خوفِ خدا وہ عظیم دولت ہے جو بندے کو گناہوں سے روکتی، نیکیوں کی طرف مائل کرتی اور آخرت کی تیاری کا جذبہ عطا کرتی ہے۔ نبیِّ کریم ﷺ نے اپنی امت کو بارہا اللہ پاک کے خوف کی ترغیب دلائی، کیونکہ خوفِ خدا دل کی اصلاح اور اعمال کی درستگی کا ذریعہ ہے۔ خوفِ خدا مایوسی نہیں بلکہ نجات کا راستہ ہے۔

سرکار مدینہ راحت قلب و سینہ فیض گنجینہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مَنْ خَافَ اللهَ أَخَافَ، اللهُ مِنْهُ كُلَّ شَيْءٍ، وَمَنْ لَمْ يَخَفِ اللهَ خَافَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ ہر چیز کو اس سے ڈرا دیتا ہے،اور جو اللہ سے نہیں ڈرتا، اللہ اسے ہر چیز سے ڈرا دیتا ہے۔(شعب الايمان کتاب: الخوف من الله حدیث نمبر: 795)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ خوفِ خدا انسان کو باوقار، مضبوط اور بے خوف بنا دیتا ہے، جبکہ اللہ سے بے خوفی ہر طرح کے خوف کو جنم دیتی ہے۔

ایک اور مقام پر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے خوف خدا کی ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:

لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًااگر تم وہ جان لو جو میں جانتا ہوں تو کم ہنستے اور زیادہ روتے۔(صحیح بخاری کتاب: الرقاق ،باب قول النبی ﷺ لو تعلمون ما أعلم، حدیث نمبر: 6486)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہ یہ حدیث دنیا کی غفلت کو توڑ کر آخرت کی جواب دہی کا احساس بیدار کرتی ہے۔

مزید خوف خدا کی ترغیب دلاتے ہوئے اللہ کے آخری نبی ﷺ نے فرمایا :عَيْنَانِ لَا تَمَسُّهُمَا النَّارُ: عَيْنٌ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ دو آنکھیں ایسی ہیں جنہیں جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی،ان میں سے ایک وہ آنکھ ہے جو اللہ کے خوف سے روئی۔(جامع ترمذی، کتاب الزهد، باب: ما جاء فی البكاء من خشیۃ الله،حدیث نمبر: 1633)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! خوفِ خدا کے آنسو جہنم سے نجات کا مضبوط ذریعہ ہیں۔ اللہ پاک ہمیں بھی خوف خدا میں رونے والی آنکھیں عطاء فرمائے آمین۔ آئیے مزید پڑھتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے خوف خدا کے حوالے سے کیا ارشاد فرمایا چنانچہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :لَا تَمَسُّ النَّارُ عَيْنًا بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ، وَلَا عَيْنًا بَاتَتْ تَحْرُسُ فِي سَبِيلِ اللَّهِجہنم کی آگ اس آنکھ کو نہ چھوئے گی جو اللہ کے خوف سے روئی،اور نہ اس آنکھ کو جو اللہ کی راہ میں پہرہ دیتی رہی۔(سنن ترمذی، کتاب: فضائل الجهاد،حدیث نمبر: 1639) (مشکاة المصابیح،کتاب: الجهاد،حدیث نمبر: 3828)

مزید حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :وَعِزَّتِي لَا أَجْمَعُ عَلَى عَبْدِي خَوْفَيْنِ وَلَا أَمْنَيْنِ، إِنْ خَافَنِي فِي الدُّنْيَا أَمَّنْتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِاللہ پاک فرماتا ہے:میری عزت کی قسم! میں اپنے بندے پر دو خوف اور دو امن جمع نہیں کرتا،اگر وہ دنیا میں مجھ سے ڈرا تو قیامت میں اسے امن عطا کروں گا۔(المعجم الكبير للطبرانی ،حدیث نمبر: 11209)

میرے پیارے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہ دنیا میں خوفِ خدا، آخرت کے دائمی امن کی ضمانت ہے۔

خوف خدا کے فوائد : گناہوں سے حفاظت،دل کی نرمی،عبادت میں خشوع،آخرت کی فکر،اللہ پاک کی رضا۔آئیے مزید ہم پڑھتے ہیں کہ کس طرح سے خوف خدا حاصل ہو سکتا ہے :

قرآنِ کریم کا ترجمہ و تفسیر پڑھنا،قبر و آخرت کو یاد کرنا،نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنا،موت کو کثرت سے یاد کرنا،گناہوں پر فوراً توبہ کرنا۔

پیارے اسلامی بھائیو!ہم نے خوفِ خدا کی اہمیت کو قرآن و حدیث کی روشنی میں پڑھا۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم صرف پڑھنے والے نہ بنیں بلکہ عمل کرنے والےبھی بنیں۔ آئیے! ہم سب سچی توبہ کریں، اپنے گناہوں پر نادم ہوں اور پختہ ارادہ کریں کہ آئندہ زندگی کو اللہ پاک کی نافرمانی سے بچائیں گے۔آئیے! دل ہی دل میں یہ نیت کریں: ہم نمازوں کی پابندی کریں گے،نگاہوں، زبان اور دل کی حفاظت کریں گے،والدین کی فرمانبرداری کریں گے،اور ہر حال میں اللہ پاک سے ڈرتے ہوئے زندگی گزاریں گے۔

اے اللہ پاک!ہمیں اپنا حقیقی خوف عطا فرما،ہماری غفلت کو دور فرما،ہمارے دلوں کو اپنی یاد سے زندہ فرما،اور ہمیں دنیا و آخرت میں کامیاب فرما۔آمین بجاہ النبی الامین ﷺ