ابو صَفی محمد علی(درجہ سادسہ جامعۃ
المدينہ فيضان عثمان غنى ،کراچی،پاکستان)
واٹس ایپ نمبر: 03172084683
خوفِ خدا وہ باطنی کیفیت ہے جو دل کو بیدار، نیت کو خالص
اور عمل کو سنوار دیتی ہے۔ یہ خوف مایوسی یا گھبراہٹ کا نام نہیں بلکہ اللہ کی
عظمت، اس کی بارگاہ میں جواب دہی اور اس کی ناراضی سے بچنے کے شعور کا نام ہے۔ نبی
کریم ﷺ نے امت کی تربیت میں خوفِ خدا کو مرکزی مقام عطا فرمایا، کیونکہ یہی خوف
انسان کو گناہ سے روکتا، نفس کو قابو میں رکھتا اور بندے کو تقویٰ کے راستے پر
گامزن کرتا ہے۔ جس دل میں خوفِ خدا جاگزیں ہو جائے وہ تنہائی میں بھی گناہ سے ڈرتا
اور مجمع میں بھی حق پر قائم رہتا ہے۔
تقویٰ اور خوفِ خدا کی جامع نصیحت:رسولِ
اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اتَّقِ اللَّهَ
حَيْثُمَا كُنْتَ یعنی جہاں کہیں بھی ہو اللہ سے ڈرتے رہو۔ (سنن الترمذی،
کتاب البر والصلۃ، حدیث نمبر: 1987)
یہ مختصر مگر ہمہ گیر فرمان اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ
خوفِ خدا کسی خاص وقت یا جگہ سے وابستہ نہیں بلکہ مومن کی پوری زندگی پر محیط ہونا
چاہیے، کیونکہ یہی احساس اسے ہر حال میں گناہ سے بچاتا ہے۔
خوفِ خدا اور آنسوؤں کی فضیلت:رسولِ
اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: عَيْنَانِ لَا
تَمَسُّهُمَا النَّارُ: عَيْنٌ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ، وَعَيْنٌ بَاتَتْ
تَحْرُسُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ یعنی دو آنکھیں ایسی ہیں جنہیں
آگ نہیں چھوئے گی: ایک وہ آنکھ جو اللہ کے خوف سے روئی، اور دوسری وہ آنکھ جو اللہ
کی راہ میں پہرہ دیتی رہی۔ (سنن الترمذی، کتاب فضائل الجهاد، حدیث نمبر: 1639)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خوفِ خدا دل میں اتر جائے
تو وہ آنسوؤں کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے اور یہی کیفیت نجات کا سبب بن جاتی ہے۔
تنہائی میں خوفِ خدا کی قدر:رسولِ
اکرم ﷺ نے ان سات خوش نصیبوں کا ذکر فرمایا جنہیں قیامت کے دن عرش کا سایہ نصیب ہوگا،
ان میں ایک وہ شخص بھی ہے:
وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ یعنی
وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ (صحیح
البخاری، کتاب الاذان، حدیث نمبر 660؛ صحیح مسلم، کتاب الزكاة، حدیث نمبر 1031)
یہ تنہائی کا
خوف دراصل اخلاص کی بلند ترین صورت ہے، جہاں بندہ لوگوں سے نہیں بلکہ صرف اپنے رب
سے ڈرتا ہے۔
خوفِ خدا اور حقیقی دانش:رسولِ
اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: لَوْ تَعْلَمُونَ
مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا یعنی
اگر تم وہ جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم کم ہنسو اور زیادہ روؤ۔ (صحیح البخاری،
کتاب الرقاق، حدیث نمبر: 6486؛ صحیح مسلم، کتاب الفضائل، حدیث نمبر: 2359)
اس فرمان میں حضور ﷺ نے آخرت کے حقائق کی طرف اشارہ فرما
کر خوفِ خدا کو حکمت اور دانائی کا لازمی نتیجہ قرار دیا ہے۔
خوفِ خدا کا قرآنی معیار:اللہ تعالیٰ ارشاد
فرماتا ہے: اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ
الْعُلَمٰٓؤُاؕ
ترجمۂ کنز الایمان: اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم
والے ہیں۔(سورۃ فاطر: 28)
یہ آیت بتاتی ہے
کہ خوفِ خدا جہالت نہیں بلکہ معرفت کا ثمر ہے، اور جتنا علم بڑھتا ہے اتنا ہی دل میں
خشیت گہری ہوتی جاتی ہے۔خوفِ خدا کی یہ نبوی ترغیبات انسان کے دل میں ذمہ داری،
آنکھوں میں حیا اور اعمال میں سنجیدگی پیدا کرتی ہیں۔ جو شخص اس خوف کو اپنا زادِ
راہ بنا لیتا ہے وہ دنیا کی لغزشوں سے محفوظ اور آخرت کی تیاری میں مصروف رہتا ہے۔
یہی خوف اسے رب کے قریب، گناہ سے دور اور تقویٰ کے اعلیٰ مقام تک پہنچا دیتا ہے۔ ایسا
کردار دیکھ کر ہی دلوں میں رشک پیدا ہوتا ہے کہ یہ زندگی محض ظاہری دینداری نہیں
بلکہ باطن کی وہ روشنی ہے جو چراغِ نبوت ﷺ سے جلائی گئی ہو۔
Dawateislami