منہیات
سے باز رہنے کا عظیم ذریعہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی پیکر
خوف خدا تھے ، اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کو بھی خوف خدا کی تعلیم فرماتے تھے
چنانچہ حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے : ” جب ہوا میں تبدیلی
ہوتی اور سخت آندھی چلتی تو ( عذاب الہٰی کے خوف کی وجہ سے) نبی اکرم صلی اللہ تعالی
علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ انور کا رنگ متغیر ہو جاتا اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ
وآلہ وسلم کھڑے ہو جاتے اور حجرہ مبارکہ میں چکر لگاتے کبھی اندر جاتے کبھی باہر
تشریف لاتے ۔(صحیح مسلم، كتاب الكسوف، باب التعوذ عند رؤيۃ الريح، الحديث 2084، ص
818)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد احادیث میں خوف
خدا جیسی عظیم صفت کو اپنانے کی فضیلت و اہمیت کو بیان فرمایا آئیے ہم بھی چند
احادیث کریمہ پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں :
(1) کامل عقل والا :نبی کریم
ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم میں سب سے بڑھ کر کامل عقل والا وہ ہے جو رب تعالی سے زیادہ
ڈرنے والا ہے اور جو تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اللہ تعالی کے اوامر و نواہی (یعنی
احکام ) میں زیادہ غور کرتا ہے۔(احياء العلوم ، كتاب الخوف والرجاء ، ج 4 ص 199)
(2) خطاؤں کا جھڑنا :رسول
اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :جب مومن کا دل اللہ تعالیٰ
کے خوف سے لرزتا ہے تو اس کی خطائیں اس طرح جھڑتی ہیں جیسے درخت سے اس کے پتے
جھڑتے ہیں ۔ (شعب الايمان ،باب فی الخوف من الله تعالى جلد 1ص 691 رقم الحديث 803)
(3)جہنم سے رہائی:رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
جس مومن کی آنکھوں سے اللہ تعالی کے خوف سے آنسو نکلتا ہے اگر چہ مکھی کے پر کے
برابر ہو، پھر وہ آنسو اس کے چہرے کے ظاہری حصے تک پہنچیں تو اللہ تعالی اسے جہنم
پر حرام کر دیتا ہے ۔(شعب الايمان، باب فی الخوف من الله تعالى، ج 1ص 690 رقم
الحديث 802)
(4) جنت میں داخلہ :حضرت سیدنا
ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اس عمل کےبارے میں سوال کیا گیا جو لوگوں
کو کثرت سے جنت میں داخل کرے گا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ سے ڈرنا اور حسن اخلاق ۔
پھر رسول اللہ ﷺ سے کثرت سے جہنم میں داخل کرنے والی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا
تو آپ نے فرمایا کہ منہ اور شرم گاه ۔ (الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان، باب حسن
الخلق ، رقم 476، ج 1، ص 349)
پیارے اسلامی بھائیو!ہمیں بھی اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ
اب تک ہم اپنی زندگی کی کتنی سانسیں لے چکے ہیں، اس دنیائے فانی میں اپنی حیات کے
کتنے ایام گزار چکے ہیں ! بچپن ، جوانی ، بڑھاپے میں سے اپنی عمر کے کتنے ادوار
گزار چکے ہیں؟ اور اس دوران کتنی مرتبہ ہم نے اس نعمت عظمی کو اپنے دل میں محسوس کیا؟
کیا کبھی ہمارے بدن پر بھی اللہ پاک کے ڈر سے لرزہ طاری ہوا؟ کیا کبھی ہماری
آنکھوں سے خشیت الہی کی وجہ سے آنسو نکلے؟ کیا کبھی کسی گناہ کے لئے اٹھے ہوئے
ہمارے قدم اس کے نتیجے میں ملنے والی سزا کا سوچ کر واپس ہوئے؟ لہذا اس سے پہلے کہ
ہماری سانسوں کی آمد و رفت رک جائے اور سوائے احساس زیاں کے ہمارے دامن میں کچھ بھی
نہ ہو ، اپنے گناہوں سے سچی توبہ کرکے اپنی آخرت کی بہتری کے لئے اس صفت عظیمہ کو
اپنالیں ۔اللہ پاک ہمیں بھی اپنے خوف سے معمور دل ،رونے والی آنکھ اور لرزنے والا
بدن عطا فرما۔ آمین بجاہ النبی الامین۔
محمد
احمد رضا (درجہ سادسہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى، کراچی،پاکستان)
خوف سے مرادہ وہ قلبی کیفیت ہے جو کسی ناپسندیدہ امر کے
پیش آنے کی توقع کے سبب پیدا ہو، مثلاً پھل کاٹتے ہوئے چھری سے ہاتھ کے زخمی
ہوجانے کا ڈر۔ جبکہ خوفِ خدا کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تَعَالٰی کی بے نیازی، اس کی
ناراضگی، اس کی گرفت اور اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل
گھبراہٹ میں مبتلا ہو جائے۔(نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ۲۰۰)
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَ
لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ(۱۰۲)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ سے ڈرو جیسا اُس
سے ڈرنے کا حق ہے اور ہر گز نہ مرنا مگر مسلمان۔ (پ۴، آل عمران : ۱۰۲
)
وَ
خَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۱۷۵)
ترجمۂ کنزالایمان : اور مجھ سے ڈرو ، اگر ایمان رکھتے
ہو۔ (پ۴، آل
عمران ۱۷۵ )
حکمت کی اصل خوفِ خدا ہے:حضور
نبی رحمت شفیع اُمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد
فرمایا: حکمت کی اصل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا خوف ہے۔سرکارِ مدینہ راحت قلب وسینہ
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ
اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: اگر تم مجھ سے ملنا چاہتے ہو تو میرے بعد بھی اللہ
عَزَّوَجَلَّ سے بہت ڈرتے رہنا۔(نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ۲۰۱)
خوفِ خدا تمام نیکیوں اور دنیا وآخرت کی ہر بھلائی کی
اصل ہے، خوفِ خدا نجات دلانے اور جنت میں لے جانے والا عمل ہے۔ پھر خوف کے درجات ہیں:
(۱) ضعیف: (یعنی کمزور) یہ
وہ خوف ہے جو انسان کو کسی نیکی کے اپنانے اور گناہ کو چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی
قوت نہ رکھتا ہو، مثلاً جہنم کی سزاؤں کے حالات سن کر محض جھرجھری لے کر رہ جانا
اور پھرسے غفلت ومعصیت (گناہ)میں گرفتار ہوجانا۔(۲) معتدل: (یعنی متوسط) یہ وہ خوف
ہے جو انسان کو نیکی کے اپنانے اور گناہ کو چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی قوت رکھتا
ہو، مثلاً عذابِ آخرت کی وعیدوں کو سن کر ان سے بچنے کے لیے عملی کوشش کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ ربّ تعالٰی سے
اُمید رحمت بھی رکھنا۔
پیارے آقا ،
احمد مجتبیٰ ، محمد مصطفی ﷺ کی زبانِ حق ترجمان سے نکلنے والے ان مقدس کلمات کو بھی
ملاحظہ فرمائیں جن میں آپ نے اس صفت ِ عظیمہ کو اپنانے کی تاکیدفرمائی ہے ،
چنانچہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا، ’’حکمت کی اصل اللہ تَعَالٰی کاخوف ہے۔‘‘ (شعب
الایمان ، باب فی الخوف من اللہ تَعَالٰی ، ج۱، ص۴۷۰،
رقم الحدیث ۷۴۳ )
حضرت سَیِّدُنا
عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ رسولِ اکرم ﷺ نے
فرمایا، ’’دو نہایت اہم چیزوں کو نہ بھولنا، جنت اور دوزخ ۔‘‘ یہ کہہ کر آپ ﷺ
رونے لگے حتی کہ آنسوؤں سے آپ کی داڑھی مبارک تر ہوگئی ۔ پھر فرمایا، ’’اس ذات
کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے اگر تم وہ جان لو جو میں جانتا ہوں تو
جنگلوں میں نکل جاؤ اور اپنے سروں پر خاک ڈالنے لگو۔‘‘(مکاشفۃ القلوب ، ص۳۱۶)
قرآن عظیم اور
احادیث کریمہ کے ساتھ ساتھ اکابرین ِاسلام کے اقوال میں بھی خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ
کے حصول کی نصیحتیں موجود ہیں ۔
حضرت سَیِّدُنا
عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا وقت ِ وفات قریب آیا تو کسی نے
عرض کی، ’’مجھے کچھ وصیت ارشاد فرمائیں ۔‘‘ارشاد فرمایا، ’’میں تمہیں اللہ
عَزَّوَجَلَّ سے ڈرنے ، اپنے گھر کو لازم پکڑنے ، اپنی زبان کی حفاظت کرنے اور اپنی
خطاؤں پر رونے کی وصیت کرتا ہوں ۔‘‘(شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ تَعَالٰی
، ج۱ ، ص۵۰۳، رقم الحدیث ۸۴۴ )
حضرت وہب بن
منبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : توریت میں لکھا ہے کہ جو بارگاہِ
الٰہی میں سمجھ دار بننا چاہے تو اسے چاہیے کہ دل میں اللہ تَعَالٰی کا حقیقی خوف
پیدا کرے۔(المنبہات علی الاستعداد لیوم المعاد، ص۱۳۴)
حضرت سَیِّدُنا
اِمام ابوالفرج ابن ِجوزی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، ’’خوفِ الٰہی
ہی ایسی آگ ہے جو شہوات کو جلا دیتی ہے ۔اس کی فضیلت اتنی ہی زیادہ ہوگی جتنا زیادہ
یہ شہوات کو جلائے اور جس قدر یہ اللہ تَعَالٰی کی نافرمانی سے روکے اور اطاعت کی
ترغیب دے اور کیوں نہ ہو ؟ کہ اس کے ذریعہ پاکیزگی ، ورع، تقویٰ اور مجاہدہ نیزاللہ
تَعَالٰی کا قرب عطا کرنے والے اعمال حاصل ہوتے ہیں ۔‘‘(مکاشفۃ القلوب ، ص۱۹۸)
حضرت سَیِّدُنا
سلیمان دارانی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا، ’’جس دل سے خوف دور ہوجاتا
ہے وہ ویران ہوجاتا ہے ۔‘‘(احیاء اٍلعلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۱۹۹)
حضرت سَیِّدُنا
ابوالحسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے تھے ’’ نیک بختی کی علامت بدبختی سے
ڈرنا ہے کیونکہ خوف اللہ تَعَالٰی اور بندے کے درمیان ایک لگام ہے ، جب یہ لگام
ٹوٹ جائے تو بندہ ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاک ہوجاتا ہے ۔‘‘(احیاء العلوم ، کتاب
الخوف والرجاء ج ۴، ص ۱۹۹)
حضرت سَیِّدُنا
ابوسلیمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا ، ‘‘ خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ دنیا
اور آخرت کی ہر بھلائی کی اصل ہے ۔‘‘(شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ تَعَالٰی
، ج۱، ص۵۱۰، رقم الحدیث ۸۷۵ )
ا پنی ذات کا محاسبہ کرلینے کی عادت اپنا لینے سے بھی
خوفِ خدا کے حصول کی منزل پر پہنچنا قدرے آسان ہوجاتا ہے، فکرمدینہ کا آسان سا
مطلب یہ ہے کہ انسان اُخروی اعتبار سے اپنے معمولات زندگی کا محاسبہ کرے، پھر جو
کام اس کی آخرت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں، انہیں درست کرنے کی کوشش میں لگ
جائے اور جو اُمور اُخروی اِعتبار سے نفع بخش نظر آئیں، اِن میں بہتری کے لیے
اِقدامات کرے نیک اعمال پر عمل کرے۔
خوفِ خدا رکھنے والوں کی صحبت اِختیار کیجئے:
ایسے نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھنا بھی بندے کے دل میں خوفِ خدا بیدار کرنے میں
بہت مددگار ثابت ہوگا۔ ہر صحبت اپنا اثر رکھتی ہے، مثال کے طور پر اگر آپ کو کبھی
کسی میت والے گھر جانے کا اتفاق ہوا ہو تو وہاں کی فضا پر چھائی ہوئی اداسی دیکھ
کر کچھ دیر کے لئے آپ بھی غمگین ہوجائیں گے اور اگر کسی شادی پر جانے کا اتفاق
ہوا ہو تو خوشیوں بھرا ماحول آپ کو بھی کچھ دیر کے لئے مسرور کر دے گا ۔بالکل اسی
طرح اگر کوئی شخص غفلت کا شکارہو کر گناہوں پر دلیرہوجانے والے لوگوں کی صحبت میں
بیٹھے گا ،تو غالب گمان ہے کہ وہ بھی بہت جلد انہی کی مانندہوجائے گا اور اگر کوئی
شخص ایسے لوگوں کی صحبت اختیارکرے گا جن کے دل خوفِ خدا سے معمور ہوں، اُن کی
آنکھیں اللہ تَعَالٰی کے ڈر سے روئیں تو امید ہے کہ یہی کیفیات اس کے دل میں بھی
سرایت کر جائیں گی ۔اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَل (نجات دلانےوالےاعمال کی
معلومات،صفحہ۲۰۳تا۲۰۹)
محمد
مدثر رضوی عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی، لاہور،پاکستان)
یا درکھئے کہ مطلقاً خوف سے مراد وہ قلبی کیفیت ہے جو کسی
ناپسندیدہ امر کے پیش آنے کی توقع کے سبب پیدا ہو مثلاً پھل کاٹتے ہوئے چھری سے
ہاتھ کے زخمی ہو جانے کا ڈر ۔جبکہ خوف خدا کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بے نیازی
، اس کی ناراضگی ، اس کی گرفت اور اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ کر
انسان کا دل گھبراہٹ میں مبتلاء ہو جائے ۔ (ماخوذ از احیاء العلوم كتاب الخوف
والرجاء جلد 4)
خوف خدا کا ہونا بے حد ضروری ہے ۔ کیونکہ جب تک یہ نعمت
حاصل نہ ہو گناہوں سے فرار اور نیکیوں سے پیار تقریبا ناممکن ہے۔ اس نعمت عظمی کے
حصول میں کامیابی کی خواہش رکھنے والے اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کے لئے درج
ذیل سطور کا مطالعہ بے حد مفید ثابت ہوگا ان شاء الله عز وجل۔
(1) جیسے درخت کے پتے جھڑتے ہیں:رسول
اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :جب مومن کا دل اللہ تعالیٰ کے خوف سے لرزتا ہے تو اس کی
خطائیں اس طرح جھڑتی ہیں جیسے درخت سے اس کے پتے جھڑتے ہیں ۔
(شعب الايمان ،باب فی الخوف من الله تعالى ،ج ١ ص ٤٩١
رقم الحديث ٨٠٣)
(2)اسے آگ سے نکالو:حضرت سیدنا
انس ﷺ سے مروی ہے کہ رحمت کونین ﷺ نے ارشاد فرمایا :اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اسے
آگ سے نکالو جس نے مجھے کبھی یاد کیا ہو یا کسی مقام میں میرا خوف کیا ہو۔ (شعب
الايمان نباب فی الخوف من الله تعالى ، ج ١ ص ٤٧٠ رقم الحديث ٧٤٠)
(3) جس سے وہ ڈرتا ہے:سرکار
مدینہ ﷺ ایک ایسے نوجوان کے پاس تشریف لائے جو قریب المرگ تھا۔ آپ نے پوچھا تم
اپنے آپ کو کیسا پاتے ہو؟“ اس نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ! مجھے معافی کی امید بھی
ہے اور میں گناہوں کے وجہ سے اللہ تعالیٰ سے ڈرتا بھی ہوں ۔ تو نبی اکرم ﷺ نے
ارشاد فرمایا، ایسی حالت میں جب بھی یہ دو باتیں جمع ہوتی ہیں تو اللہ تعالی اس کی
امید کے مطابق اسے عطا کرتا ہے اور اس چیز سے محفوظ رکھتا ہے جس سے وہ ڈرتا ہے۔(
مكاشفۃ القلوب ص ١٩٦)
(4)اسے امن میں رکھوں گا:حضرت سیدنا
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سرور عالم ، نور مجسم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ! میں اپنے بندے پر دو خوف
جمع نہیں کروں گا اور نہ اس کے لئے دو امن جمع کروں گا ، اگر وہ دنیا میں مجھ سے
بے خوف رہے تو میں قیامت کے دن اسے خوف میں مبتلاء کروں گا اور اگر وہ دنیا میں
مجھ سے ڈرتا رہے تو میں بروز قیامت اسے امن میں رکھوں گا۔(شعب الايمان باب فی
الخوف من الله تعالى ج ا ص ٤٨٣ رقم الحديث ٧٧)
(5) ہر چیز اس سے ڈرتی ہے:سرکار
مدینہ، سر ور قلب و سینہ ﷺ کا فرمان عبرت نشان ہے: جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے ہر چیز
اس سے ڈرتی ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے سواکسی سے ڈرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ہر شے
سے خوف زدہ کرتا ہے۔(شعب الايمان ،باب فی الخوف من الله تعالى ج1 ص ٥٤١ رقم الحديث
٩٨٤)
(6) جہنم سے رہائی:سرور
عالم شفیع معظم ﷺ نے فرمایا: جس مومن کی آنکھوں سے اللہ تعالی کے خوف سے آنسو
نکلتا ہے اگر چہ مکھی کے پر کے برابر ہو، پھر وہ آنسو اس کے چہرے کے ظاہری حصے تک
پہنچیں تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم پر حرام کر دیتا ہے۔(شعب الايمان ،باب فی الخوف من
الله تعالى، ج ا ص ٤٩٠ رقم الحديث ٨٠٢)
پیارے پیارے اسلام بھائیو !ابھی ہم نے اوپر حضور صلی
اللہ علیہ والہ وسلم کے چند فرامین پڑھے ان سے معلوم ہوتا ہے کہ خوف خدا کی کیا
اہمیت ہے اور خوف خدا ہے تو بندے کا ایمان مکمل ہے خوف خدا نہیں ہے تو بندے کا ایمان
بھی مکمل نہیں ہے بلکہ ادھورا ایمان ہے۔اللہ پاک سے دعا ہے اللہ پاک حضور صلی اللہ
علیہ والہ وسلم کی نبوی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم
النبیین صلی اللہ علیہ والہ وسلم
محمد عمیر عرفان (درجہ عالیہ جامعۃ
المدینہ فیضان عثمان غنی، کراچی،پاکستان )
خوفِ خدا اسلام میں ایمان کی بنیاد ہے اور یہ انسان کو
برائیوں سے روکنے والا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں پیدا ہونے
سے انسان نیکی کی طرف مائل ہوتا ہے اور برائی سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔قرآنِ مجید
میں بار بار اللہ کے خوف کی تلقین کی گئی ہے تاکہ مومن اپنی زندگی کو صحیح راستے
پر گزار سکے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:فَلَا تَخَافُوْهُمْ وَ خَافُوْنِ
اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۱۷۵)
ترجمہ کنز الایمان: تو اُن سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اگر
ایمان رکھتے ہو۔ (سورۃ آلِ عمران: 175)
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ مومن کو دنیا کے لوگوں سے نہیں
بلکہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ دنیا میں خوف وقتی ہوتا ہے، لیکن اللہ کا خوف
دائمی اور ہر حالت میں انسان کو راستے پر قائم رکھتا ہے۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ
الْعُلَمٰٓؤُاؕ
ترجمہ کنزالایمان: اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں
جو علم والے ہیں۔(سورۃ فاطر: 28)
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ علم کے ساتھ اللہ کا خوف بھی پیدا
ہونا چاہیے۔ جو شخص اللہ کے بارے میں زیادہ جانتا ہے وہ اپنی نافرمانی سے محتاط
رہتا ہے اور اپنی زندگی کو بہتر انداز میں گزارنے کی کوشش کرتا ہے۔
خوفِ خدا انسان کے کردار کو بہتر بناتا ہے۔ جب دل میں
اللہ کا خوف ہو تو انسان جھوٹ، دھوکہ، ظلم اور دوسروں کے حقوق کی پامالی سے بچتا
ہے۔ یہ خوف انسان کو ہر حال میں اچھے اعمال کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ قرآن میں ارشاد
ہے: وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ
یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ(۲)
ترجمہ کنزالایمان: اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لیے
نجات کی راہ نکال دے گا۔(سورۃ الطلاق: 2)
یہ آیت ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے وہ
ہر مشکل میں اللہ کی مدد اور آسانی حاصل کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مومن ہمیشہ دعا
کرتا ہے اور اپنے ہر کام میں اللہ کی رضا کو ترجیح دیتا ہے۔
حضور نبی کریم ﷺ نے بھی صحابہ کرام میں خوفِ خدا کی تلقین
کی۔ آپ ﷺ اکثر آخرت کی یاد دلاتے اور فرماتے کہ دنیا عارضی ہے جبکہ آخرت ہمیشہ کی
زندگی ہے۔ یہ تعلیم انسان کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کو کس طرح
گزارے تاکہ قیامت کے دن اللہ کی رضا حاصل ہو۔خوفِ خدا صرف ڈرنے کا نام نہیں بلکہ یہ
انسان کو سوچ سمجھ کر عمل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ مومن اپنے اعمال، زبان اور
معاملات میں محتاط رہتا ہے تاکہ وہ اللہ کی ناپسندیدہ چیزوں سے بچ سکے۔ اس خوف سے
انسان صبر، شکر، انصاف اور رحم دلی جیسے اعلیٰ اخلاق اپناتا ہے۔آج کے دور میں خوفِ
خدا کی ترغیبات زیادہ ضروری ہیں کیونکہ دنیا میں فتنہ اور انتشار بڑھ گیا ہے۔
نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی میں اللہ کا خوف دل میں پیدا کریں تاکہ وہ ہر فیصلہ
اچھے انداز میں کریں، اپنی ذات اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں اور معاشرے میں
بہتری پیدا کرسکیں۔ خوفِ خدا انسان کی زندگی میں نظم، سکون اور اطمینان پیدا کرتا
ہے۔ یہ صرف ایک مذہبی ضرورت نہیں بلکہ انسان کی شخصیت اور معاشرتی زندگی کی بہتری
کا ذریعہ بھی ہے۔ جو شخص اپنے دل میں اللہ کا خوف پیدا کرتا ہے، وہ دنیا اور آخرت
دونوں میں کامیابی حاصل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں خوفِ خدا کے ساتھ ساتھ علم، تقویٰ
اور نیکی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Dawateislami