واٹس ایپ نمبر: 03220292625

خوف سے مراد وہ قلبی کیفیت ہے جو کسی ناپسندیدہ امر کے پیش آنے کی توقع کے سبب پیدا ہو، مثلاً پھل کاٹتے ہوئے چھری سے ہاتھ کے زخمی ہو جانے کا ڈر، جبکہ خوفِ خدا کا مطلب یہ ہے کہ الله پاک کی بے نیازی، اس کی ناراضگی، اس کی گرفت اور اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل گھبراہٹ میں مبتلا ہو جائے۔(احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجاء، باب بیان حقیقۃ الخوف، 4/ 190 )

خوفِ خدا ایمان کی روح اور تقویٰ کی اصل ہے۔ یہ وہ باطنی کیفیت ہے جو انسان کو گناہوں سے روکتی، اطاعت پر آمادہ کرتی اور الله پاک کے قُرب کی طرف لے جاتی ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے اپنی تعلیمات اور ارشادات کے ذریعے خوفِ خدا کی عظیم ،اہمیت سے آگاہ فرمایا اور اسے اُخروی نجات کا ذریعہ قرار دیا ہے۔

(1) خوفِ خدا اور عرش کا سایہ:قیامت کے دن جہاں ہر طرف نفسا نفسی کے عالم میں ہر کوئی پریشان ہوگا، وہاں خوفِ خدا رکھنے والوں کے لیے خاص انعام ہوگا۔ رسول الله ﷺ نے فرمایا: " رَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ "ترجمہ: ایسا شخص جس نے الله پاک کو تنہائی میں یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ اس شخص کو الله پاک قیامت کے دن اپنے عرش کا سایہ عطا فرمائے گا جب کوئی سایہ نہ ہوگا۔ (صحيح البخاری، كتاب المحاربين، حدیث: 6806)

(2)خوفِ خدا نجات کا ذریعہ :پیارے آقا جان عالم ﷺ نے خوف خدا کو بندے کی نجات کا قوی ذریعہ قرار دیا ہے، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ فرماتے ہیں، آپ ﷺ کا فرمان ہے: " مَنْ خَافَ أَدْلَجَ، ومَنْ أَدْلَجَ بَلَغَ المنْزِلَ، أَلَا إِنَّ سِلْعَةَ اللهِ غَالِيَةٌ، أَلَا إِنَّ سِلْعَةَ اللهِ الجَنَّةُ " ترجمہ: جسے خوف ہوتا ہے وہ اول وقت ہی میں سفر پر نکل پڑتا ہے اور جو اول وقت ہی میں سفر کا آغاز کر دیتا ہے وہ منزل تک پہنچ جاتا ہے۔ سن لو! کہ الله کا سامان بڑی قیمت والا ہے، جان لو کہ الله کا سامان جنت ہے۔ (ترمذی، باب ثواب الاطعام والسقی ولاکسو وحدیث من خاف ادلج، حدیث: 2450)

اس حدیث مبارکہ میں خوفِ خدا کو منزلِ مقصود (رضائے الٰہی اور جنت) تک پہنچنے کا محرک بتایا گیا ہے۔ جو بندہ الله پاک سے ڈرتا ہے، وہ سستی و کاہلی کو ترک کر کے اول ہی سے کامیابی حاصل کرنے کے لیے نیکی کی راہ اختیار کرتا ہے۔

(3) حکمت کی اصل :پیارے آقا جان عالم ﷺ نے حکمت کی اصل بیان کرتے ہوئے فرمایا: " رَأْسُ الْحِكْمَةِ مَخَافَةُ اللهِ " ترجمہ: حکمت کی اصل الله پاک کا خوف ہے۔ (شعب الایمان، باب فی الخوف من الله،1/ 470، حدیث: 743)

(4) میرے بعد بھی ڈرتے رہنا :صحابہ کرام کو خوف خدا کی تعلیم دیتے ہوئے سرکار ﷺ نے حضرت عبد الله بن مسعود رضی الله عنہ سے فرمایا: اگر تم مجھ سے ملنا چاہتے ہو تو میرے بعد بھی الله پاک سے بہت ڈرتے رہنا۔(احیاء العلوم،4/ 472)

(5) موجودہ دور میں خوفِ خدا کی ضرورت:فی زمانہ جہاں انسان ظاہری ترقی کے عروج پر جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف باطنی زوال کا بھی شکار ہے۔ گناہ کو معمولی سمجھا جانے لگا ہے اور الله پاک کی پکڑ کو فراموش کیا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں خوفِ خدا کو اختیار کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ مندرجہ بالا احادیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خوف خدا ہی وہ قوت ہے جو انسان کو بے راہ روی سے بچا کر سیدھی راہ پر قائم رکھتی ہے۔ماہنامہ فیضانِ مدینہ کے قارئین! جو بندہ الله پاک سے ڈرتا ہے، وہ دنیا میں بھی محفوظ رہتا ہے اور آخرت میں بھی سرخرو ہوتا ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے دل میں خوفِ خدا کو زندہ رکھے، کیونکہ یہی خوف اصلاحِ نفس، حسنِ عمل اور نجاتِ ابدی کی کنجی ہے۔ الله پاک ہمیں پیارے آقا جان عالم ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے خوفِ خدا کو اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین صلی الله علیہ وآلہ وسلم۔