محمد
مدثر رضوی عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی، لاہور،پاکستان)
فون نمبر 03708316429
یا درکھئے کہ مطلقاً خوف سے مراد وہ قلبی کیفیت ہے جو کسی
ناپسندیدہ امر کے پیش آنے کی توقع کے سبب پیدا ہو مثلاً پھل کاٹتے ہوئے چھری سے
ہاتھ کے زخمی ہو جانے کا ڈر ۔جبکہ خوف خدا کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بے نیازی
، اس کی ناراضگی ، اس کی گرفت اور اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ کر
انسان کا دل گھبراہٹ میں مبتلاء ہو جائے ۔ (ماخوذ از احیاء العلوم كتاب الخوف
والرجاء جلد 4)
خوف خدا کا ہونا بے حد ضروری ہے ۔ کیونکہ جب تک یہ نعمت
حاصل نہ ہو گناہوں سے فرار اور نیکیوں سے پیار تقریبا ناممکن ہے۔ اس نعمت عظمی کے
حصول میں کامیابی کی خواہش رکھنے والے اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کے لئے درج
ذیل سطور کا مطالعہ بے حد مفید ثابت ہوگا ان شاء الله عز وجل۔
(1) جیسے درخت کے پتے جھڑتے ہیں:رسول
اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :جب مومن کا دل اللہ تعالیٰ کے خوف سے لرزتا ہے تو اس کی
خطائیں اس طرح جھڑتی ہیں جیسے درخت سے اس کے پتے جھڑتے ہیں ۔
(شعب الايمان ،باب فی الخوف من الله تعالى ،ج ١ ص ٤٩١
رقم الحديث ٨٠٣)
(2)اسے آگ سے نکالو:حضرت سیدنا
انس ﷺ سے مروی ہے کہ رحمت کونین ﷺ نے ارشاد فرمایا :اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اسے
آگ سے نکالو جس نے مجھے کبھی یاد کیا ہو یا کسی مقام میں میرا خوف کیا ہو۔ (شعب
الايمان نباب فی الخوف من الله تعالى ، ج ١ ص ٤٧٠ رقم الحديث ٧٤٠)
(3) جس سے وہ ڈرتا ہے:سرکار
مدینہ ﷺ ایک ایسے نوجوان کے پاس تشریف لائے جو قریب المرگ تھا۔ آپ نے پوچھا تم
اپنے آپ کو کیسا پاتے ہو؟“ اس نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ! مجھے معافی کی امید بھی
ہے اور میں گناہوں کے وجہ سے اللہ تعالیٰ سے ڈرتا بھی ہوں ۔ تو نبی اکرم ﷺ نے
ارشاد فرمایا، ایسی حالت میں جب بھی یہ دو باتیں جمع ہوتی ہیں تو اللہ تعالی اس کی
امید کے مطابق اسے عطا کرتا ہے اور اس چیز سے محفوظ رکھتا ہے جس سے وہ ڈرتا ہے۔(
مكاشفۃ القلوب ص ١٩٦)
(4)اسے امن میں رکھوں گا:حضرت سیدنا
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سرور عالم ، نور مجسم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ! میں اپنے بندے پر دو خوف
جمع نہیں کروں گا اور نہ اس کے لئے دو امن جمع کروں گا ، اگر وہ دنیا میں مجھ سے
بے خوف رہے تو میں قیامت کے دن اسے خوف میں مبتلاء کروں گا اور اگر وہ دنیا میں
مجھ سے ڈرتا رہے تو میں بروز قیامت اسے امن میں رکھوں گا۔(شعب الايمان باب فی
الخوف من الله تعالى ج ا ص ٤٨٣ رقم الحديث ٧٧)
(5) ہر چیز اس سے ڈرتی ہے:سرکار
مدینہ، سر ور قلب و سینہ ﷺ کا فرمان عبرت نشان ہے: جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے ہر چیز
اس سے ڈرتی ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے سواکسی سے ڈرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ہر شے
سے خوف زدہ کرتا ہے۔(شعب الايمان ،باب فی الخوف من الله تعالى ج1 ص ٥٤١ رقم الحديث
٩٨٤)
(6) جہنم سے رہائی:سرور
عالم شفیع معظم ﷺ نے فرمایا: جس مومن کی آنکھوں سے اللہ تعالی کے خوف سے آنسو
نکلتا ہے اگر چہ مکھی کے پر کے برابر ہو، پھر وہ آنسو اس کے چہرے کے ظاہری حصے تک
پہنچیں تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم پر حرام کر دیتا ہے۔(شعب الايمان ،باب فی الخوف من
الله تعالى، ج ا ص ٤٩٠ رقم الحديث ٨٠٢)
پیارے پیارے اسلام بھائیو !ابھی ہم نے اوپر حضور صلی
اللہ علیہ والہ وسلم کے چند فرامین پڑھے ان سے معلوم ہوتا ہے کہ خوف خدا کی کیا
اہمیت ہے اور خوف خدا ہے تو بندے کا ایمان مکمل ہے خوف خدا نہیں ہے تو بندے کا ایمان
بھی مکمل نہیں ہے بلکہ ادھورا ایمان ہے۔اللہ پاک سے دعا ہے اللہ پاک حضور صلی اللہ
علیہ والہ وسلم کی نبوی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم
النبیین صلی اللہ علیہ والہ وسلم
Dawateislami