فون نمبر 03091764899

اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ہمیں اِس دنیا میں اپنی عبادت کرنے کے لیے پیدا فرمایا ہے، اس نے زندگی اور موت کو بھی پیدا کیا تا کہ یہ جانچ ہو کہ کون نیک اور اچھے اعمال کرتا ہے اور کون گناہ اور بُرے اعمال ؟ جو نیک اعمال کرے گا ، وہ اسے دائمی نعمت یعنی جنت عطا فرمائے گا اور جو بُرے اعمال کرے گا، وہ اُسے چاہے گا تو عذاب میں گرفتار کرے گا لہذا سمجھدار وہی ہے جو نیکیوں بھری زندگی گزارے اور اپنے آپ کو گناہوں سے بچائے لیکن کسی بھی اچھی چیز کا حصول اُمید کے سبب اور بری چیز سے بچاؤ خوف کے سبب ہوتا ہے لہذا ہمیں اپنے دل میں خوف خدا کو پیدا کرنا ہو گا۔

(1)عَن اَبي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَلِجُ النَّارَ رَجُلٌ بَكٰى مِنْ خَشْيَةِ اللهِ حَتّٰى يَعُوْدَ اللَّبَنُ فيِ الضَّرْعِ وَلَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيْلِ اللهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسولِ اَکرم ، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خوف سے رونے والاجہنم میں داخل نہ ہوگا ، یہاں تک کہ دودھ تھنوں میں واپس لوٹ جائے ، اور راہِ خدا کا گرد و غُبار اور جہنم کا دھواں جمع نہیں ہو سکتے ۔(ترمذی کتاب فضائل الجھادباب ماجاءفی فضل الغارفی سبیل اللہ /236حدیث 1639)

(2)وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ ، قَالَ : اَتَيْتُ رَسُوْلَ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم وَهُوَ يُصَلِّي وَلِجَوْفِهِ اَزِيْزٌ كَاَزِيْزِ الْمِرْجَلِ مِنَ الْبُكَاءِ.ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَاعبداللہ بن شخیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ’’میں حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نماز پڑھ رہے تھے اور ( خوفِ خدا سے ) رونے کی وجہ سے آپ کے سینہ مبارکہ سے ہنڈیا جیسی آواز آ رہی تھی ۔ ‘‘(ابو داؤد کتاب الصلاۃ باب البکاء فی الصلاۃ٫جلد٫1ص ٫342حدیث 904)

(3)عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:سُئِلَ رَسُولُ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم عَنْ اَكْثَرِ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّةَ قَالَ:تَقْوَى اللهِ وَحُسنُ الْخُلُقِ، وَسُئِلَ عَنْ اَكْثَرِ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ، فَقَالَ:اَلْفَمُ وَالْفَرْجُ.

حضرت سَیِّدُنَاابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں:رسول ُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے پوچھا گیا کہ ایسا کونسا عمل ہے جس کی وجہ سے لوگ بکثرت جنت میں داخل ہوں گے؟فرمایا:’’اللہ تعالیٰ کا خوف اور حُسنِ اخلاق ۔‘‘پھر اس چیزکے بارے میں پوچھا گیا جس کی وجہ سے بکثرت لوگ جہنم میں داخل ہوں گے تو فرمایا :’’زبان اور شرمگاہ۔‘‘(ترمذی ،کتاب البروالصلت ،،باب ماجاء فی حسن الخلق ،جلد3،ص 404،حدیث نمبر 2011)

(4)عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:عَيْنَانِ لَا تَمسُّهُمَا النَّارُ عَيْنٌ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللهِ وَعَيْنٌ بَاتَتْ تَحْرُسُ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ.ترجمہ :حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عباس ر َضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ میں نے رسولُ اﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فرماتے ہوئے سنا:”دو آنکھیں ایسی ہیں جنہیں جہنم کی آگ نہ چھوئے گی :(1) اﷲ عَزَّوَجَلَّ کے خوف سے رونے والی آنکھ اور (2)راہِ خدا میں پہرہ دینے والی آنکھ۔“(فیضان ریاض الصالحین جلد:7 ، حدیث نمبر:1305)