مبشر عبد الرزاق عطاری ( درجہ
سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی، لاہور،پاکستان )
فون نمبر: 03228448638
جہالت کے اندھیروں سے بھری اس دنیا میں علم و آگہی کی
شمعیں جلانے، طالبانِ حق کو معرفت حقیقت کے جام پلانے،اور بھٹکی انسانیت کو اپنے
خالق کا پتہ بتانے کے لیے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم ہادی اور رہبر بن کر مبعوث
ہوئے آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے انسانیت کو اللہ وحدہ لا شریک کی بارگاہ
میں سرنگوں کیا اور ان کے ظاہر و باطن کو ہر طرح کی آلودگیوں سے پاک کر کے راہ حق
پر گامزن فرمایا، سرور کائنات صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تعلیمات کا ایک
پہلو لوگوں کو اللہ تَعَالٰی کی بے نیازی، اس کی ناراضگی، اس کی گرفت اور اس کی
طرف سے دی جانے والی سزاؤں سے ڈرا کر ان کے دلوں میں اللہ پاک کا خوف پیدا کرنا
بھی تھا کیونکہ خوف خدا رضائے الٰہی ،اُخروی نجات ، عبادات کی بجا آوری اور منہیات
سے باز رہنے کا عظیم ذریعہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی پیکر
خوف خدا تھے ، اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کو بھی خوف خدا کی تعلیم فرماتے تھے
چنانچہ حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے : ” جب ہوا میں تبدیلی
ہوتی اور سخت آندھی چلتی تو ( عذاب الہٰی کے خوف کی وجہ سے) نبی اکرم صلی اللہ تعالی
علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ انور کا رنگ متغیر ہو جاتا اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ
وآلہ وسلم کھڑے ہو جاتے اور حجرہ مبارکہ میں چکر لگاتے کبھی اندر جاتے کبھی باہر
تشریف لاتے ۔(صحیح مسلم، كتاب الكسوف، باب التعوذ عند رؤيۃ الريح، الحديث 2084، ص
818)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد احادیث میں خوف
خدا جیسی عظیم صفت کو اپنانے کی فضیلت و اہمیت کو بیان فرمایا آئیے ہم بھی چند
احادیث کریمہ پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں :
(1) کامل عقل والا :نبی کریم
ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم میں سب سے بڑھ کر کامل عقل والا وہ ہے جو رب تعالی سے زیادہ
ڈرنے والا ہے اور جو تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اللہ تعالی کے اوامر و نواہی (یعنی
احکام ) میں زیادہ غور کرتا ہے۔(احياء العلوم ، كتاب الخوف والرجاء ، ج 4 ص 199)
(2) خطاؤں کا جھڑنا :رسول
اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :جب مومن کا دل اللہ تعالیٰ
کے خوف سے لرزتا ہے تو اس کی خطائیں اس طرح جھڑتی ہیں جیسے درخت سے اس کے پتے
جھڑتے ہیں ۔ (شعب الايمان ،باب فی الخوف من الله تعالى جلد 1ص 691 رقم الحديث 803)
(3)جہنم سے رہائی:رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
جس مومن کی آنکھوں سے اللہ تعالی کے خوف سے آنسو نکلتا ہے اگر چہ مکھی کے پر کے
برابر ہو، پھر وہ آنسو اس کے چہرے کے ظاہری حصے تک پہنچیں تو اللہ تعالی اسے جہنم
پر حرام کر دیتا ہے ۔(شعب الايمان، باب فی الخوف من الله تعالى، ج 1ص 690 رقم
الحديث 802)
(4) جنت میں داخلہ :حضرت سیدنا
ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اس عمل کےبارے میں سوال کیا گیا جو لوگوں
کو کثرت سے جنت میں داخل کرے گا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ سے ڈرنا اور حسن اخلاق ۔
پھر رسول اللہ ﷺ سے کثرت سے جہنم میں داخل کرنے والی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا
تو آپ نے فرمایا کہ منہ اور شرم گاه ۔ (الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان، باب حسن
الخلق ، رقم 476، ج 1، ص 349)
پیارے اسلامی بھائیو!ہمیں بھی اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ
اب تک ہم اپنی زندگی کی کتنی سانسیں لے چکے ہیں، اس دنیائے فانی میں اپنی حیات کے
کتنے ایام گزار چکے ہیں ! بچپن ، جوانی ، بڑھاپے میں سے اپنی عمر کے کتنے ادوار
گزار چکے ہیں؟ اور اس دوران کتنی مرتبہ ہم نے اس نعمت عظمی کو اپنے دل میں محسوس کیا؟
کیا کبھی ہمارے بدن پر بھی اللہ پاک کے ڈر سے لرزہ طاری ہوا؟ کیا کبھی ہماری
آنکھوں سے خشیت الہی کی وجہ سے آنسو نکلے؟ کیا کبھی کسی گناہ کے لئے اٹھے ہوئے
ہمارے قدم اس کے نتیجے میں ملنے والی سزا کا سوچ کر واپس ہوئے؟ لہذا اس سے پہلے کہ
ہماری سانسوں کی آمد و رفت رک جائے اور سوائے احساس زیاں کے ہمارے دامن میں کچھ بھی
نہ ہو ، اپنے گناہوں سے سچی توبہ کرکے اپنی آخرت کی بہتری کے لئے اس صفت عظیمہ کو
اپنالیں ۔اللہ پاک ہمیں بھی اپنے خوف سے معمور دل ،رونے والی آنکھ اور لرزنے والا
بدن عطا فرما۔ آمین بجاہ النبی الامین۔
Dawateislami