واٹس ایپ نمبر: 03175660735

خوف کے لغوی معنی خطرہ ، ڈر ،ہیبت ، فکر ، خدشہ ،اصطلاح میں خوف اسے کہتے ہیں کہ بندہ اپنے آپ کو امرِ مکروہ سے بچائے اور بجا آوریِ احکامِ حق میں عبودیت کے ساتھ سرگرم رہے۔

بخشش کا پروانہ: حضرت انس رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو اللہ پاک کے خوف سے روئے، وہ اس کی بخشش فرما دے گا۔(کنزالعمال، جلد 3، صفحہ 63)

خوف خدا میں آنسو بہانا ایک عظیم الشان نیکی اور لازوال نعمت ہے، خوفِ الٰہی کی خوبی انسان کو اللہ پاک کے بہت قریب کر دیتی ہیں، خوفِ خدا میں رونے کے بہت سے فضائل و برکات ہیں کہ خوفِ خدا میں رونے والی آنکھ برائی نہیں بلکہ خوبی اور بھلائی دیکھتی ہے، جب انسان اپنے اندر خشیتِ الٰہی پیدا کر لیتا ہے تو وہ ہر قسم کی برائی سے محفوظ ہوکر اللہ پاک کی بارگاہ میں بہت مقبول ہو جاتا ہے ، جب دلوں کی زمین سے خوفِ خدا پیدا ہو، آنسو بہہ کر خشیت کے باغیچے کو سیراب کریں تو ندامت کی کلی کھل اُٹھتی ہے اور انسان کو توبہ کا پھل نصیب ہو جاتا ہے۔ربّ کریم کی خشیت اس کا بہت بڑا انعام ہے، وہ جس کے لئے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اسے اپنی خشیت کے سبب رونا عطا فرماتا ہے، خوفِ خدا میں رونا انسان کو تقوی کی دولت سے سرفراز فرماتا ہے، یہ تو ایسی لازوال نعمت ہے کہ جب یہ کسی انسان کو مل جائے تو یہ خاکی ہوتے ہوئے بھی خاکی نہیں رہتا، بلکہ وہ ملکوتی صفات کا لباس زیب تن کر لیتا ہے، اس پر ہمیشہ ایک کیفیت طاری رہتی ہے، وہ ہَمہ وقت اپنے ربّ کی یاد میں مصروف رہتا ہے، دنیا کی رنگینیاں اس پر اثر نہیں کرتیں، خشیتِ الٰہی کی چادر اس کو دنیا کی فحاشیوں سے محفوظ کرلیتی ہے، وہ کامل انسان بن کر کشت حیات میں آخرت کی فصل اگانے میں شب و روز مصروف رہتا ہے۔خوف خدا کا معنی:خوفِ خدا کا مطلب قلب کی وہ کیفیت کہ اللہ پاک کی گرفت، ناراضی، بے نیازی، اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل گھبرا جائے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو جائیں۔

خوف خدا میں رونے کے متعلق احادیث مبارکہ :حدیث: مبارکہ:حضرت یحییٰ علیہ السلام نے فرمایا:جنت اور دوزخ کے درمیان ایک گھاٹی ہے،جسے وہی طے کرسکتا ہے،جو بہت رونے والا ہو۔(ریاض الصالحین:48، شعب الایمان، 1/393، حدیث:809)

اللہُ اکبر! کیا شان ہے اللہ پاک کے خوف میں رونے کی! اس کے سبب کتنی نعمتوں سے نوازا جاتا ہے، وہ نعمتیں جس کا انسان احاطہ نہیں کر سکتا، یہاں تک کہ خوفِ الٰہی میں رونا انسان کو جنت میں پہنچا دے گا، تم

گناہوں کی بخشش ہو جاتی ہے۔

جنت میں ہنساؤں گا: حضرت انس رضی اللہُ عنہُ سے روایت ہے،ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی:وَقُوْدُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃ (پ28، تحریم)پھر ارشاد فرمایا:جہنم کی آگ ہزار برس تک دہکائی گئی تو سُرخ ہو گئی، پھر ہزار برس تک دھکائی گئی تو سفید ہو گئی، پھر ہزار برس تک دھکائی گئی تو سیا ہ ہو گئی، اب نری سیاہ ہے، یہ سن کر ایک حبشی رونے لگا، آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: یہ کون رو رہا ہے؟عرض کی گئی:حبشہ کا رہنے والا ہے۔ تو آپ نے اس کے رونے کو پسند فرمایا۔ اتنے میں جبرئیل آمین وحی لے کر آئے کہ ربّ کریم فرماتا ہے:مجھے اپنے عزت و جلال کی قسم! میرا جوبندہ دنیا میں میرے خوف سے روئے گا، میں اسے جنت میں ضرور ہنساؤں گا۔(شعب الایمان،حدیث:799)

اللہ پاک کے خوف میں رونے والے کو جنت اور جنت کی نعمتیں بھی ملیں گی۔

در نایاب ہیں بلاشبہ وہ ہیرے انمول اشک آقا کی جو یادوں میں بہا کرتے ہیں(وسائل بخشش، صفحہ 143)

ہم بھی خوف خدا میں آنسو بہائیں۔ اس کے لئے ہمیں غور و فکر کرنا ہوگا کہ اب تک ہم نے اپنی زندگی کس طرح گزاری، نزع میں ہمارے ساتھ کیا ہوگا، قبر و حشر اور میزان میں ہمارا کیا بنے گا، جنت میں داخلہ نصیب ہوگا یا معاذاللہ جہنم میں جھونک دیا جائے گا اور غوروفکر کرنے سے ربّ کریم نے چاہا تو ہمیں بھی اپنے دل میں رقت محسوس ہوگی، آنکھ سے خوف خدا کے سبب ایک قطرہ بھی آنسو کا بہہ گیا تو آخرت سنور جائے گی۔اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں خوفِ خدا میں رونے والی آنکھیں عطا فرمائے، کثرت سے آنسو بہائیں اور یہ آنسو ہمیں تسکین دیں اور ہمارے لئے ذریعہ نجات بن جائیں، اس سے پہلے کہ آنسو خون بن جائیں اور داڑیں انگاروں میں بدل جائیں۔

جی چاہتا ہے پھوٹ کے روؤں تیرے ڈر سے اللہ مگر دل سے قساوت نہیں جاتی۔

خوف خدا پاک ہماری اخروی نجات کے لئے بڑی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ عبادات کی بجاآوری اور برائیوں سے باز رہنے کا عظیم ذریعہ خوف خدا ہے، خوفِ خدا کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک کی بے نیازی، اس کی ناراضی، اس کی گرفت اور اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل گھبراہٹ میں مبتلا ہوجائے۔(احیاء العلوم،ج4)

خوف خدا میں رونا ایک عظیم الشان نیکی ہے، جو اللہ پاک اپنے خاص اور مقرب بندوں کو عطا فرماتا ہے، یہی وہ لوگ ہیں جن کا ذکر اللہ پاک نے اپنی کتاب قرآن مجید میں فرمایا، چنانچہ ارشادِ باری ہے:ترجمہ ٔکنزالایمان:جب ان پر رحمٰن کی آیتیں پڑھی جاتیں، گرپڑتے، سجدہ کرتے اور روتے۔خشیتِ الٰہی سے رونے والوں کے فضائل کے کیا کہنے کہ جس طرح قرآن پاک میں ان کا ذکر کیا گیا ہے، اسی طرح احادیث مبارکہ میں بھی بے شمار فضائل بیان ہوئے ہیں، چنانچہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہُ عنہ نے عرض کی:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم! نجات کیا ہے؟ فرمایا:اپنی زبان کو روک رکھو، تمہارا گھر تمہیں کفایت کرے اور گناہوں پر رونا اختیار کرو۔(سنن ترمذی، جلد 4، صفحہ 182، حدیث: 2414)

حضرت محمد بن منکدر رضی اللہُ عنہ جب روتے تو آنسوؤں کو اپنے چہرے اور داڑھی سے صاف کرتے اور فرماتے: مجھے معلوم ہوا ہے کہ آگ اس جگہ کو نہ چھوئے گی، جہاں خوف خدا سے نکلنے والے آنسو لگے ہوں۔(احیاء العلوم، جلد 4، صفحہ 201)

ایک ہزار دینار صدقہ کرنے سے بہتر:حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہُ عنہ نے فرمایا:اللہ پاک کے خوف سے آنسو کا ایک قطرہ بہنا میرے نزدیک ایک ہزار دینار صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔(شعب الایمان، 1/502، حدیث: 842)

خوفِ خدا سے رونا سنت ہے:حضرت ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے: جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی:ترجمۂ کنزالایمان:تو کیا اس بات سے تم تعجب کرتے ہو اور ہنستے ہو اور روتے نہیں۔تو اصحابِ صُفّہ رضی اللہُ عنہم اس قدر روئے کہ ان کے رخسار آنسوؤں سے تر ہو گئے، انہیں روتا دیکھ کر رحمت عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم بھی رونے لگے، پھر آپ نے ارشاد فرمایا:وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا، جو اللہ پاک کے ڈر سے رویا ہو۔(شعب الایمان،ج 1، حدیث: 798)

خوف خدا کے معنی: خوفِ خدا کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک کی بے نیازی، اس کی ناراضی، اس کی گرفت اور اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل گھبراہٹ میں مبتلا ہوجائے، اس کے قہر و غضب سے خوفزدہ ہو جائے، جب کبھی بھی گناہ کا ارادہ ہو تو اسے اُس کے ربّ کریم کا خوف گناہوں سے باز رکھے، اسی طرح جیسے بندہ خوفِ خدا رکھنے سے گناہوں سے محفوظ رہتا ہے، اسی طرح خوف خدا کے سبب اس کے گناہوں کو مٹا دیا جاتا ہے، خوف خدا میں رونے اور گریہ و زاری کرنے کے بہت فضائل ہیں، انسان کو چاہئے کہ وہ حقیقت میں اپنے اندر خوف خدا پیدا کرے۔خوف خدا کی ترغیب و فضائل قرآن کی روشنی میں:سورۂ رحمٰن میں خوفِ خدا رکھنے والوں کے لئے دو جنتوں کی بشارتیں ہیں، ارشاد ہوتا ہے:وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ ۔ترجمۂ کنز الایمان:اور جو اپنے ربّ کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لئے دو جنتیں ہیں۔اسی طرح سورۂ الِ عمران، آیت 175 میں ارشاد ہوتا ہے:وَخَافُوْنِ اِنْ کُنْتُمْ مُؤمِنِیْن۔ترجمۂ کنزالایمان:اور مجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو۔سورۂ بقرہ، آیت نمبر 40 :وَاِ یَّایَ فَارْھَبُوْن۔