فون نمبر 03276358728

خوفِ خدا سے مراد اللہ تعالیٰ کی بے نیازی، ناراضگی اور آخرت میں جوابدہی کے ڈر سے دل میں پیدا ہونے والی وہ کیفیت ہے جو انسان کو گناہوں سے روک کر نیکی کی طرف راغب کرتی ہے۔ یہ تقویٰ کی بنیاد، اللہ کی معرفت اور اطاعتِ الہی کا ذریعہ ہے، جو دل میں نرمی، پاکیزگی اور آخرت میں امن کا باعث بنتا ہے۔

(1)جس نے ایک دن خوف سے اللہ تعالیٰ کو یاد کیا :روایت ہے حضرت انس سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ اللہ تعالٰی فرمائے گا: کہ آگ سے اسے نکال لو جس نے مجھے ایک دن یاد کیا ہو یا ایک جگہ میں مجھ سے خوف کیا ہو ۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:7 ، حدیث نمبر:5349)

(2)خوف سے بچت:روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم جب مقامِ حجر میں گزرے تو فرمایا ظالموں کے گھروں میں نہ داخل ہو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا مگر اس طرح جاؤ کہ تم اس خوف سے روتے ہو کہ تم کو بھی وہ عذاب پہنچے جو انہیں پہنچا پھر اپنا سر جھکا لیا اور رفتار تیز فرمالی حتی کہ اس علاقے کو طے کرلیا۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ،حدیث نمبر:5125)

(3)اللہ تعالیٰ کو پیاری چیز:روایت ہے حضرت ابو امامہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایااﷲ تعالٰی کو دو قطروں سے زیادہ کوئی چیز پیاری نہیں ایک آنسو کا قطرہ جواﷲ کے خوف سے ہو۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:5 ،حدیث نمبر:3837)

(4)جو آنکھ اللہ کے خوف سے روئے:روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے دو آنکھیں ہیں جنہیں آگ نہ چھوئے گی ایک وہ آنکھ جواﷲ کے خوف سے روئے اور ایک وہ آنکھ جواﷲ کی راہ میں پہرہ دے ۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:5 ،حدیث نمبر:3829)

(5)خوف سے سفر آسان :روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ میں سفر کا ارادہ کررہا ہوں مجھے کچھ وصیت فرمایئے فرمایا اللہ کا خوف گرہ باندھ لو اور ہر بلندی پر تکبیر کہو جب اس شخص نے پیٹھ پھیری تو فرمایا الٰہی اس کے لیے دوری لپیٹ دے اور اس پر سفر آسان کر۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 , حدیث نمبر:2438)