محمد شاہزیب سلیم عطاری(درجہ سادسہ
جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی، لاہور،پاکستان)
نمبر:03279402436
انسانی
زندگی کی اصلاح اور اس کی باطنی پاکیزگی کا سب سے مؤثر ذریعہ خوفِ خدا ہے۔ یہی وہ
عظیم صفت ہے جو انسان کو گناہوں سے روکتی، نیکیوں کی طرف مائل کرتی اور اس کے ظاہر
و باطن کو سنوارتی ہے۔ جب دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا ہو جاتا ہے تو انسان
تنہائی اور مجمع دونوں میں برائی سے بچتا اور ہمیشہ بھلائی کی راہ اختیار کرتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنی امت کے دلوں میں خوفِ خدا پیدا کرنے
کی بھرپور ترغیب دی۔نبی کریم ﷺ نے مختلف انداز میں اللہ کے خوف کی اہمیت کو اجاگر
فرمایا۔ کبھی وعظ و نصیحت کے ذریعے، کبھی آخرت کی وعیدات سنا کر، اور کبھی اللہ کی
رحمت و عذاب دونوں کا تذکرہ کر کے آپ ﷺ نے دلوں کو نرم اور بیدار کیا۔ کیونکہ یہی
خوف انسان کو تقویٰ، پرہیزگاری اور اطاعتِ الٰہی کی طرف لے جاتا ہے۔ صحابۂ کرام کی
زندگیاں اس خوفِ خدا کی عملی تصویر تھیں وہ اللہ کے خوف سے روتے، راتوں کو عبادت
کرتے اور ہر عمل میں آخرت کو پیشِ نظر رکھتے تھے۔
لہٰذا
خوفِ خدا محض ایک جذبہ نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے جسے نبی کریم ﷺ نے اپنی
تعلیمات اور عملی نمونے سے واضح فرمایا۔ یہی خوف انسان کو دنیا و آخرت میں کامیابی،
دل کا سکون اور اللہ کی رضا عطا کرتا ہے آئیے چند احادیث ملاحظہ کیجئے جس میں نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف خدا کی ترغیبات ارشاد فرمائیں۔
((1خوف
خدا سے رونے والا جہنم میں نہیں جائے گا :عَنْ
اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
:لَا يَلِجُ النَّارَ رَجُلٌ بَكَى مِنْ خَشْيَةِ اللهِ حَتَّى يَعُوْدَ اللَّبَنُ فِي الضَّرْعِ وَلَا يَجْتَمِعُ عَلَی
عَبْدٍ غُبَارٌ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ.حضرت
سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسولُ اﷲ صَلَّی اﷲ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”اﷲ عَزَّ وَجَلَّ کے خوف سے
رونے والا شخص جہنم میں نہیں جائے گا حتّٰی کہ دودھ تھنوں میں واپس آجائے
اور کسی بندے پر راہِ خدا کا غبار اور جہنم کا دھواں جمع نہیں ہوسکتا۔ “ (فیضان ریاض
الصالحین ج7 ، حدیث نمبر:1304)
(2) جہنم سے نکلنا :وَعَنْ
أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى اللَّه عليه وسلم قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ جَلَّ
ذِكْرُهُ: أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ ذَكَرَنِي يَوْمًا أَوْ خَافَنِي فِي
مَقَامٍ روایت
ہے حضرت انس سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ اللہ تعالٰی فرمائے
گا کہ آگ سے اسے نکال لو جس نے مجھے ایک دن یاد کیا ہو یا ایک جگہ میں مجھ سے خوف
کیا ہو۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ج7 ، حدیث نمبر:5349 )
شرح حدیث
:جو مسلمان عمر بھر میں ایک بار بھی مجھ سے ڈرا ہو اور ڈر کر گناہ سے توبہ کرلی ہو
یا جسے میں ایک بار بھی گناہ کرتے وقت یاد آگیا ہوں اور اس یاد کی وجہ سے وہ گناہ
سے باز رہا ہو اسے دوزخ سے نکال لو یا بچا لو۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
ج7 ، حدیث نمبر:5349 )
(3)آقا علیہ الصلاۃ والسلام کی وصیت :وَعَنْ
أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا قَالَ:
يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُسَافِرَ فَأَوْصِنِي قَالَ:
عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللّٰه وَالتَّكْبِيرِ عَلٰى كُلِّ شَرَفٍ، فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ قَالَ:
اَللّٰهُمَّ اطْوِ لَهُ الْبُعْدَ وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ
ترجمہ:روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ میں
سفر کا ارادہ کررہا ہوں مجھے کچھ وصیت فرمایئے فرمایا اللہ کا
خوف گرہ باندھ لو اور ہر بلندی پر تکبیر کہو جب اس شخص نے پیٹھ پھیری تو
فرمایا الٰہی اس کے لیے دوری لپیٹ دے اور اس پر سفر آسان کر۔
شرح حدیث
:ہر جگہ ہر حال میں خوفِ
خدا دل میں رکھو کہ یہ تمام نیکیوں اور گناہوں سے بچنے کی اصل ہےاور دورانِ
سفر میں جب کسی ٹیلہ یا پہاڑی پر چڑھو تو اللہ اکبر کہہ لو،غرض دل و زبان
دونوں کا انتظام فرمادیا۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ج4 ،حدیث
نمبر:2438 )
(4)خوف خدا میں رونے والی آنکھ :عَنِ
ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى
اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:عَيْنَانِ لَا تَمسُّهُمَا النَّارُ عَيْنٌ
بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللهِ
وَعَيْنٌ بَاتَتْ تَحْرُسُ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ.
Dawateislami