واٹس ایپ نمبر: 03273593645

پیارے اسلامی بھائیو! انسان کی اصلاح کا سب سے بڑا ذریعہ خوفِ خدا ہے۔خَوْفِ خُدا سے مُراد یہ ہے کہ اللہ تَعَالیٰ کی بے نیازی، اُس کی ناراضی، اس کی گَرِفْت اور اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل گھبراہٹ میں مُبْتَلَا ہوجائے۔ (ماخوذ از احیاء العلوم، کتاب الخوف والرجاء، ج۴)

خَوْفِ خُدَا مومنین کی لازمی صفات میں سے ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے قرآنِ مجید میں مُتَعدّد مقامات پر اس صِفَت کو اختیار کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَ لَقَدْ وَصَّیْنَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ اِیَّاكُمْ اَنِ اتَّقُوا اللّٰهَؕ

ترجمہ کنز الایمان: اور بیشک تاکید فرما دی ہے ہم نے ان سے جو تم سے پہلے کتاب دئیے گئے اور تم کو کہ اللہ سے ڈرتے رہو۔ (پ۵، النساء: ۱۳۱)

آیئے! اب پیارے آقا، اَحْمدِ مجتبیٰ، مُحمدِ مُصْطَفٰے ﷺ کی زبانِ حقِ تَرجُمان سے نکلنے والے ان مُقَدّس کلمات کو بھی سَمَاعَت فرمایئے، جن میں آپ نے خوفِ خدا کی فضیلت بیان فرمائی ہے۔

(1) حضرتِ سَیِّدُنا ابُو ہُرَیْرَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ سروَرِ عالَم، نُورِ مُجَسَّم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے: ”مجھے اپنی عزّت و جَلال کی قسم! میں اپنے بندے پر دو خَوف جمع نہیں کروں گا اور نہ اس کے لئے دو اَمْن جمع کروں گا، اگر وہ دنیا میں مجھ سے بے خَوف رہے تو میں قیامت کے دن اسے خوف میں مُبْتَلَا کروں گا اور اگر وہ دنیا میں مجھ سے ڈرتا رہے تو میں بروزِ قیامت اسے اَمْن میں رکھوں گا۔“ (شعب الایمان، باب فی الخوف من اللہ تعالیٰ، ۱/۴۸۳، حدیث: ۷۷۷)

(2) سَروَرِ عالَم، شَفِیْعِ مُعَظَّم ﷺ نے فرمایا: ”جس مومن کی آنکھوں سے اللہ تَعَالٰی کے خوف سے آنسو نکلتا ہے، اگرچہ مکّھی کے سر کے برابر ہو، پھر وہ آنسو اُس کے چہرے کے ظاہری حصّے تک پہنچے، اللہ تعالیٰ اُسے جہنّم پر حَرام کر دیتا ہے۔“ (شعب الایمان، باب فی الخوف من اللہ تعالیٰ، ۱/۴۹۰، حدیث: ۸۰۲)

(3) رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب مومن کا دل اللہ تَعَالٰی کے خَوف سے لَرَزْتا ہے، تو اُس کی خطائیں اس طرح جَھڑتی ہیں، جیسے درخت سے پتے جَھڑتے ہیں۔“ (شعب الایمان، باب فی الخوف من اللہ تعالیٰ، ۱/۴۹۱، حدیث: ۸۰۳)

تیرے ڈر سے سَدا تَھر تَھراؤں خوف سے تیرے آنسو بہاؤں

کَیْف ایسا دے، ایسی ادا کی میرے مولیٰ تُو خَیْرات دیدے

پیارے اسلامی بھائیو! واقعی ہمیں ہر لمحہ خوفِ خدا سے لرزاں و تَرساں رہنا چاہئے۔ بے شک اللہ کریم کی بارگاہ میں وہی بندہ عزت و احترام والا ہے جو تقویٰ اختیار کرتا اور اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری کرے۔

چنانچہ حضرت سَیِّدُنا علی المُرتَضیٰ، شَیرِ خدا کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں کہ نبیِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب قیامت کا دن ہوگا تو بندوں کو اللہ تَعَالٰی کے سامنے کھڑا کیا جائے گا اس حال میں کہ وہ بغیر ختنہ کیے ہوں گے، پھر اللہ تَعَالٰی ارشاد فرمائے گا: اے میرے بندو! میں نے تمہیں حکم دیا اور تم نے میرے حکم کو ضائع کر دیا اور تم نے اپنے نسبوں کو بُلند کیا اور اس کے ذریعے ایک دوسرے پر فخر کیا، (لہٰذا) آج کے دن میں تمہارے نسبوں کو حقیر و ذلیل قرار دے رہا ہوں، میں ہی بدلہ دینے والا حاکم ہوں، کہاں ہیں مُتَّقی لوگ؟ کہاں ہیں مُتَّقی لوگ؟ بیشک اللہ تَعَالٰی کے یہاں تم میں زیادہ عزّت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔(تاریخ بغداد، ذکر من اسمہ علی، علی بن ابراہیم العمری القزوینی، ۱۱/۳۳۷، رقم: ۶۱۷۲)

پیارے اسلامی بھائیو! خوفِ خدا ہی وہ چراغ ہے جو دل کے اندھیروں کو مٹاتا اور بندے کو معصیت کی کھائیوں سے بچاتا ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جو انسان کو تنہائی میں بھی گناہ سے روکتی اور عبادت پر ابھارتی ہے۔ جس دل میں خوفِ خدا بس جائے وہ دل سخت نہیں رہتا بلکہ نرم، عاجز اور اطاعت گزار بن جاتا ہے۔

آئیے! ہم بھی آج عہد کریں کہ اپنی زندگی کو تقویٰ و پرہیزگاری سے سنواریں گے، ظاہر و باطن کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھالیں گے، اور ہر قدم پر یہ سوچیں گے کہ ہمیں ایک دن اپنے رب کے حضور کھڑا ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی خوفِ خدا نصیب فرمائے، گناہوں سے بچنے کی توفیق دے اور قیامت کے دن اپنے امن و امان میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔