سید محمد ارسلان قریشی عطاری (درجہ
عالیہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی ،کراچی ،پاکستان)
واٹس ایپ نمبر: 03102505147
خوفِ خدا ایمان کی روح اور انسان کی اصلاح کا بنیادی ذریعہ
ہے۔ یہ ایسا خوف نہیں جو مایوسی پیدا کرے، بلکہ ایسا شعور ہے جو انسان کو گناہ سے
روکے اور نیکی کی طرف راغب کرے۔ حضور جان عالم ﷺ نے اپنی تعلیمات اور عملی زندگی
کے ذریعے امت کو خوفِ خدا کی اہمیت سمجھائی۔
(1) سات خوش نصیب افراد میں ایک :نبی کریم
ﷺ نے فرمایا: سات آدمی ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے عرش کے سائے میں
جگہ دے گا… ان میں سے ایک وہ شخص ہے جسے کوئی حسین و بااثر عورت گناہ کی دعوت دے
اور وہ کہے: میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔(صحیح بخاری، حدیث: 1433 جلد 2 دار التأصيل ،القاهرۃ)
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ اصل خوفِ خدا وہ ہے جو تنہائی
اور موقع ملنے کے باوجود انسان کو گناہ سے روک دے۔ اللہ کا ڈر انسان کے دل میں ہو
تو وہ خفیہ حالات میں بھی نافرمانی نہیں کرتا۔
(2) آنکھوں کا آنسو اور جہنم سے نجات :رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا:دو آنکھوں کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی: ایک وہ آنکھ جو اللہ کے
خوف سے روئی، اور دوسری وہ جو اللہ کی راہ میں پہرہ دیتی رہی۔(جامع ترمذی، حدیث:
1733 جلد 3 دار الرسالۃ العالمیہ)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے خوف سے بہنے والا
آنسو بہت قیمتی ہے۔ یہ آنسو ریاکاری کا نہیں بلکہ سچے دل کی کیفیت کا نتیجہ ہوتا
ہے، جو انسان کو اللہ کے قریب کر دیتا ہے۔
یہاں بھی قیامت کے دن عرش کے سائے کا ذکر ہے۔ اس سے
معلوم ہوتا ہے کہ خوفِ خدا صرف زبان کا دعویٰ نہیں بلکہ دل کی کیفیت ہے، جو تنہائی
میں ظاہر ہوتی ہے۔
(3) مومن کا خوف اور امید :نبی کریم
ﷺ نے فرمایا:اگر مومن کو معلوم ہو جائے کہ اللہ کے ہاں کیسی سزا ہے تو کوئی بھی
جنت کی امید نہ رکھے، اور اگر کافر کو معلوم ہو جائے کہ اللہ کے ہاں کیسی رحمت ہے
تو کوئی بھی جنت سے مایوس نہ ہو۔(صحیح مسلم، حدیث: 2755 دار الطباعۃ العامرة
تركيا)
یہ حدیث اعتدال سکھاتی ہے۔ خوفِ خدا کا مطلب مایوسی نہیں
بلکہ خوف اور امید کے درمیان توازن ہے۔ مسلمان اللہ کی رحمت سے امید بھی رکھتا ہے
اور اس کی پکڑ سے ڈرتا بھی ہے۔
(4) زبان اور دل کی اصلاح :رسول
اللہ ﷺ اکثر یہ دعا فرمایا کرتے تھے:اے اللہ! مجھے اپنی خشیت (خوف) عطا فرما جو میرے
اور گناہوں کے درمیان حائل ہو جائے۔(جامع ترمذی، حدیث: 3809 جلد 6 دار الرسالۃ
العالمیہ)
اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ خوفِ خدا مانگا بھی جاتا ہے۔
یہ دل کی دولت ہے جو انسان کو برائی سے بچاتی ہے اور نیکی پر قائم رکھتی ہے۔
خوفِ
خدا کے عملی اثرات :
گناہوں سے بچاؤ: جب انسان کو یقین
ہو کہ اللہ ہر حال میں دیکھ رہا ہے تو وہ چھپ کر بھی گناہ نہیں کرتا۔ اخلاق کی
اصلاح: خوفِ خدا انسان کو جھوٹ، دھوکہ اور ظلم سے روکتا ہے۔
عبادت میں خشوع: اللہ کے ڈر سے نماز، روزہ اور دیگر
عبادات میں اخلاص پیدا ہوتا ہے۔
Dawateislami