واٹس ایپ نمبر: 03441364042

خوفِ خدا اسلام میں ایمان کی بنیاد ہے اور یہ انسان کو برائیوں سے روکنے والا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں پیدا ہونے سے انسان نیکی کی طرف مائل ہوتا ہے اور برائی سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔قرآنِ مجید میں بار بار اللہ کے خوف کی تلقین کی گئی ہے تاکہ مومن اپنی زندگی کو صحیح راستے پر گزار سکے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:فَلَا  تَخَافُوْهُمْ  وَ  خَافُوْنِ  اِنْ  كُنْتُمْ  مُّؤْمِنِیْنَ(۱۷۵)

ترجمہ کنز الایمان: تو اُن سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو۔ (سورۃ آلِ عمران: 175)

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ مومن کو دنیا کے لوگوں سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے۔ دنیا میں خوف وقتی ہوتا ہے، لیکن اللہ کا خوف دائمی اور ہر حالت میں انسان کو راستے پر قائم رکھتا ہے۔

ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُاؕ

ترجمہ کنزالایمان: اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔(سورۃ فاطر: 28)

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ علم کے ساتھ اللہ کا خوف بھی پیدا ہونا چاہیے۔ جو شخص اللہ کے بارے میں زیادہ جانتا ہے وہ اپنی نافرمانی سے محتاط رہتا ہے اور اپنی زندگی کو بہتر انداز میں گزارنے کی کوشش کرتا ہے۔

خوفِ خدا انسان کے کردار کو بہتر بناتا ہے۔ جب دل میں اللہ کا خوف ہو تو انسان جھوٹ، دھوکہ، ظلم اور دوسروں کے حقوق کی پامالی سے بچتا ہے۔ یہ خوف انسان کو ہر حال میں اچھے اعمال کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے: وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ(۲)

ترجمہ کنزالایمان: اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لیے نجات کی راہ نکال دے گا۔(سورۃ الطلاق: 2)

یہ آیت ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے وہ ہر مشکل میں اللہ کی مدد اور آسانی حاصل کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مومن ہمیشہ دعا کرتا ہے اور اپنے ہر کام میں اللہ کی رضا کو ترجیح دیتا ہے۔

حضور نبی کریم ﷺ نے بھی صحابہ کرام میں خوفِ خدا کی تلقین کی۔ آپ ﷺ اکثر آخرت کی یاد دلاتے اور فرماتے کہ دنیا عارضی ہے جبکہ آخرت ہمیشہ کی زندگی ہے۔ یہ تعلیم انسان کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کو کس طرح گزارے تاکہ قیامت کے دن اللہ کی رضا حاصل ہو۔خوفِ خدا صرف ڈرنے کا نام نہیں بلکہ یہ انسان کو سوچ سمجھ کر عمل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ مومن اپنے اعمال، زبان اور معاملات میں محتاط رہتا ہے تاکہ وہ اللہ کی ناپسندیدہ چیزوں سے بچ سکے۔ اس خوف سے انسان صبر، شکر، انصاف اور رحم دلی جیسے اعلیٰ اخلاق اپناتا ہے۔آج کے دور میں خوفِ خدا کی ترغیبات زیادہ ضروری ہیں کیونکہ دنیا میں فتنہ اور انتشار بڑھ گیا ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی میں اللہ کا خوف دل میں پیدا کریں تاکہ وہ ہر فیصلہ اچھے انداز میں کریں، اپنی ذات اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں اور معاشرے میں بہتری پیدا کرسکیں۔ خوفِ خدا انسان کی زندگی میں نظم، سکون اور اطمینان پیدا کرتا ہے۔ یہ صرف ایک مذہبی ضرورت نہیں بلکہ انسان کی شخصیت اور معاشرتی زندگی کی بہتری کا ذریعہ بھی ہے۔ جو شخص اپنے دل میں اللہ کا خوف پیدا کرتا ہے، وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں خوفِ خدا کے ساتھ ساتھ علم، تقویٰ اور نیکی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔