محمد
احمد رضا (درجہ سادسہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى، کراچی،پاکستان)
واٹس ایپ نمبر: 03282282651
خوف سے مرادہ وہ قلبی کیفیت ہے جو کسی ناپسندیدہ امر کے
پیش آنے کی توقع کے سبب پیدا ہو، مثلاً پھل کاٹتے ہوئے چھری سے ہاتھ کے زخمی
ہوجانے کا ڈر۔ جبکہ خوفِ خدا کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تَعَالٰی کی بے نیازی، اس کی
ناراضگی، اس کی گرفت اور اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل
گھبراہٹ میں مبتلا ہو جائے۔(نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ۲۰۰)
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَ
لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ(۱۰۲)
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ سے ڈرو جیسا اُس
سے ڈرنے کا حق ہے اور ہر گز نہ مرنا مگر مسلمان۔ (پ۴، آل عمران : ۱۰۲
)
وَ
خَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۱۷۵)
ترجمۂ کنزالایمان : اور مجھ سے ڈرو ، اگر ایمان رکھتے
ہو۔ (پ۴، آل
عمران ۱۷۵ )
حکمت کی اصل خوفِ خدا ہے:حضور
نبی رحمت شفیع اُمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد
فرمایا: حکمت کی اصل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا خوف ہے۔سرکارِ مدینہ راحت قلب وسینہ
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ
اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: اگر تم مجھ سے ملنا چاہتے ہو تو میرے بعد بھی اللہ
عَزَّوَجَلَّ سے بہت ڈرتے رہنا۔(نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ۲۰۱)
خوفِ خدا تمام نیکیوں اور دنیا وآخرت کی ہر بھلائی کی اصل
ہے، خوفِ خدا نجات دلانے اور جنت میں لے جانے والا عمل ہے۔ پھر خوف کے درجات ہیں:
(۱) ضعیف: (یعنی کمزور) یہ
وہ خوف ہے جو انسان کو کسی نیکی کے اپنانے اور گناہ کو چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی
قوت نہ رکھتا ہو، مثلاً جہنم کی سزاؤں کے حالات سن کر محض جھرجھری لے کر رہ جانا
اور پھرسے غفلت ومعصیت (گناہ)میں گرفتار ہوجانا۔(۲) معتدل: (یعنی متوسط) یہ وہ خوف
ہے جو انسان کو نیکی کے اپنانے اور گناہ کو چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی قوت رکھتا
ہو، مثلاً عذابِ آخرت کی وعیدوں کو سن کر ان سے بچنے کے لیے عملی کوشش کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ ربّ تعالٰی سے
اُمید رحمت بھی رکھنا۔
پیارے آقا ،
احمد مجتبیٰ ، محمد مصطفی ﷺ کی زبانِ حق ترجمان سے نکلنے والے ان مقدس کلمات کو بھی
ملاحظہ فرمائیں جن میں آپ نے اس صفت ِ عظیمہ کو اپنانے کی تاکیدفرمائی ہے ،
چنانچہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا، ’’حکمت کی اصل اللہ تَعَالٰی کاخوف ہے۔‘‘ (شعب
الایمان ، باب فی الخوف من اللہ تَعَالٰی ، ج۱، ص۴۷۰،
رقم الحدیث ۷۴۳ )
حضرت سَیِّدُنا
عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ رسولِ اکرم ﷺ نے
فرمایا، ’’دو نہایت اہم چیزوں کو نہ بھولنا، جنت اور دوزخ ۔‘‘ یہ کہہ کر آپ ﷺ
رونے لگے حتی کہ آنسوؤں سے آپ کی داڑھی مبارک تر ہوگئی ۔ پھر فرمایا، ’’اس ذات
کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے اگر تم وہ جان لو جو میں جانتا ہوں تو
جنگلوں میں نکل جاؤ اور اپنے سروں پر خاک ڈالنے لگو۔‘‘(مکاشفۃ القلوب ، ص۳۱۶)
قرآن عظیم اور
احادیث کریمہ کے ساتھ ساتھ اکابرین ِاسلام کے اقوال میں بھی خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ
کے حصول کی نصیحتیں موجود ہیں ۔
حضرت سَیِّدُنا
عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا وقت ِ وفات قریب آیا تو کسی نے
عرض کی، ’’مجھے کچھ وصیت ارشاد فرمائیں ۔‘‘ارشاد فرمایا، ’’میں تمہیں اللہ
عَزَّوَجَلَّ سے ڈرنے ، اپنے گھر کو لازم پکڑنے ، اپنی زبان کی حفاظت کرنے اور اپنی
خطاؤں پر رونے کی وصیت کرتا ہوں ۔‘‘(شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ تَعَالٰی
، ج۱ ، ص۵۰۳، رقم الحدیث ۸۴۴ )
حضرت وہب بن
منبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : توریت میں لکھا ہے کہ جو بارگاہِ
الٰہی میں سمجھ دار بننا چاہے تو اسے چاہیے کہ دل میں اللہ تَعَالٰی کا حقیقی خوف
پیدا کرے۔(المنبہات علی الاستعداد لیوم المعاد، ص۱۳۴)
حضرت سَیِّدُنا
اِمام ابوالفرج ابن ِجوزی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، ’’خوفِ الٰہی
ہی ایسی آگ ہے جو شہوات کو جلا دیتی ہے ۔اس کی فضیلت اتنی ہی زیادہ ہوگی جتنا زیادہ
یہ شہوات کو جلائے اور جس قدر یہ اللہ تَعَالٰی کی نافرمانی سے روکے اور اطاعت کی
ترغیب دے اور کیوں نہ ہو ؟ کہ اس کے ذریعہ پاکیزگی ، ورع، تقویٰ اور مجاہدہ نیزاللہ
تَعَالٰی کا قرب عطا کرنے والے اعمال حاصل ہوتے ہیں ۔‘‘(مکاشفۃ القلوب ، ص۱۹۸)
حضرت سَیِّدُنا
سلیمان دارانی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا، ’’جس دل سے خوف دور ہوجاتا
ہے وہ ویران ہوجاتا ہے ۔‘‘(احیاء اٍلعلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۱۹۹)
حضرت سَیِّدُنا
ابوالحسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے تھے ’’ نیک بختی کی علامت بدبختی سے
ڈرنا ہے کیونکہ خوف اللہ تَعَالٰی اور بندے کے درمیان ایک لگام ہے ، جب یہ لگام
ٹوٹ جائے تو بندہ ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاک ہوجاتا ہے ۔‘‘(احیاء العلوم ، کتاب
الخوف والرجاء ج ۴، ص ۱۹۹)
حضرت سَیِّدُنا
ابوسلیمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا ، ‘‘ خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ دنیا
اور آخرت کی ہر بھلائی کی اصل ہے ۔‘‘(شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ تَعَالٰی
، ج۱، ص۵۱۰، رقم الحدیث ۸۷۵ )
ا پنی ذات کا محاسبہ کرلینے کی عادت اپنا لینے سے بھی
خوفِ خدا کے حصول کی منزل پر پہنچنا قدرے آسان ہوجاتا ہے، فکرمدینہ کا آسان سا
مطلب یہ ہے کہ انسان اُخروی اعتبار سے اپنے معمولات زندگی کا محاسبہ کرے، پھر جو
کام اس کی آخرت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں، انہیں درست کرنے کی کوشش میں لگ
جائے اور جو اُمور اُخروی اِعتبار سے نفع بخش نظر آئیں، اِن میں بہتری کے لیے
اِقدامات کرے نیک اعمال پر عمل کرے۔
Dawateislami