محمد فیضان عطاری (درجہ ثالثہ جامعۃ
المدینہ فیضان عثمان غنی ،کراچی،پاکستان )
واٹس ایپ نمبر: 03442247303
خوفِ خدا ایک ایسی قلبی کیفیت کا نام ہے جو انسان کو معصیت
کی راہ سے ہٹا کر بندگی کی شاہراہ پر گامزن کر دیتی ہے۔ شریعت کی اصطلاح میں اللہ
تعالیٰ کی بے نیازی، اس کی گرفت اور اس کی ناراضگی کے ڈر سے گناہوں کو چھوڑ دینا
خوفِ خدا کہلاتا ہے۔ یہ صفت مومن کے ایمان کی روح اور تقویٰ کی بنیاد ہے۔ اللہ
تبارک و تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں اپنے بندوں کو بارہا اپنے خوف کا حکم دیا ہے،
چنانچہ ارشاد فرمایا: وَ
خَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۱۷۵)ترجمہ کنز الایمان: اور مجھ سے
ڈرو اگر تم ایمان رکھتے ہو۔(پارہ 4، سورۃ آل عمران، آیت 175)
اس آیت سے واضح
ہے کہ خوفِ خدا اور ایمان کا آپس میں گہرا تعلق ہے، یعنی جس قدر ایمان پختہ ہوگا،
اسی قدر دل میں خشیتِ الٰہی زیادہ ہوگی۔ نبی کریم ﷺ جو کائنات میں سب سے زیادہ
اللہ کی پہچان رکھنے والے ہیں، آپ ﷺ نے اپنے فرامین اور عمل کے ذریعے امت کو خوفِ
خدا کی بے حد ترغیب دلائی ہے۔
ایک اور مقام پر
فرمایا: لَا يَلِجُ النَّارَ رَجُلٌ بَكٰی مِنْ
خَشْيَةِ اللهِ حَتّٰی يَعُوْدَ اللَّبَنُ فِي الضَّرْعِ ترجمہ
وہ شخص جہنم میں نہیں جائے گا جو اللہ کے خوف سے رویا یہاں تک کہ دودھ تھن میں
واپس لوٹ جائے۔(سنن الترمذی، کتاب فضائل الجہاد، جلد 3، صفحہ 256، حدیث 1639،
مطبوعہ دار الفکر )
یہ مثال اس بات
کی پختگی کو ظاہر کرتی ہے کہ اللہ کے ڈر سے رونے والے کے لیے جہنم سے خلاصی یقینی
ہے۔ خوفِ خدا کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کی تنہائی اور جلوت پاکیزہ ہو جاتی ہے،
وہ بندوں کے حقوق غصب کرنے سے باز رہتا ہے اور اس کے اخلاق میں عاجزی پیدا ہوتی
ہے۔
نبوی تعلیمات ہمیں یہ بھی بتاتی ہیں کہ اللہ کا ڈر مایوسی
کا نام نہیں بلکہ یہ تو اللہ کی رحمت کی طرف بھاگنے کا نام ہے۔ ایک مومن کے لیے
خوف اور رجا (امید) کے درمیان رہنا ضروری ہے۔ اگر انسان کے دل میں اللہ کا ڈر ختم
ہو جائے تو وہ سرکش ہو جاتا ہے اور معاشرے میں ظلم و ستم کا بازار گرم ہو جاتا ہے۔
آج ہمارے معاشرے میں بڑھتے ہوئے جرائم اور اخلاقی پستی کی سب سے بڑی وجہ دلوں سے
خوفِ خدا کا نکل جانا ہے۔ اگر ہم نبی کریم ﷺ کی ترغیبات پر عمل کرتے ہوئے اپنی
زندگیوں میں خشیتِ الٰہی کو جگہ دیں تو دنیا و آخرت کی کامیابی مقدر بن سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے محبوب ﷺ کے صدقے میں وہ دل عطا فرمائے جو اس کے ذکر سے تڑپ
اٹھے اور وہ آنکھیں عطا فرمائے جو اس کے خوف سے نم ہو جائیں۔ آمین بجاہ النبی الامین
ﷺ۔
Dawateislami